یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م98 1/‏10 ص.‏ 13-‏17
  • ‏”‏کمال آرزو“‏ سے راہ دیکھنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏کمال آرزو“‏ سے راہ دیکھنا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • مسیح کی موجودگی کے دوران بیداری
  • یسوع مسیح کیوں آتا ہے؟‏
  • مسیح کے ظہور کے منتظر
  • مخلوقات کی ”‏کمال آرزو“‏
  • یہوواہ کے تحمل کا مطلب نجات ہے
  • صبر سے انتظار کرتے رہیں
  • اپنی اُمید کو زندہ رکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
  • خاتمے کے منتظر رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
  • ہمارے زمانے میں بادشاہ یسوع مسیح کے کام
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
  • ہر کوئی آزاد ہوگا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
م98 1/‏10 ص.‏ 13-‏17

‏”‏کمال آرزو“‏ سے راہ دیکھنا

‏”‏مخلوقات کمال آرزو سے خدا کے بیٹوں کے ظاہر ہونے کی راہ دیکھتی ہے۔“‏—‏رومیوں ۸:‏۱۹‏۔‏

۱.‏ آجکل کے مسیحیوں اور پہلی صدی کے مسیحیوں کی حالت میں کیا مماثلت پائی جاتی ہے؟‏

آجکل سچے مسیحیوں کی حالت پہلی صدی کے مسیحیوں سے ملتی جلتی ہے۔ اُس زمانے میں یہوواہ کے خادموں کی ایک پیشینگوئی نے یہ پہچاننے میں مدد کی کہ مسیحا کب ظاہر ہوگا۔ (‏دانی‌ایل ۹:‏۲۴-‏۲۶‏)‏ اُسی پیشینگوئی نے یروشلیم کی تباہی کا بھی ذکر کِیا مگر اس میں ایسا کوئی عنصر شامل نہیں تھا جس سے مسیحی پیش‌ازوقت یہ جاننے کے قابل ہوتے کہ وہ شہر کب تباہ ہوگا۔ (‏دانی‌ایل ۹‏:‏۲۶ب، ۲۷)‏ اسی طرح، الہٰی فضل سے ایک پیشینگوئی ۱۹ویں صدی کے بائبل طالبعلموں کیلئے کمال آرزو سے متوقع رہنے کا باعث بنی۔ دانی‌ایل ۴:‏۲۵ کے ”‏سات دَوروں“‏ کو ”‏غیرقوموں کی میعاد“‏ کیساتھ منسلک کرنے سے اُنہوں نے یہ توقع کی کہ مسیح ۱۹۱۴ میں بادشاہتی اختیار حاصل کریگا۔ (‏لوقا ۲۱:‏۲۴؛‏ حزقی‌ایل ۲۱:‏۲۵-‏۲۷)‏ اگرچہ دانی‌ایل کی کتاب میں بہت سی پیشینگوئیاں پائی جاتی ہیں مگر ان میں سے ایک بھی دورِحاضر کے بائبل طالبعلموں کو شیطان کے تمام نظام‌العمل کی تباہی کے صحیح وقت کا حساب لگانے کے قابل نہیں بناتی۔ (‏دانی‌ایل ۲:‏۳۱-‏۴۴؛‏ ۸:‏۲۳-‏۲۵؛‏ ۱۱:‏۳۶،‏ ۴۴، ۴۵‏)‏ تاہم، وہ جانتے ہیں کہ یہ جلد واقع ہوگا کیونکہ ہم ”‏آخری زمانہ“‏ میں رہ رہے ہیں۔—‏دانی‌ایل ۱۲:‏۴‏۔‏a

مسیح کی موجودگی کے دوران بیداری

۲، ۳.‏ (‏ا)‏ اس بات کا واضح ثبوت کن عناصر پر مشتمل ہے کہ ہم شاہانہ اختیار میں مسیح کی موجودگی کے دوران رہ رہے ہیں؟ (‏ب)‏ کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ مسیحیوں کو یسوع مسیح کی موجودگی کے دوران بیدار رہنا تھا؟‏

۲ سچ ہے کہ ۱۹۱۴ میں یسوع کے بادشاہتی اختیار حاصل کرنے سے قبل ایک پیشینگوئی نے مسیحیوں کو انتظار کی حالت میں ڈال دیا تھا۔ تاہم، مسیح نے اپنی موجودگی اور نظام‌العمل کے خاتمے کا جو ”‏نشان“‏ دیا اُس نے واقعات کو نمایاں کِیا۔ لہٰذا اُن میں سے بیشتر اُسکی موجودگی کے آغاز کے بعد دکھائی دینگے۔ ایسے واقعات—‏جنگیں، کال، زلزلے، وبائیں، بڑھتی ہوئی لاقانونیت، مسیحیوں کا ستایا جانا اور بادشاہتی خوشخبری کی عالمگیر منادی—‏اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اب ہم مسیح کی موجودگی کے شاہانہ اختیار کے دوران رہ رہے ہیں۔—‏متی ۲۴:‏۳-‏۱۴؛‏ لوقا ۲۱:‏۱۰، ۱۱‏۔‏

۳ تاہم، اپنے شاگردوں کیلئے یسوع کی الوداعی مشورت کا لبِ‌لباب یہی تھا:‏ ”‏خبردار!‏ .‏ .‏ .‏ جاگتے رہو۔“‏ (‏مرقس ۱۳:‏۳۳،‏ ۳۷؛‏ لوقا ۲۱:‏۳۶‏)‏ بیداری کی بابت ان مشوروں کے سیاق‌وسباق کا بغور مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ مسیح اوّلین طور پر اپنی موجودگی کے آغاز کے نشان کی بابت چوکس رہنے کا ذکر نہیں کر رہا تھا۔ اسکی بجائے، وہ اپنے حقیقی شاگردوں کو اپنی موجودگی کے دوران بیدار رہنے کا حکم دے رہا تھا۔ سچے مسیحیوں کو کس لئے بیدار رہنا تھا؟‏

۴.‏ یسوع کی طرف سے مہیاکردہ نشان کیا مقصد سرانجام دیگا؟‏

۴ یسوع نے اس سوال کے جواب میں عظیم پیشینگوئی کی:‏ ”‏یہ باتیں [‏یہودی نظام‌العمل کی تباہی کا سبب بننے والے واقعات]‏ کب ہونگی؟ اور تیرے آنے [‏”‏موجودگی،“‏ این‌ڈبلیو]‏ اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“‏ (‏متی ۲۴:‏۳‏)‏ بیان‌کردہ نشان نہ صرف مسیح کی موجودگی بلکہ موجودہ بدکار نظام‌العمل کے خاتمے کا باعث بننے والے واقعات کی بھی شناخت کرنے کا کام سرانجام دیگا۔‏

۵.‏ یسوع نے کیسے ظاہر کِیا وہ روحانی طور پر موجود ہونے کے باوجود بھی ”‏آئے“‏ گا؟‏

۵ یسوع نے ظاہر کِیا کہ وہ اپنی ”‏موجودگی“‏ (‏یونانی پیروسیا)‏ کے دوران قدرت اور جلال کیساتھ آئیگا۔ ایسی ”‏آمد“‏ (‏جو یونانی لفظ ایرخومے کی مختلف صورتوں سے ظاہر ہوتی ہے)‏ کی بابت اُس نے بیان کِیا:‏ ”‏اس وقت ابنِ‌آدؔم کا نشان آسمان پر دکھائی دیگا۔ اس وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابنِ‌آدؔم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔ .‏ .‏ .‏ اب انجیر کے درخت سے ایک تمثیل سیکھو۔ جونہی اسکی ڈالی نرم ہوتی اور پتے نکلتے ہیں تم جان لیتے ہو کہ گرمی نزدیک ہے۔ اسی طرح جب تم ان سب باتوں کو دیکھو تو جان لو کہ وہ [‏مسیح]‏ نزدیک ہے بلکہ دروازہ پر ہے۔ پس جاگتے رہو کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ تمہارا خداوند کس دن آئیگا۔ اسلئے تُم بھی تیار رہو کیونکہ جس گھڑی تمکو گمان بھی نہ ہوگا ابنِ‌آدؔم آ جائیگا۔“‏—‏متی ۲۴:‏۳۰،‏ ۳۲، ۳۳،‏ ۴۲،‏ ۴۴‏۔‏

یسوع مسیح کیوں آتا ہے؟‏

۶.‏ ”‏بڑے بابل“‏ کی تباہی کیسے ہوگی؟‏

۶ اگرچہ وہ ۱۹۱۴ سے بطور بادشاہ موجود ہے تو بھی یسوع مسیح کو ابھی اُن لوگوں کو سزا دینے سے پیشتر جنہیں وہ بدکار خیال کرتا ہے تنظیموں اور افراد کی عدالت کرنا ہے۔ (‏مقابلہ کریں ۲-‏کرنتھیوں ۵:‏۱۰‏۔)‏ یہوواہ جلد ہی سیاسی حکمرانوں کے ذہنوں میں ”‏بڑے بابل،“‏ جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت کو تباہ کر دینے کا خیال ڈالیگا۔ (‏مکاشفہ ۱۷:‏۴، ۵،‏ ۱۶، ۱۷‏)‏ پولس رسول نے واضح طور پر بیان کِیا کہ یسوع مسیح ”‏گناہ کے شخص“‏—‏مسیحی دُنیا کے برگشتہ پادری طبقے، ”‏بڑے بابل“‏ کے نمایاں حصے کو نابود کر دیگا۔ پولس نے لکھا:‏ ”‏وہ بے‌دین ظاہر ہوگا جسے خداوند یسوؔع اپنے مُنہ کی پھونک سے ہلاک اور اپنی آمد [‏”‏موجودگی،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کی تجلی سے نیست کریگا۔“‏—‏۲-‏تھسلنیکیوں ۲:‏۳،‏ ۸‏۔‏

۷.‏ جب ابنِ‌آدم اپنے جلال میں آتا ہے تو وہ کیا عدالت کریگا؟‏

۷ مستقبل قریب میں، مسیح مختلف اقوام کے لوگوں کی عدالت زمین پر اُسکے بھائیوں کیساتھ اُنکے سلوک کی بِنا پر کریگا۔ ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏جب ابنِ‌آدؔم اپنے جلال میں آئیگا تو سب فرشتے اُسکے ساتھ آئینگے تب وہ اپنے جلال کے تخت پر بیٹھیگا۔ اور سب قومیں اُسکے سامنے جمع کی جائینگی اور وہ ایک کو دوسرے سے جدا کریگا جیسے چرواہا بھیڑوں کو بکریوں سے جدا کرتا ہے۔ اور بھیڑوں کو اپنے دہنے اور بکریوں کو بائیں کھڑا کریگا۔ .‏ .‏ .‏ بادشاہ [‏بھیڑوں]‏ سے کہیگا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تم نے میرے ان سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے کسی کے ساتھ یہ سلوک کِیا تو میرے ہی ساتھ کِیا۔ .‏ .‏ .‏ اور [‏بکریاں]‏ ہمیشہ کی سزا [‏پائینگی]‏ مگر راستباز ہمیشہ کی زندگی۔“‏—‏متی ۲۵:‏۳۱-‏۴۶‏۔‏

۸.‏ پولس بیدینوں پر عدالت صادر کرنے کیلئے مسیح کی آمد کو کیسے بیان کرتا ہے؟‏

۸ جیساکہ بھیڑوں اور بکریوں کی تمثیل سے ظاہر کِیا گیا ہے، یسوع تمام بیدینوں کی حتمی عدالت کرتا ہے۔ پولس نے مصیبت‌زدہ ساتھی ایمانداروں کو یقین دلایا کہ اُنہیں اُس وقت ”‏ہمارے ساتھ آرام“‏ حاصل ہوگا ”‏جب خداوند یسوؔع اپنے قوی فرشتوں کے ساتھ بھڑکتی ہوئی آگ میں آسمان سے ظاہر ہوگا۔ اور جو خدا کو نہیں پہچانتے اور ہمارے خداوند یسوؔع کی خوشخبری کو نہیں مانتے ان سے بدلہ لیگا۔ وہ خداوند کے چہرہ اور اسکی قدرت کے جلال سے دور ہوکر ابدی ہلاکت کی سزا پائینگے۔ یہ اس دن ہوگا جبکہ وہ اپنے مُقدسوں میں جلال پانے .‏ .‏ .‏ کے لئے آئیگا۔“‏ (‏۲-‏تھسلنیکیوں ۱:‏۷-‏۱۰‏)‏ ان تمام ہیجان‌خیز واقعات کے پیشِ‌نظر کیا ہمیں ایمان کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے اور کمال آرزو کیساتھ مسیح کی آمد کیلئے بیدار نہیں رہنا چاہئے؟‏

مسیح کے ظہور کے منتظر

۹، ۱۰.‏ ابھی تک زمین پر موجود ممسوح اشخاص یسوع مسیح کے ظہور کے منتظر کیوں ہیں؟‏

۹ ”‏خداوند یسوع“‏ کا ”‏آسمان سے ظاہر“‏ ہونا محض بدکاروں کو تباہ کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ راستبازوں کو اجر دینے کیلئے بھی ہوگا۔ ابھی تک زمین پر موجود مسیح کے ممسوح بھائیوں کا بقیہ مسیح کے ظہور سے قبل شاید دکھ اُٹھائے مگر وہ اپنی شاندار آسمانی اُمید میں شادمان رہتے ہیں۔ پطرس رسول نے ممسوح مسیحیوں کو لکھا:‏ ”‏مسیح کے دکھوں میں جوں جوں شریک ہو خوشی کرو تاکہ اُس کے جلال کے ظہور کے وقت بھی نہایت خوش‌وخرم ہو۔“‏—‏۱-‏پطرس ۴:‏۱۳‏۔‏

۱۰ ممسوح اُس وقت تک وفادار رہنے پر اٹل ہیں جب تک مسیح ’‏اُنہیں اپنے پاس جمع‘‏ نہیں کر لیتا تاکہ اُنکا ”‏آزمایا“‏ ہوا ایمان ”‏یسوع مسیح کے ظہور کے وقت تعریف اور جلال اور عزت کا باعث ٹھہرے۔“‏ ‏(‏۲-‏تھسلنیکیوں ۲:‏۱؛‏ ۱-‏پطرس ۱:‏۷‏)‏ روح سے پیدا شُدہ ایسے وفادار مسیحیوں کے حق میں یہ کہا جا سکتا ہے:‏ ”‏مسیح کی گواہی تم میں قائم ہوئی۔ یہاں تک کہ تم کسی نعمت میں کم نہیں اور ہمارے خداوند یسوؔع مسیح کے ظہور کے منتظر ہو۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۶، ۷‏۔‏

۱۱.‏ یسوع مسیح کے ظہور کا انتظار کرنے والے ممسوح مسیحی کیا کرتے ہیں؟‏

۱۱ ممسوح بقیہ پولس کے احساسات میں شریک ہے جس نے لکھا:‏ ”‏میری دانست میں اس زمانہ کے دکھ درد اس لائق نہیں کہ اُس جلال کے مقابل ہو سکیں جو ہم پر ظاہر ہونے والا ہے۔“‏ (‏رومیوں ۸:‏۱۸‏)‏ اُن کے ایمان کو وقتی حسابات کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ یہوواہ کی خدمت میں مشغول رہ کر اپنے ساتھیوں، ”‏دوسری بھیڑوں“‏ کیلئے شاندار نمونہ فراہم کرتے ہیں۔ (‏یوحنا ۱۰:‏۱۶‏، این‌ڈبلیو)‏ یہ ممسوح اشخاص جانتے ہیں کہ اس بدکار نظام کا خاتمہ قریب ہے، لہٰذا وہ پطرس کی فہمائش پر دھیان دیتے ہیں:‏ ”‏اس واسطے اپنی عقل کی کمر باندھ کر اور ہوشیار ہو کر اُس فضل کی کامل اُمید رکھو جو یسوؔع مسیح کے ظہور کے وقت تم پر ہونے والا ہے۔“‏—‏۱-‏پطرس ۱:‏۱۳‏۔‏

مخلوقات کی ”‏کمال آرزو“‏

۱۲، ۱۳.‏ انسانی مخلوقات ”‏بطالت کے اختیار“‏ میں کیسے آگئی اور دوسری بھیڑیں کس چیز کی آرزومند ہیں؟‏

۱۲ کیا دوسری بھیڑوں کیلئے بھی کوئی چیز ہے جس کی وہ منتظر رہ سکیں؟ یقیناً ایسا ہے۔ یہوواہ کی روح سے پیداشُدہ ”‏فرزند“‏ اور آسمانی بادشاہت میں ”‏مسیح کے ہم‌میراث“‏ بننے والے لوگوں کی جلالی اُمید کا ذکر کرنے کے بعد پولس نے کہا:‏ ”‏مخلوقات کمال آرزو سے خدا کے بیٹوں کے ظاہر ہونے کی راہ دیکھتی ہے۔ اسلئے کہ مخلوقات بطالت کے اختیار میں کر دی گئی تھی۔ نہ اپنی خوشی سے بلکہ اُسکے باعث سے جس نے اُس کو۔ اس اُمید پر بطالت کے اختیار میں کر دیا کہ مخلوقات بھی فنا کے قبضہ سے چھوٹ کر خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی میں داخل ہو جائیگی۔“‏—‏رومیوں ۸:‏۱۴-‏۲۱؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۲:‏۱۰-‏۱۲‏۔‏

۱۳ آدم کے گناہ سے اُسکی تمام اولاد گناہ اور موت کی غلامی میں پیدا ہونے کے باعث ”‏بطالت کے اختیار“‏ میں آ گئی۔ وہ خود کو ایسی غلامی سے آزاد کرانے کیلئے نااہل ثابت ہوئے ہیں۔ (‏زبور ۴۹:‏۷؛‏ رومیوں ۵:‏۱۲،‏ ۲۱‏)‏ آہ، دوسری بھیڑیں ”‏فنا کے قبضہ سے چھوٹنے“‏ کی کسقدر خواہاں ہیں!‏ تاہم، ایسا واقع ہونے سے پہلے بعض حالتوں کا یہوواہ کے وقتوں اور میعادوں کے مطابق واقع ہونا لازمی ہے۔‏

۱۴.‏ ”‏خدا کے بیٹوں کے ظاہر ہونے“‏ میں کیا کچھ شامل ہوگا اور یہ نوعِ‌انسان کے ”‏فنا کے قبضہ سے چھوٹنے“‏ پر کیسے منتج ہوگا؟‏

۱۴ ”‏خدا کے“‏ ممسوح ”‏فرزندوں“‏ کے بقیے کا پہلے ’‏ظاہر‘‏ ہونا ضرور ہے۔ اس میں کیا کچھ شامل ہوگا؟ خدا کے وقتِ‌مقررہ پر دوسری بھیڑوں پر ظاہر ہو جائے گا کہ بالآخر ممسوح اشخاص پر ”‏مہر“‏ کر دی گئی ہے اور وہ مسیح کے ساتھ حکمرانی کرنے کے لئے جلال پا چکے ہیں۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۲-‏۴‏)‏ ”‏خدا کے“‏ قیامت‌یافتہ ”‏فرزند“‏ بھی شیطان کے بدکار نظام‌العمل کو تباہ کرنے میں مسیح کے ساتھ شریک ہو کر ’‏ظاہر‘‏ ہوں گے۔ (‏مکاشفہ ۲:‏۲۶، ۲۷؛‏ ۱۹:‏۱۴، ۱۵‏)‏ اس کے بعد مسیح کے عہدِہزارسالہ کے دوران، وہ انسانی ”‏مخلوقات“‏ کو مسیح کی فدیے کی قربانی کے فوائد بہم پہنچانے والے کہانتی ذرائع کے طور پر مزید ’‏ظاہر‘‏ ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں نوعِ‌انسان ”‏فنا کے قبضہ سے چھوٹ کر“‏ انجام‌کار ”‏خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی“‏ میں داخل ہو جائے گا۔ (‏رومیوں ۸:‏۲۱؛‏ مکاشفہ ۲۰:‏۵؛‏ ۲۲:‏۱، ۲‏)‏ ایسے شاندار امکانات کے پیشِ‌نظر، کیا یہ کوئی حیرانی کی بات ہے کہ دوسری بھیڑیں ”‏کمال آرزو سے خدا کے بیٹوں کے ظاہر ہونے کی راہ دیکھتی“‏ ہیں؟—‏رومیوں ۸:‏۱۹‏۔‏

یہوواہ کے تحمل کا مطلب نجات ہے

۱۵.‏ ہمیں کبھی بھی واقعات کے سلسلے میں یہوواہ کے وقت کی بابت کیا نہیں بھولنا چاہئے؟‏

۱۵ یہوواہ وقت کا بڑا حساب رکھنے والا ہے۔ واقعات کے سلسلے میں اُسکا وقت بالکل درست ثابت ہوگا۔ ممکن ہے حالات ہمیشہ ہماری توقع کے مطابق وقوع‌پذیر نہ ہوں۔ تاہم، ہم قطعی ایمان رکھ سکتے ہیں کہ خدا کے تمام وعدے پورے ہونگے۔ (‏یشوع ۲۳:‏۱۴)‏ وہ شاید بہتیروں کی توقع کے برعکس زیادہ دیر تک حالتوں کو قائم رہنے کی اجازت دے رہا ہے۔ پھربھی ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ اُسکی راہوں کو سمجھیں اور اُسکی حکمت کی ستائش کریں۔ پولس نے لکھا:‏ ”‏واہ!‏ خدا کی دولت اور حکمت اور علم کیا ہی عمیق ہے!‏ اُسکے فیصلے کس قدر اِدراک سے پرے اور اُسکی راہیں کیا ہی بے‌نشان ہیں!‏ خداوند کی عقل کو کس نے جانا؟ یا کون اُسکا صلاح‌کار ہؤا؟“‏—‏رومیوں ۱۱:‏۳۳، ۳۴‏۔‏

۱۶.‏ کون یہوواہ کے تحمل سے مستفید ہونے کی حالت میں ہیں؟‏

۱۶ پطرس نے تحریر کِیا:‏ ”‏پس اَے عزیزو!‏ چونکہ تم اِن باتوں [‏پُرانے ”‏آسمان“‏ اور ”‏زمین“‏ کی تباہی اور ان کی جگہ خدا کے موعودہ ”‏نئے آسمان“‏ اور ”‏نئی زمین“‏]‏ کے منتظر ہو اسلئے اُس کے سامنے اطمینان کی حالت میں بیداغ اور بے‌عیب نکلنے کی کوشش کرو۔ اور ہمارے خداوند کے تحمل کو نجات سمجھو۔“‏ یہوواہ کے تحمل کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو ”‏چور کی طرح“‏ غیرمتوقع طور پر آنے والے ”‏خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کے دن“‏ سے بچنے کے لئے موقع فراہم کِیا جا رہا ہے۔ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۹-‏۱۵‏)‏ اُس کے تحمل سے ہر ایک کو ’‏ڈرتے اور کانپتے ہوئے اپنی نجات کے کام‘‏ کرنے کا بھی موقع مل رہا ہے۔ (‏فلپیوں ۲:‏۱۲‏)‏ یسوع نے کہا کہ اگر ہم عدالت کے لئے اُس کی آمد کے وقت پر کامیابی کے ساتھ ”‏ابنِ‌آدم کے حضور کھڑے ہونے“‏ کے لائق ٹھہرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ’‏خبردار‘‏ اور ”‏جاگتے“‏ رہنا چاہئے۔—‏لوقا ۲۱:‏۳۴-‏۳۶؛‏ متی ۲۵:‏۳۱-‏۳۳‏۔‏

صبر سے انتظار کرتے رہیں

۱۷.‏ ہمیں پولس کے کونسے الفاظ دلنشین کرنے چاہئیں؟‏

۱۷ پولس نے اپنے روحانی بھائیوں کو اپنی نظر ”‏دیکھی ہوئی چیزوں پر نہیں بلکہ اندیکھی چیزوں“‏ پر لگائے رکھنے کی تاکید کی۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۱۶-‏۱۸‏)‏ وہ چاہتا تھا کہ کوئی بھی چیز آسمانی اجر کی بابت اُنکی سوچ کو ماند نہ کر سکے۔ خواہ ہم ممسوح مسیحی ہیں یا ہم دوسری بھیڑوں میں سے ہیں، ہمیں پیش کی گئی شاندار اُمید کو ذہن میں رکھنا چاہئے اور بے‌دل نہیں ہونا چاہئے۔ ہمیں ’‏صبر سے راہ دیکھتے‘‏ ہوئے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ ”‏ہم ہٹنے والے نہیں کہ ہلاک ہوں بلکہ ایمان رکھنے والے ہیں کہ جان بچائیں۔“‏—‏رومیوں ۸:‏۲۵؛‏ عبرانیوں ۱۰:‏۳۹‏۔‏

۱۸.‏ ہم یقین کیساتھ وقتوں اور میعادوں کو یہوواہ کے ہاتھوں میں کیوں چھوڑ سکتے ہیں؟‏

۱۸ ہم یقین کے ساتھ وقتوں اور میعادوں کو یہوواہ کے ہاتھوں میں چھوڑ سکتے ہیں۔ اُس کے نظام‌الاوقات کے مطابق اُس کے وعدوں کی تکمیل ”‏تاخیر نہ کرے گی۔“‏ (‏حبقوق ۲:‏۳)‏ اسی اثنا میں، تیمتھیس کے لئے پولس کی نصیحت ہمارے لئے مزید اہمیت کی حامل بن جاتی ہے۔ اُس نے کہا:‏ ”‏خدا اور مسیح یسوؔع کو جو زندوں اور مردوں کی عدالت کرے گا گواہ کر کے اور اس کے ظہور اور بادشاہی کو یاد دلا کر مَیں تجھے تاکید کرتا ہوں۔ کہ تُو کلام کی منادی کر وقت اور بے‌وقت مستعد رہ .‏ .‏ .‏ بشارت کا کام انجام دے اپنی خدمت کو پورا کر۔“‏—‏۲-‏تیمتھیس ۴:‏۱-‏۵‏۔‏

۱۹.‏ یہوواہ کے لوگوں کے پاس ابھی تک کیا کرنے کا وقت ہے اور کیوں؟‏

۱۹ ہماری اور ہمارے پڑوسیوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ پولس نے لکھا:‏ ”‏اپنی اور اپنی تعلیم کی خبرداری کر۔ ان باتوں پر قائم رہ کیونکہ ایسا کرنے سے تُو اپنی اور اپنے سننے والوں کی بھی نجات کا باعث ہوگا۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱۶‏)‏ اس بدکار نظام‌العمل کے لئے وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ اگرچہ ہم مستقبل میں ہیجان‌خیز واقعات کے منتظر ہیں توبھی ہمیں ہمیشہ اس حقیقت سے باخبر رہنا چاہئے کہ اپنے لوگوں کے توسط سے بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرانے کے لئے ابھی تک یہ یہوواہ کا وقت اور میعاد ہے۔ اس کام کو اُس کی خواہش کے مطابق انجام پانا چاہئے۔ ”‏تب،“‏ یسوع کے کہنے کے مطابق، ”‏خاتمہ ہوگا۔“‏—‏متی ۲۴:‏۱۴‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے کے ۱۰ اور ۱۱ ابواب کو دیکھیں۔‏

اعادے کی خاطر

◻وقتی حسابات کے سلسلے میں ہماری حالت پہلی صدی کے مسیحیوں جیسی کیسے ہے؟‏

◻مسیحیوں کو مسیح کی موجودگی کے دوران بھی کیوں ”‏جاگتے“‏ رہنا چاہئے؟‏

◻انسانی مخلوقات ”‏خدا کے بیٹوں کے ظاہر ہونے“‏ کی منتظر کیوں ہیں؟‏

◻ہم یقین کیساتھ وقتوں اور میعادوں کو یہوواہ کے ہاتھوں میں کیوں چھوڑ سکتے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ 15 پر تصویر]‏

مسیح کی آمد کے انتظار میں مسیحیوں کو بیدار رہنا چاہئے

‏[‏صفحہ 16 پر تصویر]‏

ممسوح بقیہ وقتی حسابات پر انحصار کئے بغیر یہوواہ کی خدمت میں مشغول رہتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں