سچائی کے وسیلے آزاد کئے گئے
ریاستہائے متحدہ میں، ایک ملین سے زائد لوگ قیدخانوں میں بند ہیں۔ ان میں سے، تقریباً تین ہزار کو سزائےموت سنائی جا چکی ہے۔ خود کو اس حالت میں تصور کریں۔ آپ کیسا محسوس کرینگے؟ بِلاشُبہ ایسا خیال بھی خوفناک ہے۔ تاہم، ایک طرح سے تمام انسان ایسی ہی حالت میں مبتلا ہیں۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”اسلئے کہ سب نے گناہ کِیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔“ (رومیوں ۳:۲۳) جیہاں، آدم کی اولاد کے طور پر، ہم ایک گنہگارانہ حالت میں ”قید“ ہیں۔ (رومیوں ۵:۱۲) مسیحی رسول پولس کی طرح، ہم اپنے قیدوبند کے اثرات کو روزانہ محسوس کرتے ہیں جس نے لکھا: ”مجھے اپنے اعضا میں ایک اَور طرح کی شریعت نظر آتی ہے جو میری عقل کی شریعت سے لڑ کر مجھے اُس گناہ کی شریعت کی قید میں لے آتی ہے جو میرے اعضا میں موجود ہے۔“—رومیوں ۷:۲۳۔
اپنی گنہگارانہ فطرت کی وجہ سے، ہم میں سے ہر ایک علامتی طور پر، موت کی سزا کے تحت ہے کیونکہ بائبل بیان کرتی ہے: ”گناہ کی مزدوری موت ہے۔“ (رومیوں ۶:۲۳) زبورنویس موسیٰ نے ہماری حالت کو کیا خوب بیان کِیا: ”ہماری عمر کی میعاد ستر برس ہے یا قوت ہو تو اَسی برس۔ توبھی اُنکی رونق محض مشقت اور غم ہے کیونکہ وہ جلد جاتی رہتی ہے اور ہم اُڑ جاتے ہیں۔“—زبور ۹۰:۱۰، مقابلہ کریں یعقوب ۴:۱۴۔
نوعِانسان کی گناہ اور موت کی غلامی کو ذہن میں رکھتے ہوئے یسوع نے اپنے پیروکاروں سے یہ بات کہی تھی: ”سچائی تُم کو آزاد کریگی۔“ (یوحنا ۸:۳۲) ان الفاظ کیساتھ، یسوع اپنے پیروکاروں کو رومی حکومت سے آزادی سے کہیں بڑی چیز کی اُمید پیش کر رہا تھا—وہ اُنہیں گناہ کی معافی اور موت سے رہائی کی پیشکش کر رہا تھا! یہ اُنہیں کیسے عطا کی جائیگی؟ ”اگر بیٹا تمہیں آزاد کریگا،“ یسوع نے اُنہیں کہا، ”تو تُم واقعی آزاد ہوگے۔“ (یوحنا ۸:۳۶) جیہاں، اپنی زندگی قربان کرنے سے، ”بیٹے،“ یسوع نے اُس چیز کو واپس خریدنے کیلئے جسے آدم نے کھو دیا تھا مساوی قیمت کی قربانی کا کام دیا۔ (۱-یوحنا ۴:۱۰) اس چیز نے تمام فرمانبردار نوعِانسان کیلئے گناہ اور موت کی غلامی سے آزادی کی راہ کھول دی۔ خدا کا اکلوتا بیٹا مؤا ”تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔“—یوحنا ۳:۱۶۔
پس سچائی جو ہمیں آزاد کر سکتی ہے یسوع مسیح پر مُرتکز ہے۔ اُسکے نقشِقدم پر چلنے والے اُس وقت گناہ اور موت سے آزاد کئے جانے کی اُمید رکھتے ہیں جب خدا کی بادشاہی زمین کے امور کا مکمل اختیار سنبھال لیتی ہے۔ اب بھی، وہ لوگ جو خدا کے کلام کی سچائی کو قبول کرتے ہیں حقیقی آزادی کا تجربہ کرتے ہیں۔ کن طریقوں سے؟
مُردوں کے خوف سے آزادی
آجکل لاکھوں لوگ مُردوں کے خوف میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اُنکے مذہب نے اُنہیں سکھایا ہے کہ موت کے وقت جان بدن کو چھوڑ دیتی ہے اور عالمِارواح میں چلی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض ممالک میں یہ رواج ہے کہ مُتوَفّی کے رشتہداردفن کرنے سے پیشتر کئی دن اور رات پہرہ بیٹھا دیتے ہیں۔ اس میں اکثر زور سے گانا اور ڈھول بجانا شامل ہوتا ہے۔ سوگوار لوگ یقین رکھتے ہیں کہ یہ چیز مُردہ شخص کو خوش کریگی اور اُس کی رُوح کو واپس آنے اور بار بار چکر لگانے سے روکے گی۔ مُردوں کی بابت دُنیائےمسیحیت کی جھوٹی تعلیمات نے محض اس روایت کو برقرار رکھنے کا کام انجام دیا ہے۔
تاہم، بائبل مُردوں کی حالت کی بابت سچائی کو آشکارا کرتی ہے۔ یہ واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ آپکی جان آپ خود ہیں نہ کہ آپ کا کوئی پُراسرار حصہ جو موت کے بعد زندہ رہتا ہے۔ (پیدایش ۲:۷؛ حزقیایل ۱۸:۴) علاوہازیں، مُردوں کو آتشی دوزخ میں اذیت نہیں دی جاتی نہ ہی وہ کسی ایسے عالمِارواح کا حصہ ہیں جو زندوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”مُردے کچھ بھی نہیں جانتے . . . کیونکہ پاتال [شیول] میں جہاں تُو جاتا ہے نہ کام ہے نہ منصوبہ۔ نہ علم نہ حکمت۔“—واعظ ۹:۵، ۱۰۔
ان بائبل سچائیوں نے بہتیرے لوگوں کو مُردوں کے خوف سے آزاد کِیا ہے۔ اب وہ اپنے آباؤاجداد کی تسکین کیلئے بیشقیمت قربانیاں پیش نہیں کرتے نہ ہی وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ اُنکے عزیز اپنی خطاؤں کیلئے بیرحمی کیساتھ اذیت اُٹھا رہے ہیں۔ اُنہوں نے سیکھ لیا ہے کہ جو وفات پا گئے ہیں بائبل اُن کیلئے شاندار اُمید پیش کرتی ہے کیونکہ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ خدا کے مقررہ وقت پر، ”راستبازوں اور ناراستوں دونوں کی قیامت“ ہوگی۔ (اعمال ۲۴:۱۵؛ یوحنا ۵:۲۸، ۲۹) لہٰذا، اس وقت مُردے محض آرام کر رہے ہیں گویا کہ گہری نیند میں ہیں۔—مقابلہ کریں یوحنا ۱۱:۱۱-۱۴۔
مُردوں کی حالت کی بابت سچائی اور اُمیدِقیامت ہمیں اس پریشانی سے آزاد کر سکتی ہیں جو موت اپنے ساتھ لاتی ہے۔ ایسی اُمید نے ریاستہائےمتحدہ میں ایک شادیشُدہ جوڑے کو اُس وقت سنبھالے رکھا جب اُنکا چار سالہ بیٹا ایک حادثے میں ہلاک ہو گیا۔ ”ہماری زندگیوں میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جو اُس وقت تک پُر نہیں ہو سکتا جب تک ہم اپنے بیٹے کو قیامت میں دوبارہ نہیں دیکھتے،“ اُسکی ماں تسلیم کرتی ہے۔ ”مگر ہم جانتے ہیں کہ ہمارا دُکھ عارضی ہے کیونکہ یہوواہ ہمارے غم کے آنسو پونچھ دینے کا وعدہ کرتا ہے۔“—مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
مستقبل کے خوف سے آزادی
مستقبل کیا تھامے ہوئے ہے؟ کیا ہماری زمین نیوکلیئر تباہی میں جل کر راکھ ہو جائیگی؟ کیا زمین کے ماحول کی بربادی ہمارے سیّارے کو ناقابلِرہائش بنا دیگی؟ کیا اخلاقی تنزلی سخت بدنظمی اور ابتری کا باعث بنے گی؟ آجکل بہتیروں کیلئے یہ حقیقی خوف ہیں۔
تاہم، بائبل ایسے ہولناک خدشات سے آزادی دلاتی ہے۔ یہ ہمیں یقین دلاتی ہے کہ ”زمین ہمیشہ قائم رہتی ہے۔“ (واعظ ۱:۴) یہوواہ نے ہمارے سیّارے کو محض غیرذمہدار اشخاص کے ہاتھوں تباہوبرباد ہونے کیلئے خلق نہیں کِیا تھا۔ (یسعیاہ ۴۵:۱۸) بلکہ یہوواہ نے زمین کو متحد انسانی خاندان کیلئے ایک فردوسی گھر کے طور پر خلق کِیا تھا۔ (پیدایش ۱:۲۷، ۲۸) اُس کا مقصد تبدیل نہیں ہوا۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ خدا ”زمین کے تباہ کرنے والوں کو تباہ کریگا۔“ (مکاشفہ ۱۱:۱۸) اسکے بعد، ”حلیم مُلک کے وارث ہونگے،“ بائبل بیان کرتی ہے، ”اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔“—زبور ۳۷:۱۱۔
یہ وعدہ قابلِاعتماد ہے کیونکہ خدا جھوٹ نہیں بولتا۔ یہوواہ نے اپنے نبی یسعیاہ کی معرفت فرمایا: ”میرا کلام جو میرے مُنہ سے نکلتا ہے . . . بےانجام میرے پاس واپس نہ آئیگا بلکہ جوکچھ میری خواہش ہوگی وہ اُسے پورا کریگا اور اُس کام میں جس کیلئے مَیں نے اُسے بھیجا مؤثر ہوگا۔“ (یسعیاہ ۵۵:۱۱؛ ططس ۱:۲) پس ہم، اعتماد کیساتھ بائبل میں ۲-پطرس ۳:۱۳ میں درج خدا کے وعدے کی تکمیل کی اُمید رکھ سکتے ہیں: ”اُسکے وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہیگی۔“
انسان کے خوف سے آزادی
بائبل ہمیں ایسے مردوں اور عورتوں کی قابلِقدر مثالیں فراہم کرتی ہے جنہوں نے خدا کیلئے اپنی عقیدت میں دلیری کا مظاہرہ کِیا۔ ان میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں: جدعون، برق، دبورہ، دانیایل، آستر، یرمیاہ، ابیجیل اور یاعیل۔ ان وفادار مردوں اور عورتوں نے زبورنویس جیسا رویہ ظاہر کِیا جس نے لکھا: ”میرا توکل خدا پر ہے۔ مَیں ڈرنے کا نہیں۔ انسان میرا کیا کر سکتا ہے؟“—زبور ۵۶:۱۱۔
پہلی صدی میں جب مذہبی حکام نے پطرس اور یوحنا رسول کو منادی بند کرنے کا حکم دیا تو اُنہوں نے بھی اسی قسم کی دلیری کا مظاہرہ کِیا۔ ”کیونکہ ممکن نہیں،“ اُنہوں نے جواب دیا، ”کہ جوکچھ ہم نے دیکھا اور سنا ہے وہ نہ کہیں۔“ اپنے ٹھوس مؤقف کے باعث، بعدازاں پطرس اور یوحنا کو قید کر دیا گیا۔ اپنی معجزانہ رہائی کے بعد، وہ واپس گئے اور ”خدا کا کلام دلیری سے سناتے“ رہے۔ جلد ہی پطرس اور دوسرے رسولوں کو یہودی صدرِعدالت کے رُوبرو پیش کِیا گیا۔ ”ہم نے تو تمہیں سخت تاکید کی تھی کہ یہ نام لیکر تعلیم نہ دینا،“ سردار کاہن نے اُن سے کہا، ”مگر دیکھو تُم نے تمام یرؔوشلیم میں اپنی تعلیم پھیلا دی۔“ پطرس اور دیگر رسولوں نے جواب دیا: ”ہمیں آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے۔“—اعمال ۴:۱۶، ۱۷، ۱۹، ۲۰، ۳۱؛ ۵:۱۸-۲۰، ۲۷-۲۹۔
خدا کی بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کے اپنے کام میں آجکل یہوواہ کے گواہ پہلی صدی کے مسیحیوں کے جوشوجذبے کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اُن کے تو نوجوان بھی اپنے ایمان کی بابت دوسروں سے کلام کرنے سے خود کو اکثر دلیر ثابت کرتے ہیں۔ چند ایک مثالوں پر غور کریں۔
نوعمر سٹاسی فطرتاً شرمیلی ہے۔ نتیجتاً، شروع شروع میں دوسروں سے اپنے ایمان کی بابت گفتگو کرنا ایک چیلنج تھا۔ اپنے شرمیلےپن پر قابو پانے کیلئے اُس نے کیا کِیا؟ ”مَیں نے بائبل کا مطالعہ کِیا اور اس بات کا یقین کر لیا کہ مَیں جس چیز کی بابت گفتگو کرتی ہوں اُسے سمجھتی ہوں،“ وہ بیان کرتی ہے۔ ”اس چیز نے اسے آسان بنا دیا اور میرے اندر زیادہ خوداعتمادی پیدا ہو گئی۔“ سٹاسی کی عمدہ شہرت کی بابت مقامی اخبار میں لکھا گیا۔ اُس کے سکول کی ایک ٹیچر کے تحریرکردہ مضمون نے تبصرہ کِیا: ”ایسا دکھائی دیتا ہے کہ [سٹاسی] کے ایمان نے اُسے ایسے بہت سے دباؤں کا سامنا کرنے کی قوت بخشی ہے جو زیادہتر نوعمر محسوس کرتے ہیں۔ . . . وہ محسوس کرتی ہے کہ خدا کی خدمت کو اُسکے دلودماغ میں پہلے درجے پر ہونا چاہئے۔“
ٹامی نے اپنے والدین سے اُس وقت سیکھنا شروع کِیا جب وہ صرف پانچ سال کا تھا۔ اوائل عمری ہی میں اُس نے سچی پرستش کیلئے دلیرانہ مؤقف اختیار کِیا۔ جبکہ اُس کے نوجوان ہمجماعت تعطیلات کی منظرکشی کرنے والی تصاویر بناتے تھے تو ٹامی خدا کے موعودہ فردوس کے مناظر بناتا تھا۔ نوعمر کے طور پر، ٹامی نے محسوس کِیا کہ بہت سے طالبعلم یہوواہ کے گواہوں کے عقائد کی بابت حیران تھے۔ خوف سے خاموش ہو جانے کی بجائے، اُس نے اپنے اساتذہ میں سے ایک سے اجازت طلب کی کہ آیا وہ اپنی جماعت کیساتھ سوالاًجواباً گفتگو کر سکتا ہے تاکہ وہ بیکوقت اُن کے تمام سوالات کے جواب دے سکے۔ اس بات کی اجازت مِل گئی اور ایک عمدہ گواہی دی گئی۔
جب مارکیٹا ۱۷ برس کی تھی تو اُسے اپنی جماعت میں دوسروں کیساتھ اپنے ایمان سے متعلق گفتگو کرنے کا شاندار موقع میسر ہوا۔ ”ہمیں ایک تقریر تیار کرنے کی تفویض دی گئی،“ وہ کہتی ہے۔ ”مَیں نے اپنے موضوع کا انتخاب کتاب کویسچنز ینگ پیپل آسک—آنسرز دیٹ ورک سے کِیا۔a مَیں نے کتاب میں سے پانچ ابواب منتخب کئے اور اُنکے عنوان تختہسیاہ پر لکھ دئے۔ مَیں نے جماعت سے کہا کہ وہ اُنہیں اُس بہترین ترتیب سے لکھیں جو اُنکے خیال میں نہایت اہم ہے۔“ جماعت کی شرکت کیساتھ گفتگو شروع ہو گئی۔ ”مَیں نے جماعت کو کتاب دکھائی،“ مارکیٹا آخر میں بیان کرتی ہے، ”کئی ایک طالبعلموں نے ایک کاپی کی درخواست کی۔ میری ٹیچر نے کہا کہ اُسے بھی ایک کاپی چاہئے۔“
سچائی آپکو آزاد کر سکتی ہے
جیسےکہ ہم نے دیکھا بائبل میں پائی جانے والی سچائی ہر عمر کے لوگوں کو آزاد کرنے کی تاثیر رکھتی ہے جو اسکا مطالعہ کرتے اور اس کے پیغام کو دل میں جگہ دیتے ہیں۔ یہ اُنہیں مُردوں کے خوف سے، مستقبل کے خوف سے اور انسان کے خوف سے آزاد کرتی ہے۔ بالآخر، یسوع کا فدیہ فرمانبردار نوعِانسان کو گناہ اور موت سے آزاد کریگا۔ اپنی موروثی گنہگارانہ حالت سے آزاد، فردوسی زمین پر ابد تک زندہ رہنا کسقدر خوشی کا باعث ہوگا!—زبور ۳۷:۲۹۔
کیا آپ اُن برکات کی بابت مزید جاننا پسند کرینگے جنکا خدا نے وعدہ کِیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہئے؟ یسوع نے فرمایا: ”ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدایِواحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں۔“ (یوحنا ۱۷:۳) لہٰذا اگر آپ اُس آزادی کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں جسکا وعدہ یسوع نے اپنے شاگردوں سے کِیا تھا تو آپکو یہوواہ خدا اور اُس کے بیٹے کی بابت جاننا چاہئے۔ آپکو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ خدا کی مرضی کیا ہے اور پھر اس پر عمل کریں کیونکہ بائبل بیان کرتی ہے: ”دُنیا اور اُسکی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہیگا۔“—۱-یوحنا ۲:۱۷۔
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ۔