زندگی کی دَوڑ میں ہمت نہ ہاریں!
”آؤ . . . اُس دَوڑ میں صبر سے دَوڑیں جو ہمیں درپیش ہے۔“—عبرانیوں ۱۲:۱۔
۱، ۲. ان آخری ایّام میں کن واقعات سے یہوواہ کے خادموں میں خوشی کی لہر دَوڑ گئی ہے؟
ہم ہیجانخیز اور چیلنجخیز دَور میں رہتے ہیں۔ کوئی ۸۰ سال سے زیادہ عرصہ پہلے، ۱۹۱۴ میں، یسوع مسیح کو خدا کی آسمانی بادشاہت کے بادشاہ کے طور پر مسندنشین کِیا گیا تھا۔ ”خداوند کا دن“ اور اسکے ساتھ ہی اس نظامالعمل کا ”آخری زمانہ“ شروع ہو گیا۔ (مکاشفہ ۱:۱۰؛ دانیایل ۱۲:۹) اُس وقت سے مسیحیوں کی زندگی کی دَوڑ بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ خدا کے خادموں نے یہوواہ کے فلکی رتھ، اُسکی آسمانی تنظیم، کیساتھ ساتھ چلنے میں جانفشانی کی ہے جو یہوواہ کے مقصد کی تکمیل کیلئے بِلارکاوٹ رواںدواں ہے۔—حزقیایل ۱:۴-۲۸؛ ۱-کرنتھیوں ۹:۲۴۔
۲ جب یہوواہ کے لوگ ہمیشہ کی زندگی کی ’دَوڑ میں دَوڑتے‘ ہیں تو کیا اُنہیں خوشی حاصل ہوتی ہے؟ جیہاں، یقیناً! یسوع کے بھائیوں کے بقیے کو جمع ہوتے دیکھ کر اُن میں خوشی کی لہر دَوڑ گئی ہے اور وہ اس بات کو سمجھ کر بھی خوش ہیں کہ ۱،۴۴،۰۰۰ کے باقیماندہ اشخاص پر حتمی مہر کرنے کا کام اب پایۂتکمیل کو پہنچ رہا ہے۔ (مکاشفہ ۷:۳، ۴) علاوہازیں، وہ یہ بھانپ کر بھی جوش سے معمور ہو گئے ہیں کہ یہوواہ کے مُتعیّنہ بادشاہ نے ”زمین کی فصل“ کاٹنے کیلئے اپنی درانتی چلا دی ہے۔ (مکاشفہ ۱۴:۱۵، ۱۶) پس یہ کیا خوب فصل ہے! (متی ۹:۳۷) اب تک، پانچ ملین سے زیادہ لوگوں کو جمع کر لیا گیا ہے—”ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِزبان کی ایک ایسی بڑی بِھیڑ جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا۔“ (مکاشفہ ۷:۹) چونکہ کوئی بھی آدمی اسے شمار کرنے کے قابل نہیں اسلئے کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ بِھیڑ بالآخر کتنی بڑی ہوگی۔
۳. کس چیز کے باوجود ہمیں ہمیشہ خوشی کے جذبے کو فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہئے؟
۳ سچ ہے کہ جونہی ہم تیز دَوڑنے لگتے ہیں تو شیطان ہمیں ٹھوکر کھلانے یا سُست کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ (مکاشفہ ۱۲:۱۷) لہٰذا، جنگوں، قحطوں، وباؤں اور خاتمے کے وقت کی نشاندہی کرنے والی دیگر تمام مشکلات کے دوران دَوڑتے رہنا سہل نہیں رہا۔ (متی ۲۴:۳-۹؛ لوقا ۲۱:۱۱؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) پھربھی، جب دَوڑ ختم ہونے کے قریب ہوتی ہے تو ہمارے دل خوشی سے اُچھلنے لگتے ہیں۔ ہم ویسا ہی جذبہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جسے پیدا کرنے کی پولس نے اپنے زمانے کے ساتھی مسیحیوں کو تلقین کی: ”خداوند میں ہر وقت خوش رہو۔ پھر کہتا ہوں کہ خوش رہو۔“—فلپیوں ۴:۴۔
۴. فلپی کے مسیحیوں نے کس قسم کا جذبہ دکھایا تھا؟
۴ اس میں کوئی شک نہیں کہ پولس نے جن مسیحیوں سے یہ الفاظ کہے تھے وہ اپنے ایمان سے خوشی حاصل کر رہے تھے کیونکہ پولس نے اُن سے کہا: ”خداوند میں خوش رہو۔“ (فلپیوں ۳:۱) فلپی کے لوگ ایک فیاض، پُرمحبت کلیسیا کا حصہ تھے جو جوشوجذبے سے خدمت کرتی تھی۔ (فلپیوں ۱:۳-۵؛ ۴:۱۰، ۱۴-۲۰) تاہم پہلی صدی کے تمام مسیحیوں میں ایسا جذبہ نہیں تھا۔ مثال کے طور پر، بعض یہودی مسیحی جن کے نام پولس نے عبرانیوں کی کتاب لکھی پریشانی کا مؤجب تھے۔
”اَور بھی دل لگا کر غور کرنا چاہئے“
۵. (ا) جب پہلی مسیحی کلیسیا تشکیل دی گئی تو عبرانی مسیحیوں میں کیسا جذبہ پایا جاتا تھا؟ (ب) سن ۶۰ کے لگبھگ بعض عبرانی مسیحیوں کے اندر پائے جانے والے جذبے کو بیان کریں۔
۵ دُنیا کی تاریخ کی پہلی مسیحی کلیسیا پیدائشی یہودیوں اور نومُریدوں پر مشتمل تھی اور ۳۳ س.ع. میں یروشلیم میں قائم کی گئی تھی۔ اس میں کس قسم کا جذبہ تھا؟ اذیت کے باوجود، اسکے جوشوخروش اور خوشی کی بابت جاننے کیلئے اعمال کی کتاب کے ابتدائی ابواب کو پڑھنا ہی کسی شخص کیلئے کافی ہوگا۔ (اعمال ۲:۴۴-۴۷؛ ۴:۳۲-۳۴؛ ۵:۴۱؛ ۶:۷) تاہم، دہوں کے دوران حالت بدل گئی اور بہتیرے یہودی مسیحی بدیہی طور پر زندگی کی دَوڑ میں سُست پڑ گئے۔ سن ۶۰ میں اُنکی جیسی حالت تھی اُسکی بابت ایک کتاب بیان کرتی ہے: ”کاہلی اور اُکتاہٹ، نومید توقعات، تعویقی اُمیدیں، قصداً ناکامی اور عملی عدماعتقادی کی حالت۔ وہ مسیحی تو تھے مگر اپنی بلاہٹ کے جلال کی کوئی قدر نہیں کرتے تھے۔“ ممسوح مسیحی ایسی حالت میں کیسے پڑ سکتے تھے؟ عبرانیوں کے نام پولس کے خط (۶۱ س.ع. کے لگبھگ تحریر کِیا گیا) کے مختلف حصوں پر غوروخوض کرنے سے اس سوال کا جواب دینے میں ہماری مدد ہوتی ہے۔ اس طرح غوروخوض کرنا آج ایسی ہی کمزور روحانی حالت میں پڑنے سے بچنے کیلئے ہماری مدد کریگا۔
۶. موسیٰ کی شریعت کے تحت پرستش اور یسوع مسیح پر ایمان کی بنیاد پر پرستش کے درمیان بعض فرق کیا ہیں؟
۶ عبرانی مسیحی یہودیت سے آئے تھے جو اُس شریعت کی تعمیل کا دعویٰ کرنے والا نظام تھا جو یہوواہ نے موسیٰ کی معرفت دی تھی۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ شریعت بہتیرے یہودی مسیحیوں کیلئے جاذبِتوجہ بنی رہی، شاید اسلئےکہ کئی صدیوں سے یہوواہ تک رسائی حاصل کرنے کا صرف یہی ایک طریقہ تھی اور پھر یہ کہانت، باقاعدہ قربانیوں اور یروشلیم کی مشہورِزمانہ ہیکل پر مشتمل اثرآفریں نظامِپرستش بھی تھی۔ مسیحیت مختلف ہے۔ یہ موسیٰ جیسی روحانی بصیرت کا مطالبہ کرتی ہے جسکی ”نگاہ [ابھی مستقبل میں] اجر پانے پر تھی“ اور جو ”اندیکھے کو گویا دیکھ کر ثابتقدم رہا۔“ (عبرانیوں ۱۱:۲۶، ۲۷) بہتیرے یہودی مسیحیوں میں بدیہی طور پر ایسی روحانی بصیرت کی کمی تھی۔ وہ بامقصد انداز میں دَوڑنے کی بجائے لنگڑی چال چل رہے تھے۔
۷. جس نظام سے ہم آئے ہیں وہ زندگی کی دَوڑ میں ہمارے دَوڑنے کے انداز پر کیسے اثر ڈال سکتا ہے؟
۷ کیا آج بھی ایسی ہی صورتحال ہے؟ بہرکیف، حالات بالکل ویسے نہیں۔ ابھی بھی، مسیحی ایسے نظامالعمل سے آتے ہیں جو بہت زیادہ شیخی بگھارتا ہے۔ دُنیا ہیجانخیز مواقع پیش کرتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ لوگوں سے بڑےبڑے مطالبے بھی کرتی ہے۔ علاوہازیں، ہم میں سے بہتیرے ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں مُتشکِک رُجحان عام ہے اور جہاں لوگ معاملات کی بابت خودغرضانہ، مفادپرستانہ نقطۂنظر رکھتے ہیں۔ اگر ہم خود کو ایسے نظام سے متاثر ہونے کی اجازت دیتے ہیں تو ’ہمارے دل کی آنکھیں‘ آسانی سے بےنور ہو سکتی ہیں۔ (افسیوں ۱:۱۸) اگر ہم صاف طور پر یہی نہیں دیکھ سکتے کہ ہم کدھر جا رہے ہیں توپھر ہم زندگی کی دَوڑ میں ٹھیک طرح سے کیسے دَوڑ سکیں گے؟
۸. وہ بعض طریقے کونسے ہیں جنکے اعتبار سے مسیحیت شریعت کے تحت پرستش کی نسبت افضل ہے؟
۸ یہودی مسیحیوں کو تحریک دینے کی غرض سے، پولس نے اُنہیں موسوی شریعت کے مقابلے میں مسیحی نظام کی فضیلت کی بابت یاد دلایا۔ سچ ہے کہ جب جسمانی اسرائیل کی قوم شریعت کے تحت یہوواہ کے لوگ تھے تو یہوواہ نے اُس سے مُلہَم انبیاء کی معرفت کلام کِیا۔ لیکن پولس کہتا ہے کہ آج وہ ”بیٹے کی معرفت کلام“ کرتا ہے ”جسے اُس نے سب چیزوں کا وارث ٹھہرایا اور جسکے وسیلہ سے اُس نے عالم بھی پیدا کئے۔“ (عبرانیوں ۱:۲) نیز، یسوع داؤد کے سلسلۂنسب کے تمام بادشاہوں، اپنے ”ساتھیوں“ سے عظیم ہے۔ وہ تو فرشتوں سے بھی بلند ہے۔—عبرانیوں ۱:۵، ۶، ۹۔
۹. پولس کے زمانے کے یہودی مسیحیوں کی طرح، ہمیں یہوواہ کی بات پر ”اَور بھی دل لگا کر غور“ کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟
۹ لہٰذا، پولس نے یہودی مسیحیوں کو نصیحت کی: ”جو باتیں ہم نے سنیں اُن پر اَور بھی دل لگا کر غور کرنا چاہئے تاکہ بہ کر اُن سے دُور نہ چلے جائیں۔“ (عبرانیوں ۲:۱) اگرچہ مسیح کی بابت سیکھنا ایک شاندار برکت تھی تَوبھی اس سے زیادہ کچھ درکار تھا۔ اُنہیں اپنے اِردگِرد یہودی معاشرے کے اثر کو زائل کرنے کیلئے خدا کے کلام پر گہری توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ ہمیں بھی اس دُنیا کے مسلسل پروپیگنڈے کے پیشِنظر جسکا ہمیں سامنا ہے یہوواہ کے کلام پر ”اَور بھی دل لگا کر غور“ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے مُراد مطالعے کی اچھی عادات پیدا کرنا اور بائبل پڑھائی کا اچھا شیڈول قائم رکھنا ہے۔ جیسےکہ بعد میں پولس عبرانیوں کے نام اپنے خط میں بیان کرتا ہے، اس سے مُراد یہ بھی ہے کہ اجلاسوں پر باقاعدگی سے حاضر ہوں اور دوسروں کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کریں۔ (عبرانیوں ۱۰:۲۳-۲۵) ایسی کارگزاری روحانی طور پر چوکس رہنے میں ہماری مدد کریگی تاکہ ہم اپنی پُرجلال اُمید کو نظروں سے اُوجھل نہ ہونے دیں۔ اگر ہم اپنے ذہنوں کو یہوواہ کے خیالات سے معمور رکھتے ہیں تو پھر یہ دُنیا ہمارے ساتھ جو بھی کرے ہم مغلوب یا عدمِتوازن کا شکار نہیں ہونگے۔—زبور ۱:۱-۳؛ امثال ۳:۱-۶۔
”آپس میں نصیحت کِیا کرو“
۱۰. (ا) یہوواہ کے کلام پر اَور بھی دل لگا کر غور نہ کرنے والے شخص کیساتھ کیا ہو سکتا ہے؟ (ب) ہم ”ایک دوسرے کو نصیحت“ کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۰ اگر ہم روحانی چیزوں پر گہری توجہ نہیں دیتے تو ہو سکتا ہے کہ خدا کے وعدے غیرحقیقی دکھائی دینے لگیں۔ پہلی صدی میں بھی ایسے ہوا تھا جبکہ کلیسیائیں صرف ممسوح مسیحیوں پر مشتمل تھیں اور بعض رسول بھی زندہ تھے۔ پولس نے عبرانیوں کو آگاہ کِیا: ”اَے بھائیو! خبردار! تم میں کسی کا ایسا بُرا اور بےایمان دل نہ ہو جو زندہ خدا سے پھر جائے۔ بلکہ جس روز تک آج کا دن کہا جاتا ہے ہر روز آپس میں نصیحت کِیا کرو تاکہ تم میں سے کوئی گناہ کے فریب میں آکر سخت دل نہ ہو جائے۔“ (عبرانیوں ۳:۱۲، ۱۳) پولس کی ”خبردار“ کی اصطلاح ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ خطرہ سر پر ہے! ایمان کی کمی—”گناہ“—ہمارے دلوں میں فروغ پا سکتی ہے اور ہم خدا کے قریب جانے کی بجائے اُس سے دُور ہو سکتے ہیں۔ (یعقوب ۴:۸) پولس ہمیں یاددہانی کراتا ہے کہ ”ایک دوسرے کو نصیحت کِیا کرو۔“ ہمیں برادرانہ رفاقت کے تپاک کی ضرورت ہے۔ ”جو اپنےآپ کو سب سے الگ رکھتا ہے اپنی خواہش کا طالب ہے اور ہر معقول بات سے برہم ہوتا ہے۔“ (امثال ۱۸:۱) ایسی رفاقت کی حاجت آجکل مسیحیوں کو باقاعدگی سے کلیسیائی اجلاسوں، اسمبلیوں اور کنونشنوں پر حاضر ہونے کی تحریک دیتی ہے۔
۱۱، ۱۲. ہمیں محض بنیادی مسیحی عقائد کو جاننے سے ہی مطمئن کیوں نہیں ہو جانا چاہئے؟
۱۱ بعدازاں اپنے خط میں، پولس مزید یہ گرانقدر نصیحت پیش کرتا ہے: ”وقت کے خیال سے تو تمہیں اُستاد ہونا چاہئے تھا مگر اب اس بات کی حاجت ہے کہ کوئی شخص خدا کے کلام کے ابتدائی اُصول تمہیں پھر سکھائے اور سخت غذا کی جگہ تمہیں دُودھ پینے کی حاجت پڑ گئی۔ . . . سخت غذا پوری عمر والوں کے لئے ہوتی ہے جنکے حواس کام کرتے کرتے نیکوبد میں امتیاز کرنے کے لئے تیز ہو گئے ہیں۔“ (عبرانیوں ۵:۱۲-۱۴) بدیہی طور پر، بعض یہودی مسیحی اپنی سمجھ کو بڑھانے میں ناکام ہو گئے تھے۔ وہ شریعت اور ختنے کے سلسلے میں اضافی بصیرت کو قبول کرنے میں پسوپیش کر رہے تھے۔ (اعمال ۱۵:۲۷-۲۹؛ گلتیوں ۲:۱۱-۱۴؛ ۶:۱۲، ۱۳) بعض شاید ابھی تک ہفتہوار سبت اور باضابطہ یومِکفارہ جیسے روایتی کاموں کو اہم خیال کرتے تھے۔—کلسیوں ۲:۱۶، ۱۷؛ عبرانیوں ۹:۱-۱۴۔
۱۲ پس، پولس کہتا ہے: ”آؤ مسیح کی تعلیم کی ابتدائی باتیں چھوڑ کر کمال کی طرف قدم بڑھائیں۔“ (عبرانیوں ۶:۱) ایک مارثونی دَوڑ میں حصہ لینے والا جو اپنی خوراک پر گہری توجہ دیتا ہے لمبی، تھکا دینے والی دَوڑ کو برداشت کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اسی طرح، ایک مسیحی جو روحانی خوراک پر گہری توجہ دیتا ہے—خود کو بنیادی، ’ابتدائی عقائد‘ تک محدود نہیں رکھتا—اپنی دَوڑ کو جاری رکھنے اور اسے ختم کرنے کے قابل ہوگا۔ (مقابلہ کریں ۲-تیمتھیس ۴:۷۔) اس کا مطلب سچائی کی ”چوڑائی اور لمبائی اور اُونچائی اور گہرائی“ میں دلچسپی لینا اور یوں کمال کی طرف قدم بڑھانا ہے۔—افسیوں ۳:۱۸۔
”تمہیں صبر کرنا ضرور ہے“
۱۳. زمانۂسابق میں عبرانی مسیحیوں نے اپنے ایمان کا مظاہرہ کیسے کِیا تھا؟
۱۳ سن ۳۳ کے پنتِکُست کے فوراً بعد کے دَور میں، یہودی مسیحی شدید مخالفت کے باوجود بھی ثابتقدم رہے۔ (اعمال ۸:۱) شاید پولس کے ذہن میں یہی بات تھی جب اُس نے لکھا: ”اُن پہلے دنوں کو یاد کرو کہ تم نے منور ہونے کے بعد دُکھوں کی بڑی کھکھیڑ اُٹھائی۔“ (عبرانیوں ۱۰:۳۲) ایسے وفادارانہ صبر نے خدا کیلئے اُنکی محبت کو ظاہر کِیا اور اُنہیں اُس سے ہمکلام ہونے کی آزادی بخشی۔ (۱-یوحنا ۴:۱۷) پولس اُنہیں نصیحت کرتا ہے کہ ایمان کی کمی کے باعث اسے کھو نہ بیٹھیں۔ وہ اُنہیں تلقین کرتا ہے: ”تمہیں صبر کرنا ضرور ہے تاکہ خدا کی مرضی پوری کرکے وعدہ کی ہوئی چیز حاصل کرو۔ اور اب بہت ہی تھوڑی مدت باقی ہے کہ آنے والا آئیگا اور دیر نہ کریگا۔“—عبرانیوں ۱۰:۳۵-۳۷۔
۱۴. کئی سالوں تک یہوواہ کی خدمت کرنے کے بعد بھی کونسے حقائق کو برداشت کرنے میں ہماری مدد کرنی چاہئے؟
۱۴ آجکل ہماری بابت کیا ہے؟ جب ہم نے پہلےپہل مسیحی سچائی سیکھی تھی تو ہم میں سے بیشتر بہت سرگرم تھے۔ کیا اب بھی ہم میں ویسا ہی جوش ہے؟ یا کیا ہم نے ’پہلی سی محبت چھوڑ دی ہے‘؟ (مکاشفہ ۲:۴) کیا ہم ٹھنڈے پڑ گئے ہیں، شاید کچھ مایوس ہو گئے ہیں یا ہرمجِدّون کے انتظار سے اُکتا گئے ہیں؟ تاہم، ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں۔ سچائی کی دلآویزی پہلے سے کم تو نہیں ہو گئی۔ یسوع ابھی تک ہمارا آسمانی بادشاہ ہے۔ ہم ابھی تک فردوسی زمین پر ہمیشہ کی زندگی کی اُمید رکھتے ہیں اور ابھی تک یہوواہ کیساتھ ہمارا رشتہ قائم ہے۔ نیز یہ کبھی مت بھولیں: ”آنے والا آئیگا اور دیر نہ کریگا۔“
۱۵. یسوع کی طرح، بعض مسیحیوں نے شدید اذیت کو کیسے برداشت کِیا ہے؟
۱۵ لہٰذا، عبرانیوں ۱۲:۱، ۲ میں درج پولس کے الفاظ نہایت موزوں ہیں: ”آؤ ہم بھی ہر ایک بوجھ اور اُس گناہ [ایمان کی کمی] کو جو ہمیں آسانی سے اُلجھا لیتا ہے دُور کرکے اُس دَوڑ میں صبر سے دَوڑیں جو ہمیں درپیش ہے۔ اور ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوع کو تکتے رہیں جس نے اُس خوشی کے لئے جو اُسکی نظروں کے سامنے تھی شرمندگی کی پروا نہ کرکے صلیب کا دُکھ سہا اور خدا کے تخت کے دہنی طرف جا بیٹھا۔“ بہت سی ایسی باتیں ہیں جو خدا کے خادموں نے ان آخری ایّام میں برداشت کی ہیں۔ یسوع کی طرح، جو اذیتناک موت کی حد تک وفادار رہا، ہمارے بعض بھائیوں اور بہنوں نے شدیدترین اذیت—جیلوں، جسمانی تشدد، زنابالجبر، حتیٰکہ موت کو وفاداری سے برداشت کِیا ہے۔ (۱-پطرس ۲:۲۱) جب ہم اُنکی راستی پر غور کرتے ہیں تو کیا ہمارا دل اُن کیلئے محبت کے جذبے سے سرشار نہیں ہو جاتا؟
۱۶، ۱۷. (ا) بہتیرے مسیحی اپنے ایمان کے کونسے چیلنجوں سے نپٹتے ہیں؟ (ب) کونسی بات یاد رکھنے سے زندگی کی دَوڑ میں دَوڑتے رہنے کیلئے ہماری مدد ہوگی؟
۱۶ تاہم، بہتیروں پر پولس کے اگلے الفاظ کا اطلاق ہوتا ہے: ”تم نے گناہ سے لڑنے میں اب تک ایسا مقابلہ نہیں کِیا جس میں خون بہا ہو۔“ (عبرانیوں ۱۲:۴) تاہم، اس نظام میں راہِحق ہم میں سے کسی کیلئے بھی آسان نہیں ہے۔ بعض تمسخر کو برداشت کرتے یا گناہ کرنے کے دباؤ کی مزاحمت کرتے ہوئے، جائےملازمت پر یا سکول میں ”بُرائی کرنے والے گنہگاروں“ کے باعث بےحوصلہ ہو گئے ہیں۔ (عبرانیوں ۱۲:۳) سخت آزمائش نے خدا کے اعلیٰ معیاروں کو برقرار رکھنے کیلئے بعض کے عزم کو دھیرےدھیرے کھوکھلا کر دیا ہے۔ (عبرانیوں ۱۳:۴، ۵) برگشتہ لوگ اُنکے روحانی توازن پر اثرانداز ہوئے ہیں جنہوں نے اُنکے زہریلے پروپیگنڈے پر کان لگایا تھا۔ (عبرانیوں ۱۳:۹) شخصیتی اختلافات نے بعض کی خوشی کو چھین لیا ہے۔ تفریح اور کھیلکود کی کارگزاریوں پر حد سے زیادہ توجہ نے بعض مسیحیوں کو کمزور کر دیا ہے۔ نیز بہتیرے خود کو اس نظامالعمل میں گزربسر کرنے کے مسائل تلے دبا ہوا محسوس کرتے ہیں۔
۱۷ سچ ہے کہ ان حالتوں میں سے کوئی بھی ایسے ’مقابلے‘ کا تقاضا نہیں کرتی جس میں ’خون بہے۔‘ بہرحال بعض کا سراغ ہمارے ہی کئے ہوئے غلط فیصلوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ تمام ہمارے ایمان کیلئے چیلنج بنتی ہیں۔ اسی لئے ہمیں یسوع کے برداشت کے شاندار نمونے کو تکتے رہنا چاہئے۔ خدا کرے کہ ہم کبھی بھی یہ بات نہ بھولیں کہ ہماری اُمید کتنی شاندار ہے۔ دُعا ہے کہ ہم کبھی بھی اپنے اس یقین کو ہاتھ سے نہ جانے دیں کہ یہوواہ ”اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“ (عبرانیوں ۱۱:۶) پھر، ہم زندگی کی دَوڑ میں دَوڑتے رہنے کیلئے روحانی قوت حاصل کرینگے۔
ہم برداشت کر سکتے ہیں
۱۸، ۱۹. کونسے تاریخی واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ یروشلیم کے عبرانی مسیحیوں نے پولس کی الہامی مشورت پر کان لگایا تھا؟
۱۸ یہودی مسیحی پولس کے خط سے کیسے اثرپذیر ہوئے؟ عبرانیوں کے نام خط لکھے جانے کے کوئی چھ سال بعد، یہودیہ میں جنگ چھڑ گئی۔ سن ۶۶ میں، رومی فوج نے یسوع کے ان الفاظ کی تکمیل میں یروشلیم کا محاصرہ کر لیا: ”جب تم یرؔوشلیم کو فوجوں سے گِھرا ہوا دیکھو تو جان لینا کہ اُسکا اُجڑ جانا نزدیک ہے۔“ (لوقا ۲۱:۲۰) تاہم، اُن مسیحیوں کے فائدے کیلئے جو اُس وقت یروشلیم میں ہونگے، یسوع نے فرمایا: ”اُس وقت جو یہوؔدیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں اور جو یرؔوشلیم کے اندر ہوں باہر نکل جائیں اور جو دیہات میں ہوں شہر میں نہ جائیں۔“ (لوقا ۲۱:۲۱) لہٰذا، روم کیساتھ جنگ نے ایک آزمائش کھڑی کر دی: کیا یہودی مسیحی یروشلیم، یہودی پرستش کے مرکز اور پُرجلال ہیکل کے مقام کو چھوڑ دینگے؟
۱۹ رومی اچانک ہی کسی صریحی وجہ کے بغیر پسپا ہو گئے۔ غالباً، مذہبی یہودیوں نے اسے اس بات کا ثبوت سمجھا کہ خدا اُنکے مُقدس شہر کی حفاظت کر رہا تھا۔ مسیحیوں کی بابت کیا ہے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہ بھاگ گئے۔ اسکے بعد، ۷۰ س.ع. میں، رومی واپس آئے اور ہوشرُبا جانی نقصان کیساتھ یروشلیم کو مکمل طور پر تباہوبرباد کر دیا۔ یروشلیم پر ”یہوواہ کا دن“ آ چکا تھا جسکی یوایل نے پیشینگوئی کی تھی۔ لیکن وفادار مسیحی وہاں نہ رہے۔ وہ ’بچ نکلے۔‘—یوایل ۲:۳۰-۳۲؛ اعمال ۲:۱۶-۲۱۔
۲۰. اس علم کو ہمیں کن طریقوں سے تحریک دینی چاہئے کہ ”یہوواہ کا دن“ قریب ہے؟
۲۰ آجکل، ہم جانتے ہیں کہ ایک اَور ”یہوواہ کا دن“ اس پورے نظامالعمل پر جلد اثرانداز ہوگا۔ (یوایل ۳:۱۲-۱۴) ہم نہیں جانتے کہ وہ دن کب آئیگا۔ لیکن خدا کا کلام ہمیں یقین دلاتا ہے یہ ضرور آئیگا! یہوواہ فرماتا ہے کہ یہ تاخیر نہ کریگا۔ (حبقوق ۲:۳؛ ۲-پطرس ۳:۹، ۱۰) لہٰذا، آئیے ”جو باتیں ہم نے سنیں اُن پر اَور بھی دل لگا کر غور“ کریں۔ ایمان کی کمی سے بچیں، ایک ایسا ”گناہ . . . جو ہمیں آسانی سے اُلجھا لیتا ہے۔“ آخری حد تک برداشت کرنے پر اٹل رہیں۔ یاد رکھیں، یہوواہ کی عظیم رتھنما آسمانی تنظیم رواںدواں ہے۔ یہ اسکے مقصد کو پایۂتکمیل تک پہنچائیگی۔ پس دُعا ہے کہ ہم سب دَوڑتے رہیں اور زندگی کی دَوڑ میں ہمت نہ ہاریں!
کیا آپ کو یاد ہے؟
◻فلپیوں کیلئے پولس کی کس نصیحت پر دھیان دینا زندگی کی دَوڑ میں برداشت کرنے کیلئے ہماری مدد کریگا؟
◻ہمیں انتشارِخیال میں ڈالنے والے اس دُنیا کے رُجحان کی روکتھام کرنے میں کونسی چیز ہماری مدد کریگی؟
◻دَوڑ میں برداشت کرنے کیلئے ہم ایک دوسرے کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
◻بعض چیزیں کونسی ہیں جو کسی مسیحی کو سُست کر سکتی ہیں؟
◻برداشت کرنے میں یسوع کا نمونہ کیسے ہماری مدد کر سکتا ہے؟