یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م98 1/‏2 ص.‏ 3
  • کیا آپ رجائی ہیں یا قنوطی؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ رجائی ہیں یا قنوطی؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ذاتی جانچ کا وقت
  • مَیں ہر بات کے بارے میں بُرا سوچنے سے کیسے بچوں؟‏
    نوجوانوں کا سوال
  • خوش‌مزاج رہیں صحتمند رہیں
    جاگو!‏—‏2007ء
  • آپ منفی سوچ سے لڑ سکتے ہیں!‏
    جاگو!‏—‏آپ اُمید کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں؟‏
  • ہمیں اُمید کی ضرورت کیوں ہے؟‏
    جاگو!‏—‏آپ اُمید کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں؟‏
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
م98 1/‏2 ص.‏ 3

کیا آپ رجائی ہیں یا قنوطی؟‏

‏”‏وقت بہت اچھا تھا، وقت بہت خراب تھا، .‏ .‏ .‏ آسِ‌بہار تھی، یاسِ‌خزاں تھی، ہمارے سامنے سب کچھ تھا، ہمارے سامنے کچھ بھی نہیں تھا۔“‏ چارلس ڈِکنز کے ادبی شاہکار اے ٹیل آف ٹو سٹیز (‏دو شہروں کی کہانی)‏ کے تمہیدی الفاظ بڑی خوبصورتی سے موازنہ کرتے ہیں کہ کیسے واقعات ہماری سوچ، ہمارے جذبات اور ہمارے نقطۂ‌نظر پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔‏

متذکرہ دو شہر فرانسیسی انقلاب کی افراتفری کے دوران لندن اور پیرس تھے۔ فرانس کے ۱۸ ویں صدی کے مظلوم شہریوں کیلئے انقلاب کا انسانی حقوق کی بابت اعلان واقعی ”‏آسِ‌بہار“‏ تھا۔ تاہم پُرانی حکومت یا زوال‌پزیر سیاسی نظام کیلئے یہ موت اور تباہی کا باعث بننے والی ”‏یاسِ‌خزاں“‏ تھا۔‏

رجائیت یا قنوطیت؟ اسکا انحصار اس بات پر تھا کہ آپ کس کی طرف ہیں۔ آج بھی ایسا ہی ہے۔‏

ذاتی جانچ کا وقت

کیا آپ رجائی ہیں؟ کیا آپ ہمیشہ اچھی چیزوں کی اُمید میں زندگی کے روشن پہلو ہی کو دیکھتے ہیں؟ یا کیا آپ اچھے نتیجے کی اُمید کیساتھ ساتھ بُرے نتیجے کی توقع رکھتے ہوئے، اپنے امکانات کی بابت منفی نظریہ رکھتے ہوئے قنوطیت‌پسند بننے کی طرف مائل ہیں؟‏

ساٹھ سال قبل امریکی ناول‌نگار جیمز برانچ کیبل نے ان دو متضاد فلسفوں کی تلخیص کچھ یوں کی:‏ ”‏رجائی کا دعویٰ ہے کہ ہم سب سے بہتر معاشرے میں رہتے ہیں جبکہ قنوطی کو اس بات کا خدشہ ہوتا ہے کہ یہ سچ نہیں۔“‏ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ یہ خیال تو بالکل حرف‌گیری ہے تو پھر آج کی دُنیا کے صرف تین پہلوؤں کے سلسلے میں موافق اور مخالف دلائل کا جائزہ لیں جو ذیل میں پیش کئے گئے ہیں۔ پھر اپنے جوابی‌عمل کا تجزیہ کریں اور خود سے پوچھیں، ’‏کیا مَیں رجائی ہوں یا قنوطی؟‘‏

دائمی اَمن:‏ آپ دُنیا کے کتنے مصیبت‌زدہ علاقوں کے نام لے سکتے ہیں؟ آئرلینڈ، سابق یوگوسلاویہ، مشرقِ‌وسطیٰ، برونڈی، روانڈا—‏یہ تو فوراً ذہن میں آتے ہیں۔ کیا مستقل، عالمی اَمن کو یقینی بنانے کیلئے ایسے اور دیگر فسادات پر کبھی قابو پایا جا سکتا ہے؟ کیا دُنیا اَمن کی جانب بڑھ رہی ہے؟‏

معاشی استحکام:‏ سن ۱۹۹۹ تک نظامِ‌زر میں اتحاد کی اُمید میں یورپین یونین کے ممالک بُری طرح افراطِ‌زر اور قرضِ‌عامہ کے مسائل سے دوچار ہیں۔ دوسری جگہوں پر، بدعنوانی بہت سی امریکی اور افریقی اقوام کی معاشی ساخت کو ختم کر رہی ہے جہاں افراطِ‌زر بہت بھاری بوجھ ڈالتا ہے اور نسلی مسائل ابھی تک تفرقے کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ کیا دُنیا میں معاشی استحکام بالکل قریب ہے؟‏

بیروزگاری:‏ برطانیہ کے چرچ ۱۹۹۷ کے عوامی انتخاب میں، تمام سیاسی پارٹیوں کو یہ تحریک دینے کیلئے متحد ہو گئے کہ اپنے ایجنڈوں پر مکمل روزگار کو سرِفہرست رکھیں۔ تاہم دُنیا کے تقریباً ۳۰ فیصد کام سے محروم یا ناکافی کام حاصل کرنے والے کارکنوں کیساتھ دائمی، مکمل روزگار—‏بالخصوص نوجوانوں کیلئے—‏فراہم کِیا جا سکتا ہے؟‏

قنوطیت‌پسند ہو جانا کتنا آسان ہے!‏ تاہم روشن پہلو بھی ہے اور ہم آپ کو اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں کہ رجائیت‌پسندانہ نقطۂ‌نظر پیدا کرنا کیونکر ممکن ہے۔‏

‏[‏صفحہ 3 پر تصویر]‏

فرانسیسی انقلاب

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

Pictorial History of the World From the book

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں