یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م98 1/‏10 ص.‏ 18-‏21
  • مقامی ثقافتیں اور مسیحی اصول کیا یہ ہم‌آہنگ ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مقامی ثقافتیں اور مسیحی اصول کیا یہ ہم‌آہنگ ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • واضح حدود والے حلقے
  • بے‌ضرر دستورات کی بابت کیا ہے؟‏
  • اگر کوئی دستور روحانی ترقی میں حائل ہوتا ہے
  • مقام ترجیحات کو ملحوظِ‌خاطر رکھنا
  • حد سے تجاوز کرنے سے خبردار رہیں!‏
  • ثقافت کا اپنا مقام ہے
  • عام رسومات کی بابت متوازن نظریہ
    جاگو!‏—‏2000ء
  • خدا کو ناراض کرنے والی رسومات سے خبردار رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • سوالات از قارئین
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
م98 1/‏10 ص.‏ 18-‏21

مقامی ثقافتیں اور مسیحی اصول کیا یہ ہم‌آہنگ ہیں؟‏

شمالی یورپ سے سٹیفن نامی ایک گواہ کو ایک افریقی ملک میں مشنری کے طور پر تفویض کِیا گیا تھا۔ ایک مقامی بھائی کیساتھ قصبے کی سیر کے دوران جب اُس بھائی نے اُسکا ہاتھ تھام لیا تو وہ چونک اُٹھا۔‏

ایک بھرے بازار میں کسی آدمی کا ہاتھ پکڑ کر چلنے کا تصور سٹیفن کے لئے حیرت‌انگیز تھا۔ اُس کے معاشرے میں ایسا دستور ہم‌جنس‌پسندی کا اظہار ہے۔ (‏رومیوں ۱:‏۲۷‏)‏ تاہم، افریقی بھائی کے نزدیک ہاتھ تھامنا دوستی کا مخلصانہ اظہار تھا۔ ہاتھ چھڑا لینے کا مطلب دوستی کا استرداد ہوگا۔‏

معاشرتی تضادات کو ہمارے لئے دلچسپی کا سبب کیوں ہونا چاہئے؟ بنیادی طور پر اس لئے کہ یہوواہ کے لوگ ”‏سب قوموں کو شاگرد“‏ بنانے کی الہٰی تفویض کو پورا کرنے کے آرزومند ہیں۔ (‏متی ۲۸:‏۱۹‏)‏ اس کام کو پورا کرنے کے لئے بعض ایسے علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں جہاں خادموں کی زیادہ ضرورت ہے۔ اپنے نئے ماحول میں کامیاب ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جن مختلف ثقافتوں کا سامنا کرتے ہیں اُن کو سمجھیں اور خود کو اُن کے مطابق ڈھال لیں۔ اسطرح وہ اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ملکر کام کرنے کے قابل ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمتگزاری میں بھی مؤثر ثابت ہونگے۔‏

مزیدبرآں، اس پُرآشوب دُنیا میں بہتیرے لوگ سیاسی یا معاشی وجوہات کی بِنا پر اپنے مصیبت‌زدہ آبائی وطن کو چھوڑ کر دیگر ممالک میں آباد ہو گئے ہیں۔ پس ان نئے پڑوسیوں کو منادی کرتے وقت ہم نئی رسومات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ (‏متی ۲۲:‏۳۹‏)‏ پہلی مرتبہ مختلف طورطریقوں کا سامنا کرتے وقت ہم نئے دستورات سے پریشان ہو سکتے ہیں۔‏

واضح حدود والے حلقے

ثقافت انسانی معاشرے کے تانے‌بانے سے بنتی ہے۔ لہٰذا، ”‏حد سے زیادہ نیکوکار“‏ بننا اور ہر رسم‌ورواج کی بابت یہ فیصلہ کرنے کیلئے چھان‌بین کرنا کتنا لاحاصل عمل ہوگا کہ آیا یہ بائبل اصولوں کے مطابق ہے!‏—‏واعظ ۷:‏۱۶‏۔‏

اس کے برعکس، ایسے مقامی دستورات کو پہچاننا بھی ضروری ہے جو واضح طور پر الہٰی اصولوں کی خلاف‌ورزی کرتے ہیں۔ تاہم، عموماً ایسا کرنا مشکل نہیں ہوتا کیونکہ خدا کا کلام ”‏اصلاح“‏ کرنے کے لئے دستیاب ہے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶‏)‏ مثال کے طور پر، بعض ممالک میں کثیرالذوجگی عام دستور ہے لیکن سچے مسیحیوں کے لئے صحیفائی معیار یہ ہے کہ ایک مرد صرف ایک بیوی رکھے۔—‏پیدایش ۲:‏۲۴؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۳:‏۲‏۔‏

اسی طرح بدروحوں کو دُور رکھنے یا غیرفانی جان کے عقیدے پر مبنی تجہیزوتکفین کی بعض رسومات ایک سچے مسیحی کیلئے ناقابلِ‌قبول ہونگی۔ بعض لوگ بدروحوں کو دور رکھنے کی غرض سے مُتوَفّی کیلئے خوشبو جلاتے ہیں یا دُعائیں مانگتے ہیں۔ دیگر دفن کرنے سے قبل جاگتے رہتے ہیں یا ’‏اگلے جہان‘‏ کی زندگی کی تیاری میں مُتوَفّی کی مدد کرنے کی خاطر اُسے دوبارہ دفن کرتے ہیں۔ تاہم، بائبل یہ تعلیم دیتی ہے کہ جب کوئی شخص مر جاتا ہے تو وہ ”‏کچھ بھی نہیں جانتا،“‏ لہٰذا وہ کسی کے فائدے یا نقصان کیلئے کچھ بھی نہیں کر سکتا۔—‏واعظ ۹:‏۵؛‏ زبور ۱۴۶:‏۴‏۔‏

بِلاشُبہ، ایسی بہتیری رسومات بھی ہیں جو خدا کے کلام سے ہم‌آہنگ ہیں۔ ہم اُس وقت کتنی تازگی محسوس کرتے ہیں جب ہم ایسی ثقافتیں دیکھتے ہیں جہاں مہمان‌نوازی کا جذبہ ابھی تک زندہ ہے، جہاں کسی اجنبی کا پُرتپاک استقبال کرنے کا رواج ابھی تک ہے اور جہاں بوقتِ‌ضرورت اُسے گھر میں بھی اُتارا جاتا ہے!‏ جب آپ کو براہِ‌راست ایسا تجربہ ہوتا ہے تو کیا آپ اس نمونے کی تقلید کرنے کی تحریک نہیں پاتے؟ اگر پاتے ہیں تو اس سے آپ کی مسیحی شخصیت میں یقیناً بہتری پیدا ہوگی۔—‏عبرانیوں ۱۳:‏۱، ۲‏۔‏

ہم میں سے کون انتظار کرتے رہنا پسند کرتا ہے؟ بعض ممالک میں ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے کیونکہ پابندئ‌وقت کو نہایت اہم خیال کِیا جاتا ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ یہوواہ منظم خدا ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۴:‏۳۳‏)‏ لہٰذا، اُس نے بدکاری کو ختم کرنے کیلئے ”‏دن اور .‏ .‏ .‏ گھڑی“‏ مقرر کر رکھی ہے اور وہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ یہ واقعہ ”‏تاخیر نہ کریگا۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۳۶؛‏ حبقوق ۲:‏۳)‏ معقول پابندئ‌وقت کی حمایت کرنے والی ثقافتیں ہمیں منظم بننے اور دوسرے لوگوں اور اُنکے وقت کیلئے مناسب احترام دکھانے میں مدد دیتی ہیں جو یقیناً صحیفائی اصولوں کے مطابق ہے۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۴:‏۴۰؛‏ فلپیوں ۲:‏۴‏۔‏

بے‌ضرر دستورات کی بابت کیا ہے؟‏

بعض دستورات مسیحی طرزِزندگی سے ہم‌آہنگ ہیں جبکہ دیگر نہیں ہیں۔ تاہم اُن دستورات کی بابت کیا ہے جنہیں درست یا غلط نہیں کہا جا سکتا؟ بہتیرے دستور بے‌ضرر ہوتے ہیں اور اُن کیلئے ہمارا رجحان ہمارے روحانی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔‏

مثال کے طور پر سلام کرنے کے بہت سے طریقے ہیں—‏مصافحہ کرنا، جھک کر ملنا، بوسہ لینا یا بغل‌گیر ہونا۔ اسی طرح دسترخوان کے آداب‌واطوار کے بھی مختلف دستور ہیں۔ بعض ممالک میں لوگ ایک اجتماعی برتن میں سے کھاتے ہیں۔ بعض ممالک میں ڈکار لینا نہ صرف قابلِ‌قبول بلکہ قدردانی کا اظہار ہے جبکہ دوسرے ممالک میں یہ ناپسندیدہ اور انتہائی بُرے آداب کے زمرے میں آتا ہے۔‏

یہ فیصلہ کرنے کی بجائے کہ آپ ذاتی طور پر کن بے‌ضرر دستورات کو پسند یا ناپسند کرتے ہیں، اُنکے بارے میں درست رجحان اپنانے پر توجہ دیں۔ بائبل کی لازوال مشورت سفارش کرتی ہے کہ ہم ’‏تفرقے اور بیجا فخر کے باعث کچھ نہ کریں بلکہ فروتنی سے دوسروں کو خود سے بہتر سمجھیں۔‘‏ (‏فلپیوں ۲:‏۳‏)‏ اسی طرح اپنی کتاب دِس وے پلیز—‏اے بُک آف مینرز میں ایلی‌نور بوائے‌کن کہتی ہے:‏ ”‏سب سے پہلے آپکو ایک مہربان دل کی ضرورت ہوتی ہے۔“‏

یہ فروتن رسائی ہمیں دوسروں کے دستورات کو کمتر خیال کرنے سے محفوظ رکھے گی۔ ہم آگے بڑھکر یہ سیکھنے کی تحریک حاصل کرینگے کہ دوسرے لوگ کیسے رہتے، رسومات میں شریک ہونگے اور پرہیز کرنے یا مختلف نظر آنے والی ہر چیز کی بابت مُتشکِک ہونے کی بجائے اُنکے کھانوں سے لطف اُٹھائینگے۔ آزاد سوچ رکھنے اور نئے طریقوں کو آزمانے کیلئے رضامند ہونے سے ہم اپنے میزبان یا پردیسی ہمسایوں کیلئے شکریے کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنے دلوں اور خیالوں کو ”‏کشادہ“‏ کرنے سے ہم خود بھی استفادہ کرتے ہیں۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۶:‏۱۳‏۔‏

اگر کوئی دستور روحانی ترقی میں حائل ہوتا ہے

ایسی صورت میں کیا ہو اگر بعض دستورات بذاتِ‌خود غیرصحیفائی تو نہیں مگر روحانی ترقی کیلئے معاون بھی نہیں؟ مثال کے طور پر بعض ممالک میں لوگ کسی بھی معاملے کو التوا میں ڈالنے کی طرف بہت زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ زندگی میں ایسی آرام‌طلبی دباؤ کو تو کم کر سکتی ہے تاہم یہ ہمارے لئے اپنی خدمت کو ’‏پورا‘‏ کرنے کو زیادہ مشکل بنا دیگی۔—‏۲-‏تیمتھیس ۴:‏۵‏۔‏

ہم دوسروں کی زیادہ اہم کاموں کو ”‏کل“‏ پر ڈال دینے سے گریز کرنے کیلئے کیسے حوصلہ‌افزائی کر سکتے ہیں؟ یاد رکھیں ”‏سب سے پہلے آپکو ایک مہربان دل کی ضرورت ہوتی ہے۔“‏ محبت سے تحریک پا کر ہم نمونہ قائم کر سکتے ہیں اور پھر جن معاملات کا آج ہی نپٹایا جانا ضروری ہے اُنہیں کل پر نہ ڈالنے کے فوائد کی وضاحت کر سکتے ہیں۔ (‏واعظ ۱۱:‏۴‏)‏ اسکے ساتھ ساتھ محض بہت کچھ انجام دینے کیلئے ہمیں احتیاط کرنی چاہئے کہ ہم باہمی اعتماد اور بھروسے کو قربان نہ کر دیں۔ اگر دوسرے ہماری مشورت کو فوری طور پر قبول نہیں کرتے تو ہمیں اُن پر اسے مسلّط نہیں کرنا چاہئے یا اُن پر اپنا غصہ نہیں نکالنا چاہئے۔ محبت کارکردگی سے ہمیشہ برتر ہونی چاہئے۔—‏۱-‏پطرس ۴:‏۸؛‏ ۵:‏۳‏۔‏

مقام ترجیحات کو ملحوظِ‌خاطر رکھنا

ہمیں یہ یقین کر لینا چاہئے کہ جو بھی مشورہ ہم دیتے ہیں وہ صحیح ہو، محض ذاتی ترجیحات مسلّط کرنے والا نہ ہو۔ مثال کے طور پر، لباس کے بہت ہی مختلف سٹائل پائے جاتے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں خوشخبری کی منادی کرنے والے ایک شخص کے لئے نیک‌ٹائی پہننا مناسب ہوگا جبکہ گرم مرطوب علاقوں میں اسے تکلف خیال کِیا جاتا ہے۔ امورِعامہ سے وابستہ کسی کاروباری شخص کیلئے موزوں لباس کے حوالے سے مقامی ترجیحات کو دھیان میں رکھنا اکثر مددگار ثابت ہوگا۔ لباس جیسے حساس معاملے سے نپٹتے ہوئے ”‏ذہنی پختگی“‏ نہایت اہم ہے۔—‏۱-‏تیمتھیس ۲:‏۹، ۱۰‏، این‌ڈبلیو۔‏

اگر ہم کسی دستور سے خوش نہیں تو کیا ہو؟ کیا اسے غوروخوض کے بغیر ہی رد کر دینا چاہئے؟ یہ ضروری نہیں ہے۔ مردوں کے ہاتھ پکڑنے کا دستور جسکا پہلے تذکرہ کِیا گیا اُس افریقی ملک میں بالکل قابلِ‌قبول تھا۔ جب مشنری نے دیکھا کہ دوسرے آدمی بھی ہاتھ پکڑ کر چل رہے ہیں تو اُسے اطمینان محسوس ہوا۔‏

اپنے وسیع مشنری دوروں کے دوران رسول پولس نے ایسی کلیسیاؤں کا دورہ کِیا جنکے ارکان مختلف پسِ‌منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ بلا‌شُبہ معاشرتی تضادات عام تھے۔ لہٰذا رسول پولس نے بائبل اصولوں پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے جن دستورات کو وہ اپنا سکتا تھا اُس نے اُنہیں اپنا لیا۔ ”‏مَیں سب آدمیوں کیلئے سب کچھ بنا ہوا ہوں،“‏ اُس نے کہا، ”‏تاکہ بعض کو بچاؤں۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۹:‏۲۲، ۲۳؛‏ اعمال ۱۶:‏۳‏۔‏

کچھ متعلقہ سوال اس ضمن میں ہماری مدد کر سکتے ہیں کہ ہمیں نئے دستورات کیلئے کیسا ردِعمل دکھانا چاہئے۔ کسی دستور کو اپنا لینے—‏یا رد کرنے—‏سے ہم مشاہدین کو کیا تاثر دے رہے ہوتے ہیں؟ کیا وہ یہ دیکھ کر بادشاہتی پیغام کی طرف راغب ہونگے کہ ہم اُنکی ثقافت کو اپنا رہے ہیں؟ اسکے برعکس اگر ہم کوئی مقامی دستور اپنا لیتے ہیں تو کیا اس سے ’‏ہماری خدمت پر حرف‘‏ آ سکتا ہے؟—‏۲-‏کرنتھیوں ۶:‏۳‏۔‏

اگر ہم ”‏سب لوگوں کیلئے سب کچھ“‏ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں درست اور غلط کی بابت چند نہایت پُختہ نظریات کو بدلنا ہوگا۔ اکثراوقات ”‏درست“‏ اور ”‏غلط“‏ کا انحصار محض اُس علاقے پر ہے جہاں ہم رہتے ہیں۔ لہٰذا کسی ملک میں آدمیوں کا ایکدوسرے کا ہاتھ پکڑنا دوستی کا اظہار ہے جبکہ بہت سے دیگر ممالک میں ایسا کرنا یقیناً بادشاہتی پیغام سے توجہ ہٹانے کا باعث ہوگا۔‏

تاہم، کئی ایسے دستور ہیں جو بعض علاقوں میں قابلِ‌قبول ہیں اور شاید وہ مسیحیوں کیلئے مناسب بھی ہیں؛ مگر پھر بھی ہمیں احتیاط کرنی چاہئے۔‏

حد سے تجاوز کرنے سے خبردار رہیں!‏

یسوع مسیح نے کہا کہ اگرچہ اُسکے شاگردوں کو دُنیا میں سے نکالا تو نہیں جا سکتا توبھی وہ ”‏دُنیا کے نہیں۔“‏ (‏یوحنا ۱۷:‏۱۵، ۱۶‏)‏ تاہم، بعض‌اوقات شیطان کی دُنیا کے جزوِلازم اور محض ثقافت میں فرق کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر رقص‌وموسیقی ہر معاشرے میں عام ہیں اگرچہ بعض علاقوں میں اُنکی زیادہ اہمیت ہے۔‏

ہم آسانی سے ایسا فیصلہ کر سکتے ہیں جو شاید پُختہ صحیفائی وجوہات کی بجائے ہمارے پس‌منظر پر مبنی ہو۔ ایک جرمن بھائی ایلیکس کو سپین میں تفویض ملی۔ وہ جس ماحول میں پہلے رہتا تھا وہاں رقص اتنا عام نہیں تھا تاہم سپین میں یہ ثقافت کا حصہ ہے۔ جب اُس نے ایک بھائی اور بہن کو بڑے جوش سے اکٹھے رقص کرتے دیکھا تو وہ پریشان ہو گیا۔ کیا یہ رقص غلط تھا یا دُنیاوی تھا؟ اگر اُس نے اس دستور کو قبول کر لیا تو کیا یہ اُسکے مسیحی معیاروں کو کم‌اہم خیال کرنے کے مترادف ہوگا؟ ایلیکس نے جان لیا کہ موسیقی اور رقص اگرچہ جرمنی سے مختلف تھے توبھی یہ محسوس کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ اُسکے ہسپانوی بھائی اور بہن مسیحی معیاروں کو کم اہم خیال کر رہے تھے۔ اُسکی پریشانی ثقافتوں میں اختلاف کا نتیجہ تھی۔‏

تاہم، روایتی ہسپانوی رقصوں سے محظوظ ہونے والا بھائی امی‌لیو تسلیم کرتا ہے کہ خطرہ موجود ہے۔ ”‏میرا مشاہدہ ہے کہ رقص کی بعض اقسام میں مخالف جنس کے دو اشخاص میں بہت قریبی تعلق ہونا بہت ضروری ہوتا ہے،“‏ وہ وضاحت کرتا ہے۔ ”‏ایک کنوارے شخص کی حیثیت سے مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں میں سے کسی ایک کے جذبات کو تو ضرور اُبھار سکتا ہے۔ بسااوقات رقص کو کسی ایسے شخص کیلئے محبت دکھانے کیلئے استعمال کِیا جا سکتا ہے جس کیلئے آپ رغبت محسوس کرتے ہیں۔ یہ یقین کر لینا باعثِ‌تحفظ ہے کہ موسیقی صحتمندانہ ہے اور جسمانی تعلق کم سے کم ہے۔ تاہم مَیں تسلیم کرتا ہوں کہ جب نوجوان بہنوں اور بھائیوں کا گروپ رقص کرتا ہے تو تھیوکریٹک ماحول قائم رکھنا کافی مشکل ہوتا ہے۔“‏

یقیناً، ہم اپنی ثقافت کو دُنیاوی رویے میں پڑنے کے بہانے کے طور پر استعمال کرنا نہیں چاہینگے۔ اسرائیلی ثقافت میں رقص‌وموسیقی کو ایک خاص مقام حاصل تھا اور جب مصر سے رہائی کے بعد وہ بحرِقلزم کے کنارے تھے تو اُنکی تقریب میں گانا اور رقص دونوں شامل تھے۔ (‏خروج ۱۵:‏۱، ۲۰)‏ تاہم اُنکی موسیقی اور رقص اردگرد کی بُت‌پرست دُنیا سے مختلف تھی۔‏

افسوس کی بات ہے کہ کوہِ‌سینا سے موسیٰ کی واپسی کے انتظار میں اسرائیلیوں نے بے‌صبری سے سونے کا بچھڑا بنا لیا اور کھانے پینے کے بعد ”‏اٹھ کر کھیل کود میں لگ گئے۔“‏ (‏خروج ۳۲:‏۱-‏۶)‏ جب موسیٰ اور یشوع نے اُنکے گانے کی آواز سنی تو اُس سے وہ فوراً ہی پریشان ہو گئے۔ (‏خروج ۳۲:‏۱۷، ۱۸)‏ اسرائیلی اُس ”‏حد“‏ کو عبور کر چکے تھے اور اب اُنکی موسیقی اور رقص نے اردگرد کی بُت‌پرست دُنیا کی عکاسی کرنا شروع کر دی تھی۔‏

اسی طرح آجکل موسیقی اور رقص ہمارے علاقے میں قابلِ‌قبول ہو سکتے ہیں اور شاید دوسروں کے ضمیر کیلئے ٹھوکر کا باعث نہ بنیں۔ تاہم اگر روشنیاں مدھم کر دی جائیں، جگمگاتی روشنیوں کا اضافہ کر دیا جائے، یا مختلف دھن کی موسیقی بجنے لگے تو جو کچھ پہلے قابلِ‌قبول تھا اب شاید دُنیا کی روح کی عکاسی کرے۔ ”‏یہ تو ہماری ثقافت ہے،“‏ کوئی شخص جواز پیش کر سکتا ہے۔ ہارون نے ایسا ہی جواز پیش کِیا جب وہ تفریح‌طبع اور پرستش کی بُت‌پرستانہ اقسام کیلئے راضی ہو گیا اور غلطی سے اُسے ”‏خداوند کی عید“‏ کا نام دیا۔ یہ بہانہ باطل تھا۔ چنانچہ، اُنکے چال‌چلن نے اُنہیں ”‏اُنکے دشمنوں کے درمیان ذلیل کِیا۔“‏—‏خروج ۳۲:‏۵، ۲۵۔‏

ثقافت کا اپنا مقام ہے

بیگانہ دستورات پہلے‌پہل شاید ہمیں پریشان کر دیں تاہم وہ سب کے سب ناقابلِ‌قبول نہیں ہوتے۔ اپنے ”‏حواس“‏ سے جو ”‏تیز ہو گئے ہیں“‏ ہم تعیّن کر سکتے ہیں کہ کونسے دستور مسیحی اصولوں سے ہم‌آہنگ ہیں اور کونسے نہیں ہیں۔ (‏عبرانیوں ۵:‏۱۴‏)‏ جب ہم اپنے ساتھی انسانوں کیلئے دلی محبت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو بے‌ضرر دستورات کیلئے ہم مناسب جوابی عمل دکھائینگے۔‏

جب ہم مقامی علاقے یا کسی اَور جگہ پر لوگوں کو بادشاہتی خوشخبری سناتے ہیں تو مختلف ثقافتوں کی بابت ہمارا متوازن رجحان ہمیں ’‏سب آدمیوں کیلئے سب کچھ‘‏ بننے میں مدد دیگا۔ لہٰذا ہمیں اس بات کا یقینی تجربہ ہوگا کہ مختلف ثقافتوں کو اپنا لینے سے ہماری زندگی پُرمعنی، دلچسپ اور مسحورکُن ہو جائیگی۔‏

‏[‏صفحہ 19 پر تصویر]‏

مسیحی سلام کا موزوں طور پر مختلف طریقوں سے اظہار کِیا جا سکتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں