یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏8 ص.‏ 3
  • آپ گناہ کو کیسا خیال کرتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آپ گناہ کو کیسا خیال کرتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ملتا جلتا مواد
  • جب کوئی گناہ نہ رہیگا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • گُناہ کے متعلق سوچ میں تبدیلی کی وجوہات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
  • آپ گناہ کو کیسا خیال کرتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • گناہ سے پاک دنیا۔—‏کیسے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏8 ص.‏ 3

آپ گناہ کو کیسا خیال کرتے ہیں؟‏

‏”‏آپ میں کوئی گناہ نہیں، آپ کو کوئی غم نہیں؛ آپ تمام‌تر قوت کا خزانہ ہیں۔“‏ یہ بیان ہندوؤں کی ایک مُقدس کتاب، بھگوَت گیتا سے ایک اقتباس کی تشریح بیان کرتے ہوئے مشہورومعروف ہندو فلاسفر ویوک‌آنند نے دیا تھا۔ ویدانتا کا حوالہ دیتے ہوئے، وہ دعویٰ کرتا ہے:‏ ”‏یہ کہنا ہی سب سے بڑی غلطی ہے کہ آپ کمزور ہیں، آپ گنہگار ہیں۔“‏a

تاہم، کیا یہ بات درست ہے کہ انسان گناہ سے مبرا ہے؟ تاہم، اگر کوئی شخص پیدائش کے وقت میراث میں کچھ پاتا ہے تو کیا ہو؟ محض ”‏جسمانی خصائل کا تعیّن ہی توارث سے کِیا جاتا ہے،“‏ ایک ہندو سوامی ناکھل‌آنند بیان کرتا ہے۔ کسی کے ”‏پہلے جنم“‏ دیگر خصوصیات کا تعیّن کرتے ہیں۔ ویوک‌آنند کے مطابق، ”‏آپ اپنی تقدیر خود بناتے ہیں۔“‏ ہندومت موروثی گناہ کی کوئی تعلیم نہیں دیتا۔‏

زرتشت، شنٹو، کنفیوشس اور بدھ‌مت کے پیروکاروں میں بھی موروثی گناہ کا تصور نہیں پایا جاتا۔ روایتاً موروثی گناہ کے عقیدے کی تعلیم دینے والے یہودی-‏مسیحی مذاہب میں بھی گناہ کے سلسلے میں لوگوں کا روّیہ بدلتا جا رہا ہے۔ آجکل بیشتر لوگ اپنے آپ کو گنہگار نہیں سمجھتے۔‏

مذہبی عالم کرنیلیس پلاٹنگا، جونیئر بیان کرتا ہے کہ ”‏جدید آگاہی اخلاقی ملامت کی حوصلہ‌افزائی نہیں کرتی؛ بالخصوص یہ ذاتی ملامت کی حوصلہ‌افزائی نہیں کرتی۔“‏ دُنیائے‌مسیحیت کے چرچ بھی کسی حد تک گناہ کی سنگینی کو کم کرنے کے مجرم ہیں۔ ڈیوک یونیورسٹی سے ملحقہ چرچ کا ایک پادری بیان کرتا ہے کہ ”‏اگر آپ گناہ کے بارے میں سننا چاہتے ہیں تو چرچ نہ جائیں۔“‏ نیز پلاٹنگا کے مطابق، بعض چرچ گناہ کا ذکر عموماً معاشرتی مسائل کے طور پر کرتے ہیں۔‏

مسلمہ طور پر، آجکل معاشرتی المیے بہت سے ہیں۔ تشدد، جُرم، جنگیں، نسلیاتی فساد، منشیات کا غلط استعمال، بددیانتی، ظلم‌وستم اور بچوں پر تشدد قابو سے باہر ہیں۔ درحقیقت، ۲۰ویں صدی کو انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ خونین صدی کہا گیا ہے۔ بیماری، بڑھاپے اور موت کی وجہ سے پیدا ہونے والا دُکھ‌درد اِس کے علاوہ ہے۔ کون ہے جو آجکل دُنیا میں پائے جانے والے بڑے بڑے مسائل سے چھٹکارا پانا نہیں چاہتا؟‏

پس، گناہ کی بابت آپکا نظریہ کیا ہے؟ کیا گناہ وراثت میں ملا ہے؟ کیا ہمیں کبھی دُکھ‌درد سے آزادی حاصل ہوگی؟ اگلا مضمون اِن سوالات پر بحث کریگا۔‏

‎]فٹ نوٹس[‎

a ویدانتا کا فلسفہ اُپانی‌شادز پر مبنی ہے، جو ہندوؤں کے صحائف، ویدوں کے آخر پر ملتا ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں