یہوواہ کے دن کو ذہن میں رکھیں
”اخیر دنوں میں . . . ہنسی ٹھٹھا کرنے والے آئینگے۔“—۲-پطرس ۳:۳۔
۱. جدید زمانے کا ایک مسیحی فوری تعمیل کا کونسا احساس رکھتا تھا؟
ایک ۶۶ سال سے زیادہ عرصہ تک کُلوقتی خدمت کرنے والے خادم نے لکھا: ”مَیں نے ہمیشہ فوری تعمیل کے شدید احساس کو محسوس کِیا ہے۔ میری دانست میں ہرمجِدّون ہمیشہ کل کے بعد کل کا معاملہ رہی ہے۔ (مکاشفہ ۱۶:۱۴، ۱۶) مَیں نے اپنے باپ اور اُس سے پہلے اُسکے باپ کی طرح [پطرس] رسول کی اِس تاکید کے مطابق زندگی بسر کی ہے کہ ’یہوواہ کے دن کی موجودگی کو ذہن میں رکھو۔‘ مَیں نے موعودہ نئی دُنیا کو ہمیشہ ’حقیقت سمجھا ہے اگرچہ کبھی دیکھا نہیں۔‘“—۲-پطرس ۳:۱۱، ۱۲؛ عبرانیوں ۱۱:۱؛ یسعیاہ ۱۱:۶-۹؛ مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
۲. یہوواہ کے دن کے منتظر رہنے کا کیا مطلب ہے؟
۲ یہوواہ کے دن کے حوالے سے پطرس کی اصطلاح ”منتظر“ رہو کا مطلب ہے کہ ہم کبھی بھی اسے اپنے ذہنوں میں التوا میں نہیں ڈالتے۔ ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ دن بہت قریب ہے جب یہوواہ اپنی موعودہ نئی دُنیا قائم کرنے کیلئے ابتدائی کارروائی کے طور پر اس نظامالعمل کو تباہوبرباد کریگا۔ اِسے ہمارے نزدیک اسقدر حقیقی ہونا چاہئے کہ ہم اسے واضح طور پر ایسے دیکھیں جیسے یہ بالکل ہمارے سامنے ہو۔ یہ خدا کے قدیم نبیوں کیلئے اسی قدر حقیقی تھا اور اُنہوں نے اکثر اسکے قریب ہونے کا ذکر کِیا۔—یسعیاہ ۱۳:۶؛ یوایل ۱:۱۵؛ ۲:۱؛ عبدیاہ ۱۵؛ صفنیاہ ۱:۷، ۱۴۔
۳. یہوواہ کے دن کے سلسلے میں پطرس کی مشورت کا محرک کیا تھا؟
۳ پطرس نے یہوواہ کے دن کو، علامتی مفہوم میں، ”کل کے بعد کل“ خیال کرنے کی تاکید کیوں کی؟ اسلئےکہ بعض لوگوں نے مسیح کی موعودہ موجودگی کے نظریے کو جس کے دوران خطاکاروں کو سزا دی جائیگی ٹھٹھوں میں اُڑانا شروع کر دیا تھا۔ (۲-پطرس ۳:۳، ۴) لہٰذا اپنے دوسرے خط کے باب ۳ میں، جس پر اب ہم غور کرینگے، پطرس ان ٹھٹھابازوں کے اعتراضات کا جواب دیتا ہے۔
یاد رکھنے کیلئے پُرمحبت استدعا
۴. پطرس کی خواہش کے مطابق ہمیں کیا یاد رکھنا چاہئے؟
۴ اپنے بھائیوں کے لئے پطرس کی محبت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اس باب میں باربار اُنہیں ”اَے عزیزو!“ کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ اس بات کی پُرمحبت استدعا کرتے ہوئے کہ جوکچھ اُنہوں نے سیکھا ہے اُسکو نہ بھولیں، پطرس بات شروع کرتا ہے: ”اَے عزیزو! اب مَیں . . . یاددہانی کے طور پر . . . تمہارے صاف دلوں کو اُبھارتا ہوں۔ کہ تم اُن باتوں کو جو پاک نبیوں نے پیشتر کہیں اور خداوند اور مُنجی کے اُس حکم کو یاد رکھو جو تمہارے رسولوں کی معرفت آیا تھا۔“—۲-پطرس ۳:۱، ۲، ۸، ۱۴، ۱۷؛ یہوداہ ۱۷۔
۵. بعض انبیاء یہوواہ کے دن کی بابت کیا کہتے ہیں؟
۵ پطرس قارئین کو کن ”باتوں کو جو پاک نبیوں نے پیشتر کہیں“ یاد رکھنے کی تاکید کرتا ہے؟ بادشاہتی اختیار میں مسیح کی موجودگی اور بیدین لوگوں کی عدالت کی بابت باتیں۔ پطرس کافی پہلے ان باتوں پر توجہ دلا چکا تھا۔ (۲-پطرس ۱:۱۶-۱۹؛ ۲:۳-۱۰) یہوداہ حنوک کا حوالہ دیتا ہے جو بدکاروں پر خدا کی شدید عدالت کی آگاہی دینے والا پہلا نبی تھا۔ (یہوداہ ۱۴، ۱۵) دیگر انبیاء حنوک کے بعد آئے اور پطرس یہ نہیں چاہتا کہ جوکچھ اُنہوں نے لکھا ہم اُسے فراموش کریں۔—یسعیاہ ۶۶:۱۵، ۱۶؛ صفنیاہ ۱:۱۵-۱۸؛ زکریاہ ۱۴:۶-۹۔
۶. مسیح اور اُسکے رسولوں کی کونسی باتیں ہمیں یہوواہ کے دن کی بابت بصیرت عطا کرتی ہیں؟
۶ اس کے علاوہ، پطرس اپنے قارئین سے کہتا ہے کہ ”خداوند اور مُنجی کے . . . حکم“ کو یاد رکھو۔ یسوع کے حکم میں یہ نصیحت شامل تھی: ”پس خبردار رہو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل . . . سُست ہو جائیں اور وہ دن تم پر پھندے کی طرح ناگہاں آ پڑے۔“ ”خبردار! جاگتے . . . رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ وہ وقت کب آئیگا۔“ (لوقا ۲۱:۳۴-۳۶؛ مرقس ۱۳:۳۳) پطرس ہمیں رسولوں کی باتوں پر دھیان دینے کی تاکید بھی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، پولس رسول نے لکھا: ”خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] کا دن اس طرح آنے والا ہے جسطرح رات کو چور آتا ہے۔ پس اَوروں کی طرح سو نہ رہیں بلکہ جاگتے اور ہوشیار رہیں۔“—۱-تھسلنیکیوں ۵:۲، ۶۔
ٹھٹھابازوں کی خواہشات
۷، ۸. (ا) خدا کے انتباہی پیغامات کو ٹھٹھوں میں اُڑانے والے کس قسم کے لوگ ہیں؟ (ب) ٹھٹھابازوں کا دعویٰ کیا ہے؟
۷ جیسےکہ پہلے بیان کِیا گیا ہے، پطرس کی نصیحت کا سبب یہ ہے کہ بعض نے ایسی آگاہیوں کا مذاق اُڑانا شروع کر دیا تھا جیسےکہ قدیم زمانہ کے اسرائیلی یہوواہ کے نبیوں کا تمسخر اُڑایا کرتے تھے۔ (۲-تواریخ ۳۶:۱۶) پطرس وضاحت کرتا ہے: ”اور یہ پہلے جان لو کہ اخیر دنوں میں ایسے ہنسی ٹھٹھا کرنے والے آئینگے جو اپنی خواہشوں کے موافق چلینگے۔“ (۲-پطرس ۳:۳) یہوداہ بیان کرتا ہے کہ ان ٹھٹھابازوں کی خواہشات ”بیدینی“ کی ہیں۔ وہ اُنہیں ”نفسانی . . . اور روح سے بےبہرہ“ کہتا ہے۔—یہوداہ ۱۷-۱۹۔
۸ ”ناپاک خواہشوں سے جسم کی پیروی“ کرنے والے جن جھوٹے اُستادوں کا پطرس نے ذکر کِیا وہ غالباً اُنہی ٹھٹھابازوں میں سے تھے جن میں روحانیت نہیں تھی۔ (۲-پطرس ۲:۱، ۱۰، ۱۴) وہ ایماندار مسیحیوں سے حقارت سے پوچھتے ہیں: ”اُسکے آنے کا وعدہ کہاں گیا؟ کیونکہ جب سے باپ دادا سوئے ہیں اُس وقت سے اب تک سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا خلقت کے شروع سے تھا۔“—۲-پطرس ۳:۴۔
۹. (ا) ٹھٹھاباز خدا کے کلام میں پائے جانے والے فوری تعمیل کے احساس کو کمزور کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ (ب) یہوواہ کے دن کو ذہن میں رکھنا ہمارے لئے تحفظ کیوں ہے؟
۹ ایسا تمسخر کیوں؟ ایسا خیال کیوں کہ مسیح کی موجودگی کبھی واقع نہیں ہوگی اسلئےکہ نہ کبھی خدا نے انسانی معاملات میں دخلاندازی کی ہے نہ ہی کریگا؟ البتہ، خدا کے کلام میں پائے جانے والے فوری تعمیل کے احساس کو کمزور کرنے سے یہ نفسانی ٹھٹھاباز دوسروں کو روحانی بےحسی کی نیند سلا کر خودغرضانہ ترغیبات کیلئے آسانی سے شکار کر لیتے ہیں۔ آجکل روحانی طور پر بیدار رہنے کی خاطر ہمارے لئے کتنی زبردست حوصلہافزائی! دُعا ہے کہ ہم یہوواہ کے دن کو ذہن میں رکھیں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ اُسکی آنکھیں ہم پر لگی ہیں! یوں ہم جوشوخروش سے یہوواہ کی خدمت کرنے اور اپنی اخلاقی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کی تحریک پائینگے۔—زبور ۱۱:۴؛ یسعیاہ ۲۹:۱۵؛ حزقیایل ۸:۱۲؛ ۱۲:۲۷؛ صفنیاہ ۱:۱۲۔
دانستہ اور مکروہ
۱۰. پطرس کیسے ثابت کرتا ہے کہ ٹھٹھاباز غلط ہیں؟
۱۰ ایسے ٹھٹھاباز ایک اہم حقیقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اور وہ جانبوجھ کر ایسا کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسے بھول جانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ کیوں؟ تاکہ وہ لوگوں کو بآسانی ورغلا سکیں۔ پطرس لکھتا ہے ”وہ تو جانبوجھ کر یہ [”حقیقت،“ اینڈبلیو] بھول گئے۔“ کونسی حقیقت؟ یہ ”کہ خدا کے کلام کے ذریعہ سے آسمان قدیم سے موجود ہیں اور زمین پانی میں سے بنی اور پانی میں قائم ہے۔ ان ہی کے ذریعہ سے اُس زمانہ کی دُنیا ڈوب کر ہلاک ہوئی۔“ (۲-پطرس ۳:۵، ۶) جیہاں، یہوواہ نے نوح کے زمانے میں طوفان کے دوران زمین کو بدکاری سے پاکصاف کِیا، ایک ایسی حقیقت جس پر یسوع نے بھی زور دیا تھا۔ (متی ۲۴:۳۷-۳۹؛ لوقا ۱۷:۲۶، ۲۷؛ ۲-پطرس ۲:۵) پس، ٹھٹھابازوں کے کہنے کے برعکس، ”خلقت کے شروع سے“ تمام چیزیں ایسی ہی نہیں رہیں۔
۱۱. ابتدائی مسیحیوں کی کونسی قبلازوقت توقعات نے بعض کو اُن کا مذاق اُڑانے کا موقع دیا؟
۱۱ ٹھٹھابازوں نے ایماندار مسیحیوں کا خوب مذاق اُڑایا ہوگا کیونکہ اُنکی توقعات ابھی تک پوری نہیں ہوئی تھیں۔ یسوع کی موت سے ذرا پہلے، اُسکے شاگرد ”گمان کرتے تھے کہ خدا کی بادشاہی ابھی ظاہر ہوا چاہتی ہے۔“ پھر، اُسکی قیامت کے بعد اُنہوں نے پوچھا کہ آیا بادشاہت فوری طور پر قائم ہو جائیگی۔ نیز، پطرس کے اپنا دوسرا خط لکھنے سے کوئی دس سال پہلے، بعض لوگ مبیّنہ طور پر پولس رسول یا اُسکے ساتھیوں کی طرف سے اس ”کلام“ یا ”خط“ سے ”گھبرائے“ ہوئے تھے کہ ”خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] کا دن آ پہنچا۔“ (لوقا ۱۹:۱۱؛ ۲-تھسلنیکیوں ۲:۲؛ اعمال ۱:۶) تاہم، یسوع کے شاگردوں کی ایسی توقعات جھوٹی نہیں، محض قبلازوقت تھیں۔ یہوواہ کا دن ضرور آئیگا!
خدا کا کلام قابلِبھروسہ ہے
۱۲. ”یہوواہ کے دن“ کی بابت پیشینگوئیوں کے سلسلے میں خدا کا کلام کیسے قابلِبھروسہ ثابت ہوا ہے؟
۱۲ جیساکہ پہلے بیان کِیا جا چکا ہے کہ مسیحیت سے قبل نبیوں نے اکثر اس بات سے آگاہ کِیا تھا کہ یہوواہ کا روزِانتقام قریب ہے۔ چھوٹے پیمانے پر ”یہوؔواہ کا دن“ ۶۰۷ ق.س.ع میں آیا جب یہوواہ نے اپنی سرکش قوم پر قہرِشدید نازل کِیا۔ (صفنیاہ ۱:۱۴-۱۸) بعدازاں، دیگر اقوام نے جن میں بابل اور مصر بھی شامل تھے ایسے ہی ”یہوؔواہ کے دن“ کا سامنا کِیا۔ (یسعیاہ ۱۳:۶-۹؛ یرمیاہ ۴۶:۱-۱۰؛ عبدیاہ ۱۵) پہلی صدی کے یہودی نظام کے خاتمے کی بھی پیشینگوئی کر دی گئی تھی اور یہ اُس وقت ہوا جب رومی فوجوں نے ۷۰ س.ع. میں یہودیہ کو تباہوبرباد کِیا۔ (لوقا ۱۹:۴۱-۴۴؛ ۱-پطرس ۴:۷) لیکن پطرس آنے والے ”یہوؔواہ کے دن“ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو وسعت کے اعتبار سے عالمگیر طوفان کو بھی مات دیگا!
۱۳. کونسی تاریخی مثال اس نظامالعمل کے خاتمے کے یقینی ہونے کو ظاہر کرتی ہے؟
۱۳ پطرس اُس آنے والی تباہی کی بابت اپنے بیان کا آغاز ان الفاظ سے کرتا ہے: ”اُسی کلام کے ذریعہ سے۔“ اُس نے تھوڑی دیر پہلے ہی کہا تھا کہ ”خدا کے کلام کے ذریعہ سے“ طوفان سے پہلے کی زمین ”پانی میں سے بنی اور پانی میں قائم ہے۔“ بائبل کی تخلیقی سرگزشت میں بیانکردہ اس صورتحال نے طوفان کو ممکن بنایا تھا جب خدا کی ہدایت یا کلام سے پانی زمین پر برسنے لگا۔ پطرس بیان جاری رکھتا ہے: ”اس وقت کے آسمان اور زمین [خدا کے] اُسی کلام کے ذریعہ سے اسلئے رکھے ہیں کہ جلائے جائیں اور وہ بےدین آدمیوں کی عدالت اور ہلاکت کے دن تک محفوظ رہینگے۔“ (۲-پطرس ۳:۵-۷؛ پیدایش ۱:۶-۸) اس کیلئے ہمارے پاس یہوواہ کا قابلِبھروسہ کلام ہے! وہ روزِعظیم پر اپنے آتشی قہر میں ”آسمان اور زمین“—اس نظامالعمل—کا خاتمہ کریگا! (صفنیاہ ۳:۸) لیکن کب؟
خاتمے کی آمد کیلئے اشتیاق
۱۴. ہم کیوں پُراعتماد ہو سکتے ہیں کہ ہم ”اخیر زمانہ“ میں رہ رہے ہیں؟
۱۴ یسوع کے شاگرد جاننا چاہتے تھے کہ خاتمہ کب آئیگا، اسلئے اُنہوں نے پوچھا: ”تیرے آنے اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟“ وہ بظاہر یہودی نظام کے خاتمے کے وقت کی بابت پوچھ رہے تھے لیکن یسوع کا جواب بنیادی طور پر اس بات پر مُرتکز تھا کہ موجودہ ’آسمان اور زمین‘ کب تباہ ہونگے۔ یسوع نے بڑی بڑی جنگوں، قحطوں، زلزلوں، بیماریوں اور جُرم کی پیشینگوئی کی۔ (متی ۲۴:۳-۱۴؛ لوقا ۲۱:۵-۳۶) ۱۹۱۴ کے سال سے لیکر، ہم نے ”دُنیا کے آخر“ کے سلسلے میں یسوع کے دئے ہوئے نشان کی تکمیل کو دیکھا ہے، نیز پولس رسول کی متذکرہ چیزیں بھی ”اخیر زمانہ“ کی نشاندہی کرینگی۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) واقعی، اس بات کی پُرزور شہادت موجود ہے کہ ہم اس نظامالعمل کے خاتمے کے وقت میں رہتے ہیں!
۱۵. یسوع کی آگاہی کے باوجود مسیحیوں نے کیا کرنے کی کوشش کی؟
۱۵ یہوواہ کے گواہ یہ جاننے کے مشتاق رہے ہیں کہ یہوواہ کا دن کب آئیگا۔ اپنے اشتیاق کے باعث اُنہوں نے بعضاوقات قیاسآرائی کرنے کی کوششیں کی ہیں کہ یہ کب آ سکتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے سے، وہ یسوع کے ابتدائی شاگردوں کی طرح اپنے آقا کی آگاہی پر دھیان دینے میں ناکام رہے ہیں کہ ہم ”نہیں جانتے کہ وہ [”مقررہ،“ اینڈبلیو] وقت کب آئیگا۔“ (مرقس ۱۳:۳۲، ۳۳) ٹھٹھابازوں نے ایماندار مسیحیوں کا اُنکی قبلازوقت توقعات کیلئے مذاق اُڑایا ہے۔ (۲-پطرس ۳:۳، ۴) تاہم، پطرس یقین دلاتا ہے کہ اُسکے وقتِمقررہ کے مطابق یہوواہ کا دن آئیگا۔
یہوواہ کا نقطۂنظر اپنانے کی ضرورت
۱۶. ہم دانشمندی سے کس فہمائش پر دھیان دیتے ہیں؟
۱۶ وقت کی بابت ہمیں یہوواہ کا نقطۂنظر اپنانے کی ضرورت ہے جیسےکہ اب پطرس ہمیں یاد دلاتا ہے: ”اَے عزیزو! یہ خاص بات تم پر پوشیدہ نہ رہے کہ خداوند کے نزدیک ایک دن ہزار برس کے برابر ہے اور ہزار برس ایک دن کے برابر۔“ مقابلتاً ہمارا ۷۰ یا ۸۰ سال کا عرصۂحیات کتنا قلیل ہے! (۲-پطرس ۳:۸؛ زبور ۹۰:۴، ۱۰) اگر خدا کے وعدوں کی تکمیل تاخیر کرتی ہوئی دکھائی دے تو ہمیں خدا کے نبی کی فہمائش کو قبول کرنے کی ضرورت ہے: ”اگرچہ اِس [مقررہ وقت] میں دیر ہو تَوبھی اِسکا منتظر رہ کیونکہ یہ یقیناً وقوع میں آئیگی۔ تاخیر نہ کریگی۔“—حبقوق ۲:۳۔
۱۷. اگرچہ آخری ایّام بعض کی توقعات سے زیادہ طویل ہو گئے ہیں، پھر بھی ہم کس چیز کی بابت پُراعتماد ہو سکتے ہیں؟
۱۷ اس نظام کے آخری ایّام بہتیروں کی توقع سے زیادہ طویل کیوں ہو گئے ہیں؟ اسکی ایک عمدہ وجہ ہے، جیسےکہ پطرس آگے وضاحت کرتا ہے: ”خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو]“ اپنے وعدہ میں دیر نہیں کرتا جیسی دیر بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ تمہارے بارے میں تحمل کرتا ہے اسلئےکہ کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے۔“ (۲-پطرس ۳:۹) یہوواہ تمام نوعِانسان کی بھلائی کا خیال رکھتا ہے۔ وہ لوگوں کی زندگیوں کی فکر کرتا ہے جیسےکہ وہ بیان کرتا ہے: ”خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو]“ خدا فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم شریر کے مرنے میں مجھے کچھ خوشی نہیں بلکہ اس میں ہے کہ شریر اپنی راہ سے باز آئے اور زندہ رہے۔“ (حزقیایل ۳۳:۱۱) پس ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ ہمارے عقیل، شفیق خالق کے مقصد کو پایۂتکمیل تک پہنچانے کیلئے خاتمہ عین وقت پر آئیگا!
کیا برباد ہو جائیگا؟
۱۸، ۱۹. (ا) یہوواہ نے اس نظامالعمل کو تباہ کرنے کی کیوں ٹھان رکھی ہے؟ (ب) پطرس اس نظام کے خاتمے کو کیسے بیان کرتا ہے اور درحقیقت کس کو ختم کِیا جائے گا؟
۱۸ یہوواہ چونکہ اپنے خادموں سے حقیقی محبت رکھتا ہے اسلئے وہ اُن کیلئے مصیبت برپا کرنے والے تمام لوگوں کو نیست کر دیگا۔ (زبور ۳۷:۹-۱۱، ۲۹) اس حقیقت کو نمایاں کرنے سے جیسےکہ پہلے پولس نے کِیا تھا، کہ تباہی کسی غیرمتوقع وقت پر آئیگی، پطرس لکھتا ہے: ”خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو]“ کا دن چور کی طرح آ جائیگا۔ اُس دن آسمان بڑے شوروغل کے ساتھ برباد ہو جائینگے اور اجرامِفلک حرارت کی شدت سے پگھل جائینگے اور زمین اور اُس پر کے کام جل جائینگے۔“ (۲-پطرس ۳:۱۰؛ ۱-تھسلنیکیوں ۵:۲) طوفان میں حقیقی آسمان اور زمین تباہ نہیں ہوئے تھے نہ ہی وہ یہوواہ کے دن کے دوران ہونگے۔ توپھر، ”برباد“ کیا ہوگا؟
۱۹ ”آسمان“ کی مانند نوعِانسان پر مسلّط رہنے والی انسانی حکومتیں ختم ہو جائیں گی اور اسی طرح ”زمین“ یا بیدین انسانی تہذیب ختم ہو جائے گی۔ ”شوروغل“ شاید آسمان کے فوراً اوجھل ہو جانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ”اجرامِفلک“ جو آجکل کی زوالپذیر انسانی تہذیب کو تشکیل دیتے ہیں ”پگھل“ یا تباہوبرباد ہو جائینگے۔ اور ”زمین“ اور ”اس پر کے کام جل“ جائینگے۔ جب یہوواہ تمام دُنیاوی نظام پر واجب خاتمہ لاتا ہے تو وہ انسانوں کے کارہائےسیاہ کو پوری طرح منظرِعام پر لائیگا۔
اپنی اُمید پر نظریں جمائے رکھیں
۲۰. مستقبل میں واقع ہونے والے واقعات کی بابت ہمارے علم کو ہماری زندگیوں پر کیسے اثرانداز ہونا چاہئے؟
۲۰ چونکہ یہ ڈرامائی واقعات جلد وقوعپذیر ہونے والے ہیں، پطرس کہتا ہے کہ ہمیں ”پاک چالچلن اور دینداری میں“ مشغول ہونا چاہئے اور ”خدا کے اُس دن کے آنے کا کیسا کچھ منتظر اور مشتاق رہنا چاہئے۔“ اسکی بابت کوئی شک کی گنجائش نہیں! ”آسمان آگ سے پگھل جائینگے اور اجرامِفلک حرارت کی شدت سے گل جائینگے۔“ (۲-پطرس ۳:۱۱، ۱۲) یہ حقیقت کہ یہ ڈرامائی واقعات کل ہی وقوع میں آنا شروع کر سکتے ہیں ہمارے ہر کام اور منصوبے پر اثرانداز ہونی چاہئے۔
۲۱. موجودہ آسمان اور زمین کی جگہ کون لے لیگا؟
۲۱ اب پطرس ہمیں بتاتا ہے کہ کونسی چیز پُرانے نظام کی جگہ لیگی: ”لیکن اُسکے وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہیگی۔“ (۲-پطرس ۳:۱۳؛ یسعیاہ ۶۵:۱۷) آہ، کیا ہی عمدہ تسکین! مسیح اور اُسکے ۱۴۴،۰۰۰ ساتھی حکمران ”نئے“ حکومتی ”آسمان“ کو تشکیل دینگے اور اس دُنیا کے خاتمے سے بچنے والے لوگ ”نئی زمین“ کو تشکیل دینگے۔—۱-یوحنا ۲:۱۷؛ مکاشفہ ۵:۹، ۱۰؛ ۱۴:۱، ۳۔
فوری تعمیل کے احساس اور اخلاقی پاکیزگی کو برقرار رکھیں
۲۲. (ا) کونسی باتیں ہمیں کسی بھی طرح کے روحانی داغ یا عیب سے بچنے میں مدد دیگی؟ (ب) پطرس کس خطرے سے آگاہ کرتا ہے؟
۲۲ ”پس اَے عزیزو،“ پطرس بیان جاری رکھتا ہے ”چونکہ تم ان باتوں کے منتظر ہو اسلئے اُسکے سامنے اطمینان کی حالت میں بیداغ اور بےعیب نکلنے کی کوشش کرو۔ اور ہمارے خداوند کے تحمل کو نجات سمجھو۔“ یہوواہ کے دن کا شوق سے انتظار کرنا اور کسی بھی ظاہری تاخیر کو الہٰی تحمل کا اظہار سمجھنا ہمیں روحانی داغ یا عیب سے بچنے میں مدد دیگا۔ تاہم، ایک خطرہ موجود ہے! پطرس آگاہ کرتا ہے کہ ”ہمارے پیارے بھائی پولس“ کی تحریروں میں ”بعض باتیں ایسی ہیں جنکا سمجھنا مشکل ہے اور جاہل اور بےقیام لوگ اُنکے معنوں کو بھی اَور صحیفوں کی طرح کھینچ تان کر اپنے لئے ہلاکت پیدا کرتے ہیں۔“—۲-پطرس ۳:۱۴-۱۶۔
۲۳. پطرس کی اختتامی فہمائش کیا ہے؟
۲۳ جھوٹے اُستادوں نے خدا کے غیرمستحق فضل کی بابت پولس کی تحریروں کے مفہوم کو بظاہر بگاڑ دیا اور اُنہیں بدچلنی کا عذر بنا لیا۔ شاید پطرس کے ذہن میں یہی تھا جب وہ اپنی اِس الوداعی نصیحت کو قلمبند کرتا ہے: ”پس اَے عزیزو! چونکہ تم پہلے سے آگاہ ہو اسلئے ہوشیار رہو تاکہ بےدینوں کی گمراہی کی طرف کھنچ کر اپنی مضبوطی کو چھوڑ نہ دو۔“ پھر وہ اس تاکید کیساتھ اپنا خط ختم کرتا ہے: ”ہمارے خداوند اور مُنجی یسوؔع مسیح کے فضل اور عرفان میں بڑھتے جاؤ۔“—۲-پطرس ۳:۱۷، ۱۸۔
۲۴. یہوواہ کے تمام خادموں کو کیسا رجحان رکھنا چاہئے؟
۲۴ واضح طور پر، پطرس اپنے بھائیوں کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ اُسکی خواہش ہے کہ سب ویسا ہی رجحان رکھیں جیساکہ شروع میں بیانکردہ ۸۲ سالہ وفادار گواہ نے ظاہر کِیا تھا: ”مَیں نے رسول کی اِس تاکید کے مطابق زندگی بسر کی ہے کہ ’یہوواہ کے دن کی موجودگی کو ذہن میں رکھو۔‘ مَیں نے موعودہ نئی دُنیا کو ہمیشہ ’حقیقت سمجھا ہے اگرچہ کبھی دیکھا نہیں۔‘“ دُعا ہے کہ ہم سب بھی اپنی زندگی ایسے ہی گزاریں۔
آپ کیسے جواب دینگے؟
◻یہوواہ کے دن کے ”منتظر“ رہنے کا کیا مطلب ہے؟
◻ٹھٹھاباز جانبوجھ کر کس چیز کو نظرانداز کرتے ہیں اور کیوں؟
◻کس وجہ سے ٹھٹھابازوں نے ایماندار مسیحیوں کا تمسخر اُڑایا ہے؟
◻ہمیں کونسا نقطۂنظر قائم رکھنا چاہئے؟