بااخلاق بچوں کی پرورش کرنا کیا اب بھی ایسا ممکن ہے؟
”اب ہم ایک انتہائی پیچیدہ معاشرے میں رہتے ہیں، ایک مخلوط تہذیب جہاں کوئی یکساں ضابطۂاخلاق نہیں ہے،“ کینیڈا میں خاندان کے سلسلے میں وینائیر انسٹیٹیوٹ اوٹاوا سے رابرٹ گلوسوپ بیان کرتا ہے۔ کس نتیجے کیساتھ؟ اخبار دی ٹورنٹو سٹار کی ایک رپورٹ بیان کرتی ہے: ”نوعمری میں حمل، نوجوانوں میں تشدد اور نوعمری میں خودکشی، سب عروج پر ہیں۔“
یہ مسئلہ شمالی امریکہ کی سرحدیں پار کر گیا ہے۔ روڈ آئیلینڈ، یو.ایس.اے میں براؤن یونیورسٹی میں انسانی فلاحوبہبود کے مرکز کے ڈائریکٹر بِل ڈیمن نے برطانیہ اور دیگر یورپی اقوام کے ساتھ ساتھ آسڑیلیا، اسرائیل اور جاپان میں بھی اِن مسائل کا جائزہ لیا ہے۔ وہ نوجوانوں کو رہنمائی فراہم کرنے کے سلسلے میں گرجوں، سکولوں اور دیگر اداروں کے زوالپذیر ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ ہماری تہذیب ”اُس جوہر سے محروم ہو چکی ہے جو بچوں کے کردار اور صلاحیت کو پروان چڑھانے کے لئے ضروری ہے۔“ بچوں کی پرورش کے اُن ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے جو یہ سکھاتے ہیں کہ ”تربیت بچوں کی فلاحوبہبود اور صحت کے لئے نقصاندہ ہے،“ ڈیمن بڑے وثوق سے کہتا ہے کہ ”ضدی اور نافرمان بچوں کو پروان چڑھانے کا یہی طریقہ ہے۔“
آجکل کے نوجوانوں کو کس چیز کی ضرورت ہے؟ اُنہیں اپنے دلودماغ کی اصلاح کیلئے مستقل پُرمحبت تربیت درکار ہے۔ مختلف نوجوانوں کو مختلف طرح کی تربیت درکار ہوتی ہے۔ جب تربیت فراہم کرنے کا محرک محبت ہو تو اکثر یہ دلائل کے ذریعے بھی دی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں امثال ۸:۳۳ میں بتایا گیا ہے کہ ”تربیت کی بات سنو۔“ تاہم، بعض صرف ”باتوں ہی سے نہیں [سدھرتے]۔“ اُن کیلئے نافرمانی کی موزوں طریقے سے دی جانے والی مناسب سزا ضروری ہو سکتی ہے۔ (امثال ۱۷:۱۰؛ ۲۳:۱۳، ۱۴؛ ۲۹:۱۹) اس تجویز کو پیش کرتے ہوئے، بائبل چھڑی سے مارنے یا ایسی شدید پٹائی کی حمایت نہیں کرتی جو بچے کو زخمی یا گھائل کر سکتی ہے۔ (امثال ۱۶:۳۲) اِسکی بجائے، بچے کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اُسکی اصلاح کیوں کی جا رہی ہے اور اُسے یہ احساس ہو جانا چاہئے کہ والدین اُسکی فلاحوبہبود میں دلچسپی رکھتے ہیں۔—مقابلہ کریں عبرانیوں ۱۲:۶، ۱۱۔
بائبل کی ایسی دانشمندانہ اور قابلِعمل مشورت کو خاندانی خوشی کا راز کتاب میں اُجاگر کِیا گیا ہے۔