غلط محرکات کا الزام لگانے سے گریز کریں
ٹیلیویژن کے ایک ممتاز مبشر نے ایک ساتھی مُناد پر زناکاری کے ارتکاب کا الزام لگایا۔ تاہم، ایک سال کے اندر ہی، یہ الزام لگانے والا مبشر خود ایک کسبی کے ساتھ پکڑا گیا۔
ایک دوسرے معاملے میں، ایک سرکردہ عالمی طاقت نے فساد برپا کرنے والے فرقوں کو اَمن کی بحالی کیلئے گفتوشنید کرنے کی غرض سے بلانے کیلئے سفارتی نمائندے بھیجے۔ اس دوران، اسی قوم نے بڑے حرص کا مظاہرہ کرتے ہوئے کروڑوں روپے کی مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کیلئے اپنے تاجرانِاسلحہ کو خارجی قوموں کے پاس بھیجا۔
چونکہ ناشائستہ ریاکاری اسقدر عام ہو گئی ہے تو کیا اس میں کوئی حیرانی کی بات ہے کہ شکوشبہات نے کافی حد تک اعتماد کی جگہ لے لی ہے؟ دوسروں کے محرکات پر اعتراض کرنا بہتیرے لوگوں کی عادت بن گئی ہے۔
مسیحیوں کے طور پر ہمیں محتاط ہونا چاہئے کہ ایسے رجحانات کو وفادار ساتھی ایمانداروں کیساتھ اپنے رشتے پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہ دیں۔ اگرچہ یسوع مسیح نے ہمیں اپنے دُشمنوں کے درمیان ”سانپوں کی مانند ہوشیار“ رہنے کی تاکید کی مگر اُس نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہمیں اُسکے سچے پیروکاروں پر بھی شک کرنا چاہئے۔ (متی ۱۰:۱۶) پس، تو پھر دوسروں پر غلط محرکات کا الزام لگانے کے خطرات کیا ہیں؟ کن حلقوں میں ہمیں ایسے میلان سے گریز کرنے کیلئے خاص طور پر محتاط ہونا چاہئے؟ اور ہم ساتھی مسیحیوں کیساتھ اپنے بیشقیمت رشتے کا دفاع کیسے کر سکتے ہیں؟
ماضی سے ایک سبق
کسی جائز وجہ کے بغیر دوسروں پر غلط محرکات کا الزام لگانا اُنکی عیبجوئی کرنے کے مترادف ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم قبلازوقت یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ اُنکے اقوال یا افعال محض ایک چال ہیں جسکی پُشت پر کوئی پُرفریب اور کینہپرور چیز چھپی ہوئی ہے۔ اکثر حقیقی مسئلہ معاملات کی بابت غلطفہمی پر مبنی نظریہ ہوتا ہے جیسےکہ یشوع ۲۲ باب میں پائے جانے والے بائبل واقعہ سے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی ملکِموعود پر قابض ہو گئے ہیں اور ابھی ابھی اپنے قبائلی علاقہجات حاصل کئے ہیں۔ روبن اور جد کے قبیلوں اور منسی کے آدھے قبیلے نے ملکر یردن کے پاس ایک مذبح بنایا جو ”دیکھنے میں بڑا“ تھا۔ دیگر قبائل غلطی سے یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ تو برگشتگی ہے۔ یہ خیال کِیا گیا کہ تینوں قبیلے پرستش کیلئے مقررکردہ جگہ، سیلا میں موجود خیمۂاجتماع میں جانے کی بجائے اس بڑے مذبحے کو قربانی گزراننے کیلئے استعمال کرینگے۔ الزام لگانے والے قبائل نے فوراً فوجی کارروائی اور حملے کی تیاریاں شروع کر دیں۔—یشوع ۲۲:۱۰-۱۲۔
لیکن اُنہوں نے ایک عقلمندی کی کہ فینحاس کی قیادت میں ایک سرکاری وفد بھیج کر اپنے اسرائیلی بھائیوں سے رابطہ کِیا۔ یہوواہ سے بےوفائی، بغاوت اور برگشتگی کے الزامات سن کر مجرم قبائل نے مبیّنہ طور پر اس بڑے مذبحے کی وجہ بیان کی۔ قربانی کا مذبح ہونے کی بجائے اسے یہوواہ کی پرستش میں اسرائیلی قبائل کے اتحاد کا ”گواہ“ ہونا تھا۔ (یشوع ۲۲:۲۶، ۲۷) وہ وفد اِس اطمینان کیساتھ واپس لوٹا کہ اُنکے بھائی گمراہ نہیں ہوئے تھے۔ یوں وہ خانہجنگی اور ہولناک قتلوغارت سے بالبال بچ گئے۔
ہمارے لئے کیسا عمدہ سبق کہ کبھی بھی دوسروں پر غلط محرکات کا الزام لگانے میں جلدبازی سے کام نہ لیں! اکثر سرسری مشاہدے سے جو بات درست دکھائی دیتی ہے وہ قریبی جائزے سے بالکل فرق معلوم ہوتی ہے۔ یہ بات ایک مسیحی کی زندگی کے بیشتر پہلوؤں میں سچ ثابت ہوتی ہے۔
بزرگوں کی بابت ہمارا نظریہ
”خدا کی کلیسیا کی گلّہبانی“ کرنے کی اپنی ذمہداری کو نبھاتے ہوئے، بزرگ اکثراوقات کلیسیا کے مختلف اشخاص کو مشورت دینا ضروری خیال کرتے ہیں۔ (اعمال ۲۰:۲۸) مثال کے طور پر، اگر کوئی بزرگ ہم سے ہمارے بچوں کی بابت بُری صحبت اور مخالف جنس کے کسی شخص کیساتھ نامناسب طرزِعمل جیسے معاملات پر بات کرتا ہے تو ہمارا ردِعمل کیسا ہوتا ہے؟ کیا ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس میں ضرور اُسکی کوئی نہ کوئی چال ہے اور خود سے یہ کہتے ہیں کہ ’وہ ہمیشہ ہی سے ہمارے خاندان کو پسند نہیں کرتا‘؟ اگر ہم ایسے احساسات کو خود پر حاوی ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں تو ممکن ہے کہ بعد میں ہمیں پچھتانا پڑے۔ ہمارے بچوں کی روحانی فلاحوبہبود خطرے میں ہو سکتی ہے اور اسلئے ہمیں مفید صحیفائی مشورت کی قدر کرنی چاہئے۔—امثال ۱۲:۱۵۔
جب کلیسیا کا کوئی بزرگ ہمیں مشورت دیتا ہے تو آئیے کسی پوشیدہ محرک کی تلاش نہ کریں۔ بلکہ، آئیے خود سے پوچھیں کہ آیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس سے ہم بائبل پر مبنی مشورت سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ پولس رسول نے لکھا: ”بالفعل ہر قسم کی تنبیہ خوشی کا نہیں بلکہ غم کا باعث معلوم ہوتی ہے مگر جو اُسکو سہتے سہتے پُختہ ہو گئے ہیں اُنکو بعد میں چین کے ساتھ راستبازی کا پھل بخشتی ہے۔“ (عبرانیوں ۱۲:۱۱) لہٰذا آئیے ممنون ہوں اور معاملات پر حقیقتپسندی سے غور کریں۔ یاد رکھیں کہ بزرگوں کیلئے مشورت دینا اکثر اُتنا ہی مشکل ہوتا ہے جتناکہ ہمارے لئے اسے قبول کرنا۔
والدین کی بابت احساسات
جب والدین کی طرف سے کچھ پابندیوں کا سامنا ہوتا ہے تو بعض نوجوان اپنے والدین کے محرکات پر شُبہ کرتے ہیں۔ شاید بعض نوجوان کہیں: ’میرے والدین اتنے زیادہ اصول کیوں وضع کرتے ہیں؟ وہ نہیں چاہتے کہ مَیں زندگی سے لطفاندوز ہوں۔‘ تاہم، ایسا نتیجہ اخذ کرنے کی بجائے نوجوان اشخاص کو صورتحال کا حقیقتپسندی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
والدین نے اپنے بچوں کی دیکھبھال کرنے میں کئی سال گزارے ہیں۔ ایسا کرنے کیلئے مادی طور پر اور دیگر لحاظ سے بہت بڑی قربانی دی گئی ہوگی۔ کیا یہ نتیجہ اخذ کرنے کی کوئی وجہ ہے کہ اب وہ اپنے نوعمر بچوں کی زندگی کو عذاب بنا دینے پر اٹل ہیں؟ کیا یہ سوچنا زیادہ معقول نہیں کہ محبت ان والدین کو اپنے بچوں کی حفاظت کرنے اور اُنکی دیکھبھال کرنے کی تحریک دیتی ہے؟ کیا یہی محبت اُنہیں اپنے بچوں پر کچھ پابندیاں عائد کرنے کی ترغیب نہیں دیگی جنہیں اب زندگی میں نئے چیلنجوں کا سامنا ہے؟ ایسے پُرمحبت والدین پر غلط محرکات کا الزام لگانا کسقدر غیرمشفقانہ اور احسانفراموشی ہوگا!—افسیوں ۶:۱-۳۔
ساتھی مسیحیوں کیلئے ہمارا میلان
بہتیرے دوسروں کی بابت پہلے ہی سے رائے قائم کرنے اور اُنہیں اپنی سوچ کے مطابق پرکھنے کا میلان رکھتے ہیں۔ کیا ہو اگر خود ہمارا ایسا میلان تھا اور ہم کسی نہ کسی وجہ سے کچھ لوگوں پر شک کرتے رہے ہیں؟ کیا ہم اس سلسلے میں دُنیا سے متاثر ہو سکتے ہیں؟
مثال کے طور پر، فرض کریں کہ ہمارے کسی روحانی بھائی کے پاس خوبصورت گھر اور قیمتی گاڑی ہے۔ کیا ہمیں بِلاسوچےسمجھے یہ نتیجہ اخذ کر لینا چاہئے کہ وہ ایک مادہپرست شخص ہے جو زندگی میں بادشاہتی مفادات کو مُقدم نہیں رکھ رہا؟ ہو سکتا ہے کہ بعض مسیحی عمدہ چیزوں کی استطاعت رکھتے ہوں لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ بُرے محرکات رکھتے ہیں یا ”پہلے بادشاہی کی تلاش“ نہیں کر رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ کسی پر ظاہر کئے بغیر اپنے مادی اثاثوں کو فیاضی کے ساتھ بادشاہتی مفادات کے فروغ کیلئے استعمال کرتے ہوئے روحانی کارگزاریوں میں بہت زیادہ مشغول ہوں۔—متی ۶:۱-۴، ۳۳۔
پہلی صدی کی مسیحی کلیسیا تمام قسم کے—امیر اور غریب لوگوں پر مشتمل تھی۔ (اعمال ۱۷:۳۴؛ ۱-تیمتھیس ۲:۳، ۴؛ ۶:۱۷؛ یعقوب ۲:۵) خدا لوگوں کو اُن کی معاشی حیثیت سے نہیں پرکھتا اور نہ ہی ہمیں ایسا کرنا چاہئے۔ اور ”کوئی کام طرفداری سے“ نہ کرتے ہوئے ہمیں اپنے پرکھے ہوئے اور وفادار ساتھی ایمانداروں سے محبت رکھنی چاہئے۔—۱-تیمتھیس ۵:۲۱۔
اس دُنیا میں جو شیطان کے قبضے میں پڑی ہوئی ہے، اپنی سوچ کے مطابق پرکھنا اور شکوشبہات رکھنا مختلف صورتیں اختیار کر لیتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو محض اُسکے پسمنظر کی وجہ سے متشدّد یا مادہپرست سمجھا جائے۔ تاہم، مسیحیوں کے طور پر، ہمیں ایسے رجحانات کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ یہوواہ کی تنظیم تعصّب اور بدگمانی کی جگہ نہیں ہے۔ تمام سچے مسیحیوں کو یہوواہ خدا کی نقل کرنے کی ضرورت ہے جس میں ”بےانصافی نہیں ہے اور نہ کسی کی رُوداری . . .ہے۔“—۲-تواریخ ۱۹:۷؛ اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵۔
محبت سے تحریک پائیں
صحائف واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ ”سب نے گناہ کِیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔“ (رومیوں ۳:۲۳) پس ہمیں اپنے ساتھی پرستاروں کو ایسے لوگ سمجھنا چاہئے جو یہوواہ کے حضور قابلِقبول خدمت انجام دینے کی جدوجہد میں ہمارے ساتھ متحد ہیں۔ اگر ہم نے بدگمانی یا منفی احساسات کو روحانی بھائی یا بہن کیساتھ اپنے رشتے کو متاثر کرنے کی اجازت دے دی ہے تو آئیے ایسے رویے کا مقابلہ کرنے میں مدد کیلئے خدا سے دُعا کریں مبادا ہم شیطان کا شکار نہ بن جائیں۔ (متی ۶:۱۳) اُس نے حوا کو اس بات پر قائل کر لیا کہ یہوواہ کے محرکات بُرے تھے، وہ اُسکی فلاحوبہبود کی فکر نہیں رکھتا تھا اور ایسی آزادیوں سے محروم رکھے ہوئے تھا جو اُسے حقیقی خوشی عطا کرینگی۔ (پیدایش ۳:۱-۵) ہمارا اپنے بھائیوں پر غلط محرکات رکھنے کا الزام لگانا اُسکے مقاصد کو پورا کرتا ہے۔—۲-کرنتھیوں ۲:۱۱؛ ۱-پطرس ۵:۸۔
اگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے اندر دوسروں پر غلط محرکات کا الزام لگانے کا میلان ہے تو ہمیں یسوع مسیح کے نمونے پر غور کرنا چاہئے۔ اگرچہ وہ خدا کا کامل بیٹا تھا توبھی وہ اپنے شاگردوں میں بُرے محرکات کی تلاش میں نہیں رہتا تھا۔ اسکی بجائے، یسوع نے اُن میں نیکی کو تلاش کِیا۔ جب اُسکے شاگرد اعلیٰ مرتبے کیلئے مقابلہبازی کر رہے تھے تو اُس نے یہ فرض نہیں کِیا تھا کہ اُنکے محرکات بُرے تھے اور اسلئے اُنکی جگہ ۱۲ نئے رسول مقرر کئے جائیں۔ (مرقس ۹:۳۴، ۳۵) ناکامل ہونے کے باعث، ہو سکتا ہے کہ وہ کسی حد تک برگشتہ یہودی ثقافت سے متاثر ہوں جو تکبّر اور فرقہوارانہ امتیاز پر زور دیتی تھی۔ یسوع جانتا تھا کہ اُسکے پیروکاروں کا بنیادی محرک یہوواہ کیلئے محبت تھا۔ ایسی محبت کا مظاہرہ کرنے اور یسوع سے وابستہ رہنے کیلئے اُنہیں بہت بڑا اجر بخشا گیا۔—لوقا ۲۲:۲۸-۳۰۔
اگر ہم اپنے وفادار ساتھی ایمانداروں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو یہ چیزوں کو کسی دھندلے شیشے میں سے دیکھنے کی مانند ہوگا۔ کوئی بھی چیز اپنے اصلی روپ میں دکھائی نہیں دیگی۔ اسلئے آئیے محبت کے شیشے سے دیکھیں۔ اس بات کی بکثرت شہادت موجود ہے کہ وفادار ساتھی مسیحی ہم سے محبت رکھتے ہیں اور ہماری طرف سے مشفقانہ پاسولحاظ کے مستحق ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۳:۴-۸) پس دُعا ہے کہ ہم اُن کیلئے محبت دکھائیں اور غلط محرکات کا الزام لگانے سے گریز کریں۔
[صفحہ 29 پر تصویر]
آپ وفاداری سے یہوواہ کی پرستش کرنے والے دیگر لوگوں کو کیسا خیال کرتے ہیں؟