یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏3 ص.‏ 4-‏7
  • گناہ سے پاک دنیا۔—‏کیسے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • گناہ سے پاک دنیا۔—‏کیسے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • گناہ کیا ہے؟‏
  • گناہ کی ابتدا
  • گناہ کو مٹانے کی انسانی کوششیں
  • گناہ سے چھٹکارا
  • جب کوئی گناہ نہ رہیگا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • اِنسان کیوں مرتے ہیں؟‏
    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
  • مسیح کا فدیہ نجات کی خدائی راہ
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • یہوواہ نے اِنسانوں کو گُناہ اور موت سے نجات دِلانے کے لیے کیا کِیا؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏3 ص.‏ 4-‏7

گناہ سے پاک دنیا۔—‏کیسے؟‏

مدد کیلئے چیخ‌وپکار نے ٹوکیو کی ایک پرسکون آبادی میں سردیوں کی ایک صبح کے ابتدائی گھنٹوں کے سکوت کو توڑ ڈالا۔ پانچ سے دس منٹ تک درجنوں لوگوں نے اخبار تقسیم کرنے والی عورت کی مایوس‌کن چیخیں سنیں جس کا کہ پیچھا کیا جا رہا تھا جبکہ بار بار زخم لگائے جا رہے تھے۔ کسی ایک بھی شخص نے تکلیف گوارا نہ کی کہ یہ دیکھ ہی لے کہ کیا ہو رہا تھا۔ بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے وہ مر گئی۔ ایک تفتیش کرنے والے نے کہا:‏ ”‏اگر ان لوگوں میں سے ایک نے بھی اسکی چیخ سنتے ہی پولیس کو واقہ کی اطلاع دے دی ہوتی تو اسکی زندگی بچائی جا سکتی تھی۔“‏

اگرچہ جن لوگوں نے اس مرتی ہوئی عورت کی آواز سنی اسے محض نظرانداز کرنے کی بہ‌نسبت کوئی بڑی برائی نہیں کی، پھر بھی کیا وہ صحیح طور پر دعوی کر سکتے تھے کہ وہ جرم سے بری ہیں؟ ایک شخص جس نے اس کی چیخیں سنی تھیں کہتا ہے ”‏جب میں نے قتل کی بابت سنا تو جمہ کا سارا دن میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا رہا۔“‏ یہ سب ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ گناہ درحقیقت کیا ہے؟‏

گناہ کیا ہے؟‏

گناہ کی بابت احساس کی نشاندہی کرتے ہوئے ٹوکیو جاپان کی ہوزی یونیورسٹی کے پروفیسر ایمیرائٹس اور ادبی نقاد ہیڈیو اوڈاگیری نے کہا، جیسے کہ آساہی شمبن اخبار میں اس کا حوالہ دیا گیا:‏ ”‏میں گناہ کے احساس کی بابت اپنی واضح یادوں کو مٹا نہیں سکتا بالکل اسی طرح جیسے ایک بچے میں ناگوار خودپسندی، شرمناک حسد، کسی شخص کے پیچھے سے اسے دھوکا دینے کی عادات موجود ہوتی ہیں۔ یہ احساس اس وقت میرے ذہن پر نقش کر دیا گیا جب میں ابتدائی سکول میں تھا اور یہ اب تک مجھے ستاتا ہے۔“‏ کیا آپ کو کبھی ایسے احساسات کا تجربہ ہوا ہے؟ اگر آپ کوئی ایسا کام کرتے ہیں جو کہ آپ جانتے ہیں کہ غلط ہے تو کیا آپ کو اندر سے کوئی آواز سنائی دیتی ہے جو آپ کو ملامت کرتی ہے؟ شاید کوئی جرم تو نہیں ہوا لیکن ایک طویل غیراطمینان بخش احساس موجود رہتا ہے اور یہ آپ کے ذہن پر ایک بھاری بوجھ سا بنا ہوا ہے۔ یہ آپ کا ضمیر ہی تو ہے جو سرگرم‌عمل ہے اور بائبل اسے مندرجہ‌ذیل عبارت میں پیش کرتی ہے:‏ ”‏اسلئے کہ جب وہ قومیں جو شریت نہیں رکھتیں اپنی طبیعت سے شریت کے کام کرتی ہیں تو باوجود شریت نہ رکھنے کے وہ اپنے لئے خود ایک شریت ہیں۔ چنانچہ وہ شریت کی باتیں اپنے دلوں پر لکھی ہوئی دکھاتی ہیں اور انکا [‏ضمیر، NW]‏ بھی ان باتوں کی گواہی دیتا ہے اور ان کے باہمی خیالات یا تو ان پر الزام لگاتے ہیں یا ان کو مذور رکھتے ہیں۔“‏ (‏رومیوں ۲:‏۱۴، ۱۵‏)‏ جی‌ہاں، فطرتی طور پر لوگوں کی اکثریت زناکاری، چوری، اور جھوٹ جیسے کاموں سے پریشان ہو جاتی ہے۔ انکا ضمیر گناہ کی شہادت دیتا ہے۔‏

تاہم، جب بار بار ضمیر کی آواز کو نظرانداز کیا جائے تو پھر یہ حفاظتی رہنما کے طور پر کام نہیں کرتا۔ یہ بے‌حس اور گناہ آلودہ ہو سکتا ہے۔ (‏ططس ۱:‏۱۵‏)‏ برائی کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ درحقیقت، آجکل جہاں تک گناہ کا تلق ہے لوگوں کی اکثریت کا ضمیر مردہ ہے۔‏

کیا ضمیر ہی گناہ کا واحد پیمانہ ہے یا کیا کوئی اور چیز بھی ہے جو اس بات کیلئے ایک قطی میار کے طور پر کام کرتی ہے کہ کونسی چیز گناہ کو تشکیل دیتی ہے اور کونسی نہیں؟ ۳،۰۰۰ سے زیادہ سال پہلے خدا نے اپنے چنے ہوئے لوگوں کو ایک شرعی ضابطہ دیا، اور اس شرع کی مرفت گناہ ”‏بطور گناہ کے پہچانا گیا۔“‏ (‏رومیوں ۷:‏۱۳‏، نیو انٹرنیشنل ورشن)‏ یہانتک کہ ایسا چال‌چلن جو پہلے کسی حد تک قابل‌قبول تھا اسکی بابت اب ظاہر ہو گیا کہ وہ درحقیقت—گناہ تھا۔ خدا کے مخصوص لوگ ، اسرائیلی، بطور گنہگاروں کے فاش کر دئے گئے تھے اور یوں وہ سزا کے ماتحت تھے۔‏

وہ کونسے گناہ ہیں جن کی بابت ہمارا ضمیر ہمیں باخبر کرتا ہے اور جن کی موسوی شریت نے تفصیل اور فہرست دی؟ لفظ کے بائبلی استمال کے لحاظ سے گناہ کا مطلب خالق کے سلسلے میں نشانے سے چوک جانا ہے۔ کوئی بھی چیز جو اسکی شخصیت، میاروں، راہوں، اور مرضی کی مطابقت میں نہیں وہ گناہ ہے۔ وہ کسی بھی ایسی مخلوق کو موجود نہیں رہنے دیگا جو اس نشانے سے گر جاتی ہے جو اس نے قائم کیا ہے۔ لہذا، پہلی صدی میں ایک ماہرشرع نے عبرانی مسیحیوں کو آگاہ کیا:‏ ”‏اے بھائیو! خبردار تم میں سے کسی کا ایسا برا اور بے‌ایمان دل نہ ہو جو زندہ خدا سے پھر جا ئے۔“‏ (‏عبرانیوں ۳:‏۱۲‏)‏ جی‌ہاں، خالق پر ایمان کی کمی گناہ‌کبیرہ کو تشکیل دیتی ہے۔ اسلئے، جیسا کہ بائبل میں بیان کیا گیا ہے گناہ کی وست اس سے کہیں زیادہ ہے جسے عام طور پر گناہ خیال کیا جاتا ہے۔ بائبل اسے اس حد تک بیان کرتی ہے:‏ ”‏سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔“‏—رومیوں۳:‏۲۳۔‏

گناہ کی ابتدا

کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ انسان گنہگار خلق کیا گیا تھا؟ نہیں، انسانی زندگی کا آغاز کرنے والے یہوواہ خدا نے، پہلے آدمی کو ایک کامل مخلوق بنایا تھا۔ (‏پیدایش ۱:‏۲۶، ۲۷،‏ استثنا ۳۲:‏۴)‏ تاہم، پہلا انسانی جوڑا اس وقت نشانے سے چوک گیا جب انہوں نے خدا کی طرف سے عائدکردہ واحد ممانت کو توڑ ڈالا، جب انہوں نے ممنوعہ ”‏نیک و بد کی پہچان کے درخت“‏ میں سے کھایا۔ (‏پیدایش ۲:‏۱۷‏)‏ اگرچہ وہ کامل خلق کئے گئے تھے، اب وہ اپنے باپ کی کلی فرمانبرداری کے نشانے سے چوک گئے تھے، یوں وہ گنہگار بن ‎“گئے اور اسلئے انہیں موت کی سزا سنائی گئی۔‏

اس قدیم تاریخ کا آجکل کے گناہ کیساتھ کیا تلق ہے؟ بائبل واضح کرتی ہے:‏ ”‏ایک آدمی کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اسلئے کہ سب نے گناہ کیا۔“‏ (‏رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ بلا‌چھوٹ ہم سب موروثی طور پر گنہگار ہیں، لہذا، ہم موت کی سزا کے ماتحت آگئے ہیں۔—‏واعظ ۷:‏۲۰‏۔‏

گناہ کو مٹانے کی انسانی کوششیں

آدم نے گناہ کو اپنی اولاد میں منتقل کیا لیکن اس نے خداداد ضمیر کی صلاحیت کو بھی ان میں منتقل کیا۔ گناہ شاید بے‌اطمینانی کے احساس کو فروغ دے۔ جیسے کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے، انسانوں نے ایسے احساسات کو ختم کرنے کیلئے مختلف طرح کے منصوبے ایجاد کئے ہیں۔ تاہم، کیا وہ واقی مؤثر ہیں؟‏

مشرق ہو یا مغرب، لوگوں نے اپنے میاروں کو تبدیل کرنے یا پھر گناہ کے وجود ہی سے انکار کرنے سے گناہ کے اثر سے نپٹنے کی کوشش کی ہے۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱، ۲‏)‏ بنی‌نوع انسان کی گنہگارانہ حالت کو ایک ایسے مریض کیساتھ تشبِیہ دی جا سکتی ہے جسے بخار ہے۔ گناہ کا موازنہ اس وائرس کیساتھ کیا جا سکتا ہے جو علامات کا باعث بنتا ہے، جبکہ پریشان ضمیر بے چین کرنے والے بخار کے مماثل ہے۔ تھرمامیٹر کو توڑ دینا اس حقیقت کو بدل نہیں دیتا کہ مریض کو تیز بخار ہے۔ اخلاقی معیاروں کو اتار پھینکنا، جیسے کہ دنیا ئے‌مسیحیت میں بہتیروں نے کیا ہے، اور کسی کے اپنے ہی ضمیر کی شہادت کو نظرانداز کرنا خود گناہ کو ختم کرنے میں کسی بھی طرح سے ماون نہیں۔‏

اپنے بخار کو اتارنے کے لئے شاید ایک شخص برف کی پٹی رکھے۔ یہ ضمیر کی خلشوں سے آرام حاصل کرنے کی خاطر شنتو کی پاک کرنے والی رسومات کو برائے نام ادا کرنے کی مانند ہے۔ برف کی پٹی شاید عارضی طور پر بخار سے متاثر شخص کو ٹھنڈک پہنچائے، لیکن یہ بخار کی وجہ کو ختم نہیں کرتی۔ یرمیاہ کے دنوں میں کاہنوں اور نبیوں نے بھی اس وقت کے اسرائیلیوں کو اسی طرح کی شفا دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے ”‏یوں ہی“‏ لوگوں کے روحانی اور اخلاقی زخموں کو ”‏سب ٹھیک ہے، سب ٹھیک ہے“‏ کہہ کر اچھا کیا۔ (‏یرمیاہ ۶:‏۱۴،‏ ۸:‏۱۱‏، این امریکن ٹرانسلیشن)‏ محض مذہبی رسموں کا ادا کرنا اور کچھ اس طرح کی آواز لگانا کہ ”‏سب ٹھیک ہے، سب ٹھیک ہے“‏ خدا کے لوگوں کی اخلاقی گراوٹ کو ٹھیک نہیں کر پایا اور پاک صاف کئے جانے کی مذہبی رسومات آجکل لوگوں کے اخلاق کو تبدیل نہیں کرتیں۔‏

بخار اتارنے والی دوائیں استمال کرنے سے بخار میں مبتلا شخص شاید اپنے بخار کو کم کر لے لیکن پھر بھی وائرس اسکے نظام میں موجود ہے۔ یہی بات تلیم کے ذریے بدی سے نپٹنے کے کنفیوشن کے طریقے پر صادق آتی ہے۔ سطحی طور پر شاید یہ لوگوں کو مدد دے کہ بدی سے باز آ جائیں، لیکن لی پر عمل کرنا صرف گنہگارانہ چال‌چلن کو دبا دیتا ہے اور ایک شخص کو اسکی پیدائشی گنہگارانہ رغبتوں سے آزاد نہیں کرتا جو کہ بدکار چال‌چلن کی اصل وجہ ہے۔—‏پیدایش ۸:‏۲۱‏۔‏

اس بدھسٹ تلیم کی بابت کیا ہے کہ گنہگارانہ رغبتوں سے بچنے کیلئے نروانا میں چلے جائیں؟ نروانا کی حالت جس کا مطلب ”‏پھونکوں سے بجھانا“‏ بیان کیا جاتا ہے، اسے ناقابل‌بیان سمجھا جاتا ہے، ینی تمام جذبات اور خواہشات کو بجھا دینا۔ بض یہ دعوی کرتے ہیں کہ یہ کسی کے ذاتی وجود کا خاتمہ ہوتا ہے۔ کیا یہ ایسے نہیں لگتا جیسے ایک بخار والے شخص کو یہ بتانا کہ آرام پانے کے لئے مر جائے؟ مزیدبرآں، نروانا کی حالت کو حاصل کرنا ہی بہت مشکل بلکہ ناممکن خیال کیا جاتا ہے۔ کیا یہ تلیم ایک پریشان ضمیر والے شخص کے لئے مددگار ملوم ہوتی ہے؟‏

گناہ سے چھٹکارا

یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ زندگی اور گنہگارانہ رغبتوں کی بابت انسانی فلسفے زیادہ سے زیادہ صرف کسی کے اپنے ضمیر کو مطمئن کرتے ہیں۔ وہ گناہ کی حالت کو ختم نہیں کرتے۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۲۰‏)‏ کیا ایسا کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟ مشرق قریب میں لکھی گئی ایک قدیم کتاب بائبل میں ہم گناہ سے چھٹکارے کا حل پاتے ہیں۔ ”‏اگرچہ تمہارے گناہ قرمزی ہوں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گے .‏ .‏ .‏ اگر تم راضی اور فرمانبردار ہو تو زمین کے اچھے اچھے پھل کھاؤ گے۔“‏ (‏یسیاہ ۱:‏۱۸، ۱۹)‏ یہاں یہوواہ اسرائیلیوں سے ہمکلام تھا جو کہ اس کے چنے ہوئے لوگ ہونے کے باوجود اس کے لئے راستی کے نشانے سے چوک گئے تھے۔ تاہم، یہی اصول تمام بنی‌آدم پر عائد ہوتا ہے۔ خالق کی بات کو سننے کے لئے رضامندی کا اظہار کرنا ہی کسی شخص کے اپنے گناہوں سے پاک کئے جانے، گویا دھوئے جانے کی کُنجی ہے۔‏

خدا کا کلام ہمیں بنی‌آدم کے گناہوں کے دھل جانے کی بابت کیا بتاتا ہے؟ بائبل کہتی ہے، غرض جیسے ایک آدمی کے گناہ کے سبب تمام بنی‌آدم گنہگار بن گئے ویسے ہی ایک اور آدمی کی خدا کے لئے کامل فرمانبرداری کے وسیلے سے سب فرمانبردار آدمیوں کو ان کی پست‌حالی سے چھٹکارا ملے گا۔ (‏رومیوں ۵:‏۱۸، ۱۹‏)‏ کیسے؟ ”‏خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر موا۔“‏ (‏رومیوں ۵:‏۸‏)‏ یسوع مسیح، کامل اور بے‌گناہ آدمی کے طور پر پیدا ہوا جو کہ پہلے آدم کے برابر تھا اس سے پیشتر کہ اس نے گناہ کیا، یوں وہ اس حالت میں تھا کہ انسانوں کے گناہوں کو اٹھا لے جائے۔ (‏یسیاہ ۵۳:‏۱۲، یوحنا ۱:‏۱۴ ،‏۱-‏پطرس ۲:‏۲۴‏)‏ تاہم ایک مجرم کی طرح سولی پر مار دئے جانے سے، یسوع نے بنی‌آدم کو گناہ اور موت کی غلامی سے آزاد کیا۔ پولس نے روم کے مسیحیوں پر واضح کیا:‏ ”‏کیونکہ جب ہم کمزور ہی تھے تو عین وقت پر مسیح بے‌دینوں کی خاطر موا۔ .‏ .‏ .‏ تاکہ جس طرح گناہ نے موت کے سبب سے بادشاہی کی اسی طرح فضل بھی ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیشہ کی زندگی کے لئے راستبازی کے ذریہ سے بادشاہی کرے۔“‏—‏رومیوں ۵:‏۶،‏ ۲۱‏۔‏

مسیح کا تمام بنی‌آدم کیلئے مر کر اس ترازو کو برابر کرنا جسے آدم نے غیرمتوازن کر دیا تھا ”‏فدیہ“‏ کا بندوبست کہلاتا ہے۔ (‏متی ۲۰:‏۲۸‏)‏ اسے اس دوا سے تشبِیہ دی جا سکتی ہے جو کہ بخار کا باعث بننے والے وائرس کے خلاف کام کرتی ہے۔ یسوع کے فدیے کی قیمت کا بنی‌آدم پر اطلاق کرنے سے، بنی‌آدم کی گناہ سے پیدا ہونے والی بیماری کی حالت کا—بشمول خود موت کے—علاج کیا جا سکتا ہے۔ شفا کے اس عمل کو بائبل کی آخری کتاب میں تمثیلی طور پر بیان کیا گیا ہے:‏ ”‏دریا کے وارپار زندگی کا درخت تھا۔ اس میں بارہ قسم کے پھل آتے تھے اور ہر مہینے میں پھلتا تھا اور اس درخت کے پتوں سے قوموں کو شفا ہوتی تھی۔“‏ (‏مکاشفہ ۲۲:‏۲‏)‏ تصور کریں! اپنے پتوں کیساتھ حیات کے درختوں کے درمیان بہتا ہوا آب‌حیات کا علامتی دریا، سب بنی‌نوع انسان کی شفا کیلئے ہے۔ یہ الہٰی الہام‌یافتہ علامتیں بنی‌آدم کیلئے یسوع کی فدیے کی قربانی کی بنا پر کاملیت کو بحال کرنے کے خدا کے اہتمام کی نمائندگی کرتی ہیں۔‏

مکاشفہ کی کتاب کی نبوتی رویتیں جلد ہی حقیقت بن جائیں گی۔ (‏مکاشفہ ۲۲:‏۶، ۷‏)‏ تب، بنی‌آدم پر یسوع کی فدیے کی قربانی کے مکمل اطلاق کے ساتھ تمام راستدل لوگ کامل ہو جائیں گے اور ”‏فنا کے قبضہ سے چھوٹ کر خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی میں داخل ہو“‏ جائیں گے۔ (‏رومیوں ۸:‏۲۱‏)‏ بائبل پیشینگوئیوں کی تکمیل ظاہر کرتی ہے کہ یہ شاندار چھٹکارا قریب ہے۔ (‏مکاشفہ ۶:‏۱-‏۸‏)‏ جلد ہی خدا اس کرہ‌ارض کو بدکاری سے پاک کرے گا، اور انسان فردوسی زمین پر ابدی زندگی کا لطف اٹھائیں گے۔ (‏یوحنا ۳:‏۱۶‏)‏ یقیناً وہ گناہ سے پاک دنیا ہوگی! (‏۴ ۱۱/۱ w۹۲)‏

‏[‏تصویر]‏

یسوع کی فدیے کی قربانی اس طرح کے خاندانوں کو ابدی خوشی سے لطف‌اندوز ہونے کے قابل بنائے گی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں