یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏10 ص.‏ 18-‏22
  • خدا کا کلام ہمیشہ قائم رہتا ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خدا کا کلام ہمیشہ قائم رہتا ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اِسے نیست کر دینے کی کوششوں کے پیشِ‌نظر
  • بگا‌ڑ کیخلاف کلام کی حفاظت کرنا
  • پیغام ساری دُنیا میں پہنچتا ہے
  • یہوواہ خدا اِنسانوں سے بات کرتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
  • بائبل ہمارے زمانے تک محفوظ کیسے رہی؟‏
    جاگو!‏—‏2007ء
  • وفاداری سے خدا کے الہامی کلام کا دفاع کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ‏”‏ہمارے خدا کا کلام ابد تک قائم ہے“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2017ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏10 ص.‏ 18-‏22

خدا کا کلام ہمیشہ قائم رہتا ہے

‏”‏ہمارے خدا کا کلام ابد تک قائم ہے۔“‏—‏یسعیاہ ۴۰:‏۸‏۔‏

۱.‏ (‏ا)‏ یہاں پر ”‏ہمارے خدا کا کلام“‏ سے کیا مُراد ہے؟ (‏ب)‏ انسانی وعدوں کا خدا کے کلام کیساتھ کیسے موازنہ کِیا گیا ہے؟‏

انسان اکثر معروف مردوں اور عورتوں کے وعدوں پر بھروسہ کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ لیکن اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے آرزومند لوگوں کے لئے یہ وعدے خواہ کتنے ہی دلکش کیوں نہ ہوں، ہمارے خدا کے کلام کے مقابلے میں مُرجھائے ہوئے پھولوں کی مانند ہیں۔ (‏زبور ۱۴۶:‏۳، ۴‏)‏ کوئی ۲۷۰۰ سال قبل، یہوواہ خدا نے یسعیاہ نبی کو یہ لکھنے کا الہام بخشا:‏ ”‏ہر بشر گھاس کی مانند ہے اور اُس کی ساری رونق میدان کے پھول کی مانند .‏ .‏ .‏ گھاس مُرجھاتی ہے۔ پھول کملاتا ہے پر ہمارے خدا کا کلام ابد تک قائم ہے۔“‏ (‏یسعیاہ ۴۰:‏۶،‏ ۸‏)‏ یہ قائم رہنے والا ”‏کلام“‏ کیا ہے؟ یہ اپنے مقصد کی بابت خدا کا بیان ہے۔ آجکل ہمارے پاس یہ ”‏کلام“‏ بائبل کے اندر تحریری صورت میں موجود ہے۔—‏۱-‏پطرس ۱:‏۲۴، ۲۵‏۔‏

۲.‏ کن رُجحانات اور اعمال کے پیشِ‌نظر یہوواہ نے قدیم اسرائیل اور یہوداہ کے حق میں اپنے کلام کو پورا کِیا؟‏

۲ قدیم اسرائیل میں رہنے والے لوگوں نے یسعیاہ کے قلمبند الفاظ کی صداقت کا تجربہ کِیا۔ اپنے انبیاء کی معرفت یہوواہ نے پیشینگوئی کی کہ اُس کے لئے سنگین بیوفائی کے باعث پہلے اسرائیل کی دس قبائلی سلطنت اور پھر یہوداہ کی دو قبائلی سلطنت اسیر ہو جائیگی۔ (‏یرمیاہ ۲۰:‏۴؛‏ عاموس ۵:‏۲، ۲۷)‏ اگرچہ اُنہوں نے یہوواہ کے نبیوں کو اذیت دی، یہانتک‌کہ جان سے مار ڈالا، خدا کے انتباہی پیغام پر مشتمل طومار کو جلا ڈالا اور اس کی تکمیل کو روکنے کے لئے مصر سے عسکری کمک کی درخواست کی مگر یہوواہ کے کلام نے خطا نہ کی۔ (‏یرمیاہ ۳۶:‏۱، ۲،‏ ۲۱-‏۲۴؛‏ ۳۷:‏۵-‏۱۰؛‏ لوقا ۱۳:‏۳۴‏)‏ علاوہ‌ازیں، تائب یہودی بقیے کو اُن کے ملک میں بحال کرنے کے خدا کے وعدے کی بھی شاندار تکمیل ہوئی۔—‏یسعیاہ، باب ۳۵‏۔‏

۳.‏ (‏ا)‏ یہاں پر درج یسعیاہ کے کونسے وعدے ہمارے لئے خاص دلچسپی کے حامل ہیں؟ (‏ب)‏ آپکو کیوں یقین ہے کہ یہ باتیں وقوع‌پذیر ہونگی؟‏

۳ یسعیاہ کی معرفت یہوواہ نے نوعِ‌انسان پر مسیحا کی راست حکمرانی، گناہ اور موت سے رہائی اور زمین کے فردوس بن جانے کی پیشینگوئی بھی کی۔ (‏یسعیاہ ۹:‏۶، ۷؛‏ ۱۱:‏۱-‏۹؛‏ ۲۵:‏۶-‏۸؛‏ ۳۵:‏۵-‏۷؛‏ ۶۵:‏۱۷-‏۲۵‏)‏ کیا یہ سب باتیں بھی وقوع‌پذیر ہونگی؟ بے‌شک!‏ ”‏خدا .‏ .‏ .‏ جھوٹ نہیں بول سکتا۔“‏ اُس نے ہمارے فائدے کیلئے اپنا نبوّتی کلام تحریر کروا دیا ہے اور اُس نے اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ یہ محفوظ رہے۔—‏ططس ۱:‏۲؛‏ رومیوں ۱۵:‏۴‏۔‏

۴.‏ اگرچہ ابتدائی بائبل مسودوں کو محفوظ نہیں کِیا گیا تھا، یہ بات کیسے سچ ہو سکتی ہے کہ خدا کا کلام ”‏زندہ“‏ ہے؟‏

۴ یہوواہ نے اُن ابتدائی مسودوں کو محفوظ نہیں کِیا تھا جن پر اُس کے قدیمی مصنفوں نے وہ پیشینگوئیاں درج کی تھیں۔ لیکن اُس کا ”‏کلام،“‏ اُس کا ظاہرکردہ مقصد، زندہ کلام ثابت ہوا ہے۔ وہ مقصد بِلامزاحمت آگے بڑھتا ہے اور جب یہ بڑھتا ہے تو ایسے لوگوں کے باطنی خیالات اور محرکات ظاہر ہو جاتے ہیں جنکی زندگیاں اس سے اثرپذیر ہوتی ہیں۔ (‏عبرانیوں ۴:‏۱۲‏)‏ مزیدبرآں، تاریخی ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ الہامی صحائف کا تحفظ اور ترجمہ الہٰی قدرت سے ہی کِیا گیا ہے۔‏

اِسے نیست کر دینے کی کوششوں کے پیشِ‌نظر

۵.‏ (‏ا)‏ شاہِ‌اسور نے الہامی عبرانی صحائف کو نیست کرنے کی کیا کوشش کی؟ (‏ب)‏ وہ کیوں ناکام ہو گیا؟‏

۵ کئی بار حکمرانوں نے الہامی تحریروں کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسور کے بادشاہ انطاکس اپی‌فینس نے ۱۶۸ ق.‏س.‏ع.‏ میں، (‏صفحہ ۱۸ پر تصویر)‏ ہیکل میں جوکہ یہوواہ کیلئے مخصوص تھی زیوس کیلئے قربانگاہ بنائی۔ اُس نے ’‏شریعت کی کتابیں‘‏ بھی نکال کر جلا ڈالیں اور یہ اعلان کِیا کہ جس کسی کے پاس ایسے صحائف ملیں اُسے مار دیا جائے۔ اس سے قطع‌نظر کہ اُس نے یروشلیم اور یہودیہ میں کتنی کاپیاں جلا ڈالیں، وہ صحائف کو بالکل نیست نہ کر سکا۔ اُس وقت یہودیوں کی آبادیاں بہت سے ممالک میں پھیلی ہوئی تھیں اور ہر عبادتخانے کا طوماروں کا اپنا مجموعہ ہوا کرتا تھا۔—‏مقابلہ کریں اعمال ۱۳:‏۱۴، ۱۵‏۔‏

۶.‏ (‏ا)‏ جو صحائف ابتدائی مسیحیوں نے استعمال کئے اُنہیں نیست کرنے کی کونسی سخت کوشش کی گئی؟ (‏ب)‏ نتیجہ کیا نکلا؟‏

۶ رومی شہنشاہ ڈیوکلے‌ٹن نے ۳۰۳ س.‏ع.‏ میں، اسی طرح فرمان جاری کِیا کہ مسیحیوں کے جمع ہونے کی جگہوں کو مسمار کر دیا جائے اور یہ کہ اُن کے ’‏صحائف کو جلا کر راکھ کر دیا جائے۔‘‏ ایسی تباہی ایک عشرے تک جاری رہی۔ اگرچہ اذیت ہولناک تھی مگر ڈیوکلے‌ٹن مسیحیت کو صفحۂ‌ہستی سے مٹانے میں کامیاب نہ ہوا اور نہ ہی خدا نے شہنشاہ کے گماشتوں کو اپنے الہامی کلام کے ایک بھی حصے کی تمام نقلوں کو ختم کرنے کی اجازت دی۔ لیکن خدا کے کلام کی تقسیم اور منادی کیلئے اپنے ردِعمل سے مخالفین نے یہ ضرور ظاہر کر دیا کہ اُنکے دلوں میں کیا تھا۔ اُنہوں نے اپنی شناخت ایسے لوگوں کے طور پر کرائی جنہیں شیطان نے اندھا کر دیا تھا اور جو اُسی کی مرضی پوری کر رہے تھے۔—‏یوحنا ۸:‏۴۴؛‏ ۱-‏یوحنا ۳:‏۱۰-‏۱۲‏۔‏

۷.‏ (‏ا)‏ مغربی یورپ میں بائبل علم کی اشاعت کو روکنے کیلئے کونسی کوششیں کی گئیں؟ (‏ب)‏ بائبل کے ترجمے اور طباعت میں کیا کامیابی حاصل کی گئی؟‏

۷ بائبل کے علم کی اشاعت کو روکنے کی کوششوں نے دیگر صورتیں بھی اختیار کر لیں۔ جب لاطینی مستعمل زبان نہ رہی تو مُلحد حکمرانوں نے نہیں بلکہ اقبالی مسیحیوں—‏پوپ گریگوری VII (‏۱۰۷۳-‏۱۰۸۵)‏ اور پوپ انوسینٹ III (‏۱۱۹۸-‏۱۲۱۶)‏—‏نے لوگوں کی عام زبانوں میں بائبل کا ترجمہ کئے جانے کی سختی سے مخالفت کی۔ چرچ کے اختیار کے خلاف کسی بھی بغاوت کا سر کچلنے کی کوشش میں رومن کیتھولک کونسل آف طلوس، فرانس، نے ۱۲۲۹ میں حکم جاری کِیا کہ عام آدمی مروّجہ زبان میں بائبل کی کتابیں اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ اس حکم کے نفاذ کے لئے رومن کیتھولک عدالت نے بڑی سفاکی سے کام لیا۔ تاہم، رومن کیتھولک عدالت کی سفاکی کے ۴۰۰ سال بعد بھی خدا کے کلام سے محبت رکھنے والے پوری بائبل کا ترجمہ کر چکے تھے اور کوئی ۲۰ زبانوں کے علاوہ اضافی بولیوں اور مزید ۱۶ زبانوں میں اس کے بڑے حصوں کے مطبوعہ ایڈیشنز تقسیم کر رہے تھے۔‏

۸.‏ ۱۹ویں صدی کے دوران، روس میں بائبل کے ترجمے اور تقسیم کے میدان میں کیا کچھ ہو رہا تھا؟‏

۸ صرف رومن کیتھولک چرچ نے ہی بائبل کو عام لوگوں سے دُور رکھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ۱۹ویں صدی کے اوائل میں، سینٹ پیٹرزبرگ اکیڈمی آف ڈیوینٹی کے پروفیسر پاوسکی نے متی کی انجیل کا یونانی سے روسی زبان میں ترجمہ کِیا۔ مسیحی یونانی صحائف کی دیگر کُتب کا بھی روسی زبان میں ترجمہ کِیا گیا اور پاوسکی نے ایڈیٹر کے فرائض انجام دئے۔ اُنہیں وسیع پیمانے پر تقسیم کِیا گیا مگر اُسقف صاحبان کی سازش سے ۱۸۲۶ میں زار (‏روسی شہنشاہ)‏ کو ورغلا کر رشئین بائبل سوسائٹی کو رشئین آرتھوڈکس چرچ کی ”‏پاک مجلس“‏ کے اختیار میں دے دیا گیا جس نے پھر اِسکے تمام کاموں پر سخت پابندی عائد کر دی۔ بعدازاں، پاوسکی نے عبرانی صحائف کا ترجمہ عبرانی سے روسی زبان میں کِیا۔ تقریباً اسی وقت، آرتھوڈکس چرچ کے ایک مشنری، میکاریوس نے بھی عبرانی صحائف کا ترجمہ عبرانی سے روسی زبان میں کِیا۔ اُن دونوں کو اُنکی کاوشوں کے لئے سزا دی گئی اور اُن کے ترجموں کو چرچ کے کباڑخانے میں پھینک دیا گیا۔ چرچ بائبل کو پُرانی سلاواکی زبان میں رکھنے پر بضد تھا جو اُس وقت عام لوگ نہ تو بولتے تھے اور نہ ہی سمجھتے تھے۔ لیکن جب بائبل کا علم حاصل کرنے کیلئے لوگوں کی کوششوں کو مزید روکا نہ جا سکا تو ۱۸۵۶ میں ”‏پاک مجلس“‏ نے خود مجلس کے منظورشُدہ ترجمے کا بیڑا اُٹھایا مگر یہ ترجمہ ایسے رہبر خطوط پر عمل کرتے ہوئے کِیا گیا جنہیں بڑی احتیاط سے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے وضع کِیا گیا تھا کہ اس میں استعمال ہونے والی اصطلا‌حات چرچ کے نظریات کے مطابق ہونی چاہئیں۔ یوں خدا کے کلام کی تشہیر کے سلسلے میں، مذہبی پیشواؤں کی ظاہری صورت اور اُنکے قول‌وفعل سے نمایاں ہونے والی اُنکی نیت کے درمیان ایک واضح فرق ظاہر ہو گیا۔—‏۲-‏تھسلنیکیوں ۲:‏۳، ۴‏۔‏

بگا‌ڑ کیخلاف کلام کی حفاظت کرنا

۹.‏ بعض بائبل مترجمین نے خدا کے کلام کیلئے اپنی محبت کا اظہار کیسے کِیا؟‏

۹ جن لوگوں نے صحائف کا ترجمہ کِیا اور نقلیں تیار کیں اُن میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جو واقعی خدا کے کلام سے محبت رکھتے تھے اور جنہوں نے اِسے ہر ایک تک پہنچانے کے لئے مخلص کوششیں کیں۔ بائبل کو انگریزی زبان میں دستیاب کرنے کے لئے ولیم ٹینڈیل نے جو کچھ کِیا اُس کے لئے اُسے (‏۱۵۳۶ میں)‏ شہید کر دیا گیا۔ فرانسسکو ڈی ایندیناس کو کیتھولک عدالت نے (‏۱۵۴۴ کے بعد)‏ ہسپانوی زبان میں مسیحی یونانی صحائف کا ترجمہ اور طباعت کرنے کے لئے قید میں ڈال دیا۔ اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہوئے، رابرٹ موریسن (‏۱۸۰۷ سے ۱۸۱۸ تک)‏ نے چینی زبان میں بائبل کا ترجمہ کِیا۔‏

۱۰.‏ کونسی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ ایسے مترجمین بھی تھے جنہوں نے خدا کے کلام سے محبت کی بجائے دیگر عناصر سے تحریک پائی تھی؟‏

۱۰ تاہم، بعض‌اوقات خدا کے کلام کیلئے محبت کے علاوہ دیگر عناصر نے نقل‌نویسوں اور مترجمین کے کام کو متاثر کِیا۔ چار مثالوں پر غور کریں:‏ (‏۱)‏ سامریوں نے یروشلیم کی ہیکل کے مدِمقابل کوہِ‌گرزیم پر ایک ہیکل بنا رکھی تھی۔ اسکی حمایت میں، سامریوں کی توریت کے اندر خروج ۲۰:‏۱۷ میں کچھ اضافہ کِیا گیا۔ کوہِ‌گرزیم پر پتھر کا مذبح بنانے اور اُس پر قربانیاں چڑھانے کی بابت حکم کا احکامِ‌عشرہ کے حصے کے طور پر اضافہ کِیا گیا۔ (‏۲)‏ جس آدمی نے پہلی مرتبہ یونانی سپتواُجنتا کیلئے دانی‌ایل کی کتاب کا ترجمہ کِیا اُس نے اپنے ترجمے میں بڑی آزادی سے کام لیا۔ اُس نے ایسے بیانات شامل کئے جو اُسکے خیال میں عبرانی متن کی وضاحت کر سکتے یا اُسے بہتر بنا سکتے تھے۔ اُس نے ایسی تفصیلات کو نظرانداز کر دیا جنہیں اُسکے خیال میں قارئین قبول نہیں کرینگے۔ جب اُس نے دانی‌ایل ۹:‏۲۴-‏۲۷ میں درج مسیحا کے ظہور کے وقت کی بابت پیشینگوئی کا ترجمہ کِیا تو اُس نے بیان‌کردہ وقت کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں الفاظ کو بڑھایا، ردوبدل اور آگے‌پیچھے کر دیا تاکہ پیشینگوئی مکابیوں کی جدوجہد کی حمایت کرتی ہوئی دکھائی دے۔ (‏۳)‏ چوتھی صدی س.‏ع.‏ میں، ایک لاطینی مقالے میں، تثلیث کے ایک جنونی حمایتی نے ”‏باپ، کلام اور روح‌القدس آسمان میں ہیں؛ اور یہ تینوں ایک ہیں“‏ کے الفاظ کو ایسے شامل کِیا جیسے یہ ۱-‏یوحنا ۵:‏۷ کا اقتباس ہوں۔ بعدازاں، اس عبارت کو بائبل کے لاطینی مسودے میں شامل کر لیا گیا۔ (‏۴)‏ فرانس میں، لوئیس XIII (‏۱۶۱۰-‏۱۶۴۳)‏ نے پروٹسٹنٹوں کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے زاک کوربن کو فرانسیسی زبان میں بائبل کا ترجمہ کرنے کی اجازت دی۔ اس مقصد کے پیشِ‌نظر، کوربن نے اعمال ۱۳:‏۲ میں ”‏ماس کی مُقدس قربانی“‏ کے حوالے سمیت عبارتی ردوبدل کئے۔‏

۱۱.‏ (‏ا)‏ بعض مترجمین کی بددیانتی کے باوجود خدا کا کلام کیسے قائم رہا؟ (‏ب)‏ اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کس حد تک قدیم مسوداتی ثبوت دستیاب ہے کہ بائبل کی ابتدائی تحریر کیا تھی؟ (‏دیکھیں بکس)‏

۱۱ یہوواہ نے اپنے کلام میں ایسی تحریف کو نہ تو روکا اور نہ ہی اس سے اُسکا مقصد تبدیل ہوا۔ اسکا کیا اثر ہوا؟ کوہِ‌گرزیم کی بابت حوالہ‌جات کا اضافہ کر لینے سے سامری مذہب نوعِ‌انسان کو برکت دینے کیلئے خدا کا ذریعہ تو نہیں بنا تھا۔ بلکہ، اس سے ظاہر ہو گیا کہ اگرچہ سامری مذہب نے توریت پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کِیا پھربھی اس پر سچائی کی تعلیم دینے کیلئے انحصار نہیں کِیا جا سکتا تھا۔ (‏یوحنا ۴:‏۲۰-‏۲۴‏)‏ سپتواُجنتا میں الفاظ کا ردوبدل دانی‌ایل نبی کی معرفت بیان‌کردہ وقت پر مسیحا کی آمد کو روک نہیں پایا تھا۔ علاوہ‌ازیں، اگرچہ سپتواُجنتا پہلی صدی میں استعمال ہوتا تھا، یہودی بدیہی طور پر اپنے عبادتخانوں کے اندر عبرانی میں صحائف کی پڑھائی سننے کے عادی تھے۔ نتیجتاً، جب پیشینگوئی کی تکمیل کا وقت قریب آیا تو ”‏لوگ منتظر تھے۔“‏ (‏لوقا ۳:‏۱۵‏)‏ جہاں تک تثلیث کی حمایت کرنے کیلئے ۱-‏یوحنا ۵:‏۷ اور ماس کی توجیہ کرنے کیلئے اعمال ۱۳:‏۲ میں اضافے کا تعلق ہے تو یہ بھی سچائی کو نہ بدل پائے۔ نیز وقت آنے پر یہ فریب بالکل فاش ہو گئے۔ بائبل کے اصلی زبان میں دستیاب ڈھیروں مسودے کسی بھی ترجمے کی صحت‌وصداقت کی جانچ کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔‏

۱۲.‏ (‏ا)‏ بعض بائبل مترجمین نے کونسی سنگین تبدیلیاں کیں؟ (‏ب)‏ یہ کس قدر مؤثر تھیں؟‏

۱۲ صحائف کو تبدیل کرنے کی دیگر کوششوں میں چند ایک آیات میں الفاظ کا ردوبدل کرنے سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ یہ خود خدائے‌برحق کی شناخت پر حملے کا باعث بنتی ہیں۔ تبدیلیوں کی نوعیت اور وسعت نے کسی ایک انسانی یا انسانی تنظیم سے کہیں زورآور ماخذ کے اثرورسوخ کا واضح ثبوت پیش کِیا—‏جی‌ہاں، یہوواہ کے بڑے دشمن شیطان ابلیس کا اثرورسوخ۔ اِس اثرورسوخ کے سامنے جھک جانے سے، مترجمین اور نقل‌نویسوں نے—‏بعض نے خوشی سے، دیگر نے مجبوراً—‏خدا کے اپنے ذاتی نام، یہوواہ کو اُسی کے کلام میں سے اُن ہزاروں مقامات سے خارج کرنا شروع کر دیا جہاں یہ لکھا گیا تھا۔ ابتدائی مرحلے ہی سے، عبرانی سے یونانی، لاطینی، جرمن، انگریزی، اطالوی، ڈچ اور دیگر زبانوں میں بعض ترجموں نے الہٰی نام بالکل نکال دیا یا چند ایک مقامات پر رہنے دیا۔ اسے مسیحی یونانی صحائف کی نقلوں سے بھی خارج کر دیا گیا۔‏

۱۳.‏ بائبل کو بدلنے کی وسیع‌تر کوشش خدا کے نام کو انسانی یادداشت سے نکالنے کا باعث کیوں نہیں بنی؟‏

۱۳ تاہم، اس جلالی نام کو انسانی یادداشت سے مٹایا نہ جا سکا۔ ہسپانوی، پُرتگالی، جرمن، انگریزی، فرانسیسی اور بہت سی دیگر زبانوں میں عبرانی صحائف کے ترجموں نے دیانتداری سے خدا کے ذاتی نام کو شامل کِیا ہے۔ ۱۶ویں صدی تک، خدا کا ذاتی نام مسیحی یونانی صحائف کے مختلف عبرانی ترجموں میں بھی دوبارہ نظر آنے لگا؛ ۱۸ویں صدی تک، جرمن میں؛ ۱۹ویں صدی تک، کروشیائی اور انگریزی میں۔ اگرچہ لوگ خدا کے نام کو پسِ‌پُشت ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جب ”‏یہوؔواہ کا دن“‏ آئیگا تو جیساکہ خدا بیان کرتا ہے ’‏قومیں جان جائینگی کہ مَیں یہوواہ ہوں۔‘‏ خدا کا یہ ظاہرکردہ مقصد ناکام نہیں ہوگا۔—‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۰؛‏ حزقی‌ایل ۳۸:‏۲۳؛‏ یسعیاہ ۱۱:‏۹؛‏ ۵۵:‏۱۱‏۔‏

پیغام ساری دُنیا میں پہنچتا ہے

۱۴.‏ (‏ا)‏ ۲۰ویں صدی تک، یورپ کی کتنی زبانوں میں بائبل شائع ہو چکی تھی اور کس نتیجے کے ساتھ؟ (‏ب)‏ ۱۹۱۴ کے اختتام تک، افریقہ کی کتنی زبانوں میں بائبل دستیاب تھی؟‏

۱۴ یورپ میں ۲۰ویں صدی کے اوائل تک، ۹۴ زبانوں میں بائبل کی اشاعت ہو رہی تھی۔ اِس چیز نے دُنیا کے اُس حصے میں رہنے والے بائبل طالبعلموں کو اِس حقیقت سے آگاہ کر دیا کہ ۱۹۱۴ میں غیرقوموں کی میعاد کے اختتام پر دُنیا کو ہلا دینے والے واقعات رُونما ہونگے اور بِلاشُبہ وہ ہوئے!‏ (‏لوقا ۲۱:‏۲۴‏)‏ تاریخ‌ساز سال ۱۹۱۴ کے ختم ہونے سے پہلے بائبل، مکمل یا اسکی کچھ کتابیں، بہت زیادہ استعمال ہونے والی انگریزی، فرانسیسی اور پُرتگالی زبانوں کے علاوہ، افریقہ کی ۱۵۷ زبانوں میں شائع ہو گئی تھی۔ اسطرح وہاں رہنے والے بہت سے قبائل اور قومی گروہوں کے فروتن لوگوں کو روحانی آزادی بخشنے والی بائبل سچائیاں سکھانے کی نیو ڈال دی گئی۔‏

۱۵.‏ جب آخری ایّام شروع ہوئے تو شمال وسطی اور جنوبی امریکہ میں لوگوں کی زبانوں میں بائبل کس حد تک دستیاب تھی؟‏

۱۵ جب دُنیا پہلے سے بیان‌کردہ آخری ایّام میں داخل ہوئی تو بائبل شمال وسطی اور جنوبی امریکہ میں وسیع پیمانے پر دستیاب تھی۔ یورپ سے نقل‌مکانی کرنے والے اپنی مختلف زبانوں میں اِسے اپنے ساتھ لائے تھے۔ عوامی خطابوں اور اُس وقت انٹرنیشنل بائبل سٹوڈنٹس کہلانے والے یہوواہ کے گواہوں کے شائع‌کردہ بائبل لٹریچر کی بھاری تقسیم کیساتھ بائبل تعلیم کا جامع پروگرام جاری تھا۔ اسکے علاوہ، مغربی نصف‌کُرہ کے مختلف قومیتوں کے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے بائبل سوسائٹیز نے دیگر ۵۷ زبانوں میں پہلے ہی سے بائبل شائع کر دی تھی۔‏

۱۶، ۱۷.‏ (‏ا)‏ جب عالمگیر منادی کا وقت آیا تو بائبل کس حد تک دستیاب تھی؟ (‏ب)‏ بائبل کیسے واقعی قائم رہنے والی اور اثرآفرین کتاب ثابت ہوئی ہے؟‏

۱۶ ’‏خاتمہ آنے‘‏ سے پہلے جب خوشخبری کی عالمگیر منادی کا وقت آیا تو بائبل ایشیا اور بحراُلکاہل کے جزائر کیلئے کوئی نئی چیز نہیں تھی۔ (‏متی ۲۴:‏۱۴‏)‏ یہ پہلے ہی سے ۲۳۲ زبانوں میں شائع ہو چکی تھی جو کُرۂ‌ارض کے اس حصے میں مستعمل تھیں۔ بعض مکمل بائبلیں تھیں؛ بہتیری مسیحی یونانی صحائف کے ترجمے تھے؛ دیگر پاک صحائف کی ایک ہی کتاب تھی۔‏

۱۷ صاف ظاہر ہے کہ بائبل کو محض عجائب گھر میں نمائش کیلئے محفوظ نہیں رکھا گیا تھا۔ جتنی بھی کتابیں موجود ہیں ان سب میں سے اسکا زیادہ ترجمہ کِیا گیا اور سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر تقسیم ہوئی۔ الہٰی حمایت کے اس ثبوت کی مطابقت میں جوکچھ اس کتاب میں لکھا گیا وہ سب تکمیل پا رہا تھا۔ اسکی تعلیمات اور اسکی پُشت پر روح بھی بہت سے ممالک میں لوگوں کی زندگیوں پر دائمی اثر ڈال رہی تھی۔ (‏۱-‏پطرس ۱:‏۲۴، ۲۵‏)‏ لیکن ابھی اَور—‏بہت کچھ واقع ہونا تھا۔‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

◻‏”‏ہمارے خدا کا کلام“‏ کیا ہے جو ہمیشہ قائم رہتا ہے؟‏

◻بائبل کو مٹانے کیلئے کیا کوششیں کی گئی ہیں اور کن نتائج کیساتھ؟‏

◻بائبل کی راستی کی حفاظت کیسے کی گئی ہے؟‏

◻مقصد کی بابت خدا کا بیان کیسے زندہ کلام ثابت ہوا ہے؟‏

‏[‏صفحہ 20 پر بکس]‏

کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ بائبل کی ابتدائی تحریر کیا تھی؟‏

کوئی ۶،۰۰۰ دستی تحریرشُدہ عبرانی مسودے عبرانی صحائف کے مشمولات کی تصدیق کرتے ہیں۔ اِن میں سے بعض تو مسیحی دَور سے بھی پہلے کے ہیں۔ مکمل عبرانی صحائف کے ابھی تک موجود تقریباً ۱۹ مسودے مووایبل ٹائپ سے پرنٹنگ کی ایجاد سے بھی پہلے کے وقت کے ہیں۔ اسکے علاوہ، اُس وقت کے ترجمے بھی موجود ہیں جو ۲۸ دیگر زبانوں میں کئے گئے تھے۔‏

مسیحی یونانی صحائف کے حوالے سے، یونانی کے کوئی ۵،۰۰۰ مسودوں کی فہرست بنائی گئی ہے۔ ان میں سے ایک ۱۲۵ س.‏ع.‏ سے بھی پہلے کا ہے یعنی اصلی تحریر کے وقت سے کچھ سال بعد کا ہے۔ تاہم بعض حصوں کو تو اس سے بھی پہلے کا خیال کِیا جاتا ہے۔ ۲۷ الہامی کتابوں میں سے ۲۲ کا جائزہ لیں تو ۱۰ سے ۱۹ تک مکمل یونی‌سل (‏ہاتھ سے لکھے گئے یونانی اور لاطینی مسودے)‏ مسودے ہیں۔ بائبل کے اس حصے کی کتابوں میں مکمل یونی‌سل مسودوں کی سب سے کم تعداد مکاشفہ میں ہے—‏صرف تین۔ مکمل مسیحی یونانی صحائف کا ایک مسودہ چوتھی صدی س.‏ع.‏ سے پہلے کا ہے۔‏

کوئی بھی قدیم دستاویزی ثبوت کسی دوسرے قدیم لٹریچر کی اسقدر تصدیق نہیں کرتے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں