جب یہوواہ کے گواہ آتے ہیں
جب کوئی یہوواہ کا گواہ کیتھولک لوگوں کے گھر پر آتا ہے تو اُنہیں کیا کرنا چاہئے؟ اٹلی کے بشپ صاحبان کی کانفرنس کے نیشنل کیٹیکسٹک بیورو کی تیارکردہ حالیہ اشاعت بیان کرتی ہے: ”مشفقانہ مگر پُختہ انداز میں گفتگو کرنے سے انکار کر دینا کوئی بُری بات نہیں ہے۔“
تمام کیتھولک اس بات سے متفق نہیں، جیساکہ فوجیا، اٹلی کے رہنے والے ایک شخص کے روزنامہ گزیٹا ڈل میڈزوجرنو کو ارسالکردہ خط سے ظاہر ہوتا ہے:
”مَیں یہوواہ کا گواہ نہیں ہوں۔ مَیں کیتھولک ہوں۔ لیکن مَیں ایسے اُصولوں سے حیران ہوں جو چرچ یہ کہتے ہوئے خلوصدل لوگوں پر عائد کرتا ہے کہ یہوواہ کے گواہوں کو دور رکھنے کیلئے اپنے دروازوں پر نوٹس چسپاں کریں۔ یہ لوگ خدا کا کلام ہی تو اُٹھائے پھرتے ہیں اور بائبل کا گہرا علم حاصل کرنے میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ مجھے وہ وقت یاد آتا ہے کہ جب اٹلی میں ہیضے کی وبا پھیل گئی تھی اور ہمیں یہ نصیحت کی گئی تھی کہ انفیکشن سے کیسے بچا جائے۔
”میری دانست میں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چرچ اپنے ارکان کی خواہشات کا احترام کئے بغیر اپنے قوانین مسلّط کرتا ہے۔ لیکن اب کچھ سالوں سے مَیں نے یہ دیکھا ہے کہ کیتھولک بھی گھرباگھر جاتے ہیں اور یہوواہ کے گواہوں کے گھروں پر بھی ملاقات کرتے ہیں؛ اور وہ اُنہیں اندر بٹھاتے ہیں، کسی کو بھی رد کئے بغیر اُن سے گفتگو کرتے ہیں۔“
یہوواہ کے گواہ اپنا پیغام قبول کرنے کیلئے لوگوں کو مجبور نہیں کرتے۔ بلکہ، وہ دوسروں کو خدا کے کلام میں بیانکردہ اُمید میں شریک کرنے کی کوشش کرتے ہیں جسے اُنہوں نے خود ان تشویشناک ایّام میں تسلیبخش پایا ہے۔ گھرباگھر جا کر، نیز گلیکوچوں میں ملنے والوں سے گفتگو کر کے یہوواہ کے گواہ اُن لوگوں کو خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سناتے ہیں جو سننے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔—متی ۲۴:۱۴؛ اعمال ۵:۴۲؛ ۱۷:۱۷۔