مطالعے کا مضمون نمبر 37
گیت نمبر 114: صبروتحمل سے کام لیں
نااِنصافی سے نمٹنے کا بہترین طریقہ
”وہ اِنصاف کی اُمید کرتا رہا لیکن دیکھو! وہاں نااِنصافی تھی۔“—یسع 5:7۔
غور کریں کہ . . .
جب یسوع مسیح دوسروں کے ساتھ نااِنصافی ہوتے ہوئے دیکھتے تھے تو وہ کیا کرتے تھے اور ہم اِس حوالے سے اُن کی مثال پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔
1-2. (الف)جب لوگوں کے ساتھ نااِنصافی ہوتی ہے یا وہ کسی اَور کے ساتھ نااِنصافی ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ کیا کرتے ہیں؟ (ب)نااِنصافی کو دیکھ کر شاید ہم کیا سوچنے لگیں؟
آج بہت سے لوگوں کے ساتھ نااِنصافی کی جاتی ہے۔ اِس کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگوں کے ساتھ اُن کی مالی حالت، اُن کے ملک یا اُن کی شکلوصورت کی وجہ سے بُرا سلوک کِیا جاتا ہے۔ اور بہت سے لوگوں کو اِس لیے مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ کچھ امیر لوگ اور سیاسی حکمران صرف اپنی جیبیں گرم کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اِس طرح کی نااِنصافیوں کا ہم سب پر ہی کسی نہ کسی طریقے سے اثر ہوتا ہے۔
2 تو اِس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ بہت سے لوگ دُنیا میں ہونے والی نااِنصافی کی وجہ سے غصے میں آ جاتے ہیں۔ ہم سب ہی ایک ایسی دُنیا میں رہنا چاہتے ہیں جہاں ہم خود کو محفوظ محسوس کریں اور جہاں سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کِیا جائے۔ کچھ لوگ دُنیا میں یا پھر اپنے ملک میں چلنے والے مسئلوں کو خود حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ حکومت یا حکومت کے بنائے قوانین کے خلاف احتجاج کرتے ہیں یا پھر ایسے سیاسی رہنماؤں کو ووٹ دیتے ہیں جو اُن کے مسئلے حل کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ لیکن یسوع کے پیروکاروں کے طور پر ہم نے سیکھا ہے کہ ہم اِس ”دُنیا کا حصہ نہیں ہیں“ اور ہمیں صرف خدا کی بادشاہت پر بھروسا کرنا چاہیے جو ہر طرح کی نااِنصافی کو ختم کر دے گی۔ (یوح 17:16) لیکن ہو سکتا ہے کہ ہم اُس وقت مایوس ہو جائیں، یہاں تک کہ غصے میں آ جائیں جب ہم کسی کے ساتھ نااِنصافی ہوتے ہوئے دیکھیں۔ شاید ہم سوچنے لگیں: ”جب مَیں نااِنصافی کو ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا مَیں ابھی کسی نہ کسی طریقے سے نااِنصافی کے حوالے سے کچھ کر سکتا ہوں؟“ اِن سوالوں کے جواب حاصل کرنے سے پہلے آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ جب یہوواہ اور یسوع مسیح کسی کے ساتھ نااِنصافی ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اُنہیں کیسا لگتا ہے۔
یہوواہ اور یسوع کو نااِنصافی سے نفرت ہے
3. ہمیں نااِنصافی کو دیکھ کر غصہ کیوں آتا ہے؟ (یسعیاہ 5:7)
3 بائبل سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں نااِنصافی کو دیکھ کر اِتنا بُرا کیوں لگتا ہے۔ اِس میں بتایا گیا ہے کہ خدا ”نیکی اور اِنصاف سے محبت کرتا ہے“ اور چونکہ اُس نے ہمیں اپنی شبیہ پر بنایا ہے اِس لیے ہم بھی نیکی اور اِنصاف سے محبت کرتے ہیں۔ (زبور 33:5؛ پید 1:26) یہوواہ کبھی بھی کسی کے ساتھ نااِنصافی نہیں کرتا اور نہ ہی وہ چاہتا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے ساتھ ایسا کرے۔ (اِست 32:3، 4؛ میک 6:8؛ زک 7:9) مثال کے طور پر یسعیاہ نبی کے زمانے میں یہوواہ نے اُن اِسرائیلیوں کی ”دُکھ بھری پکار“ سنی جن کے ساتھ اُن کے ملک کے لوگ بُرا سلوک کر رہے تھے۔ (یسعیاہ 5:7 کو پڑھیں۔) یہوواہ نے اُن لوگوں کو سزا دی جو بار بار اُس کے حکموں کو نظرانداز کر رہے تھے اور دوسروں کے ساتھ نااِنصافی کر رہے تھے۔—یسع 5:5، 13۔
4. جب کسی کے ساتھ نااِنصافی ہوتی ہے تو یسوع مسیح کو کیسا لگتا ہے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
4 یہوواہ کی طرح یسوع مسیح بھی اِنصاف سے محبت اور نااِنصافی سے نفرت کرتے ہیں۔ جب یسوع زمین پر تھے تو ایک مرتبہ اُنہوں نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جس کا ہاتھ سُوکھا ہوا تھا۔ یسوع کو اُسے دیکھ کر بہت ترس آیا اور اُنہوں نے اُس آدمی کا ہاتھ ٹھیک کر دیا۔ یہ دیکھ کر وہاں موجود مذہبی رہنما غصے میں آ گئے۔ اُنہیں اُس آدمی کی حالت سے زیادہ اِس بات کی فکر تھی کہ سبت کا کوئی قانون نہ توڑا جائے۔ یسوع کو مذہبی رہنماؤں کا یہ رویہ دیکھ کر کیسا لگا؟ اُنہیں اُن مذہبی رہنماؤں کی ”سنگدلی پر بہت دُکھ ہوا۔“—مر 3:1-6۔
یسوع کے زمانے کے مذہبی رہنماؤں کو لوگوں کی تکلیف کی بالکل پرواہ نہیں تھی لیکن یسوع لوگوں سے محبت کرتے اور اُن کی مدد کرتے تھے۔ (پیراگراف نمبر 4 کو دیکھیں۔)
5. جب ہمیں نااِنصافی کو دیکھ کر غصہ آتا ہے تو ہمیں کیا یاد رکھنا چاہیے؟
5 جب یہوواہ اور یسوع کسی کے ساتھ نااِنصافی ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اُنہیں غصہ آتا ہے۔ تو جب ہمیں نااِنصافی کو دیکھ کر غصہ آتا ہے تو یہ غلط نہیں ہوتا۔ (اِفِس 4:26) لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بھلے ہی ہمارا غصہ جائز ہو، ہمیں اِسے قابو میں رکھنا چاہیے کیونکہ ہم نااِنصافی کو ختم نہیں کر سکتے۔ اگر ہم ہر وقت غصے میں کڑھتے رہیں گے تو ہم خود کو تکلیف پہنچا رہے ہوں گے اور بیمار ہونے کے خطرے میں ہوں گے۔ (زبور 37:1، 8؛ یعقو 1:20) تو جب ہمارے ساتھ یا کسی اَور کے ساتھ نااِنصافی ہوتی ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں یسوع کی مثال پر عمل کرنا چاہیے۔ آئیے دیکھیں کہ ہم اُن سے کیا کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
یسوع نے نااِنصافی کا سامنا کیسے کِیا؟
6. جب یسوع زمین پر تھے تو کچھ لوگوں کے ساتھ کون سی نااِنصافیاں ہو رہی تھیں؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
6 جب یسوع مسیح زمین پر تھے تو اُنہوں نے لوگوں کے ساتھ بہت بُرا سلوک ہوتے ہوئے دیکھا۔ اُنہوں نے دیکھا کہ کس طرح سے مذہبی رہنماؤں نے لوگوں پر قوانین کی بوچھاڑ کر کے اُن کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ (متی 23:2-4) یسوع یہ بھی جانتے تھے کہ رومی حکمران لوگوں کے ساتھ کتنی سختی سے پیش آتے تھے۔ بہت سے یہودی رومی حکومت سے نجات پانا چاہتے تھے۔ کچھ اِنتہاپسند یہودیوں نے تو اپنے اپنے گروہ بنا لیے تھے جو رومی لوگوں سے لڑ رہے تھے۔ یسوع مسیح رومی حکومت کے خلاف آواز اُٹھانے کے لیے کسی بھی گروہ کا حصہ نہیں بنے۔ دراصل جب اُنہیں پتہ چلا کہ کچھ لوگ اُنہیں بادشاہ بنانے کا سوچ رہے ہیں تو وہ اُن کے بیچ سے چلے گئے۔—یوح 6:15۔
جب لوگوں نے یسوع مسیح کو بادشاہ بنانے کی کوشش کی تو یسوع اُن کے پاس سے چلے گئے۔ (پیراگراف نمبر 6 کو دیکھیں۔)
7-8. جب یسوع زمین پر تھے تو اُنہوں نے نااِنصافی کو ختم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ (یوحنا 18:36)
7 جب یسوع زمین پر تھے تو وہ نااِنصافی کو ختم کرنے کے لیے سیاست کا حصہ نہیں بنے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اِنسانوں کو نہ تو ایک دوسرے پر حکمرانی کرنے کا حق دیا گیا ہے اور نہ ہی صلاحیت۔ (زبور 146:3؛ یرم 10:23) اِس کے علاوہ اِنسان نااِنصافی کی اصل جڑ کو ختم نہیں کر سکتے یعنی وہ شیطان اور اپنی گُناہگار حالت سے خود چھٹکارا نہیں پا سکتے۔ شیطان اِس دُنیا کا حکمران ہے۔ وہ ایک قاتل ہے جو اپنے اِختیار کو اِستعمال کر کے نااِنصافی کو ہوا دیتا ہے۔ (یوح 8:44؛ اِفِس 2:2) اِس کے علاوہ عیبدار ہونے کی وجہ سے ایک نیک اور مہربان شخص بھی دُنیا کے مسئلوں کو حل نہیں کر سکتا کیونکہ اُس کے لیے ہمیشہ اِنصاف سے کام لینا ممکن نہیں ہے۔—واعظ 7:20۔
8 یسوع مسیح جانتے تھے کہ صرف خدا کی بادشاہت ہی نااِنصافی کی اصل جڑ کو ختم کر سکتی ہے۔ اِسی وجہ سے اُنہوں نے اپنی طاقت اور اپنا وقت ”خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کی مُنادی کرنے“ میں لگایا۔ (لُو 8:1) اِس طرح اُنہوں نے اُن لوگوں کو تسلی دی”جنہیں نیکی کی بھوک اور پیاس“ تھی اور جو نااِنصافی اور بُرائی کا خاتمہ دیکھنا چاہتے تھے۔ (متی 5:6، فٹنوٹ؛ لُو 18:7، 8) لیکن یہ کام کوئی اِنسانی حکومت نہیں کر پائے گی بلکہ صرف خدا کی آسمانی حکومت ہی کر پائے گی جس کا ”اِس دُنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“—یوحنا 18:36 کو پڑھیں۔
نااِنصافی کا سامنا کرتے وقت یسوع کی مثال پر عمل کریں
9. آپ کو اِس بات کا پکا یقین کیوں ہے کہ صرف خدا کی بادشاہت ہی ہر طرح کی نااِنصافی کو ختم کرے گی؟
9 جتنی زیادہ نااِنصافیاں آج ہم ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اُتنی زیادہ نااِنصافیاں یسوع نے اُس وقت نہیں دیکھی تھیں جب وہ زمین پر تھے۔ لیکن یسوع کے زمانے کی طرح اِس ”آخری زمانے میں“ بھی نااِنصافیوں کے پیچھے شیطان کا اور اُن لوگوں کا ہاتھ ہے جو اُس کی مثال پر چلتے ہیں۔ (2-تیم 3:1-5، 13؛ مُکا 12:12) یسوع کی طرح ہم بھی جانتے ہیں کہ صرف خدا کی بادشاہت ہی نااِنصافی اور بُرائی کی جڑ کو مکمل طور پر ختم کرے گی۔ چونکہ ہم پوری طرح سے خدا کی بادشاہت کی حمایت کرتے ہیں اِس لیے ہم نہ تو نااِنصافی کو ختم کرنے کے لیے احتجاج کرتے ہیں اور نہ ہی کسی حکومت پر آس لگاتے ہیں۔ اِس سلسلے میں ذرا ڈیزیa نام کی بہن کی مثال پر غور کریں۔ یہوواہ کی گواہ بننے سے پہلے بہن ڈیزی نااِنصافی کے خلاف ہونے والے احتجاجوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ لیکن کچھ وقت بعد اُنہیں محسوس ہونے لگا کہ جو کچھ وہ کر رہی ہیں، اُس سے نہ تو لوگوں کی مدد ہوگی اور نہ ہی مسئلے حل ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا: ”جب مَیں احتجاجوں میں حصہ لیتی تھی تو مَیں اکثر سوچتی تھی کہ ”کیا اِس طرح سے نااِنصافی ختم ہو جائے گی؟“ لیکن اب چونکہ مَیں خدا کی بادشاہت کی حمایت کرتی ہوں اِس لیے مَیں جانتی ہوں کہ صرف خدا کی بادشاہت ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔ مَیں جانتی ہوں کہ مجھ سے بہتر یہوواہ اُن لوگوں کے لیے لڑ سکتا ہے جو نااِنصافی کا سامنا کر رہے ہیں۔“—زبور 72:1، 4۔
10. متی 5:43-48 کے مطابق ہم حکومت یا اُس کے بنائے قوانین کو بدلنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ (تصویر کو بھی دیکھیں۔)
10 آج بہت سے لوگ ایسے گروہوں میں شامل ہو جاتے ہیں جو حکومت کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا کرتے وقت اِن میں سے بہت سے لوگ غصے میں آ جاتے ہیں، حکومت کے قوانین توڑتے ہیں اور دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یسوع مسیح نے ہمیں ایسا کرنے کی تعلیم نہیں دی۔ (اِفِس 4:31) اِس سلسلے میں جیفری نام کے بھائی نے کہا: ”جب لوگ احتجاج کے لیے نکلتے ہیں تو دِکھنے میں وہ بڑے پُرامن لگتے ہیں لیکن پھر چند منٹوں میں ہی وہ غصے میں بھڑک اُٹھتے ہیں، لوٹ مار کرنے پر اُتر آتے ہیں، تباہی مچاتے ہیں، یہاں تک کہ ایک دوسرے کو مارتے پیٹتے بھی ہیں۔“ لیکن یسوع مسیح نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہم سب لوگوں کے ساتھ پیار سے پیش آئیں، اُن لوگوں کے ساتھ بھی جو ہماری باتوں سے متفق نہیں ہوتے یا ہمیں اذیت پہنچاتے ہیں۔ (متی 5:43-48 کو پڑھیں۔) مسیحیوں کے طور پر ہم ہر اُس کام سے دُور رہنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے یسوع دُور رہے۔
ہمیں دُنیا کا حصہ نہ بننے کے لیے دلیری کی ضرورت ہے۔ (پیراگراف نمبر 10 کو دیکھیں۔)
11. کبھی کبھار ہمارے لیے یسوع کی مثال پر عمل کرنا مشکل کیوں ہو سکتا ہے؟
11 حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت نااِنصافی کو مکمل طور پر ختم کر دے گی لیکن جب ہمارے ساتھ نااِنصافی ہوتی ہے تو شاید ہمیں یسوع کی مثال پر عمل کرنا مشکل لگے۔ ذرا تانیا نام کی بہن کی مثال پر غور کریں جنہیں تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ اُنہوں نے کہا: ”مجھے لوگوں کی باتیں سُن کر دُکھ ہوتا تھا اور بہت غصہ بھی آ تا تھا۔ مَیں چاہتی تھی کہ اُن لوگوں کو سزا ملے جو دوسروں سے تعصب کرتے ہیں۔ پھر مَیں نے سوچا کہ مَیں اُن لوگوں کی حمایت کروں گی جو نسلی تعصب کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ مجھے لگتا تھا کہ ایسا کرنے سے مَیں بہتر محسوس کروں گی۔“ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہن تانیا کو احساس ہوا کہ اُنہیں اپنی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا: ”مجھے محسوس ہوا کہ مَیں یہوواہ پر بھروسا کرنے کی بجائے لوگوں کی باتوں پر یقین کرنے لگی ہوں اور اُن پر بھروسا کرنے لگی ہوں۔ اِس لیے مَیں نے اُن لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا چھوڑ دیا جو نسلی تعصب کے خلاف لڑ رہے تھے۔“ سچ ہے کہ ہمیں اُس وقت غصہ آ سکتا ہے جب ہمارے ساتھ نااِنصافی ہوتی ہے یا ہم کسی کے ساتھ نااِنصافی ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن ہمیں اپنے غصے کو قابو میں رکھنا چاہیے اور اِس دُنیا کے سیاسی معاملوں میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔—یوح 15:19۔
12. ہم جو کچھ پڑھتے، دیکھتے یا سنتے ہیں، ہمیں اُس حوالے سے محتاط کیوں رہنا چاہیے؟
12 جب ہمارے یا کسی اَور کے ساتھ نااِنصافی ہوتی ہے تو ہم اپنے غصے کو قابو میں کیسے رکھ سکتے ہیں؟ ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم جو کچھ پڑھتے، دیکھتے یا سنتے ہیں، ہم اُس حوالے سے محتاط رہیں۔ اِنٹرنیٹ پر کچھ ایسی کہانیاں ڈالی جاتی ہیں جنہیں پڑھ کر لوگوں کا دل دہل جاتا ہے اور وہ حکومت کے خلاف شکایتیں کرنے لگتے ہیں۔ اکثر خبریں شائع کرنے والی ایجنسیاں خبروں میں سچ بتانے کی بجائے اپنی رائے دیتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی معلومات درست بھی ہو تو بھی اُسے پڑھتے رہنے سے ہم مسئلے کو حل نہیں کر سکتے۔ دراصل اگر ہم اپنا بہت سا وقت اِس طرح کی خبروں کو پڑھنے یا سننے میں لگائیں گے تو ہم بِلاوجہ کی مایوسی اور پریشانی میں پڑ جائیں گے۔ (اَمثا 24:10) اِس سے بھی بُرا یہ ہوگا کہ ہم یہی بھول جائیں گے کہ صرف خدا کی بادشاہت ہی ہر طرح کی نااِنصافی کا واحد حل ہے۔
13. ہر روز بائبل پڑھنے سے ہم نااِنصافی کے بارے میں صحیح سوچ کیسے رکھ پائیں گے؟
13 جب ہم ہر روز بائبل پڑھیں گے اور اِس میں لکھی باتوں پر سوچ بچار کریں گے تو ہمیں پتہ ہوگا کہ ہمیں اُس وقت کیا کرنا ہے جب ہمارے ساتھ یا کسی اَور کے ساتھ نااِنصافی ہوتی ہے۔ عالیہ نام کی بہن کو یہ دیکھ کر بہت پریشانی ہوتی تھی کہ اُن کے علاقے کے کچھ لوگوں کے ساتھ کتنا بُرا سلوک کِیا جا رہا ہے۔ اُنہیں اِس بات کی وجہ سے بہت غصہ آتا تھا کہ جو لوگ دوسروں کے ساتھ بُرا کر رہے ہیں، اُنہیں سزا نہیں مل رہی۔ بہن عالیہ نے کہا: ”مَیں نے خود سے پوچھا: ”کیا مجھے واقعی اِس بات کا پکا یقین ہے کہ یہوواہ سب مسئلوں کو حل کر دے گا؟“ اُس وقت مَیں نے ایوب 34:22-29 آیتیں پڑھیں۔ اِن آیتوں کو پڑھنے سے مَیں یہ یاد رکھ پائی کہ یہوواہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور اُس سے کوئی بات چھپی نہیں ہے۔ صرف وہی جانتا ہے کہ اِنصاف کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے اور صرف وہی ہر مسئلے کو پوری طرح سے حل کر سکتا ہے۔“ لیکن جب تک ہم اِس بات کا اِنتظار کر رہے ہیں کہ خدا کی بادشاہت ہر مسئلے کو حل کرے تب تک ہم نااِنصافی سے کیسے نمٹ سکتے ہیں؟
ہم ابھی نااِنصافی کا سامنا کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
14. ہم کیا کر سکتے ہیں تاکہ ہم دُنیا کے لوگوں کی طرح دوسروں کے ساتھ نااِنصافی نہ کریں؟ (کُلسّیوں 3:10، 11)
14 ہم یہ تو نہیں بدل سکتے کہ دُنیا کے لوگ دوسروں کے ساتھ بُرا سلوک نہ کریں۔ لیکن ہم خود اِس بات کا ضرور خیال رکھ سکتے ہیں کہ ہم دوسروں کے ساتھ ہمیشہ اچھی طرح سے پیش آئیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا ہے کہ ہمیں یسوع کی مثال پر عمل کرتے ہوئے دوسروں کے لیے محبت دِکھانی چاہیے۔ اِس محبت کی وجہ سے ہم دوسروں کے ساتھ نرمی اور عزت سے پیش آئیں گے، یہاں تک کہ اُن لوگوں کے ساتھ بھی جو ہمارے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں۔ (متی 7:12؛ روم 12:17) یہوواہ اُس وقت بہت خوش ہوتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ ہم سب کے ساتھ اِنصاف اور پیار سے پیش آتے ہیں۔—کُلسّیوں 3:10، 11 کو پڑھیں۔
15. ہم یہ کیوں کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں کی مدد کرنے کا سب سے بہترین طریقہ اُنہیں پاک کلام کی سچائیاں سکھانا ہے؟
15 لوگوں کی مدد کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اُنہیں پاک کلام کی سچائیاں سکھائیں۔ ہم ایسا کیوں کہہ سکتے ہیں؟ کیونکہ ’یہوواہ کا علم‘ ایک ظالم اور غصیلے شخص کو بھی مہربان اور صلحپسند شخص بنا سکتا ہے۔ (یسع 11:6، 7، 9) اِس سلسلے میں ذرا جمال نام کے بھائی کی مثال پر غور کریں جو پہلے ایک ایسے گروہ کا حصہ تھے جو حکومت کو بدلنے کے لیے آواز اُٹھا رہا تھا۔ اُنہوں نے کہا: ”آپ زور زبردستی کر کے لوگوں کو نہیں بدل سکتے۔ مجھے بھی بدلنے پر مجبور نہیں کِیا گیا تھا بلکہ مجھے بائبل کی سچائیوں نے بدلا۔“ بھائی جمال نے جو کچھ سیکھا، اُس کی وجہ سے اُنہوں نے دوسروں سے لڑنا چھوڑ دیا۔ تو جتنے زیادہ لوگ پاک کلام کی سچائیاں سیکھ کر اپنی زندگی بدلیں گے اُتنے ہی نااِنصافی کرنے والے لوگ کم ہو جائیں گے۔
16. آپ لوگوں کو خدا کی بادشاہت کے بارے میں کیوں بتانا چاہتے ہیں؟
16 یسوع مسیح کی طرح ہم بھی بڑے شوق سے دوسروں کو خدا کی بادشاہت کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں کیونکہ صرف یہی نااِنصافی اور ہر طرح کے مسئلے کو حل کرے گی۔ یہ ایسی اُمید ہے جس سے اُن لوگوں کو حوصلہ مل سکتا ہے جن کے ساتھ بُرا سلوک کِیا جا رہا ہے۔ (یرم 29:11) بہن ڈیزی نے جن کا پہلے بھی ذکر ہوا ہے، کہا: ”مَیں نے بائبل سے سیکھ لیا ہے کہ خدا نااِنصافی کو ختم کر دے گا اِس لیے جب میرے ساتھ نااِنصافی ہوتی ہے یا مَیں کسی دوسرے کے ساتھ نااِنصافی ہوتے ہوئے دیکھتی ہوں تو مَیں غصے میں نہیں آتی۔ یہوواہ اپنے کلام کے ذریعے ہمیں تسلی دیتا ہے۔“ دوسروں کو نااِنصافی کے بارے میں پاک کلام سے تسلی دینے کے لیے ہمیں پہلے سے اچھی طرح تیاری کرنی چاہیے۔ جتنا زیادہ آپ پاک کلام کی اُن سچائیوں پر اپنے یقین کو مضبوط کریں گے جن کا اِس مضمون میں ذکر ہوا ہے اُتنی ہی مہارت اور سمجھداری سے آپ اپنے سکول یا کام کی جگہ پر اِس موضوع پر بات کر سکیں گے۔b
17. یہوواہ نااِنصافی کا سامنا کرنے میں ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟
17 ہم جانتے ہیں کہ جب تک شیطان ’اِس دُنیا کا حاکم‘ رہے گا تب تک ہمیں نااِنصافی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن جب تک شیطان کو ختم نہیں کر دیا جاتا تب تک ہم نہ تو بےبس ہیں اور نہ ہی نااُمید۔ (یوح 12:31) کیوں؟ کیونکہ یہوواہ نے اپنے کلام میں نہ صرف ہمیں یہ بتایا ہے کہ دُنیا میں اِتنی نااِنصافی کیوں ہے بلکہ اُس نے یہ بھی بتایا ہے کہ جب وہ لوگوں کے ساتھ نااِنصافی ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو اُسے کتنی تکلیف پہنچتی ہے۔ (زبور 34:17-19) یہوواہ نے اپنے بیٹے کے ذریعے ہمیں سکھایا ہے کہ ہمیں نااِنصافی کا سامنا کرتے وقت کیا کرنا چاہیے اور کیسے اُس کی بادشاہت بہت جلد نااِنصافی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گی۔ (2-پطر 3:13) آئیے ہم سب جوش سے دوسروں کو اِس بادشاہت کے بارے میں بتاتے رہیں اور اُس وقت کا شدت سے اِنتظار کرتے رہیں جب پوری زمین پر ”اِنصاف اور نیکی“ کا راج ہوگا۔—یسع 9:7۔
گیت نمبر 158: ہمیں صبر دے!
a اِس مضمون میں کچھ نام فرضی ہیں۔
b کتاب ”محبت دِکھائیں—شاگرد بنائیں“ میں ”اِضافی معلومات—حصہ 1“ کے نکتہ نمبر 24-27 کو بھی دیکھیں۔