خدا کے نام پر رازداری
مارچ ۱۹۹۵ میں ٹوکیو، جاپان کی ایک زمیندوز ریل پر زہریلی گیس کے حملے نے ۱۲ افراد کی جان لے لی، ہزاروں کو سخت بیمار کر دیا لیکن ایک راز بھی افشا کر دیا۔ اُم شنرِکیو (افضل سچائی) نامی ایک مذہبی فرقے نے اپنے پُراسرار مقاصد کے حصول میں استعمال کیلئے خفیتہً سارِن گیس کا بڑا ذخیرہ جمع کر لیا تھا۔
ایک ماہ بعد اوکلاہوما شہر، یو.ایس.اے میں ایک بم دھماکے نے وفاقی عمارت کو ملیامیٹ کر دیا اور ۱۶۷ لوگوں کو ہلاک کر ڈالا۔ ثبوت نے ظاہر کِیا کہ بڑی حد تک اس حملے کا تعلق ٹھیک دو سال پہلے واکو، ٹیکساس میں برانچ ڈیوڈیئن مذہبی فرقے کیساتھ حکومت کے تنازعے سے تھا۔ اُس وقت فرقے کے تقریباً ۸۰ لوگ مارے گئے۔ بم دھماکے سے وہ بات بھی سامنے آ گئی جو بہتیرے لوگوں کیلئے راز تھی: ریاستہائےمتحدہ میں اب بہت سے نیمفوجی ملیشیا گروہ کام کرتے ہیں جن میں سے بعض پر خفیتہً حکومت کا تختہ اُلٹ دینے کا منصوبہ بنانے کا شُبہ ہے۔
بعدازاں، ۱۹۹۵ کے آخر پر گرینوبل، فرانس، کے قریب جنگل میں ۱۶ اشخاص کی جلی ہوئی لاشیں ملیں۔ وہ ایک چھوٹے سے مذہبی فرقے، سولر ٹیمپل کے گروہ کے رُکن تھے جسکا ذکر اکتوبر ۱۹۹۴ میں سوئٹزرلینڈ اور کینیڈا کی خبروں میں آیا جب اسکے ۵۳ ارکان نے یا تو خودکُشی کر لی یا پھر اُنہیں قتل کر دیا گیا۔ لیکن اس سانحہ کے بعد بھی اس فرقے نے کام کرنا جاری رکھا۔ آج بھی اسکا محرک اور مقاصد معما بنے ہوئے ہیں۔
مذہبی رازداری کے خطرات
ایسے واقعات کے پیشِنظر، کیا یہ تعجب کی بات ہے کہ بہتیرے لوگ مذہبی گروہوں کی پیشوائی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں؟ یقیناً کوئی بھی شخص کسی بھی ایسی—مذہبی یا غیرمذہبی—خفیہ تنظیم کی حمایت نہیں کرنا چاہتا جو اُسکے بھرم کا ناجائز استعمال کرے اور اُسے ایسے مقاصد کے حصول کیلئے مجبور کرے جن سے وہ متفق نہیں ہے۔ تاہم، قابلِاعتراض نوعیت کی خفیہ تنظیموں میں شمولیت کے پھندے میں پڑنے سے بچنے کیلئے لوگ کیا کر سکتے ہیں؟
بدیہی طور پر، کسی بھی شخص کیلئے جو خفیہ تنظیم کا رُکن بننے کی بابت سوچ رہا ہے اسکے اصل مقاصد کی تحقیق کرنا دانشمندی کی بات ہوگی۔ دوستوں یا واقفکاروں کے دباؤ سے بچنا چاہئے اور فیصلوں کو جذبات پر نہیں بلکہ حقائق پر مبنی ہونا چاہئے۔ یاد رکھیں کہ غالباً خود اُسی کو—کسی دوسرے کو نہیں—ہر طرح کے ممکنہ نتائج کا سامنا کرنا پڑیگا۔
بائبل اصولوں کی پیروی کرنا ایسے خطرناک گروہوں سے بچنے کا کامیاب طریقہ ہے جنکے محرکات درست نہیں ہیں۔ (یسعیاہ ۳۰:۲۱) اس میں سیاسی غیرجانبداری برقرار رکھنا، دوسروں، حتیٰکہ دشمنوں کے لئے بھی محبت ظاہر کرنا، ”جسم کے کاموں“ سے گریز کرنا اور روح کے پھل پیدا کرنا شامل ہے۔ سب سے بڑھکر، سچے مسیحیوں کو دُنیا کا حصہ نہیں ہونا چاہئے، جیسےکہ یسوع بھی نہیں تھا اور یہ روش دُنیاوی خفیہ تنظیموں میں شرکت کی نفی کرتی ہے۔—گلتیوں ۵:۱۹-۲۳؛ یوحنا ۱۷:۱۴، ۱۶؛ ۱۸:۳۶؛ رومیوں ۱۲:۱۷-۲۱؛ یعقوب ۴:۴۔
یہوواہ کے گواہ بائبل کے خلوصدل طالبعلم ہیں جو اپنے ایمان کو نہایت اہم خیال کرتے ہیں اور کھلےبندوں اسکے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پوری دُنیا میں وہ ایسے مذہبی گروہ کے طور پر مشہور ہیں جو ’امن کا خواہاں ہے اور اسکے حصول میں سرگرداں رہتا ہے۔‘ (۱-پطرس ۳:۱۱) اسلئے کتاب جیہوواز وٹنسز—پروکلیمرز آف گاڈز کنگڈم درست بیان کرتی ہے: ”یہوواہ کے گواہ کسی بھی طرح کوئی خفیہ تنظیم نہیں ہیں۔ اُنکے بائبل پر مبنی اعتقادات کی ایسی مطبوعات میں مکمل طور پر وضاحت کی گئی ہے جو ہر ایک کیلئے بآسانی دستیاب ہیں۔ علاوہازیں، وہ عوام کو اپنے اجلاسوں پر حاضر ہونے کی دعوت دینے کیلئے خاص کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ خود دیکھیں اور سنیں کہ وہاں کیا کچھ ہوتا ہے۔“
سچا مذہب کسی بھی طریقے سے خفیہ کام نہیں کرتا۔ سچے خدا کے پرستاروں کو تعلیم دی گئی ہے کہ یہوواہ کے گواہوں کے طور پر اپنی شناخت کو پوشیدہ یا اپنے مقاصد کو مبہم نہ رکھیں۔ یسوع کے ابتدائی شاگردوں نے یروشلیم کے ہر کونے میں اپنی تعلیم پھیلا دی تھی۔ وہ اپنے اعتقادات اور کارگزاری کے سلسلے میں عوام میں نمایاں تھے۔ آج یہوواہ کے گواہوں پر بھی یہی بات صادق آتی ہے۔ قابلِفہم طور پر، جب آمرانہ نظامِحکومت پرستش کی آزادی پر ناجائز پابندی لگاتے ہیں تو مسیحیوں کو ”انسان کی نسبت خدا“ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے احتیاط اور دلیری سے اپنے کام کو جاری رکھنا چاہئے، ایک ایسی صورتحال جو اُنکی دلیرانہ عوامی گواہی کی وجہ سے اُن پر زبردستی مسلّط کر دی جاتی ہے۔—اعمال ۵:۲۷-۲۹؛ ۸:۱؛ ۱۲:۱-۱۴؛ متی ۱۰:۱۶، ۲۶، ۲۷۔
اگر آپ کے ذہن میں کبھی یہ خیال آئے کہ شاید یہوواہ کے گواہ کوئی خفیہ گروہ یا فرقہ ہیں تو یہ غالباً اس وجہ سے ہے کہ آپ اُنکی بابت بہت کم علم رکھتے ہیں۔ پہلی صدی میں بھی بہتیروں کی یہ حالت ہوگی۔
اعمال ۲۸ باب ہمیں بتاتا ہے کہ پولس رسول نے روم میں ”یہودیوں کے رئیسوں“ سے ملاقات کی۔ اُنہوں نے اُس سے کہا: ”ہم مناسب جانتے ہیں کہ تجھ سے سنیں کہ تیرے خیالات کیا ہیں کیونکہ اِس فرقہ کی بابت ہم کو معلوم ہے کہ ہر جگہ اِسکے خلاف کہتے ہیں۔“ (اعمال ۲۸:۱۶-۲۲) جواب میں، پولس ”خدا کی بادشاہی کی گواہی دے دے کر . . . بیان کرتا رہا،“ اور ”بعض نے اُس کی باتوں کو مان لیا۔“ (اعمال ۲۸:۲۳، ۲۴) سچی مسیحیت کی بابت درست حقائق حاصل کرنا واقعی اُنکے دائمی فائدے کیلئے تھا۔
چونکہ وہ یہوواہ کی دلیرانہ اور عوامی خدمت کے لئے مخصوص ہیں اسلئے یہوواہ کے گواہ حقائق جاننے کے خواہشمند تمام اشخاص کے سامنے اپنی کارگزاری اور اعتقادات کی بابت سادہ حقائق کی وضاحت کر کے خوش ہونگے۔ کیوں نہ آپ خود تحقیق کریں اور یوں اُنکے ایمان سے بخوبی واقف ہوں؟
[صفحہ 6 پر تصویر]
یہوواہ کے گواہ اِس بات کی وضاحت کرنے سے خوش ہیں کہ وہ کون ہیں اور اُنکا کام کیا ہے