”یہوؔواہ کے دن“ سے کون بچیگا؟
”تمہیں پاک چالچلن اور دینداری میں کیسا کچھ ہونا چاہئے۔ اور خدا [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] کے اُس دن کے آنے کا کیسا کچھ منتظر اور مشتاق رہنا چاہئے۔“—۲-پطرس ۳:۱۱، ۱۲۔
۱. کس نے ایلیاہ کی روح اور طاقت کیساتھ کام کِیا ہے؟
یہوواہ خدا نے نوعِانسان میں سے ایسے اشخاص کو منتخب کِیا ہے جو آسمانی بادشاہت میں اُس کے بیٹے، یسوع مسیح کے ہممیراث بنیں گے۔ (رومیوں ۸:۱۶، ۱۷) زمین پر اپنی موجودگی کے دوران، ممسوح مسیحیوں نے ایلیاہ کی روح اور قوت کیساتھ کام کِیا ہے۔ (لوقا ۱:۱۷) پچھلے مضمون میں، ہم نے انکی کارگزاریوں اور ایلیاہ نبی کی کارگزاریوں میں کچھ مماثلتوں پر غور کِیا تھا۔ لیکن ایلیاہ کے جانشین، الیشع نبی کے کام کی بابت کیا ہے؟—۱-سلاطین ۱۹:۱۵، ۱۶۔
۲. (ا) ایلیاہ کا آخری اور الیشع کا پہلا معجزہ کونسا تھا؟ (ب) اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ ایلیاہ آسمان پر نہیں گیا تھا؟
۲ جو آخری معجزہ ایلیاہ نے کِیا تھا وہ دریائےیردن کے پانی کو اپنی چادر مار کر دو حصوں میں تقسیم کرنا تھا۔ اس طرح ایلیاہ اور الیشع خشک زمین پر چل کر پار چلے گئے۔ جب وہ دریا کے مشرقی کنارے پر چل رہے تھے تو تیز آندھی ایلیاہ کو اُٹھا کر زمین کے کسی دوسرے مقام پر لے گئی۔ (صفحہ ۱۲ پر بکس کو دیکھیں بعنوان ”ایلیاہ کس آسمان پر اُٹھایا گیا؟“) ایلیاہ کی چادر پیچھے رہ گئی۔ جب الیشع نے اسے یردن پر مارنے کے لئے استعمال کِیا تو اسکا پانی پھر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور وہ خشک زمین پر چل کر واپس آ گیا۔ اس معجزے نے یہ ظاہر کر دیا کہ اسرائیل میں سچی پرستش کو فروغ دینے کے لئے الیشع ایلیاہ کا جانشین بن چکا تھا۔—۲-سلاطین ۲:۶-۱۵۔
خدائی خوبیاں لازمی
۳. پولس اور پطرس نے یسوع کی موجودگی اور ”یہوؔواہ کے دن“ کی بابت کیا کہا تھا؟
۳ ایلیاہ اور الیشع کے زمانے کے صدیوں بعد، پولس اور پطرس رسول نے آنے والے ”یہوؔواہ کے دن“ کو یسوع مسیح کی موجودگی اور پھر مستقبل کے ”نئے آسمان اور نئی زمین“ کیساتھ وابستہ کِیا۔ (۲-تھسلنیکیوں ۲:۱، ۲؛ ۲-پطرس ۳:۱۰-۱۳) یہوواہ کے روزِعظیم سے بچنے کیلئے—جب خدا اپنے دشمنوں کو تباہ کرتا اور اپنے لوگوں کو بچاتا ہے—ہمیں یہوواہ کے طالب ہونا اور فروتنی اور راستبازی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ (صفنیاہ ۲:۱-۳) لیکن جب ہم الیشع نبی سے متعلقہ واقعات پر غور کرتے ہیں تو کچھ اضافی خوبیاں سامنے آتی ہیں۔
۴. یہوواہ کی خدمت میں جوش کیا کردار ادا کرتا ہے؟
۴ اگر ہمیں ”یہوؔواہ کے دن“ سے بچنا ہے تو خدا کی خدمت کے لئے جوش نہایت اہم ہے۔ ایلیاہ اور الیشع یہوواہ کی خدمت میں گرمجوش تھے۔ ایسی ہی گرمجوشی کے ساتھ، ممسوح مسیحیوں کا بقیہ آجکل یہوواہ کی پاک خدمت کرتا اور خوشخبری کی منادی کرنے میں پیشوائی کرتا ہے۔a اُنہوں نے ۱۹۳۰ کے عشرے کے وسط سے لیکر اُن تمام لوگوں کی حوصلہافزائی کی ہے جو بادشاہتی پیغام قبول کرتے اور زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہنے کی اُمید رکھتے ہوئے خود کو یہوواہ کے لئے مخصوص کرتے اور بپتسمہ پاتے ہے۔ (مرقس ۸:۳۴؛ ۱-پطرس ۳:۲۱) لاکھوں لوگوں نے اس حوصلہافزائی کے لئے سازگار جوابیعمل دکھایا ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب وہ روحانی تاریکی میں تھے اور گناہ کے باعث مُردہ تھے لیکن اب اُنہوں نے خدا کی سچائی کو سیکھ لیا ہے، زمینی فردوس پر ابدی زندگی کی اُمید کو قبول کر لیا ہے اور یہوواہ کی خدمت میں سرگرم ہیں۔ (زبور ۳۷:۲۹؛ مکاشفہ ۲۱:۳-۵) اپنے جوش، تعاون، مہماننوازی اور دیگر اچھے کاموں کی وجہ سے وہ ابھی تک زمین پر موجود مسیح کے روحانی بھائیوں کے لئے بڑی تازگی کا سبب ہیں۔—متی ۲۵:۳۱-۴۶۔
۵. یسوع کے ”بھائیوں“ کیلئے اچھے کام کرنا کیوں اہم ہے اور ہمیں الیشع کے زمانے سے کونسی مثال ملتی ہے؟
۵ جو لوگ یسوع کے ”بھائیوں“ کیلئے اچھے کام کرتے ہیں کیونکہ یہ ممسوح اشخاص اُسکے پیروکار ہیں ”یہوؔواہ کے دن“ سے بچنے کی اُمید رکھتے ہیں۔ شونیم کے گاؤں میں ایک شادیشُدہ جوڑے نے الیشع اور اُسکے خادم کیلئے مہربانی اور مہماننوازی دکھانے سے بڑی برکت حاصل کی۔ اس جوڑے کا کوئی بیٹا نہیں تھا اور شوہر بوڑھا ہو چکا تھا۔ لیکن الیشع نے شونیمی عورت سے کہا کہ وہ ایک بیٹے کو جنم دیگی اور ایسا ہی واقع ہوا۔ لیکن جب چند سال بعد یہ اکلوتا بیٹا مر گیا تو الیشع شونیم کو گیا اور اُسے زندہ کر دیا۔ (۲-سلاطین ۴:۸-۱۷، ۳۲-۳۷) الیشع کیلئے مہماننوازی دکھانے کے کیا ہی عمدہ اَجر!
۶، ۷. نعمان نے کیا نمونہ قائم کِیا اور اسکا ”یہوؔواہ کے دن“ سے بچنے کے ساتھ کیا تعلق ہے؟
۶ یہوواہ کے دن سے بچنے کی اُمید کیساتھ مسیح کے ”بھائیوں“ کی طرف سے آنے والی بائبل پر مبنی ہدایت کو قبول کرنے کیلئے فروتنی درکار ہے۔ ارامی لشکر کے سردار نعمان کوڑھی کیلئے ضروری تھا کہ وہ اسیر اسرائیلی لڑکی کی تجویز پر عمل کرنے کیلئے فروتنی کا مظاہرہ کرے اور الیشع کی تلاش میں اسرائیل جانے سے شفا کا طالب ہو۔ اپنے گھر سے نکل کر نعمان سے ملنے کیلئے آنے کی بجائے، الیشع نے اُسے یہ پیغام بھیجا: ”یرؔدن میں سات بار غوطہ مار تو تیرا جسم پھر بحال ہو جائیگا اور تُو پاکصاف ہوگا۔“ (۲-سلاطین ۵:۱۰) نعمان کے غرور کو دھچکا لگا اور وہ ناراض ہو گیا لیکن بعد میں فروتنی سے یردن کو گیا اور سات بار غوطہ لگایا، ”اُسکا جسم چھوٹے بچے کے جسم کی مانند ہو گیا اور وہ پاکصاف ہوا۔“ (۲-سلاطین ۵:۱۴) گھر لوٹنے سے پہلے، نعمان یہوواہ کے نبی کا شکریہ ادا کرنے کیلئے سارا سفر کرکے واپس سامریہ گیا۔ خداداد قوتوں سے مادی نفع حاصل نہ کرنے کا عزم کئے ہوئے الیشع نعمان سے ملنے کیلئے باہر آیا مگر کوئی بھی ہدیہ قبول نہ کِیا۔ نعمان نے فروتنی سے الیشع کو بتایا: ”تیرا خادم اب سے آگے کو خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو]کے سوا کسی غیرمعبود کے حضور نہ تو سوختنی قربانی نہ ذبیحہ چڑھائیگا۔“—۲-سلاطین ۵:۱۷۔
۷ ممسوح اشخاص کی صحیفائی مشورت پر فروتنی سے عمل کرکے، لاکھوں لوگ آجکل کثیر برکات حاصل کرتے ہیں۔ علاوہازیں، یسوع کی فدیہ دینے والی قربانی پر ایمان لانے سے، یہ خلوصدل اشخاص روحانی اعتبار سے پاکصاف ہو گئے ہیں۔ اب وہ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کے دوست ہونے کے شرف سے لطفاندوز ہوتے ہیں۔ (زبور ۱۵:۱، ۲؛ لوقا ۱۶:۹) نیز خدا اور اُس کی خدمت کے لئے اُن کی عقیدت کا اَجر اُنہیں تیزی سے قریب آتے ہوئے ”یہوؔواہ کے دن“ میں متکبر، غیرتائب گنہگاروں پر آنے والی ابدی تباہی سے بچا لئے جانے کی صورت میں ملے گا۔—لوقا ۱۳:۲۴؛ ۱-یوحنا ۱:۷۔
”میری طرف کون ہے کون؟“
۸. (ا) جو ”یہوؔواہ کے دن“ سے بچینگے وہ الہٰی مرضی کیلئے کیسا رُجحان رکھتے ہیں؟ (ب) یاہو کو کونسا کام سونپا گیا؟ (پ) ایزبل کیساتھ کیا ہونا تھا؟
۸ ”یہوؔواہ کے دن“ سے بچنے کی اُمید رکھنے والوں کو الہٰی مرضی بجا لانے کیلئے بھی باعزم ہونا چاہئے۔ ایلیاہ نے بڑی دلیری سے اخیاب بادشاہ کے خونی، بعل کے پجاری خاندان کی تباہی کی پیشگوئی کی۔ (۱-سلاطین ۲۱:۱۷-۲۶) تاہم، اس سے پہلے کہ اس سزا کو عمل میں لایا جاتا، جو کام باقی رہ گیا تھا اُسے ایلیاہ کے جانشین الیشع کو مکمل کرنا تھا۔ (۱-سلاطین ۱۹:۱۵-۱۷) جب یہوواہ کا مقررہ وقت آ پہنچا تو الیشع نے ایک خادم کو حکم دیا کہ جا اور لشکر کے سردار یاہو کو مسح کر کہ اسرائیل کا نیا بادشاہ ہو۔ یاہو کے سر پر تیل ڈالنے کے بعد، پیغامرساں نے اُسے بتایا: ”خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] اؔسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ مَیں نے تجھے مسح کرکے خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] کی قوم یعنی اؔسرائیل کا بادشاہ بنایا ہے۔ سو تُو اپنے آقا اخیاؔب کے گھرانے کو مار ڈالنا تاکہ مَیں اپنے بندوں نبیوں کے خون کا اور خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] کے سب بندوں کے خون کا انتقام اؔیزبل کے ہاتھ سے لوں۔ کیونکہ اخیاؔب کا سارا گھرانا نابود ہوگا۔“ بدکار ملکہ ایزبل کو کتوں کے آگے ڈال دیا جائیگا اور اُسے قبر تک نصیب نہیں ہوگی۔—۲-سلاطین ۹:۱-۱۰۔
۹، ۱۰. ایزبل کے معاملے میں ایلیاہ کے الفاظ کیسے پورے ہوئے؟
۹ یاہو کے آدمی اُسکے مسح کئے جانے کو جائز خیال کرتے ہیں اور اُسکے اسرائیل کے نئے بادشاہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ فیصلہکُن کارروائی کرتے ہوئے، یاہو بعل کی پرستش کے برگشتہ سرغنوں کو ہلاک کرنے کے کام کو شروع کرنے کیلئے یزرعیل کو گیا۔ سب سے پہلے یاہو کی طرف سے سزا کا تیر اخیاب کے بیٹے، بادشاہ یورام کے سینے میں لگا۔ وہ یہ دریافت کرنے کیلئے شہر سے باہر گیا کہ شاید یاہو خیریت کا پیغام لیکر آیا ہے۔ ”جب تک تیری ماں اؔیزبل کی زناکاریاں اور اُسکی جادوگریاں اس قدر ہیں تب تک کیسی خیر؟“ یاہو نے جواب دیا۔ اسکے ساتھ ہی، یاہو کا تیر یورام کے دل کے آرپار ہو گیا۔—۲-سلاطین ۹:۲۲-۲۴۔
۱۰ خداپرست عورتیں ایزبل کی مانند بننے سے یا اُسکی کسی بھی طرز کی نقل کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ (مکاشفہ ۲:۱۸-۲۳) یاہو کے یزرعیل پہنچنے تک، اُس نے بناؤسنگھار کر لیا۔ کھڑکی سے جھانکتے ہوئے اُس نے اُسکا طنزیہ انداز سے استقبال کِیا۔ یاہو نے پہلے خادموں سے پوچھا: ”میری طرف کون ہے کون؟“ فوراً ہی دو یا تین خواجہسراؤں نے نیچے دیکھا۔ کیا وہ یاہو کی طرف تھے؟ ”اُسے نیچے گِرا دو،“ اُس نے تاکید کی۔ اس پر، اُنہوں نے حتمی کارروائی کی اور بدکار ایزبل کو کھڑکی سے گِرا دیا۔ اغلب ہے کہ اُسے گھوڑوں کے پیروں کے نیچے کچل دیا گیا ہو۔ جب لوگ اُسے دفن کرنے کیلئے آئے تو ’اُنہیں اُسکی کھوپڑی اور پاؤں اور ہتھیلیوں کے سوا کچھ نہ ملا۔‘ ایلیاہ کی بات کی کیا ہی ڈرامائی تکمیل: ”کتے اؔیزبل کا گوشت کھائینگے۔“—۲-سلاطین ۹:۳۰-۳۷۔
سچی پرستش کی دلی حمایت
۱۱. یہوناداب کون تھا اور اُس نے سچی پرستش کیلئے اپنی حمایت کیسے ظاہر کی؟
۱۱ ”یہوؔواہ کے دن“ سے بچنے اور زمین پر ابد تک زندہ رہنے کی اُمید رکھنے والوں کو خلوصدلی سے سچی پرستش کی حمایت کرنی چاہئے۔ اُنہیں یہوواہ کے ایک غیراسرائیلی پرستار یہوناداب یا یوناداب کی مانند ہونا چاہئے۔ جب یاہو بڑے جوشوخروش کے ساتھ اپنے کام کو پورا کرنا جاری رکھتا ہے تو یہوناداب نے اپنی کرمفرمائی اور حمایت دکھانا چاہی۔ پس وہ اسرائیل کے نئے بادشاہ سے ملنے کو گیا جو اخیاب کے باقیماندہ گھرانے کو ہلاک کرنے کے لئے سامریہ چلا آ رہا تھا۔ یہوناداب کو دیکھ کر یاہو نے پوچھا: ”کیا تیرا دل ٹھیک ہے جیسا میرا دل تیرے دل کے ساتھ ہے؟“ یہوناداب کے مثبت جواب نے یاہو کو تحریک دی کہ وہ ان الفاظ کے ساتھ ہاتھ بڑھا کر یہوناداب کو اپنے جنگی رتھ پر سوار ہونے کی دعوت دے: ”میرے ساتھ چل اور میری غیرت کو جو خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] کے لئے ہے دیکھ۔“ بِلاتاخیر، یہوناداب نے یہوواہ کے ممسوح سزا دینے والے کے لئے اپنی حمایت دکھانے کے شرف کو قبول کِیا۔—۲-سلاطین ۱۰:۱۵-۱۷۔
۱۲. یہوواہ بجا طور پر بِلاشرکتِغیرے عقیدت کا تقاضا کیوں کرتا ہے؟
۱۲ سچی پرستش کیلئے دلی حمایت واقعی موزوں ہے کیونکہ یہوواہ خالق اور کائنات کا حاکمِاعلیٰ ہے جو جائز طور پر ہماری بِلاشرکتِغیرے عقیدت کا تقاضا کرتا ہے اور اسکا مستحق بھی ہے۔ اُس نے اسرائیل کو حکم دیا: ”تُو اپنے لئے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا۔ نہ کسی چیز کی صورت بنانا جو اُوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔ تُو اُنکے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ اُنکی عبادت کرنا کیونکہ میں خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] تیرا خدا غیور [”بِلاشرکتِغیرے عقیدت کا تقاضا کرنے والا،“ اینڈبلیو] خدا ہوں۔“ (خروج ۲۰:۴، ۵) ”یہوؔواہ کے دن“ سے بچنے کی اُمید رکھنے والوں کو ”روح اور سچائی سے“ اُسکی بِلاشرکتِغیرے پرستش کرنی چاہئے۔ (یوحنا ۴:۲۳، ۲۴) اُنہیں ایلیاہ، الیشع اور یہوناداب کی مانند سچی پرستش کیلئے ثابتقدم ہونا چاہئے۔
۱۳. جیسے یہوناداب کا دل یاہو سے ملا ہوا تھا، کون مسیحائی بادشاہ کو تسلیم کرتے ہیں اور وہ اسکا اظہار کیسے کرتے ہیں؟
۱۳ اخیاب کے گھرانے کو سزا دینے کے بعد، بادشاہ یاہو نے بعل کے پرستاروں کی شناخت کرنے اور اسرائیل سے اس جھوٹے مذہب کو ختم کرنے کیلئے دیگر کارروائیاں بھی کیں۔ (۲-سلاطین ۱۰:۱۸-۲۸) آجکل، آسمانی بادشاہ یسوع مسیح کو یہوواہ کے دشمنوں کو سزا دینے کیلئے اور اُسکی حاکمیت کی برأت کیلئے مقرر کِیا گیا ہے۔ جیسےکہ یہوناداب کا دل یاہو کیساتھ ملا ہوا تھا، یسوع کی ”دوسری بھیڑوں“ کی ”بڑی بِھیڑ“ آجکل مسیح کو خلوصدلی سے مسیحائی بادشاہ تسلیم کرتی ہے اور زمین پر اُسکے روحانی بھائیوں سے تعاون کرتی ہے۔ (مکاشفہ ۷:۹، ۱۰؛ یوحنا ۱۰:۱۶) وہ سچے مذہب کی پیروی کرنے سے اور خدا کے دشمنوں کو تیزی سے قریب آنے والے ”یہوؔواہ کے دن“ کی بابت آگاہ کرتے ہوئے مسیحی خدمتگزاری میں سرگرمی سے شرکت کرنے سے اسکا ثبوت پیش کرتی ہے۔—متی ۱۰:۳۲، ۳۳؛ رومیوں ۱۰:۹، ۱۰۔
ڈرامائی واقعات رُونما ہونے والے ہیں!
۱۴. جھوٹے مذہب کیساتھ کیا ہونے والا ہے؟
۱۴ یاہو نے اسرائیل میں بعل کی پرستش کا قلعقمع کرنے کے لئے سخت کارروائی کی۔ ہمارے زمانے میں، بڑے یاہو، یسوع مسیح کے ذریعے خدا جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت، بڑے بابل کا خاتمہ کریگا۔ ہم جلد ہی یوحنا رسول سے فرشتے کے الفاظ کی تکمیل دیکھینگے: ”جو دس سینگ تُو نے دیکھے وہ اور حیوان اُس کسبی سے عداوت رکھینگے اور اُسے بیکس اور ننگا کر دینگے اور اُس کا گوشت کھا جائینگے اور اُسکو آگ میں جلا ڈالینگے۔ کیونکہ خدا اُنکے دلوں میں یہ ڈالیگا کہ وہ اُسی کی رای پر چلیں اور جب تک کہ خدا کی باتیں پوری نہ ہو لیں وہ متفقالرای ہوکر اپنی بادشاہی اُس حیوان کو دے دیں۔“ (مکاشفہ ۱۷:۱۶، ۱۷؛ ۱۸:۲-۵) ”دس سینگ“ زمین پر حکمرانی کرنے والی عسکری سیاسی طاقتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ اب بڑے بابل کیساتھ روحانی زناکاری کا رشتہ رکھتے ہیں، اُسکا وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔ اس دُنیا کے سیاسی عناصر جھوٹے مذہب کو تباہوبرباد کر دیں گے اور ”حیوان“—اقوامِمتحدہ—”دس سینگوں“ کیساتھ ملکر اُسے تباہ کرنے میں مرکزی کردار ادا کریگا۔b یہوواہ کی حمدوتعریف کا کیا ہی شاندار موقع!—مکاشفہ ۱۹:۱-۶۔
۱۵. جب خدا کی زمینی تنظیم کو تباہوبرباد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کیا واقع ہوگا؟
۱۵ بعل کی پرستش کیخلاف یاہو بادشاہ کے شدید حملے کے بعد، اُسکے شاہی گھرانے نے اسرائیل کے سیاسی دشمنوں کی طرف توجہ کی۔ بادشاہ یسوع مسیح بھی ایسی ہی کارروائی کریگا۔ بعلنما جھوٹے مذہب کے خاتمے کے بعد سیاسی طاقتیں قائم رہینگی۔ شیطان ابلیس کے زیرِاثر، یہوواہ کی حاکمیت کے یہ دشمن خدا کی زمینی تنظیم کو تباہ کرنے کی کوشش میں ایک بہت بڑے حملے کی تیاری کرینگے۔ (حزقیایل ۳۸:۱۴-۱۶) لیکن یہوواہ اُنہیں بادشاہ یسوع مسیح کے ہاتھوں ”قادرِمطلق خدا کے روزِعظیم کی جنگ“ یعنی ہرمجِدّون پر نیستونابود کرا ڈالیگا جس سے یہوواہ کی حاکمیت کی برأت پایۂتکمیل کو پہنچے گی۔—مکاشفہ ۱۶:۱۴، ۱۶؛ ۱۹:۱۱-۲۱؛ حزقیایل ۳۸:۱۸-۲۳۔
الیشع کے جوش کیساتھ خدمت کرنا
۱۶، ۱۷. (ا) ہم کیسے جانتے ہیں کہ الیشع مرتے دم تک جوشیلا تھا؟ (ب) ہمیں سچائی کے تیروں کیساتھ کیا کرنا چاہئے؟
۱۶ جبتک ”یہوؔواہ کا دن“ شیطان کے تمام بدکار نظامالعمل کو ختم نہیں کر دیتا، خدا کے خادم الیشع کی مانند دلیر اور جوشیلے رہیں گے۔ ایلیاہ کے خادم کی حیثیت سے کام کرنے کے علاوہ، الیشع نے تنہا ۵۰ سے زائد برسوں تک یہوواہ کے نبی کے طور پر خدمت کی! نیز الیشع اپنی لمبی عمر کے اختتام تک وفادار رہا۔ اُس کی موت سے ذرا پہلے، یاہو کا پوتا، بادشاہ یوآس اُس سے ملنے کے لئے آیا۔ الیشع نے اُسے ایک تیر کھڑکی سے باہر پھینکنے کے لئے کہا۔ تیر نشانے پر لگا اور الیشع نے کہا: ”یہ فتح کا تیر خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] کا یعنی اؔرام پر فتح پانے کا تیر ہے کیونکہ تُو افیقؔ میں ارامیوں کو ماریگا یہاں تک کہ اُن کو نابود کر دے گا۔“ الیشع کی درخواست پر یوآس نے پھر اپنا تیر زمین پر مارا۔ لیکن اُس نے بغیر کسی جوشوجذبے کے تین بار مارا۔ پھر الیشع نے کہا کہ اس کے نتیجے میں یوآس ارام پر صرف تین فتوحات حاصل کرے گا اور ایسا ہی ہوا۔ (۲-سلاطین ۱۳:۱۴-۱۹، ۲۵) بادشاہ یوآس نے ارامیوں کو مکمل طور پر، ”نابود“ کرنے کے لئے نہ مارا۔
۱۷ تاہم، الیشع جیسے جوش کے ساتھ، ممسوح بقیہ جھوٹی پرستش کیخلاف جدوجہد جاری رکھتا ہے۔ زمینی اُمید رکھنے والے اُن کے ساتھی بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ علاوہازیں، ”یہوؔواہ کے دن“ سے بچنے کی اُمید رکھنے والے تمام لوگ زمین پر ضرب لگانے کی بابت جوشیلے الیشع کے الفاظ کو ذہن میں رکھ کر اچھا کرتے ہیں۔ آئیے ہم سچائی کے تیر لیں اور اُنہیں جوش کے ساتھ—بار بار—چلائیں جیہاں، جبتک یہوواہ یہ نہیں کہتا کہ اُن کیساتھ ہمارا کام ختم ہو گیا ہے۔
۱۸. ہمیں ۲-پطرس ۳:۱۱، ۱۲ کے الفاظ کیلئے کیسا جوابیعمل دکھانا چاہئے؟
۱۸ ”یہوؔواہ کا دن“ جلد ہی موجودہ بدکار نظامالعمل کو ختم کر دے گا۔ اس لئے، آئیے پطرس رسول کے دل کو گرما دینے والے الفاظ سے تحریک پائیں۔ ”جب یہ سب چیزیں اس طرح پگھلنے والی ہیں،“ پطرس نے بیان کِیا، ”تو تمہیں پاک چالچلن اور دینداری میں کیسا کچھ ہونا چاہئے۔ اور خدا کے اُس دن کے آنے کا کیسا کچھ منتظر اور مشتاق رہنا چاہئے۔“ (۲-پطرس ۳:۱۱، ۱۲) جب یسوع مسیح کے ذریعے ظاہر ہونے والے خدا کے غضب کی آگ سے اس نظام کا ہر حصہ پگھل جائے گا تو صرف راست چالچلن اور خدائی عقیدت والے ہی بچینگے۔ اخلاقی اور روحانی پاکیزگی لازمی ہے۔ اسی طرح بالخصوص اپنی مسیحی خدمتگزاری کے ذریعے روحانی طور پر ساتھی انسانوں کی ضروریات پوری کرنے سے محبت دکھانا لازمی ہے۔
۱۹. ہمیں ”یہوؔواہ کے دن“ سے بچنے کیلئے کیا کرنا چاہئے؟
۱۹ کیا آپ کے قولوفعل سے خدا کے وفادار اور سرگرم خادم کے طور پر آپکی شناخت ہوتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ ”یہوؔواہ کے دن“ سے بچ کر خدا کی موعودہ نئی دُنیا میں جانے کی اُمید رکھ سکتے ہیں۔ جیہاں، جیسے شونیمی جوڑے نے الیشع کیلئے مہماننوازی دکھائی ویسے ہی اگر آپ مسیح کے روحانی بھائیوں کیساتھ نیکی کرتے ہیں تو آپ بچ نکلنے کا تجربہ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ اُسکے پیروکار ہیں۔ بچنے کیلئے آپ کو نعمان کی مانند بھی ہونا ہے جس نے فروتنی سے الہٰی ہدایت کو قبول کِیا اور یہوواہ کا پرستار بن گیا۔ اگر آپ زمینی فردوس میں ہمیشہ تک زندہ رہنے کے آرزومند ہیں تو آپ کو یہوناداب کی طرح سچی پرستش کیلئے دلی حمایت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ پھر آپ یہوواہ کے ایسے وفادار خادموں میں ہونگے جنہیں جلد ہی یسوع کے ان الفاظ کی تکمیل کا تجربہ ہوگا: ”آؤ میرے باپ کے مبارک لوگو جو بادشاہی بنایِعالم سے تمہارے لئے تیار کی گئی ہے اُسے میراث میں لو۔“—متی ۲۵:۳۴۔
]فٹ نوٹس[
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ کتاب ”لیٹ یور نیم بی سینکٹیفائیڈ“ کے ۱۸ اور ۱۹ ابواب کو دیکھیں۔
b واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ ریولیشن—اِٹس گرینڈ کلائمکس ایٹ ہینڈ!، کے صفحات ۲۵۴-۲۵۶ کو دیکھیں۔
آپ کیسے جواب دینگے؟
◻”یہوؔواہ کے دن“ سے بچنے کیلئے چند کونسی خوبیاں درکار ہیں؟
◻الیشع کے زمانے میں شونیمی جوڑے نے کیا نمونہ قائم کِیا؟
◻نعمان سے کیا سبق سیکھا جا سکتا ہے؟
◻ہم یہوناداب کے نمونے کی پیروی کیسے کر سکتے ہیں؟
◻۲-پطرس ۳:۱۱، ۱۲ کو ہم پر کیسے اثر کرنا چاہئے؟