یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م98 1/‏4 ص.‏ 26-‏31
  • خدا کی طرف سے ایک کتاب

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خدا کی طرف سے ایک کتاب
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک کتاب جو سائنس سے متفق ہے
  • جدید طرزِزندگی کیلئے ایک عملی کتاب
  • سچی پیشینگوئی کی ایک کتاب
  • کیا یہ کتاب سائنس سے متفق ہے؟‏
    سب لوگوں کیلئے ایک کتاب
  • پیشینگوئی کی ایک کتاب
    سب لوگوں کیلئے ایک کتاب
  • بائبل خدا کی الہامی کتاب
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
  • جدید طرزِزندگی کیلئے ایک عملی کتاب
    سب لوگوں کیلئے ایک کتاب
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
م98 1/‏4 ص.‏ 26-‏31

خدا کی طرف سے ایک کتاب

‏”‏نبوّت کی کوئی بات آدمی کی خواہش سے کبھی نہیں ہوئی بلکہ آدمی روح‌القدس کی تحریک کے سبب سے خدا کی طرف سے بولتے تھے۔“‏—‏۲-‏پطرس ۱:‏۲۱‏۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ بعض لوگ کیوں سوال اُٹھاتے ہیں کہ آیا بائبل جدید طرزِزندگی کیلئے قابلِ‌اطلاق ہے؟ (‏ب)‏بائبل کو خدا کی طرف سے ظاہر کرنے کیلئے کونسے تین ثبوت استعمال کئے جا سکتے ہیں؟‏

کیا بائبل ۲۱ ویں صدی کی دہلیز پر کھڑے لوگوں کیلئے قابلِ‌عمل ہے؟ بعض سوچتے ہیں کہ نہیں۔ ”‏کوئی بھی دورِحاضر کی کیمیا پڑھنے والی جماعت کا طالب‌علم کیمیا کی درسی [‏کتاب]‏ کے ۱۹۲۴ کے ایڈیشن کو استعمال کرنے کی حمایت نہیں کریگا—‏اس وقت سے کیمیا کی بابت بہت کچھ سیکھ لیا گیا،“‏ ڈاکٹر عیلی ایس.‏چیسن نے یہ وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ اُس نے بائبل کو متروک کیوں خیال کِیا۔ بظاہر یہ دلیل معقول دکھائی دیتی ہے۔ بہرحال، بائبل وقتوں سے لیکر انسان نے نفسیات اور انسانی طرزِعمل کی بابت بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔ تاہم، بعض پوچھتے ہیں:‏ ’‏ایک ایسی قدیمی کتاب سائنسی غلطیوں سے پاک کیسے رہ سکتی ہے؟‘‏ اِس میں جدید طرزِزندگی کیلئے عملی مشورت کیسے پائی جا سکتی ہے؟‏

۲ بائبل خود اِسکا جواب دیتی ہے۔ ہمیں ۲-‏پطرس ۱:‏۲۱ میں بتایا گیا ہے کہ بائبل کے نبی ”‏روح‌القدس کی تحریک کے سبب سے خدا کی طرف سے بولتے تھے۔“‏ لہٰذا بائبل ظاہر کرتی ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ایک کتاب ہے۔ تاہم، دوسروں کو ہم اس بات کیلئے کیسے قائل کر سکتے ہیں کہ یہ ایسی ہی ہے؟ آئیے بائبل کے خدا کا کلام ہونے کے تین ثبوتوں پر غور کریں:‏ (‏۱)‏ یہ سائنسی لحاظ سے درست ہے، (‏۲)‏ اِس میں لازوال اصول پائے جاتے ہیں جو جدید زندگی کیلئے عملی ہیں اور (‏۳)‏ اِس میں خاص پیشینگوئیاں پائی جاتی ہیں جو تکمیل پا چکی ہیں جیسے‌کہ تاریخی حقائق سے ثابت ہوا ہے۔‏

ایک کتاب جو سائنس سے متفق ہے

۳.‏ بائبل کو سائنسی دریافتوں کی طرف سے خطرہ لاحق کیوں نہیں رہا ہے؟‏

۳ بائبل سائنس کی درسی کتاب نہیں ہے۔ تاہم، یہ سچائی کی کتاب ہے اور سچائی وقت کی آزمائش کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۱۷‏)‏ بائبل کو سائنسی دریافتوں سے خطرہ لاحق نہیں رہا ہے۔ جب یہ سائنسی معاملات پر بات‌چیت کرتی ہے تو یہ قدیمی ”‏سائنسی“‏ نظریات سے مکمل طور پر مبرا ہے جو محض باطل عقیدے ثابت ہوئے۔ درحقیقت، اِس میں ایسے بیانات پائے جاتے ہیں جو نہ صرف سائنسی اعتبار سے درست ہیں بلکہ زمانے کی مقبول آراء کی براہِ‌راست تردید بھی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بائبل اور طبّی سائنس کے مابین ہم‌آہنگی پر غوروخوض کریں۔‏

۴، ۵.‏ (‏ا)‏ قدیمی طبیب بیماری کی بابت کیا نہیں سمجھتے تھے؟ (‏ب)‏ موسیٰ یقینی طور پر مصری طبیبوں کے طبّی علاج‌معالجوں سے واقف کیوں تھا؟‏

۴ قدیمی طبیب پوری طرح یہ نہیں سمجھتے تھے کہ بیماری کیسے پھیلتی ہے نہ ہی اُنہوں نے بیماری کے تدارک کیلئے صفائی کی اہمیت کو محسوس کِیا۔ بہت سے قدیمی طبّی طریقۂ‌علاج جدید معیاروں کے اعتبار سے احمقانہ دکھائی دیتے ہیں۔ قدیم‌ترین طبّی کتابوں میں سے ایک جو دستیاب ہے وہ تقریباً ۱۵۵۰ ق.‏س.‏ع.‏ کے زمانے کی ایبرس پائپرس ہے جو مصری علمِ‌طب کی تالیف ہے۔ یہ ”‏مگرمچھ کے کاٹنے سے لیکر پاؤں کی انگلی کے ناخن کے درد تک“‏ مختلف بیماریوں کیلئے ۷۰۰ علاج‌معالجوں پر مشتمل ہے۔ بیشتر علاج قطعی غیرمؤثر بلکہ بعض انتہائی خطرناک تھے۔ ایک زخم کے علاج کیلئے ایک نسخے نے انسانی فضلے کو دیگر اشیاء کیساتھ ملا کر لیپ کرنے کی سفارش کی۔‏

۵ مصری طبّی علاج‌معالجوں کی یہ کتاب تقریباً اُسی زمانے میں لکھی گئی تھی جس وقت بائبل کی ابتدائی کتابیں لکھی گئی تھیں، جن میں موسوی شریعت شامل تھی۔ موسیٰ جسکی ولادت ۱۵۹۳ ق.‏س.‏ع.‏ میں ہوئی تھی اُس نے مصر میں پرورش پائی۔ (‏خروج ۲:‏۱-‏۱۰)‏ فرعون کے گھرانے میں پرورش پانے والے موسیٰ نے ”‏مصرؔیوں کے تمام علوم کی تعلیم پائی“‏ تھی۔ (‏اعمال ۷:‏۲۲‏)‏ وہ مصر کے ”‏طبیبوں“‏ سے واقف تھا۔ (‏پیدایش ۵۰:‏۱-‏۳‏)‏ کیا اُنکے غیرمؤثر یا خطرناک طبّی طریقۂ‌علاج اُسکی تحریروں پر اثرانداز ہوئے؟‏

۶.‏ جدید طبّی سائنس موسوی شریعت میں صفائی کے کس ضابطے کو معقول خیال کریگی؟‏

۶ اِسکے برعکس، موسوی شریعت میں صفائی کے ایسے ضوابط شامل تھے جنہیں جدید طبّی سائنس معقول خیال کریگی۔ مثال کے طور پر، لشکرگاہوں کے سلسلے میں ایک قانون نے تقاضا کِیا کہ فضلہ لشکرگاہ سے باہر دبایا جائے۔ (‏استثنا ۲۳:‏۱۳)‏ یہ نہایت ہی ترقی‌یافتہ احتیاطی تدبیر تھی۔ اِس عمل نے پانی کے ذخائر کو محفوظ رکھنے میں مدد دی اور مکھی سے پیدا ہونے والے پیچش اور دیگر اسہالی بیماریوں سے تحفظ فراہم کِیا جو ابھی تک بیشتر ترقی‌یافتہ ممالک میں، ہر سال لاکھوں زندگیاں ہڑپ کر لیتی ہیں۔‏

۷.‏ موسوی شریعت میں صفائی کے کن ضابطوں نے متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دی؟‏

۷ موسوی شریعت میں صفائی کے اَور بھی ضوابط شامل تھے جنہوں نے متعدی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دی۔ جس شخص کو کوئی متعدی مرض لاحق ہو جاتا تھا یا لگنے کا اندیشہ ہوتا تھا تو اُسے الگ رکھا جاتا تھا۔ (‏احبار ۱۳:‏۱-‏۵)‏ ازخود (‏شاید بیماری سے)‏ مرنے والے کسی جانور سے چھو جانے والے کپڑوں یا ظروف کو دوبارہ استعمال سے پہلے یا تو دھویا جاتا تھا یا تلف کر دیا جاتا تھا۔ (‏احبار ۱۱:‏۲۷، ۲۸، ۳۲، ۳۳)‏ کسی لاش کو ہاتھ لگانے والے شخص کو ناپاک خیال کِیا جاتا تھا اور اُسے صفائی کے عمل سے گزرنا پڑتا تھا جس میں اپنے کپڑے دھونا اور غسل کرنا شامل تھا۔ ناپاکی کے سات دن کے عرصہ کے دوران، اُسے دوسروں کیساتھ جسمانی رابطے سے گریز کرنا ہوتا تھا۔—‏گنتی ۱۹:‏۱-‏۱۳۔‏

۸، ۹.‏ یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ موسوی شریعت میں صفائی کا ضابطہ اپنے وقت سے کہیں آگے تھا؟‏

۸ صفائی کا یہ معیار اُس حکمت کو ظاہر کرتا ہے جو اُس زمانے سے کہیں آگے تھا۔ جدید طبّی سائنس نے بیماری کے پھیلاؤ اور روک‌تھام کی بابت بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔ مثال کے طور پر، ۱۹ ویں صدی میں طبّی میدان میں پیش‌رفتیں اینٹی‌سیپ‌سس—‏صفائی کے ذریعے وبائی امراض کی روک‌تھام—‏کو متعارف کرانے پر منتج ہوئی ہیں۔ نتیجتاً متعدی امراض اور غیرطبعی اموات میں خاصی کمی واقع ہوئی تھی۔ سن ۱۹۰۰ میں، بہت سے یورپی ممالک اور ریاستہائے متحدہ میں پیدائش کے وقت متوقع عمر ۵۰ سے بھی کم تھی۔ اُس وقت سے لیکر نہ صرف بیماری کو روکنے میں طبّی پیش‌رفت کی بدولت بلکہ بہتر طرزِزندگی اور صفائی کی وجہ سے بھی اِس میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔‏

۹ تاہم، طبّی سائنس کے بیماری پھیلنے کے طریقوں کی بابت سیکھنے سے ہزاروں سال پہلے، بائبل نے بیماری کے خلاف تحفظ کے طور پر معقول احتیاطی تدابیر وضع کی تھیں۔ اِس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ موسیٰ اپنے زمانے کے اسرائیلیوں کی بابت بالعموم ۷۰ یا ۸۰ سال کی عمر تک زندہ رہنے کا ذکر کر سکتا تھا۔ (‏زبور ۹۰:‏۱۰‏)‏ موسیٰ صفائی کے ایسے ضوابط سے کیسے واقف ہو سکتا تھا؟ بائبل خود اِسکی وضاحت کرتی ہے:‏ شریعت ”‏فرشتوں کی معرفت دی گئی تھی۔“‏ (‏گلتیوں ۳:‏۱۹‏، این‌ڈبلیو)‏ جی‌ہاں، بائبل کوئی انسانی حکمت کی کتاب نہیں ہے؛ یہ خدا کی طرف سے ایک کتاب ہے۔‏

جدید طرزِزندگی کیلئے ایک عملی کتاب

۱۰.‏ اگرچہ بائبل کوئی ۲،۰۰۰ سال پہلے مکمل ہو گئی تھی تو بھی اِسکی مشورت کی بابت کیا بات سچ ہے؟‏

۱۰ مشورت فراہم کرنے والی کتابیں متروک ہو جاتی ہیں اور اُن میں جلد ترمیم کر دی جاتی ہے یا اُنکی جگہ دوسری کتابیں آ جاتی ہیں۔ تاہم بائبل واقعی منفرد ہے۔ ”‏تیری شہادتیں بالکل سچی ہیں،“‏ زبور ۹۳:‏۵ بیان کرتی ہے۔ اگرچہ بائبل تقریباً ۲،۰۰۰ سال پہلے مکمل ہو گئی تھی تو بھی اِسکی باتیں قابلِ‌عمل ہیں۔ نیز ہمارے رنگ یا جس ملک میں ہم بستے ہیں اُس سے قطع‌نظر اِنکا اطلاق ہر جگہ مؤثر طور پر ہوتا ہے۔ بائبل کی لازوال ”‏بالکل سچی“‏ حکمت کی کچھ مثالوں پر غور کریں۔‏

۱۱.‏ کئی عشرے پہلے متعدد والدین بچوں کی تربیت کے سلسلے میں کیا سمجھنے لگے تھے؟‏

۱۱ کئی عشرے پہلے متعدد والدین نے—‏بچے کی تربیت کے سلسلے میں ”‏نئے نظریات“‏ سے تحریک پا کر—‏یہ سوچا کہ ”‏سختی کرنا ممنوع ہے۔“‏ وہ خوفزدہ تھے کہ بچوں کیلئے حدود مقرر کرنا، ذہنی پریشانی اور احساسِ‌محرومی کا سبب بنیگا۔ بچے کی پرورش کے سلسلے میں خلوصدل مشیر اِس بات پر زور دیتے تھے کہ والدین کو ہلکی‌پھلکی تادیب سے زیادہ کسی بھی چیز سے گریز کرنا چاہئے۔ دی نیو یارک ٹائمز بیان کرتا ہے کہ ایسے بہتیرے مشیر اَب ”‏والدین کو تھوڑا سخت ہونے، پھر سے اُن پر قابو رکھنے کی تلقین“‏ کر رہے ہیں۔‏

۱۲.‏ جس یونانی اسم کا ترجمہ ”‏تربیت“‏ کِیا گیا ہے اُسکا مطلب کیا ہے اور بچوں کو ایسی تربیت کی کیوں ضرورت ہے؟‏

۱۲ تاہم، اِس تمام عرصہ کے دوران، بائبل نے بچے کی پرورش کرنے کے موضوع پر معقول مشورت پیش کی ہے۔ یہ نصیحت کرتی ہے:‏ ”‏اَے اولاد والو!‏ تم اپنے فرزندوں کو غصہ نہ دلاؤ بلکہ خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر انکی پرورش کرو۔“‏ (‏افسیوں ۶:‏۴‏)‏ جس یونانی اسم کا ترجمہ ”‏تربیت“‏ کِیا گیا ہے اُسکا مطلب ”‏پرورش کرنا، تربیت کرنا، ہدایت کرنا“‏ ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ تربیت یا ہدایت پدرانہ محبت کا ثبوت ہے۔ (‏امثال ۱۳:‏۲۴‏)‏ بچے واضح اخلاقی راہنمائیوں کے تحت پھلتے‌پھولتے ہیں جو درست اور غلط کا احساس پیدا کرنے میں اُنکی مدد کرتی ہیں۔ درست انداز سے کی گئی تربیت اُنہیں احساسِ‌تحفظ پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے؛ یہ اُنہیں بتاتی ہے کہ اُنکے والدین اُنکی اور اِس بات کی فکر رکھتے ہیں کہ وہ کیسے شخص بن رہے ہیں۔—‏مقابلہ کریں امثال ۴:‏۱۰-‏۱۳‏۔‏

۱۳.‏ (‏ا)‏ جب تربیت کرنے کی بات آتی ہے تو بائبل والدین کو کیا آگاہی دیتی ہے؟ (‏ب)‏ بائبل کس قسم کی تربیت کی سفارش کرتی ہے؟‏

۱۳ لیکن بائبل تربیت کے اس معاملے میں والدین کو متنبہ کرتی ہے۔ پدرانہ اختیار کا کبھی بھی غلط استعمال نہیں کِیا جانا چاہئے۔ (‏امثال ۲۲:‏۱۵‏)‏ کسی بھی بچے کو کبھی بھی سخت سزا نہیں دینی چاہئے۔ بائبل کے مطابق زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کے اندر جسمانی تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ (‏زبور ۱۱:‏۵‏)‏ جذباتی تشدد—‏سخت الفاظ، مسلسل نکتہ‌چینی اور سخت طنز کی بھی گنجائش نہیں کیونکہ یہ سب بچے کا حوصلہ کچل سکتا ہے۔ (‏مقابلہ کریں امثال ۱۲:‏۱۸‏)‏ دانشمندانہ طور پر، بائبل والدین کو آگاہ کرتی ہے:‏ ”‏اَے اولاد والو!‏ اپنے فرزندوں کو دق نہ کرو تاکہ وہ بیدل نہ ہو جائیں [‏یا ”‏تم انہیں دل‌برداشتہ نہ کر دو،“‏ فلپس]‏۔“‏ (‏کلسیوں ۳:‏۲۱‏)‏ بائبل احتیاطی تدابیر کی سفارش کرتی ہے۔ استثنا ۱۱:‏۱۹ میں والدین کو اپنے بچوں کے اندر اخلاقی اور روحانی اقدار پیدا کرنے کے تمام مواقع سے فائدہ اُٹھانے کی تلقین کی گئی ہے۔ بچوں کی پرورش کرنے کے سلسلے میں ایسی واضح، معقول مشورت بائبل وقتوں کی طرح آج بھی اتنی ہی قابلِ‌عمل ہے۔‏

۱۴، ۱۵.‏ (‏ا)‏ بائبل محض دانشمندانہ مشورت سے زیادہ کچھ کیسے فراہم کرتی ہے؟ (‏ب)‏ کونسی بائبل تعلیمات مختلف نسلوں اور قوموں کے مردوں اور عورتوں کی مدد کر سکتی ہیں کہ ایک دوسرے کو برابر خیال کریں؟‏

۱۴ بائبل دانشمندانہ مشورت سے زیادہ کچھ فراہم کرتی ہے۔ اِسکا پیغام دل کو اچھا لگتا ہے۔ عبرانیوں ۴:‏۱۲ بیان کرتی ہے:‏ ”‏خدا کا کلام زندہ اور مؤثر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جان اور روح اور بندبند اور گودے کو جدا کر کے گذر جاتا ہے اور دل کے خیالوں اور ارادوں کو جانچتا ہے۔“‏ بائبل کی تحریک دینے والی قوت کی ایک مثال پر غور کریں۔‏

۱۵ آجکل لوگ نسلی، قومی اور طبقاتی حدبندیوں میں منقسم ہیں۔ ایسی مصنوعی دیواریں تمام دُنیا کے اندر لڑائیوں میں معصوم انسانوں کے قتلِ‌عام کا سبب بنی ہیں۔ اِسکے برعکس، بائبل میں ایسی تعلیمات پائی جاتی ہیں جو مختلف نسلوں اور قوموں کے مردوں اور عورتوں کی مدد کرتی ہیں کہ ایک دوسرے کو برابر خیال کریں۔ مثال کے طور پر، اعمال ۱۷:‏۲۶ بیان کرتی ہے کہ خدا نے ”‏ایک ہی اصل سے آدمیوں کی ہر ایک قوم .‏ .‏ .‏ پیدا کی۔“‏ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درحقیقت ایک ہی نسل ہے—‏نسلِ‌انسانی!‏ بائبل ہماری مزید حوصلہ‌افزائی کرتی ہے کہ ”‏خدا کی مانند بنیں،“‏ جسکی بابت یہ بیان کرتی ہے:‏ ”‏[‏وہ]‏ کسی کا طرفدار نہیں۔ بلکہ ہر قوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راستبازی کرتا ہے وہ اُسکو پسند آتا ہے۔“‏ (‏افسیوں ۵:‏۱؛‏ اعمال ۱۰:‏۳۴، ۳۵‏)‏ درحقیقت بائبل کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کیلئے یہ علم متحد کرنے والا اثر رکھتا ہے۔ یہ گہرائی تک—‏انسانی دل پر—‏اثر کرتے ہوئے لوگوں کو منقسم کرنے والی انسان‌ساختہ حدبندیوں کو دور کرتا ہے۔ کیا یہ آجکل کی دُنیا میں واقعی اثر کرتا ہے؟‏

۱۶.‏ یہ ظاہر کرنے کیلئے ایک تجربہ بیان کریں کہ یہوواہ کے گواہ واقعی ایک بین‌الاقوامی برادری ہیں۔‏

۱۶ یقیناً یہ کرتا ہے!‏ یہوواہ کے گواہ اپنی بین‌الاقوامی برادری کی بدولت بڑی شہرت رکھتے ہیں جو مختلف پس‌منظر کے لوگوں کو متحد کرتی ہے جو بالعموم ایک دوسرے کیساتھ صلح سے نہیں رہتے۔ مثال کے طور پر، روانڈا میں نسلیاتی جھگڑوں کے دوران، ہر قبیلے کے یہوواہ کے گواہوں نے اِس عمل میں اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہوئے دوسرے قبیلے کے اپنے مسیحی بہن بھائیوں کی حفاظت کی۔ ایک معاملے میں، ایک ہوتو گواہ نے اپنی کلیسیا کے چھ افراد پر مشتمل ایک توتسی خاندان کو اپنے گھر میں چھپائے رکھا۔ افسوس کی بات ہے کہ بالآخر توتسی خاندان کا پتہ لگا لیا گیا اور اُنہیں قتل کر دیا۔ اب ہوتو قبیلہ سے تعلق رکھنے والے اس بھائی اور اُسکے خاندان کو قاتلوں کے قہروغضب کا سامنا ہوا اور اُنہیں تنزانیہ بھاگ جانا پڑا۔ اِسی طرح کی کئی مثالیں بتائی گئی ہیں۔ یہوواہ کے گواہ بِلاجھجھک یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایسا اتحاد ممکن ہے کیونکہ اُنکے دلوں پر بائبل پیغام کی تحریک دینے والی قوت کا گہرا اثر ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بائبل اِس نفرت‌بھری دُنیا میں لوگوں کو متحد کر سکتی ہے جو اِس بات کا زبردست ثبوت ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔‏

سچی پیشینگوئی کی ایک کتاب

۱۷.‏ بائبل پیشینگوئیاں انسان‌ساختہ پیشینگوئیوں سے کیسے مختلف ہیں؟‏

۱۷ ”‏کتابِ‌مُقدس کی کسی نبوّت کی بات کی تاویل کسی کے ذاتی اختیار پر موقوف نہیں‏،‏‏“‏ ۲-‏پطرس ۱:‏۲۰ بیان کرتی ہے۔ بائبل کے نبیوں نے دُنیاوی معاملات کے رُجحانات کا تجزیہ کرنے کے بعد ان تبدیلیوں کی بابت اپنی ذاتی تاویل پر مبنی پیشگوئیاں نہیں کیں۔ اُنہوں نے مبہم پیشگوئیاں بھی نہیں کیں جنکو مستقبل کے کسی بھی واقعہ سے جوڑا جا سکے۔ مثال کے طور پر آئیے بائبل کی ایک نبوّت پر غور کریں جو غیرمعمولی طور پر حتمی تھی جس نے اُس وقت زندہ رہنے والے لوگوں کی توقعات کے برعکس پیشینگوئی کی۔‏

۱۸.‏ قدیم بابل کے باشندے بِلاشُبہ بہت زیادہ محفوظ محسوس کیوں کرتے تھے تاہم یسعیاہ بابل کی بابت کیا پیشینگوئی کر چکا تھا؟‏

۱۸ ساتویں صدی ق.‏س.‏ع.‏ تک، بابل، بابلی سلطنت کا بظاہر ناقابلِ‌تسخیر دارالسلطنت تھا۔ شہر دریائے‌فرات کے دونوں طرف پھیلا ہوا تھا اور دریا کے پانیوں کو ایک چوڑی اور گہری خندق بنانے اور نہروں کا جال بچھانے کیلئے استعمال کِیا گیا تھا۔ علاوہ‌ازیں، شہر کی حفاظت کیلئے مضبوط دفاعی بُرجوں پر مشتمل دوہری فصیلوں کا بڑا مستحکم نظام بھی قائم کِیا گیا تھا۔ بِلاشُبہ بابل کے باشندے بہت محفوظ محسوس کرتے تھے۔ تاہم، آٹھویں صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں، بابل کے اپنے جاہ‌وجلال کے عروج کو پہنچنے سے پہلے، یسعیاہ نبی نے پیشینگوئی کی:‏ ”‏بابلؔ .‏ .‏ .‏ سدؔوم اور عموؔرہ کی مانند ہو جائیگا جنکو خدا نے اُلٹ دیا۔ وہ ابد تک آباد نہ ہوگا اور پُشت‌درپُشت اُس میں کوئی نہ بسے گا۔ وہاں ہرگز عرؔب خیمے نہ لگائینگے اور وہاں گڈریے گلّوں کو نہ بٹھائینگے۔“‏ (‏یسعیاہ ۱۳:‏۱۹، ۲۰‏)‏ غور کریں کہ پیشینگوئی نے نہ صرف یہ بتایا کہ بابل تباہ‌وبرباد کر دیا جائیگا بلکہ یہ بھی کہ ابد تک آباد نہ ہوگا۔ کیا ہی دلیرانہ پیشینگوئی تھی!‏ کیا یسعیاہ اپنی پیشینگوئی کو بابل کی ویرانی کو دیکھنے کے بعد لکھ سکتا تھا؟ تاریخ جواب دیتی ہے کہ نہیں!‏

۱۹.‏ اکتوبر ۵، ۵۳۹ ق.‏س.‏ع.‏ کو یسعیاہ کی پیشینگوئی کی مکمل تکمیل کیوں نہیں ہوئی تھی؟‏

۱۹ اکتوبر ۵، ۵۳۹ ق.‏س.‏ع.‏ کی رات، بابل نے خورسِ‌اعظم کی زیرِکمان مادی فارسیوں کی فوجوں سے شکست کھائی۔ تاہم، اُس وقت یسعیاہ کی پیشینگوئی مکمل طور پر پوری نہیں ہوئی تھی۔ خورس کے قابض ہو جانے کے بعد، آبادشُدہ بابل—‏اگرچہ کم شان‌وشوکت کیساتھ—‏صدیوں تک قائم رہا۔ دوسری صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں، تقریباً یسعیاہ کے بحیرۂ‌مُردار کے طومار کے نقل کئے جانے کے وقت، پارتھیوں نے بابل پر قبضہ کر لیا، جسے اُس وقت ایک انعام خیال کِیا جاتا تھا جس کیلئے اردگرد کی قوموں نے جنگ کی تھی۔ یہودی مؤرخ جوزیفس نے بیان کیا کہ پہلی صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں یہودیوں کی ”‏کثیر تعداد“‏ آباد تھی۔ دی کیمبرج اینشنٹ ہسٹری کے مطابق، پالمری تاجروں نے ۲۴ س.‏ع.‏ میں کافی پہلے بابل میں ایک بارونق تجارتی کالونی کا قیام کِیا تھا۔ پس، پہلی صدی س.‏ع.‏ کے آخر تک بابل مکمل طور پر برباد نہیں ہوا تھا؛ تاہم، یسعیاہ کی کتاب اُس سے کہیں پہلے مکمل ہو چکی تھی۔—‏۱-‏پطرس ۵:‏۱۳‏۔‏

۲۰.‏ اِس بات کی کیا شہادت ہے کہ بابل بالآخر ”‏کھنڈر“‏ بن گیا تھا؟‏

۲۰ یسعیاہ بابل کے غیرآباد ہونے تک زندہ نہ رہا۔ تاہم، نبوّت کے مطابق، بابل بالآخر ”‏کھنڈر“‏ بن گیا تھا۔ (‏یرمیاہ ۵۱:‏۳۷‏)‏ عبرانی سکالر جیروم (‏جو چوتھی صدی میں پیدا ہوا)‏ کے مطابق، اُسکے زمانے میں بابل ”‏ہر قسم کے جنگلی درندوں“‏ کی آماجگاہ تھا۔ سیاحوں کی توجہ کیلئے بابل کی تھوڑی بہت بحالی یہاں سیاحت کیلئے آنے والوں کو حیران کر سکتی ہے مگر بابل کا ”‏بیٹوں اور پوتوں سمیت“‏ نام‌ونشان مٹا دیا گیا ہے۔—‏یسعیاہ ۱۴:‏۲۲‏۔‏

۲۱.‏ وفادار نبی قابلِ‌اعتماد صداقت کے ساتھ مستقبل کی بابت پیشینگوئی کرنے کے قابل کیوں تھے؟‏

۲۱ یسعیاہ نبی نے محض قیاس‌آرائی نہیں کی تھی۔ اُس نے تاریخ کو اِس انداز سے بھی قلمبند نہ کِیا کہ پیشینگوئی دکھائی دے۔ یسعیاہ سچا نبی تھا۔ اِسی طرح بائبل کے دوسرے تمام نبی بھی سچے تھے۔ یہ آدمی—‏قابلِ‌اعتماد صداقت کیساتھ مستقبل کی بابت کیسے بتا سکتے تھے جبکہ دوسرے انسان ایسا نہ کر سکے؟ جواب واضح ہے۔ پیشینگوئیوں کی ابتدا پیشینگوئی کے خدا، یہوواہ سے ہوئی تھی، ”‏جو ابتدا ہی سے انجام کی خبر دیتا“‏ ہے۔—‏یسعیاہ ۴۶:‏۱۰‏۔‏

۲۲.‏ ہمیں خلوصدل لوگوں کو یہ تحریک دینے کیلئے پوری کوشش کیوں کرنی چاہئے کہ خود بائبل کا جائزہ لیں؟‏

۲۲ پس، کیا بائبل جانچ‌پڑتال کی مستحق ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ ہے!‏ تاہم، بہتیرے لوگ اِس بات کا یقین نہیں رکھتے۔ اُنہوں نے بائبل کی بابت آراء قائم کر رکھی ہیں اگرچہ اُنہوں نے شاید اِسے کبھی پڑھا بھی نہیں۔ پچھلے مضمون کے شروع میں متذکرہ پروفیسر کو یاد کریں۔ وہ ایک بائبل مطالعے کیلئے راضی ہو گیا اور بائبل کا محتاط جائزہ لینے کے بعد، وہ اِس نتیجے پر پہنچا کہ یہ خدا کی طرف سے ایک کتاب ہے۔ انجام‌کار اُس نے یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک کے طور پر بپتسمہ لیا اور آجکل وہ ایک بزرگ کے طور پر خدمت انجام دیتا ہے!‏ آئیے خلوصدل لوگوں کو یہ تحریک دینے کیلئے اپنی پوری کوشش کریں کہ خود بائبل کا جائزہ لیں اور اِسکے بعد اِسکی بابت رائے قائم کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر وہ دیانتداری سے خود تجزیہ کرینگے تو وہ یہ سمجھ لینگے کہ یہ منفرد کتاب، بائبل، واقعی سب لوگوں کیلئے ایک کتاب ہے!‏

کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟‏

◻آپ موسوی شریعت کو یہ ظاہر کرنے کیلئے کیسے استعمال کر سکتے ہیں کہ بائبل انسانی اصل سے نہیں ہے؟‏

◻بائبل میں کونسے لازوال اصول جدید طرزِزندگی کیلئے عملی ہیں؟‏

◻یسعیاہ ۱۳:‏۱۹، ۲۰ کی پیشینگوئی وقوعہ کے بعد کیوں نہیں لکھی گئی تھی؟‏

◻ہمیں خلوصدل لوگوں کو کیا کرنے کی حوصلہ‌افزائی دینی چاہئے؟‏

‏[‏بکس]‏

ناقابلِ‌تصدیق کی بابت کیا ہے؟‏

بائبل میں بہت سے ایسے مختلف بیانات پائے جاتے ہیں جن کے لئے جُداگانہ طبیعیاتی ثبوت موجود نہیں۔ مثال کے طور پر، روحانی مخلوقات سے آباد نادیدہ عملداری کی بابت یہ جوکچھ بیان کرتی ہے اُسکی سائنسی طور پر تصدیق—‏یا تردید—‏نہیں کی جا سکتی۔ کیا ایسے ناقابلِ‌تصدیق حوالہ‌جات ضروری طور پر بائبل کو سائنس کے متضاد قرار دیتے ہیں؟‏

ارضیاتِ‌اجرامِ‌فلک کے ایک ماہر کو بھی یہی سوال درپیش تھا جس نے کچھ سال پہلے یہوواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کِیا۔ ”‏مَیں ضرور یہ تسلیم کرونگا کہ شروع شروع میں میرے لئے بائبل کا یقین کرنا مشکل تھا کیونکہ مَیں بائبل کے بعض بیانات کی سائنسی طور پر تصدیق نہ کر سکا،“‏ وہ بیان کرتا ہے۔ اس خلوصدل انسان نے بائبل کا مطالعہ کرنا جاری رکھا اور بالآخر اس بات کا قائل ہو گیا کہ دستیاب ثبوت ظاہر کرتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ ”‏اس سے بائبل کے ہر واقعہ کیلئے جُداگانہ ثبوت حاصل کرنے کا اشتیاق کم ہو گیا،“‏ وہ وضاحت کرتا ہے۔ ”‏سائنسی طرزِفکر کے مالک شخص کو روحانی نقطۂ‌نظر سے بائبل کی جانچ‌پڑتال کرنے پر آمادہ ہونا چاہئے ورنہ وہ کبھی بھی سچائی قبول نہیں کر پائیگا۔ سائنس سے بائبل کے ہر بیان کیلئے ثبوت فراہم کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ بعض بیانات کے محض ناقابلِ‌تصدیق ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غلط ہیں۔ اہم بات تو یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی قابلِ‌تصدیق ہو بائبل کی صحت‌وصداقت مستند ہے۔“‏

‏[‏صفحہ 28 پر تصویر]‏

موسیٰ نے صفائی کے ضابطے قلمبند کئے جو اپنے وقت سے کہیں آگے تھے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں