سابق جج معافی مانگتا ہے—۴۵ سال بعد
اگست ۱۹۹۵ میں، برلنؔ کے ایک کمرۂعدالت میں، سپریم کورٹ کے ایک سابق جج نے یہوؔواہ کے ایک گواہ کے سامنے اپنی غلطی کیلئے پشیمانی کا اظہار کِیا جو اُس سے ۴۵ سال پہلے سرزد ہوئی تھی۔
اکتوبر ۱۹۵۰ میں، جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک (جیڈیآر) کے سپریم کورٹ نے نو یہوؔواہ کے گواہوں کو حکومت کے خلاف تحریک چلانے اور جاسوسی کرنے کے مجرم قرار دیا۔ دو کو عمر قید کی سزا سنائی گئی اور دیگر سات کو طویلاُلمدت قید کی سزا سنائی گئی—جن میں تصویر میں چوتھے نمبر کا مدعاعلیہ—۲۲ سالہ لوتھرؔ ہارنک بھی شامل ہے۔
چالیس سال بعد، جیڈیآر فیڈرل ریپبلک آف جرمنیؔ کا حصہ بن گئی۔ اُس وقت سے لیکر حکامِبالا نے سابقہ جیڈیآر سے سرزد ہونے والی چند ایک ناانصافیوں کی تحقیقوتفتیش کی اور اس کے ذمہدار اشخاص کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ایسی ہی ناانصافی ۱۹۵۰ میں سپریم کورٹ میں گواہوں کا ایک مقدمہ تھا۔
الفرؔیڈ ٹریپ، جو اب ۸۰ سال کا ہے، اُن تین ججوں میں سے ایک تھا جنہوں نے نو گواہوں پر مقدمہ چلائے جانے کے وقت فیصلہ سنایا تھا۔ اب قانون کے غلط استعمال کے الزام کیساتھ، وہ برلنؔ کے ریجنل کورٹ میں پیش ہوا تاکہ اپنے فیصلے کی توجیہ کرے۔
عدالت کے سامنے اپنے بیان میں، سابق جج نے تسلیم کِیا کہ ۴۵ سال پہلے اُس نے مجرم قرار دینے کے فیصلے کے حق میں رائے دی تھی، اگرچہ اُس نے کم سزاؤں کی حمایت کی تھی۔ لیکن حالیہ مقدمے نے اُسے دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ کیوں؟ یہوؔواہ کے گواہوں کو دوسری عالمی جنگ کے دوران نازیوں کے ہاتھوں اذیت دی گئی کیونکہ اُنہوں نے ہٹلرؔ کی حمایت کرنے سے انکار کِیا تھا۔ جنگ کے بعد گواہوں کو دوبارہ اذیت دی گئی، اس مرتبہ کیمونسٹ نظامِحکومت کے ذریعے۔ یہ چیز ٹریپ کیلئے ”انتہائی پریشانی“ کا باعث بنی۔
لوتھرؔ ہارنک نے عدالت کو بتایا کہ اُس نے ساڑھے پانچ سال قیدِتنہائی میں گزارے ہیں اور اُسے ۱۹۵۹ تک برینڈنبرگ کے قیدخانے سے رہائی نہیں ملی تھی۔ ہارنک کا بیان سننے کے بعد، سابق جج رونے لگا۔ ”مجھے بہت افسوس ہے،“ اُس نے آہ بھری۔ ”براہِمہربانی مجھے معاف کر دیں۔“ ہارنک نے معذرت قبول کر لی۔—مقابلہ کریں لوقا ۲۳:۳۴۔ (۳۲ ۰۷/۰۱ w۹۶)
[صفحہ 32 پر تصویر کا حوالہ]
Neue Berliner Illustrierte