بادشاہتی مُناد رپورٹ دیتے ہیں
”تیرے لوگ خوشی سے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں“
ارامی فوج کے زورآور سردار نعمان کو کوڑھ ہے۔ اگر علاج نہ کِیا جائے تو یہ نفرتانگیز بیماری شکلوصورت کے بگاڑ اور موت کا باعث بن سکتی ہے۔ نعمان کو کیا کرنا چاہئے؟ نعمان کے افرادِخانہ میں ایک چھوٹی لڑکی ہے جو ”اؔسرائیل کے ملک میں سے . . . اسیر کر کے“ لائی گئی ہے۔ وہ بڑی دلیری سے رائے پیش کرتی ہے اور الیشع نبی کی نشاندہی ایسے شخص کے طور پر کرتی ہے جو نعمان کو شفا دے سکتا ہے۔—۲-سلاطین ۵:۱-۳۔
اُس کے جرأتمندانہ موقف کے باعث، نعمان الیشع کی تلاش میں نکلتا ہے اور شفا پاتا ہے۔ مزیدبرآں، نعمان یہوواہ کا پرستار بن جاتا ہے! بائبل میں درج یہ تجربہ دسویں صدی ق.س.ع. میں پیش آیا۔ (۲-سلاطین ۵:۴-۱۵) آجکل، بہتیرے نوجوان بادشاہتی مفادات کے حق میں کلام کرنے کیلئے ایسی ہی دلیری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ موزمبیق سے درجذیل تجربہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔
چھ سالہ نُونو خوشخبری کا ایک غیربپتسمہیافتہ پبلشر ہے۔ غیربپتسمہیافتہ پبلشر بننے سے بھی پہلے، نُونو اپنے آسپڑوس کے بچوں کو اکٹھا کر کے دُعا کِیا کرتا اور اشاعت مائے بُک آف بائبل سٹوریز کو استعمال کرتے ہوئے، اُنہیں بائبل کی تعلیم دیا کرتا تھا۔
اکثر اوقات نُونو ہفتے کی صبح جلدی بیدار ہو جاتا ہے اور اپنے خاندان کو یاد دلاتا ہے: ”آج کے دن ہم میدانی خدمتگزاری میں جاتے ہیں۔“ خدمتگزاری کیلئے اُسکا جذبہ دیگر طریقوں سے بھی عیاں ہے۔ اپنے والدین کیساتھ مابوٹو کے گلیکوچوں میں خدمتگزاری کے دوران، نُونو اکثر اکیلا ہی لوگوں کے پاس چلا جاتا ہے۔ ایک ایسے ہی موقع پر، ایک کاروباری شخص اُس کے پاس آیا اور پوچھا: ”آپ یہ رسالے کیوں فروخت کر رہے ہیں؟“ نُونو نے کہا: ”مَیں رسالے فروخت نہیں کر رہا ہوں لیکن منادی کے کام کے اخراجات پورے کرنے کیلئے عطیات ضرور قبول کر لیتا ہوں۔“ کاروباری شخص نے جواب دیا: ”اگرچہ میری اس میں کوئی دلچسپی تو نہیں، پھربھی مَیں آپکے اخلاق اور لیاقت سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ مَیں اس کام کیلئے عطیہ دینا چاہونگا۔“
ایک دیگر موقع پر، نُونو گلی میں ایک آدمی کے پاس گیا اور اُسے کتاب ٹرو پیس اینڈ سیکیورٹی—ہاؤ کین یو فائنڈ اِٹ؟ پیش کی۔ آدمی نے پوچھا: ”کیا تم اُس سکول میں نہیں پڑھتے؟“ ”جیہاں،“ نُونو نے جواب دیا، ”مَیں اُسی سکول میں پڑھتا ہوں لیکن آج مَیں اس کتاب سے ایک نہایت اہم پیغام پیش کر رہا ہوں۔ یہ آپ پر ظاہر کرتا ہے کہ آپ اُس نئی دُنیا میں زندہ رہ سکتے ہیں جسے خدا لائیگا، جیساکہ اس کتاب کے اندر تصویر میں دکھایا گیا ہے۔“ نُونو پہچان نہ پایا کہ جس آدمی سے اُس نے گفتگو کی وہ اُس کے سکول کا ایک ٹیچر تھا۔ اُس ٹیچر نے نہ صرف کتاب قبول کی بلکہ اب وہ نُونو سے باقاعدگی کیساتھ مینارِنگہبانی اور جاگو! رسالے بھی حاصل کرتا ہے۔
جب نُونو سے پوچھا جاتا ہے کہ اُسے منادی کے کام میں شرکت کرنا کیوں پسند ہے تو وہ کہتا ہے: ”مَیں لوگوں سے باتچیت کرنا اور اُنہیں یہوواہ اور اُسکے بیٹے یسوع مسیح کی بابت سکھانا چاہتا ہوں۔“ وہ مزید کہتا ہے: ”اور اگر لوگ سننا نہیں چاہتے تو اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔“
پوری دُنیا میں، نُونو کی طرح ہزاروں نوجوان خدا کی بادشاہت کی تعلیم دینے اور منادی کرنے کیلئے ”خوشی سے اپنے آپ کو پیش“ کرتے ہیں۔ (زبور ۱۱۰:۳) تاہم ایسا اتفاقاً واقع نہیں ہوتا۔ جو والدین بچپن ہی سے اپنے بچوں کو یہوواہ کی بابت سکھاتے، خدمتگزاری کا عمدہ نمونہ قائم کرتے اور سرگرمی سے بادشاہتی مفادات کے حصول میں لگے رہتے ہیں، وہ بکثرت اجر حاصل کرینگے۔