یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏2 ص.‏ 25-‏29
  • آزمائشوں کے باوجود یہوواہ میں خوش رہنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آزمائشوں کے باوجود یہوواہ میں خوش رہنا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ایک معمولی آغاز
  • مزید آزمائشیں اور خوشیاں
  • جزیرے پر تھیوکریٹک پیش‌رفتیں
  • بپتسمہ اور مسلسل ترقی
  • ہیجان‌خیز الہٰی مرضی اسمبلی
  • کل‌وقتی خدمت کا نصب‌العین حاصل کرنا
  • ماضی اور مستقبل میں بھرپور برکات
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏2 ص.‏ 25-‏29

آزمائشوں کے باوجود یہوواہ میں خوش رہنا

جارج سکے‌پیو کی زبانی

دسمبر ۱۹۴۵ میں، مَیں ایک مفلوج شخص کے طور پر ہسپتال کے وارڈ میں پڑا تھا، صرف میرے ہاتھ اور پاؤں حرکت کر سکتے تھے۔ میرے خیال میں میری یہ حالت محض وقتی تھی تاہم دیگر لوگوں کا خیال تھا کہ مَیں شاید ہی دوبارہ چل‌پھر سکونگا۔ ایک ۱۷سالہ پُرجوش لڑکے کیلئے یہ کتنی بڑی آزمائش تھی!‏ مَیں نے ایسی پیش‌گوئی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ میرے بہت سے منصوبے تھے جن میں سے ایک اپنے آجر کے ساتھ اگلے سال انگلینڈ جانا تھا۔‏

مَیں فالج کی وبا کا شکار تھا جو ہمارے آبائی جزیرے سینٹ ہلینا میں بڑی تیزی سے پھیل گئی تھی۔ اس سے ۱۱ لوگ ہلاک اور بہتیرے معذور ہو گئے۔ بستر پر لیٹے اپنی قلیل زندگی اور اپنے مستقبل کی بابت غور کرنے کیلئے میرے پاس کافی وقت تھا۔ ایسا کرنے سے مجھے یہ احساس ہوا کہ اپنی تکلیف کے باوجود میرے پاس خوش ہونے کی وجہ تھی۔‏

ایک معمولی آغاز

سن ۱۹۳۳ میں، جب مَیں پانچ سال کا تھا تو میرے والد ٹام نے جو ایک پولیس‌مین اور بپٹسٹ چرچ میں ایک پادری تھا یہوواہ کے دو گواہوں سے چند مجلد کتابیں حاصل کی تھیں۔ وہ کل‌وقتی مُناد یا پائنیر تھے جنہوں نے کچھ عرصے کیلئے جزیرے کا دَورہ کِیا تھا۔‏

ایک کتاب کا نام دی ہارپ آف گاڈ تھا۔ میرے والد نے اسے ہمارے خاندان اور بہتیرے دلچسپی رکھنے والے اشخاص کیساتھ بائبل کا مطالعہ کرنے کیلئے استعمال کِیا۔ یہ ٹھوس مواد تھا اور مجھے اس کی بہت کم سمجھ آئی۔ تاہم مجھے اپنی بائبل میں ہر اُس صحیفے پر نشان لگانا یاد ہے جس پر ہم بات‌چیت کرتے تھے۔ جلد ہی میرے والد کو یہ احساس ہو گیا کہ جس چیز کا ہم مطالعہ کر رہے تھے وہ سچائی ہے اور یہ اُس سے مختلف تھی جس کی منادی وہ بپٹسٹ چرچ میں کر رہا تھا۔ اُس نے جلد ہی دوسروں کو اسکی بابت بتانا اور پلپٹ سے تعلیم دینا شروع کر دی کہ کوئی تثلیث نہیں، کوئی دوزخ کی آگ نہیں اور جان بھی غیرفانی نہیں ہے۔ اِس سے چرچ میں کافی ہلچل پیدا ہو گئی۔‏

آخرکار مسئلے کو حل کرنے کیلئے چرچ میٹنگ بلا‌ئی گئی۔ سوال پوچھا گیا، ”‏بپٹسٹس کی حمایت میں کون ہے؟“‏ اکثریت کھڑی ہو گئی۔ اگلا سوال تھا، ”‏یہوواہ کی حمایت میں کون ہے؟“‏ تقریباً ۱۰ یا ۱۲ کھڑے ہو گئے۔ اُن سے کہا گیا کہ وہ چرچ سے چلے جائیں۔‏

یہ سینٹ ہلینا پر ایک نئے مذہب کا معمولی آغاز تھا۔ میرے والد نے ریاستہائے متحدہ میں واچ‌ٹاور سوسائٹی کے ہیڈکوارٹر سے رابطہ کِیا اور لوگوں کو بائبل کے ریکارڈشُدہ لیکچر سنانے کیلئے ٹرانس‌کرپ‌شن مشین کیلئے درخواست کی۔ اُسے یہ بتایا گیا کہ مشین سینٹ ہلینا بھیجنے کیلئے بہت بڑی تھی۔ ایک چھوٹا فونوگراف پلیئر بھیج دیا گیا اور بھائیوں نے بعد میں دو اَور کیلئے درخواست کی۔ وہ پیدل اور گدھے پر سوار ہو کر پورے جزیرے پر لوگوں تک پیغام لیکر گئے۔‏

جوں جوں پیغام پھیلتا گیا مخالفت بھی بڑھتی گئی۔ میرے سکول میں بچے یہ گاتے تھے:‏ ”‏آؤ سب لوگو۔ آؤ سب لوگو۔ سنو ٹامی سکے‌پیو کا گراموفون بینڈ!‏“‏ یہ میرے لئے ایک کڑی آزمائش تھی، سکول جانے والے ایک ایسے لڑکے کیلئے جو اپنے ساتھیوں کی نظر میں مقبول ہونا چاہتا تھا۔ کس چیز نے برداشت کرنے کیلئے میری مدد کی؟‏

چھ بچوں پر مشتمل ہمارا بڑا خاندان باقاعدگی سے خاندانی بائبل مطالعہ کرتا تھا۔ ہر صبح ناشتے سے پہلے ہم سب اکٹھے ملکر بائبل بھی پڑھتے تھے۔ بلا‌شُبہ یہ ہمارے خاندان کیلئے ان تمام سالوں کے دوران سچائی کیلئے وفادار رہنے میں مدد دینے کیلئے ایک مفید آلۂ‌کار ثابت ہوئی ہے۔ ذاتی طور پر میرے اندر کم‌عمری میں ہی بائبل کیلئے محبت پیدا ہو گئی تھی اور سالوں کے دوران مَیں نے بائبل پڑھائی کی باقاعدہ عادت کو قائم رکھا ہے۔ (‏زبور ۱:‏۱-‏۳‏)‏ جب مَیں نے ۱۴ سال کی عمر میں سکول چھوڑا تو مَیں سچائی میں مضبوطی سے قائم ہو چکا تھا اور یہوواہ کا خوف میرے دل میں تھا۔ اس چیز نے مجھے آزمائشوں کے باوجود یہوواہ میں خوش رہنے کے قابل بنایا۔‏

مزید آزمائشیں اور خوشیاں

جب مَیں بستر پر بیمار پڑا اپنی اوائل عمری کے دنوں اور مستقبل کے امکانات کی بابت سوچ رہا تھا تو بائبل کے اپنے مطالعے سے مَیں جانتا تھا کہ یہ بیماری خدا کی طرف سے کوئی آزمائش یا سزا نہیں تھی۔ (‏یعقوب ۱:‏۱۲، ۱۳‏)‏ پھربھی پولیو ایک المناک آزمائش تھی جسکے اثرات آئندہ زندگی‌بھر میرے ساتھ رہنے تھے۔‏

جوں جوں مَیں صحت‌یاب ہوتا گیا مجھے دوبارہ چلنا سیکھنا پڑا تھا۔ مَیں اپنے بازوؤں کے چند پٹھوں کا استعمال بھی نہیں کر سکتا تھا۔ مَیں ہر روز بہت مرتبہ گرتا تھا۔ تاہم خلوصدل دُعاؤں اور مسلسل کوششوں کے ساتھ ۱۹۴۷ تک مَیں ایک چھڑی کی مدد سے چلنے کے قابل ہو گیا تھا۔‏

اس وقت کے دوران مَیں ایک نوجوان خاتون ڈورس کی محبت میں گرفتار ہو گیا جو میرے ہی جیسے مذہبی اعتقادات رکھتی تھی۔ ہم دونوں شادی کیلئے بہت چھوٹے تھے تاہم مجھے چلنے میں مزید ترقی کرنے کی تحریک ملی۔ مَیں نے اپنی نوکری بھی چھوڑ دی کیونکہ یہ ایک بیوی کی کفالت کرنے کیلئے کافی نہ تھی اور مَیں نے اپنی دانتوں کی لیبارٹری کھول لی جو دو سال تک چلتی رہی۔ سن ۱۹۵۰ میں ہم نے شادی کر لی۔ اس وقت تک مَیں نے ایک چھوٹی کار خریدنے کیلئے کافی پیسے کما لئے تھے۔ اب مَیں بھائیوں کو میدانی خدمتگزاری اور اجلاسوں پر لے جا سکتا تھا۔‏

جزیرے پر تھیوکریٹک پیش‌رفتیں

سوسائٹی نے ۱۹۵۱ میں ہمارے پاس اپنا پہلا نمائندہ بھیجا۔ یہ شمالی افریقہ کا ایک نوجوان شخص جیکوبس وین سٹیڈن تھا۔ ہمیں ایک کشادہ گھر میں منتقل ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا لہٰذا ہم نے ایک سال تک اُسے اپنے ساتھ رکھا۔ چونکہ مَیں اپنا ذاتی کام کرتا تھا لہٰذا ہم نے بہت سا وقت منادی میں اکٹھے گزارا اور مَیں نے اُس سے بیش‌قیمت تربیت حاصل کی۔‏

جیکوبس جسے ہم پیار سے قوس کہتے تھے، اُس نے باقاعدہ کلیسیائی اجلاسوں کو منظم کِیا جن پر ہم سب بڑی خوشی سے حاضر ہوتے تھے۔ ہمیں سواری کا مسئلہ درپیش تھا کیونکہ دلچسپی رکھنے والے تمام لوگوں میں سے صرف دو کے پاس کاریں تھیں۔ راستہ ناہموار اور پہاڑی تھا اور اُس وقت چند ہی سڑکیں اچھی تھیں۔ پس سب کو اجلاس پر لے جانا ایک بڑا کام تھا۔ بعض صبح کو ہی چلنا شروع کر دیتے تھے۔ مَیں اپنی چھوٹی سی کار میں تین لوگوں کو بٹھاتا اور سڑک پر کچھ دور جا کر اتار دیتا۔ وہ اتر کر چلنا شروع کر دیتے۔ مَیں واپس جاتا اور تین اَور کو کچھ دور لے جاتا اور پھر واپس آتا۔ اسطرح آخرکار سب اجلاس پر پہنچ جاتے۔ اجلاس کے بعد سب کو گھر واپس پہنچانے کیلئے بھی یہی طریقہ استعمال کِیا جاتا۔‏

قوس نے ہمیں دروازے پر موثر پیش‌کش کرنا بھی سکھایا۔ ہمیں بہت سے اچھے تجربات اور کچھ ناخوشگوار تجربات بھی حاصل ہوتے تھے۔ اگرچہ بعض کچھ اتنے اچھے نہ تھے۔ تاہم خدمتگزاری سے حاصل ہونے والی خوشی اُن تمام آزمائشوں پر حاوی تھی جو ہماری منادی کی کارگزاری کے مخالفوں کی طرف سے آتی تھیں۔ ایک صبح مَیں قوس کیساتھ کام کر رہا تھا۔ جب ہم ایک دروازے پر پہنچے تو ہمیں اندر سے ایک آواز سنائی دی۔ ایک آدمی اُونچی آواز سے بائبل پڑھ رہا تھا۔ ہم بڑی آسانی سے یسعیاہ ۲ باب کے جانے پہچانے الفاظ سن سکتے تھے۔ جب وہ ۴ آیت پر پہنچا تو ہم نے دروازے پر دستک دی۔ ایک خوش‌مزاج عمررسیدہ شخص نے ہمیں اندر آنے کی دعوت دی اور ہم نے اُسے خدا کی بادشاہت کی خوشخبری بیان کرنے کیلئے یسعیاہ ۲:‏۴ کو استعمال کِیا۔ اُس کیساتھ بائبل مطالعہ شروع ہو گیا اگرچہ وہ ایک ناقابلِ‌رسائی جگہ پر رہتا تھا۔ ہمیں ایک پہاڑی سے نیچے کی طرف سفر کرنا پڑتا تھا، گزرپتھروں کے ذریعے ایک جھیل کو عبور کرنا ہوتا تھا اور پھر ایک پہاڑی پر چڑھنا اور پھر اُس پہاڑی سے نیچے اُتر کر اُس کے گھر جانا ہوتا تھا۔ تاہم یہ کوشش رائیگاں نہیں تھی۔ اُس فروتن عمررسیدہ شخص نے سچائی کو قبول کِیا اور بپتسمہ لیا۔ اجلاسوں پر حاضر ہونے کیلئے وہ دو چھڑیوں کی مدد سے ایک جگہ تک آتا جہاں سے مَیں اُسے اپنی کار میں بٹھا کر لے جاتا تھا۔ بعدازاں اُس نے وفادار گواہ کے طور پر وفات پائی۔‏

پولیس کمشنر ہمارے کام کی مخالفت کرتا تھا اور بارہا قوس کو ملک‌بدر کرنے کی دھمکی دیتا تھا۔ مہینے میں ایک بار وہ قوس کو تفتیش کیلئے بلا‌تا تھا۔ قوس کے ہمیشہ بائبل میں سے براہِ‌راست جواب دینے نے اُسے اَور زیادہ تلخ بنا دیا تھا۔ ہر مرتبہ وہ قوس کو آگاہ کرتا کہ اُسے منادی کا کام بند کر دینا چاہئے لیکن ہر مرتبہ اُسے گواہی دی جاتی۔ قوس کے سینٹ ہلینا سے چلے جانے کے بعد بھی وہ کام کی مخالفت کرتا رہا۔ پھر اچانک ہی کمشنر جو کہ نہایت قدآور اور مضبوط آدمی تھا، بیمار ہوا اور بہت کمزور ہو گیا۔ ڈاکٹر اُسکا مرض سمجھنے سے قاصر تھے۔ نتیجتاً وہ جزیرے سے چلا گیا۔‏

بپتسمہ اور مسلسل ترقی

جب قوس کو جزیرے پر آئے ہوئے تین مہینے ہو گئے تو اُس نے محسوس کِیا کہ بپتسمے کے انتظامات کئے جانے چاہئیں۔ مناسب حوض تلاش کرنا ایک مسئلہ تھا۔ ہم نے ایک گڑھا کھودنے، پلستر کرنے اور اسے بھرنے کیلئے پانی لانے کا فیصلہ کِیا۔ بپتسمے سے پہلے کی رات بارش ہو گئی اور اگلی صبح ہم یہ دیکھ کر نہایت خوش ہوئے کہ گڑھا لبالب بھر گیا تھا۔‏

اُس اتوار کی صبح قوس نے بپتسمے کی تقریر دی۔ جب اُس نے بپتسمے کے اُمیدواروں کو کھڑا ہونے کیلئے کہا تو ہم میں سے ۲۶ حسبِ‌دستور سوالات کا جواب دینے کیلئے کھڑے ہو گئے۔ ہمیں جزیرے پر پہلے بپتسمہ پانے والے پبلشر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ وہ میری زندگی کا نہایت ہی پُرمسرت دن تھا کیونکہ مَیں ہمیشہ سوچتا تھا کہ میرے بپتسمہ حاصل کرنے سے پہلے ہرمجدون آ جائیگی۔‏

آخرکار دو کلیسیائیں تشکیل دی گئیں ایک لیول‌وڈ میں اور ایک جیمزٹاؤن میں۔ ہر ہفتے ہم میں سے تین یا چار ہفتے کے روز تھیوکریٹک منسٹری سکول اور خدمتی اجلاس منعقد کرنے کیلئے ایک کلیسیا میں جانے کیلئے ۱۳ کلومیٹر کا سفر کرتے تھے۔ اتوار کو میدانی خدمت کے بعد، ہم واپس آ جاتے اور پھر اپنی کلیسیا میں وہی اجلاس اور مینارِنگہبانی کا مطالعہ دوپہر اور شام میں منعقد کرتے تھے۔ لہٰذا ہمارے ویک‌اینڈز خوشگوار تھیوکریٹک کارگزاری سے بھرپور تھے۔ مَیں کل‌وقتی منادی کرنے کا آرزومند تھا تاہم مجھے ایک خاندان کی کفالت کرنی تھی۔ لہٰذا ۱۹۵۲ میں مَیں نے ایک مقامی دندان‌ساز کے طور پر سرکاری نوکری شروع کر دی۔‏

۱۹۵۵ میں سوسائٹی کے سفری نمائندوں، سرکٹ اوورسیئرز نے ہر سال ہمارے جزیرے کا دَورہ کرنا شروع کر دیا اور وہ اپنے دَورے کے دوران کچھ وقت میرے گھر پر رہتے تھے۔ اُنکا ہمارے خاندان پر تعمیری اثر ہوا۔ تقریباً اُسی وقت مجھے جزیرے پر سوسائٹی کی تین فلمیں دکھانے کا شرف بھی حاصل ہوا۔‏

ہیجان‌خیز الہٰی مرضی اسمبلی

۱۹۵۸ میں نیویارک میں الہٰی مرضی بین‌الاقوامی اسمبلی پر حاضر ہونے کیلئے ایک بار پھر مَیں نے سرکاری نوکری سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ اسمبلی میری زندگی میں ایک سنگِ‌میل تھی—‏ایک موقع جس نے مجھے یہوواہ میں خوش ہونے کی بہت زیادہ وجہ فراہم کی۔ جزیرے پر باقاعدہ سواری کی کمی کی وجہ سے ہم ساڑھے پانچ ماہ دور رہے تھے۔ اسمبلی آٹھ دن تک صبح نو بجے سے رات نو بجے تک جاری رہتی تھی۔ تاہم مَیں کبھی نہیں تھکتا تھا اور ہمیشہ اگلے دن کا منتظر رہتا تھا۔ مجھے پروگرام کے دوران دو منٹ کے لئے سینٹ ہلینا کی نمائندگی کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ یانکی سٹیڈیم اور پولو گراؤنڈز میں بڑے ہجوم سے مخاطب ہونا ایک پریشان‌کُن تجربہ تھا۔‏

اسمبلی نے پائنیر خدمت کرنے کے میرے جذبے کو تقویت دی۔ عوامی تقریر، ”‏خدا کی بادشاہت حکمرانی کرتی ہے—‏کیا دُنیا کا خاتمہ قریب ہے؟“‏ خاص طور پر حوصلہ‌افزا تھی۔ اسمبلی کے بعد ہم نے بروکلن میں سوسائٹی کے ہیڈکوارٹرز اور فیکٹری کا دَورہ کِیا۔ مَیں نے اُسوقت سوسائٹی کے صدر بھائی نار سے سینٹ ہلینا میں کام کی پیش‌رفت کی بابت بات کی۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ جزیرے پر آنا پسند کریں گے۔ ہم دوستوں اور خاندان کو دکھانے کیلئے تمام تقاریر کی ریکارڈنگ اور اسمبلی پر دکھائی جانے والی موشن پکچرز اپنے ساتھ لائے۔‏

کل‌وقتی خدمت کا نصب‌العین حاصل کرنا

وطن واپسی پر مجھے میری پُرانی نوکری کی پیشکش کی گئی کیونکہ جزیرے پر کوئی دندان‌ساز نہیں تھا۔ تاہم مَیں نے وضاحت کی کہ مَیں کل‌وقتی خدمت اختیار کرنا چاہتا ہوں۔ کافی گفت‌وشنید کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ مَیں تین دن کام کر سکتا ہوں تاہم اُس سے زیادہ تنخواہ کے ساتھ جو مَیں چھ دن کام کرنے سے حاصل کر رہا تھا۔ یسوع کے الفاظ سچ ثابت ہوئے:‏ ”‏تم پہلے اسکی بادشاہی اور اُسکی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تمکو مل جائینگی۔“‏ (‏متی ۶:‏۳۳‏)‏ جزیرے کی چھوٹی پہاڑیوں پر اپنی کمزور ٹانگوں کے ساتھ سفر کرنا میرے لئے ہر وقت آسان نہ تھا۔ پھربھی مَیں نے ۱۴ سال پائنیرنگ کی اور جزیرے پر رہنے والے اپنے کئی ساتھیوں کی سچائی سیکھنے کیلئے مدد کرنے کے قابل ہوا—‏یقیناً یہ بہت زیادہ خوشی کا باعث تھا۔‏

۱۹۶۱ میں حکومت مجھے دو سالہ مُفت تربیتی کورس کیلئے جزائر فیجی بھیجنا چاہتی تھی تاکہ مَیں مکمل کوالی‌فائڈ ڈینٹسٹ بن سکوں۔ اُنہوں نے تو میرے خاندان کو بھی میرے ساتھ بھیجنے کی پیشکش کی۔ یہ ایک پُرکشش پیشکش تھی تاہم سنجیدگی سے غوروفکر کرنے کے بعد مَیں نے اسے مسترد کر دیا۔ مَیں بھائیوں کو اتنے لمبے عرصے کیلئے چھوڑنا اور اُن کے ساتھ خدمت کرنے کے شرف کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ سینیئر میڈیکل آفیسر جس نے دَورے کا بندوبست کِیا تھا سب سے زیادہ پریشان تھا۔ اُس نے کہا:‏ ”‏اگر آپ سوچتے ہیں کہ خاتمہ بہت قریب ہے تو بھی آپ اس وقت کے دوران حاصل ہونے والے پیسے کو استعمال کر سکتے ہیں۔“‏ تاہم مَیں اپنی بات پر قائم رہا۔‏

اگلے سال مجھے جنوبی افریقہ میں ایک مہینے کے لئے کلیسیاؤں کے نگہبانوں کیلئے تربیتی کورس، کنگڈم منسٹری سکول میں حاضر ہونے کی دعوت دی گئی۔ ہمیں بیش‌قیمت ہدایت فراہم کی گئی جس نے ہمیں اپنی کلیسیائی تفویضات کی مؤثر طریقے سے دیکھ‌بھال کرنے میں مدد دی۔ سکول کے بعد مَیں نے ایک سفری نگہبان کے ساتھ کام کرنے سے مزید تربیت حاصل کی۔ پھر مَیں نے دس سال تک سینٹ ہلینا میں دو کلیسیاؤں کیلئے متبادل سرکٹ اوورسیئر کے طور پر خدمت انجام دی۔ وقت کے ساتھ ساتھ، دیگر لائق بھائی دستیاب ہو گئے اور پھر باری باری کا نظام عمل میں لایا جانے لگا۔‏

دریں‌اثنا ہم جیمزٹاؤن سے لیول‌وڈ آ گئے جہاں ضرورت زیادہ تھی اور ہم وہاں پر دس سال تک رہے۔ اس وقت کے دوران مَیں بلا‌توقف بہت سخت محنت کر رہا تھا—‏پائنیرنگ، تین دن حکومت کیلئے کام کرنا اور ایک چھوٹی اشیائے خوردونوش کی دُکان چلانا۔ اسکے علاوہ مَیں کلیسیائی معاملات پر بھی توجہ دے رہا تھا اور میری بیوی اور مَیں چار بچوں پر مشتمل خاندان کی دیکھ‌بھال کر رہے تھے۔ اس تمام کا مقابلہ کرنے کیلئے، مَیں نے اپنی تین دن کی نوکری چھوڑ دی، دُکان فروخت کر دی اور پورے خاندان کو تین مہینے کی چھٹی کیلئے کیپ‌ٹاؤن، جنوبی افریقہ لے گیا۔ پھر ہم اِک‌سیشن جزیرے پر چلے گئے اور ایک سال تک وہاں رہے۔ اس وقت کے دوران ہم بہت سے لوگوں کی بائبل سچائی کے صحیح علم کو حاصل کرنے کیلئے مدد کرنے کے قابل ہوئے۔‏

سینٹ ہلینا میں واپسی پر ہم جیمزٹاؤن چلے گئے۔ ہم نے کنگڈم‌ہال کے ساتھ ملحقہ گھر کی تعمیرنو کی۔ مادی ضروریات پوری کرنے کیلئے مَیں نے اور میرے بیٹے جان نے فورڈ ٹرک سے ایک آئس‌کریم وین بنا لی اور اگلے پانچ سال ہم نے آئس‌کریم فروخت کی۔ کاروبار شروع کرنے کے کچھ عرصہ بعد وین سے میرا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ یہ گر گئی اور میری ٹانگیں اسکے نیچے آ گئیں۔ نتیجتاً، میرے گھٹنوں کے نیچے کی نسیں مردہ ہو گئیں اور صحت‌یاب ہونے میں مجھے تین مہینے لگے۔‏

ماضی اور مستقبل میں بھرپور برکات

سالوں کے دوران، ہمیں بہت برکات حاصل ہوئیں جو خوش ہونے کی مزید وجوہات ہیں۔ ان میں سے ایک ۱۹۸۵ میں نیشنل کنونشن کیلئے جنوبی افریقہ جانا اور زیرِتعمیر بیت‌ایل ہوم کا دورہ کرنا تھا۔ ایک اور اپنے بیٹے جان کے ساتھ جیمز ٹاؤن میں ایک خوبصورت اسمبلی حال تعمیر کرنا تھا۔ ہم اس لئے بھی خوش ہیں کہ ہمارے تین بیٹے بزرگ کے طور پر خدمت کر رہے ہیں اور ہمارا پوتا جنوبی افریقہ کے بیت‌ایل میں خدمت کر رہا ہے۔ اور ہمیں بہتیروں کی بائبل کا صحیح علم حاصل کرنے میں معاونت کرنے سے بھی بہت زیادہ خوشی اور اطمینان حاصل ہوا ہے۔‏

تقریباً ۵،۰۰۰ لوگوں کے ساتھ ہماری میدانی خدمتگزاری بہت محدود ہے۔ پھر بھی بار بار ایک ہی علاقے میں کام کرنا عمدہ نتائج کا باعث بنا ہے۔ بہت کم لوگ ہمارے ساتھ گستاخی کرتے ہیں۔ سینٹ ہلینا اپنے دوستانہ رویے کی وجہ سے مشہور ہے اور آپ جہاں کہیں بھی جائیں گے—‏سڑک پر چل رہے ہوں یا کار میں سفر کر رہے ہیں لوگ آپ کو سلام کرینگے۔ میرا یہ تجربہ رہا ہے کہ آپ دوسرے لوگوں سے جتنی زیادہ واقفیت پیدا کرتے ہیں، اُنہیں گواہی دینا اُتنا ہی آسان ہو جاتا ہے۔ اب ہمارے پاس ۱۵۰ پبلشر ہیں اگرچہ بہت سے دوسرے ممالک میں چلے گئے ہیں۔‏

اب جبکہ ہمارے بچے بڑے ہو گئے ہیں اور چلے گئے ہیں مَیں اور میری بیوی ۴۸ سال کے بعد پھر اکیلے ہیں۔ اُسکی وفادارانہ محبت اور حمایت نے مجھے سالوں کے دوران آزمائشوں کے باوجود خوشی سے یہوواہ کی خدمت کرنے میں مدد دی ہے۔ ہماری جسمانی قوت کم ہو رہی ہے لیکن ہماری روحانی قوت ہر روز بڑھ رہی ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۱۶‏)‏ مَیں اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ ایک شاندار مستقبل کا متمنی ہوں جب مَیں اُس سے بھی بہتر جسمانی حالت میں بحال کر دیا جاؤنگا جو مَیں ۱۷ سال کی عمر میں رکھتا تھا۔ میری سب سے بڑی خواہش ہر اعتبار سے کاملیت سے لطف‌اندوز ہونا اور سب سے بڑھکر اپنے پُرمحبت اور شفیق خدا یہوواہ اور اُسکے بادشاہ یسوع مسیح کی ہمیشہ تک خدمت کرنا ہے۔—‏نحمیاہ ۸:‏۱۰‏۔‏

‏[‏صفحہ 26 پر تصویر]‏

جارج سکے‌پیو اور اُسکے تین بیٹے جو اب بزرگ کے طور پر خدمت کر رہے ہیں

‏[‏صفحہ 29 پر تصویر]‏

جارج سکے‌پیو اپنی بیوی ڈورس کے ساتھ

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں