مذہبی آزادی آپ کیلئے کیا مطلب رکھتی ہے؟
اگرچہ ریاستہائےمتحدہ میں مذہبی آزادی کو بنیادی حق خیال کِیا جاتا ہے، ۱۹۴۰ کے دہے میں یہوواہ کے گواہوں کے خلاف مُلک بھر میں اجتماعی تشدد کی لہر دوڑ گئی
لاکھوں افراد نے اس کیلئے جدوجہد کی ہے۔ بعض نے تو اس کیلئے اپنی جان بھی دے دی ہے۔ واقعی یہ انسان کے بیشقیمت اثاثوں میں سے ایک ہے۔ یہ کیا ہے؟ آزادی! دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا آزادی کو ”انتخابات اور اُنکی تعمیل کرنے کی اہلیت“ کے طور پر بیان کرتا ہے۔ یہ بیان کو جاری رکھتا ہے: ”قانونی نقطۂنظر سے، اگر معاشرہ لوگوں پر غیرمنصفانہ، غیرضروری یا نامناسب حدبندیاں عائد نہ کرے تو وہ آزاد ہوتے ہیں۔ معاشرے کو اُن کے حقوق یعنی اُنکی بنیادی آزادیوں، صلاحیتوں اور استحقاقات کا بھی تحفظ کرنا چاہئے۔“
یہ خیال نہایت معقول دکھائی دیتا ہے۔ تاہم، لوگوں کا عملاً اُس نکتہ پر متفق ہو جانا جہاں آزادی کی حدود کا تعیّن کِیا جانا چاہئے درحقیقت ناممکن نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر، بعض کہتے ہیں کہ اپنے شہریوں کی آزادی کے تحفظ کیلئے حکومت کو قوانین وضع کرنے چاہئیں۔ جبکہ دوسرے دلیل دیتے ہیں کہ یہ قوانین ہی وہ پابندیاں ہیں جن سے شہریوں کو آزاد کرانے کی ضرورت ہے! واضح طور پر، آزادی مختلف لوگوں کیلئے مختلف مطلب رکھتی ہے۔
مذہبی آزادی کی بابت کیا ہے؟
شاید جس آزادی کی بابت سب سے زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے وہ مذہب کی آزادی ہے جسے ”ایک شخص کے اپنے منپسند عقیدے پر یقین رکھنے اور اُس پر عمل کرنے“ کے طور پر بیان کِیا گیا ہے۔ اقوامِمتحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے مطابق، ”ہر شخص کو رائےزنی، ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہے۔“ اس میں ایک شخص کا ”تعلیم دینے، عمل کرنے، پرستش اور مذہبی رسوم ادا کرنے کے سلسلے میں اپنے مذہب یا اعتقاد کا اظہار“ کرنے کی آزادی کیساتھ ساتھ ”اپنے مذہب یا اعتقاد،“ کو تبدیل کرنے کا حق بھی شامل ہے۔—آرٹیکل ۱۸۔
یقیناً ہم کسی بھی ایسی قوم سے جو خلوصدلی کے ساتھ اپنی رعایا کو ایسی آزادی فراہم کرنے کے لئے کوشاں رہتی ہے یہی توقع کریں گے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمیشہ ایسا واقع نہیں ہوتا۔ ”مذہب بہتیرے لوگوں کے اندرونی احساسات پر اثرانداز ہوتا ہے،“ دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے۔ ”بعض حکومتیں کسی مخصوص مذہب سے زیادہ وابستگی رکھتی ہیں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو سیاسی اقتدار کیلئے ایک خطرہ خیال کرتی ہیں۔ کوئی حکومت مذہب کو سیاسی طور پر خطرناک خیال کر سکتی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ مذاہب خدا کی فرمانبرداری کو حکومت کی اطاعت سے مُقدم رکھتے ہوں۔“
ان وجوہات کی بِنا پر بعض حکومتیں مذہب کی پیروی پر پابندیاں عائد کرتی ہیں۔ چند ایک تو کسی بھی مذہب کی پیروی کرنے کی حوصلہشکنی کرتی ہیں۔ اگرچہ دیگر آزادانہ پرستش کی حمایت کا دعویٰ کرتی ہیں توبھی تمامتر مذہبی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھتی ہیں۔
مثال کے طور پر، اُس حالت پر غور کریں جو کافی سال سے میکسیکو میں قائم رہی۔ اگرچہ آئین نے مذہبی آزادی کی ضمانت دی تھی توبھی اس نے شرط عائد کی: ”عوامی عبادت کیلئے استعمال ہونے والے گرجہگھر قوم کی ملکیت ہیں، جس کی نمائندگی وفاقی حکومت کرتی ہے جو اس بات کا تعیّن کریگی کہ کن کن کو اس طرح سے استعمال کِیا جا سکتا ہے۔“ یہ پابندی ہٹانے کیلئے ۱۹۹۱ میں آئین میں ترمیم کی گئی۔ بہرصورت، یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ مختلف ممالک میں مذہبی آزادی میں مختلف طریقے سے مداخلت کی جا سکتی ہے۔
ایک اَور قسم کی مذہبی آزادی
آپ جس مُلک میں رہتے ہیں کیا وہاں مذہبی آزادی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اسے کیسے بیان کِیا جاتا ہے؟ کیا آپ جس طریقے سے چاہیں خدا کی پرستش کر سکتے ہیں یا کیا آپ کو ریاستی مذہب کا رُکن بننے پر مجبور کِیا جاتا ہے؟ کیا آپکو مذہبی لٹریچر پڑھنے اور اسکی نشرواشاعت کی اجازت ہے یا کیا حکومت ایسے مطبوعہ مواد پر پابندی عائد کرتی ہے؟ کیا آپ دوسرے لوگوں سے اپنے ایمان کی بابت گفتگو کر سکتے ہیں یا کیا اسے اُنکے مذہبی حقوق کی خلافورزی خیال کِیا جاتا ہے؟
ان سوالات کے جوابات کا انحصار اُس علاقے پر ہے جہاں آپ رہتے ہیں۔ تاہم، دلچسپی کی بات ہے کہ ایک قسم کی مذہبی آزادی ہے جو قطعاً کسی علاقے پر انحصار نہیں کرتی۔ ۳۲ س.ع. میں جبکہ یسوع ابھی یروشلیم میں ہی تھا تو اُس نے اپنے پیروکاروں سے کہا: ”اگر تُم میرے کلام پر قائم رہو گے تو حقیقت میں میرے شاگرد ٹھہروگے اور سچائی سے واقف ہوگے اور سچائی تُم کو آزاد کریگی۔“—یوحنا ۸:۳۱، ۳۲۔
اس بیان سے یسوع کا کیا مطلب تھا؟ اُس کے یہودی سامعین رومی حکومت سے آزادی کے خواہاں تھے۔ لیکن یسوع سیاسی استبداد سے آزادی کی بات نہیں کر رہا تھا۔ بلکہ وہ اپنے شاگردوں سے کہیں بہتر چیز کا وعدہ کر رہا تھا جیسےکہ ہم اگلے مضمون میں دیکھینگے۔