اس قدر رازداری کیوں؟
”راز سے بھاری بوجھ کوئی اَور نہیں ہوتا۔“ ایک فرانسیسی ضربالمثل دعویٰ کرتی ہے۔ کیا اِس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب ہمیں کسی راز کا پتہ چل جاتا ہے تو ہم خوش کیوں ہوتے ہیں لیکن بعضاوقات جب ہم اسکی بابت گفتگو نہیں کر سکتے تو بہت مایوسی ہوتی ہے؟ تاہم، صدیوں کے دوران بہتیرے لوگوں نے رازداری کو پسند کِیا ہے اور کسی مشترکہ نصبالعین کے حصول کیلئے خفیہ گروہوں میں شامل ہوئے ہیں۔
ان ابتدائی خفیہ تنظیموں میں مصر، یونان اور روم میں پائے جانے والے پُراسرار مَسلک شامل تھے۔ بعدازاں ان گروہوں میں سے بعض اپنے مذہبی پسمنظر سے بھٹک گئے اور مشتبہ سیاسی، معاشی یا معاشرتی اغراضومقاصد اختیار کر لئے۔ مثال کے طور پر، جب قرونِوسطیٰ کے یورپ میں انجمنوں کو تشکیل دیا گیا تو اُنکے ارکان نے بنیادی طور پر معاشی اعتبار سے ذاتی تحفظ کیلئے رازداری کا سہارا لیا۔
انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق، دورِحاضر میں خفیہ گروہ غالباً ”معاشرتی اور فیضرساں مقاصد“ اور ”خیراتی اور تعلیمی پروگرام جاری رکھنے“ کی عمدہ وجوہات کی بِنا پر تشکیل دئیے گئے ہیں۔ بعض اخوان تنظیمیں، یوتھ کلب، سوشل کلب اور دیگر گروہ بھی کُلی طور پر خفیہ ہیں یا پھر جزوی طور پر خفیہ ہیں۔ عموماً یہ گروہ بےضرر ہوتے ہیں کیونکہ اِنکے ارکان کی دلچسپی محض رازداری میں ہوتی ہے۔ باضابطہ شمولیت کی خفیہ رسومات گہرا جذباتی اثر رکھتی ہیں اور دوستی اور اتحاد کے بندھنوں کو مضبوط کرتی ہیں۔ ارکان کو رُکنیت اور مقصدیت کا احساس حاصل ہوتا ہے۔ اس قسم کی خفیہ تنظیمیں عام طور پر اُن لوگوں کیلئے خطرہ نہیں ہوتیں جو انکے رُکن نہیں ہوتے۔ باہر کے لوگوں کو رازوں سے ناواقف ہونے کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔
جب رازداری خطرے کی نشاندہی کرتی ہے
تمام خفیہ گروہ رازداری کا یکساں معیار نہیں رکھتے۔ لیکن انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے بیان کے مطابق جنکے ”رازوں میں بھی راز“ ہوتے ہیں وہ بالخصوص خطرے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ وضاحت کرتا ہے کہ ”مخصوص ناموں، کڑی آزمائشوں یا خفیہ معلومات استعمال کرنے سے“ اعلیٰ درجے کے رُکن ”خود کو فرق کرتے ہیں“ اور یوں ”نچلے درجے کے ارکان کو زیادہ بلند مرتبے تک پہنچنے کیلئے درکار جدوجہد کرنے کی“ ترغیب دیتے ہیں۔ ایسے گروہوں میں پایا جانے والا خطرہ بالکل واضح ہے۔ ممکن ہے کہ ابھی تک خفیہ معلومات حاصل کرنے کی حد تک نہ پہنچنے کی وجہ سے نچلے درجے کے رُکن تنظیم کے اصل مقاصد سے بالکل بےخبر ہوں۔ کسی ایسے گروہ میں شامل ہونا آسان ہے جس کے اغراضومقاصد اور انہیں حاصل کرنے کے طریقۂکار سے آپ تھوڑا بہت واقف ہیں یا شاید آپکو اسکی بابت مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ مگر اس گروہ میں شامل ہونے والے شخص کیلئے بعد میں خود کو آزاد کرانا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اب وہ مجبور ہے گویا رازداری کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔
تاہم، رازداری اُسوقت اَور بھی بڑے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے جب کوئی گروہ غیرقانونی یا مجرمانہ مقاصد کے حصول میں مصروفِعمل ہوتا ہے اور اِسلئے اپنی موجودگی کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ یا اسکی موجودگی اور عمومی مقاصد تو سب کے علم میں ہوں مگر یہ اپنی رُکنیت اور اپنے قلیلالمدت منصوبے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بات انتہائی دہشتپسند گروہوں کی بابت سچ ہے جو وقتاًفوقتاً اپنی دہشتگردی کے حملوں سے دُنیا کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔
جیہاں، رازداری افراد اور پورے معاشرے دونوں کے لئے خطرناک ہو سکتی ہے۔ پُرتشدد طریقے سے بیگناہ لوگوں کو اپنا شکار بنانے والے نوجوانوں کے خفیہ گینگ، مافیا جیسی مجرمانہ خفیہ انجمنوں، کوکلکس کلاںa جیسے سفیدفام لوگوں کی برتری کے حامی گروہوں اور اس کے علاوہ پوری دُنیا میں بیشمار دہشتگرد گروہوں کی بابت سوچیں جو عالمی امن اور سلامتی حاصل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا رہے ہیں۔
اب وہ کس کے دَرپے ہیں؟
۱۹۵۰ کے دہوں کے دوران، سرد جنگ کی ضمنی پیداوار کے طور پر، مغربی یورپ کے کئی ممالک میں خفیہ گروہ منظم کئے گئے تاکہ اگر کبھی روسی مغربی یورپ پر قابض ہونے کی کوشش کریں تو یہ اس امکان کے پیشِنظر مزاحم تحریکوں کی بنیاد کا کام دیں۔ مثال کے طور پر، جرمن کے نیوزمیگزین فوکس کے مطابق، اس عرصے کے دوران آسٹریا میں، ”ہتھیاروں کے ۷۹ خفیہ گودام“ قائم کئے گئے تھے۔ تمام یورپی ممالک کو تو ان گروہوں کی خبر تک نہیں تھی۔ ۱۹۹۰ کے دہے کے اوائل میں ایک نیوزمیگزین نے حقیقتپسندی سے بیان کِیا: ”یہ بات ابھی تک بعیدازقیاس ہے کہ آجکل ایسی کتنی تنظیمیں سرگرمِعمل ہیں اور اب تک اُنکی مصروفیات کیا رہی ہیں۔“
جیہاں، بیشک۔ درحقیقت کون جانتا ہے کہ اس وقت کتنے خفیہ گروہ ایسے بڑے خطرے کا پیشخیمہ بن رہے ہیں جو ہمارے لئے ناقابلِتصور ہے؟
[فٹنوٹ]
a اس یو.ایس. گروہ نے شعلہزن صلیب کو اپنا نشان بنا کر قدیم خفیہ تنظیموں کے بعض مذہبی عناصر کو زندہ رکھا۔ ماضی میں، یہ رات کے وقت حملے کرتا تھا، لمبے لمبے چوغے پہن کر اُوپر سفید چادر لپیٹ کر اسکے ارکان سیاہفام لوگوں، کیتھولکوں، یہودیوں، غیرملکیوں اور لیبر یونینوں کے خلاف اپنے شدید غصے کا اظہار کرتے تھے۔