یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏12 ص.‏ 3-‏4
  • کیا آپ ایک انصاف‌پسند دُنیا کے آرزومند ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا آپ ایک انصاف‌پسند دُنیا کے آرزومند ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ملتا جلتا مواد
  • نااِنصافی سے نمٹنے کا بہترین طریقہ
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
  • پاک کلام سے متعلق سوال‌وجواب
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • ہم نااِنصافی کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
  • ‏’‏تمام دُنیا کے اِنصاف کرنے والے‘‏ پر بھروسا رکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2017ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏12 ص.‏ 3-‏4

کیا آپ ایک انصاف‌پسند دُنیا کے آرزومند ہیں؟‏

لکڑی کا تین مستولوں اور دو عرشوں پر مشتمل ایک بادبانی جہاز اُن ساحلوں پر پہنچتا ہے جنہیں اب کیپ‌کاڈ، ماساچوسیٹس، یو.‏ایس.‏اے.‏ کہا جاتا ہے۔ جہاز کا عملہ اور ۱۰۱ مسافر ۶۶ دن سمندر میں رہنے کے بعد بُری طرح تھک چکے ہیں۔ اُنہوں نے مذہبی ایذارسانی اور معاشی بحران سے نجات حاصل کرنے کیلئے بحرِاوقیانوس کو عبور کرنے کا یہ دشوار سفر اختیار کِیا۔‏

اِس جہاز، مے‌فلاور، کے مسافروں نے نومبر ۱۱، ۱۶۲۰ میں زمین کو دیکھا تو اُنکی آنکھوں میں ایک نئے آغاز کی اُمید سے چمک آ گئی۔ ایک بہتر دُنیا کی بنیاد رکھنے کی آرزو میں، دو دن کے بعد جہاز کے بالغ مرد مسافروں نے مے‌فلاور معاہدے پر دستخط کئے۔ اِس میں اُنہوں نے ”‏نوآبادی کی عمومی فلاح“‏ کے پیشِ‌نظر ”‏منصفانہ اور مساوی قانون“‏ وضع کرنے سے اتفاق کِیا۔ کیا اخلاقی لحاظ سے راست اور سب کیلئے منصفانہ دُنیا—‏ایک انصاف‌پسند دُنیا—‏کیلئے اُنکا یہ خواب کبھی شرمندۂ‌تعبیر ہوا؟‏

اگرچہ مے‌فلاور پر جس معاہدے پر دستخط ہوئے، جسے امریکی نظامِ‌حکومت کی بنیاد تصور کِیا جاتا ہے توبھی ناانصافی تمام دُنیا کی طرح امریکہ میں بھی اتنی ہی عام ہے۔ مثال کے طور پر، ایک دکاندار کو لوٹنے اور گولی مارنے کے بعد فرار ہونے والے ایک آدمی کی بابت سوچیں جو پولیس کی گولی کا نشانہ بن گیا۔ اُس نے نیو یارک شہر اور پولیس پر مقدمہ دائر کر دیا اور تصفیے کے نتیجے میں کئی ملین ڈالر حاصل کر لئے۔‏

ایک اَور مثال پر غور کریں۔ پاساڈینا، کیلیفورنیا میں ایک لاء سکول کے طالبعلم وکالت کا امتحان دے رہے تھے کہ اچانک ایک طالبعلم پر دل کا دورہ پڑا اور وہ گر پڑا۔ نزدیک بیٹھے دو طالبعلموں نے طبّی امداد فراہم کرنے والے عملے کے پہنچنے تک اُسکے دل اور سانس لینے کے عمل کو بحال کرنے کیلئے فوری طبّی امداد دینا شروع کر دی۔ اُس شخص کی مدد کرنے میں اُنہوں نے ۴۰ منٹ صرف کئے۔ تاہم، جب اُنہوں نے امتحان کو مکمل کرنے کیلئے کچھ اضافی وقت کیلئے درخواست کی تو مجلسِ‌وکلا کے اہلکار نے اُسے مسترد کر دیا۔‏

پھر مجرمانہ کارروائیوں کیلئے سزا کا معاملہ بھی ہے۔ معاشی تجزیہ‌نگار ایڈ رابن‌سٹن نشاندہی کرتا ہے:‏ ”‏بیشتر جرائم کے سلسلے میں کبھی کوئی گرفتاری نہیں ہوتی۔ بہت سے گرفتار ہونے والوں کے خلاف عدالتی کارروائی نہیں کی جاتی۔ بیشتر مجرموں کو ضمانت پر رہا کر دیا جاتا ہے۔ بہت سے مجرم جانتے ہیں کہ متوقع سزا یقینی نہیں بلکہ امکانی ہوتی ہے۔“‏ نقب‌زنی کی وارداتوں کے اعدادوشمار کا جائزہ لیتے ہوئے وہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ایک متوقع چور ”‏کے بچ نکلنے کے امکانات ۹۸ فیصد سے زیادہ ہوتے ہیں۔“‏ سزا سے بچ جانے کا غیرمعمولی امکان زیادہ جرائم اور جرائم کا شکار ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے۔—‏واعظ ۸:‏۱۱‏۔‏

بہت سے ممالک میں دولتمند طبقہ امیر سے امیرتر ہوتا جا رہا ہے جبکہ غریب عوام کو معاشی ناانصافی کا سامنا ہے۔ ایسی ناانصافی اُس وقت زیادہ ہو جاتی ہے جب رنگ، نسلی پس‌منظر، زبان، جنس یا مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو اپنی حالت بہتر بنانے یا محض گزربسر کرنے کے بہت کم مواقع ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر، دی نیو یارک ٹائمز کے مطابق، ”‏ہندوؤں کے زیرِاثر جنوبی ایشیا—‏زیادہ‌تر انڈیا اور نیپال—‏میں چوتھائی بلین انسان اچھوتوں کے طور پر پیدا ہوتے اور مرتے ہیں۔“‏ چنانچہ لاکھوں غربت، فاقہ‌کشی اور بیماری کے ہاتھوں تباہ‌وبرباد ہو جاتے ہیں۔ ناانصافی اُنکی زندگی کا مہد سے لحد تک پیچھا کرتی ہے۔‏

اُن ظاہری ناانصافیوں کی بابت کیا ہے جو انسان کے اختیار سے باہر ہیں؟ اُن بچوں کی بابت سوچیں جو پیدائشی نقائص کیساتھ—‏نابینا، ذہنی یا جسمانی طور پر معذور پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ایک عورت ناانصافی محسوس نہیں کرے گی جسکا بچہ اپاہج یا مردہ پیدا ہوا ہو جبکہ اُسکے نزدیک ہی دوسری عورتیں صحتمند شِیرخواروں کو گلے لگا رہی ہوتی ہیں؟‏

افسوس کی بات ہے کہ ناانصافی اور اُسکے نتائج—‏بے‌اندازہ تکلیف اور اَمن، خوشی اور اطمینان کی کمی کی کثرت ہے۔ بہتیرے ناانصافی کو دیکھنے یا اُسکا تجربہ کرنے کے باعث تشدد کی طرف مائل ہو گئے ہیں جس سے انسان کی تکالیف میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ زیادہ‌تر جنگیں ناانصافی کے احساس کی وجہ سے ہی لڑی گئی ہیں۔‏

انسان ایک انصاف‌پسند دُنیا لانے میں ناکام کیوں رہا ہے؟ کیا ایسی دُنیا محض ایک خواب ہے؟‏

‏[‏صفحہ 3 پر تصویر کا حوالہ]‏

Corbis-Bettmann

‏[‏صفحہ 4 پر تصویر]‏

مے‌فلاور معاہدے پر دستخط کرنا

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

Corbis-Bettmann

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں