یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏8 ص.‏ 27-‏31
  • سچی پرستش کی فتح قریب آتی ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سچی پرستش کی فتح قریب آتی ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • خدا کی روحانی ہیکل میں پردیسی
  • پاک مقام اور اسکا سازوسامان
  • سچی پرستش کی مکمل فتح
  • زمینی قیامت
  • علامتی عیدِخیام
  • عیدیں اسرائیل کی تاریخ کے سنگِ‌میل
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • ‏”‏تُو پوری پوری خوشی کرنا“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • یہوؔواہ کی عظیم روحانی ہیکل
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • پاک خدمت سرانجام دینے والی ایک بڑی بھیڑ
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏8 ص.‏ 27-‏31

سچی پرستش کی فتح قریب آتی ہے

‏”‏خداوند ساری دُنیا کا بادشاہ ہوگا۔“‏—‏زکریاہ ۱۴:‏۹۔‏

۱.‏ پہلی عالمی جنگ کے دوران ممسوح مسیحیوں کا کیا تجربہ تھا، اور اسکی کیسے پیش‌گوئی کی گئی تھی؟‏

پہلی عالمی جنگ کے دوران، ممسوح مسیحیوں نے جنگ کرنے والی مسیحی اقوام کے ہاتھوں بہت سی مشکلات اور قیود برداشت کیں۔ یہوؔواہ کے لئے اُن کی حمد کی قربانیوں پر سخت پابندی عائد تھی اور وہ روحانی طور پر اسیری کی حالت میں چلے گئے تھے۔ زکریاہ ۱۴:‏۲ میں اس سب کی پیش‌گوئی کی گئی تھی، جوکہ یرؔوشلیم پر بین‌الاقوامی حملے کو بیان کرتی ہے۔ اس پیشینگوئی کا شہر ”‏آسمانی یرؔوشلیم،“‏ یعنی خدا کی آسمانی بادشاہت اور ”‏خدا اور برّہ کے تخت“‏ کا مقام ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۲:‏۲۲،‏ ۲۸؛‏ ۱۳:‏۱۴؛‏ مکاشفہ ۲۲:‏۳‏)‏ زمین پر خدا کے ممسوح لوگوں نے اُس شہر کی نمائندگی کی۔ خود کو اُس ”‏شہر میں سے“‏ اسیر کرکے لے جانے کی اجازت نہ دیتے ہوئے، اُن میں سے وفادار اشخاص حملے سے بچ گئے۔‏a

۲، ۳.‏ (‏ا)‏ ۱۹۱۹ سے لیکر یہوؔواہ کی پرستش نے کیسے فتح حاصل کی ہے؟ (‏ب)‏ ۱۹۳۵ سے لیکر، کونسی ترقی واقع ہوئی ہے؟‏

۲ ۱۹۱۹ میں وفادار ممسوح اشخاص اپنی اسیری کی حالت سے آزاد کر دیئے گئے اور اُنہوں نے فوری طور پر جنگ کے بعد کے پُراَمن دَور سے فائدہ اُٹھایا۔ آسمانی یرؔوشلیم کے ایلچیوں کے طور پر، اُنہوں نے خدا کی بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرنے اور ۱،۴۴،۰۰۰ کے آخری ارکان کو جمع کرنے میں مدد دینے کے شاندار موقع سے فائدہ اُٹھایا۔ (‏متی ۲۴:‏۱۴؛‏ ۲-‏کرنتھیوں ۵:‏۲۰‏)‏ ۱۹۳۱ میں اُنہوں نے موزوں صحیفائی نام یہوؔواہ کے گواہ اختیار کِیا۔—‏یسعیاہ ۴۳:‏۱۰،‏ ۱۲‏۔‏

۳ اُس وقت سے لیکر، خدا کے ممسوح گواہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ یہانتک‌کہ ہٹلرؔ بھی اپنی جنگی تنظیم کے ذریعے اُنہیں خاموش نہیں کرا سکا تھا۔ عالمگیر ایذارسانی کے باوجود، اُنکا کام ساری زمین پر پھلدار ثابت ہوا ہے۔ خاص طور پر ۱۹۳۵ کے سال سے لیکر، مکاشفہ کی کتاب میں بیان‌کردہ بین‌الاقوامی ”‏بڑی بِھیڑ“‏ بھی اُن کیساتھ شامل ہو گئی ہے۔ یہ بھی مخصوص‌شُدہ، بپتسمہ‌یافتہ مسیحی ہیں اور ”‏انہوں نے اپنے جامے برّہ“‏ یسوؔع مسیح ”‏کے خون سے دھو کر سفید کئے ہیں۔“‏ (‏مکاشفہ ۷:‏۹،‏ ۱۴‏)‏ تاہم، وہ آسمانی زندگی کی اُمید والے ممسوح لوگ نہیں ہیں۔ جو آؔدم اور حوؔا نے کھو دیا تھا اُنکی اُمید اُسے حاصل کرنے کی ہے، یعنی فردوسی زمین پر کامل انسانی زندگی۔ (‏زبور ۳۷:‏۲۹؛‏ متی ۲۵:‏۳۴‏)‏ آجکل بڑی بِھیڑ کی تعداد پانچ ملین سے زیادہ ہے۔ یہوؔواہ کی سچی پرستش فتح پا رہی ہے، لیکن اسکی حتمی فتح ابھی باقی ہے۔‏

خدا کی روحانی ہیکل میں پردیسی

۴، ۵.‏ (‏ا)‏ بڑی بِھیڑ کہاں پر یہوؔواہ کی پرستش کرتی ہے؟ (‏ب)‏ وہ کونسے استحقاقات سے لطف‌اندوز ہوتی ہے اور کس پیشینگوئی کی تکمیل میں؟‏

۴ پیش‌گوئی کے مطابق، بڑی بِھیڑ کے لوگ ”‏اُسکے مقدِس میں رات اور دن [‏خدا]‏ کی عبادت کرتے ہیں۔“‏ (‏مکاشفہ ۷:‏۱۵‏)‏ چونکہ وہ روحانی، کہانتی اسرائیلی نہیں ہیں، یوؔحنا غالباً اُنہیں غیرقوموں کے بیرونی صحن میں کھڑے دیکھتا ہے۔ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۵‏)‏ یہوؔواہ کی روحانی ہیکل، بڑی بِھیڑ سے معمور اپنے گِردونواح کیساتھ، کسقدر پُرجلال بن گئی ہے جو روحانی اسرائیل کے بقیہ کیساتھ ملکر اُسکی حمد کر رہے ہیں!‏

۵ بڑی بِھیڑ خدا کی خدمت اُس حالت میں نہیں کرتی جسکی تصویرکشی اندرونی کہانتی صحن سے کی گئی ہے۔ اُنہیں خدا کے لے‌پالک روحانی بیٹے ہونے کی غرض سے راستباز نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ (‏رومیوں ۸:‏۱،‏ ۱۵‏)‏ تاہم، یسوؔع کے فدیے پر ایمان رکھنے سے، وہ یہوؔواہ کے حضور پاک حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اُسکے دوست ہونے کی غرض سے راستباز ٹھہرائے گئے ہیں۔ (‏مقابلہ کریں یعقوب ۲:‏۲۱،‏ ۲۳‏۔)‏ اُنہیں بھی خدا کی روحانی قربانگاہ پر قابلِ‌قبول قربانیاں پیش کرنے کا شرف حاصل ہے۔ پس، اس بڑی بِھیڑ میں، یسعیاہ ۵۶:‏۶، ۷ کی پیشینگوئی شاندار تکمیل پا رہی ہے:‏ ”‏بیگانہ کی اولاد بھی جنہوں نے اپنے آپ کو خداوند سے پیوستہ کِیا ہے کہ اُسکی خدمت کریں اور خداوند کے نام کو عزیز رکھیں .‏ .‏ .‏ مَیں اُنکو بھی اپنے کوہِ‌مُقدس پر لاؤنگا اور اپنی عبادت‌گاہ میں اُنکو شادمان کرونگا اور اُنکی سوختنی قربانیاں اور اُنکے ذبیحے میرے مذبح پر مقبول ہونگے کیونکہ میرا گھر سب لوگوں کی عبادت‌گاہ کہلائیگا۔“‏

۶.‏ (‏ا)‏ پردیسی کس قسم کی قربانیاں پیش کرتے ہیں؟ (‏ب)‏ کہانتی صحن میں پانی کا حوض اُنہیں کس چیز کی یاد دلاتا ہے؟‏

۶ یہ بیگانے جو قربانیاں پیش کرتے ہیں اُن میں ”‏ہونٹوں کا پھل [‏اچھی طرح تیارکردہ گیہوں کے نذرانوں کی مانند]‏ جو [‏خدا کے]‏ نام کا اقرار کرتے ہیں“‏ اور ”‏بھلائی اور سخاوت کرنا“‏ شامل ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۳:‏۱۵، ۱۶‏)‏ پانی کا بڑا حوض بھی جسے کاہن خود کو پاک‌صاف کرنے کیلئے استعمال کرتے تھے ان بیگانوں کیلئے ایک اہم یاددہانی ہے۔ جب خدا کے کلام کو اُن پر بتدریج واضح کِیا جاتا ہے تو اُنہیں بھی روحانی اور اخلاقی صفائی کے عمل کی اطاعت کرنی چاہئے۔‏

پاک مقام اور اسکا سازوسامان

۷.‏ (‏ا)‏ بڑی بِھیڑ کاہنوں کے مُقدس فرقے کو کیسا خیال کرتی ہے؟ (‏ب)‏ بعض پردیسیوں نے کونسے اضافی استحقاقات حاصل کئے ہیں؟‏

۷ کیا پاک مقام اور اسکا سازوسامان بیگانوں کی اس بڑی بِھیڑ کیلئے کوئی مطلب رکھتا ہے؟ بجا طور پر، وہ اُس حالت میں تو کبھی نہیں ہونگے جس کی تصویرکشی پاک مقام سے کی گئی ہے۔ وہ آسمانی شہریت کے مالک خدا کے روحانی بیٹوں کے طور پر نئے سرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں۔ کیا یہ اُن کے حاسد یا حریص محسوس کرنے کا باعث بنتا ہے؟ ہرگز نہیں، اسکی بجائے، وہ ۱،۴۴،۰۰۰ کے بقیے کی حمایت کرنے کے اپنے استحقاق سے خوش ہوتے ہیں اور وہ ان روحانی بیٹوں کو لے‌پالک بنانے کے خدا کے مقصد کیلئے گہری قدردانی ظاہر کرتے ہیں جو نوعِ‌انسان کو کاملیت تک پہنچانے کیلئے مسیح کیساتھ شریک ہونگے۔ نیز، پردیسیوں کی بڑی بِھیڑ اُنہیں فردوس میں ہمیشہ کی زندگی کی زمینی اُمید عطا کئے جانے کیلئے خدا کے غیرمستحق فضل کی بڑی قدرافزائی کرتی ہے۔ ان میں سے بعض پردیسیوں کو، قدیم زمانے کے نتنیم کی طرح، کاہنوں کے مُقدس فرقے کی معاونت کے لئے نگہبانی کے استحقاقات عطا کئے گئے ہیں۔‏b (‏یسعیاہ ۶۱:‏۵‏)‏ ان میں سے یسوؔع ”‏تمام رُویِ‌زمین پر سردار“‏ مقرر کرتا ہے۔—‏زبور ۴۵:‏۱۶‏۔‏

۸، ۹.‏ پاک مقام کے سازوسامان پر غور کرنے سے بڑی بِھیڑ کونسا فائدہ حاصل کرتی ہے؟‏

۸ اگرچہ وہ کبھی بھی علامتی پاک مقام میں داخل نہیں ہونگے، توبھی پردیسیوں کی بڑی بِھیڑ اسکے سازوسامان سے بیش‌قیمت اسباق سیکھتی ہے۔ جیسے شمعدان میں متواتر تیل ڈالنے کی ضرورت تھی، بالکل ویسے ہی پردیسیوں کو ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ کی معرفت فراہم‌کردہ خدا کے کلام کی ترقی‌پسندانہ سچائیوں کو سمجھنے میں مدد کیلئے رُوح‌اُلقدس کی ضرورت ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ علاوہ‌ازیں، خدا کی رُوح اُنہیں اس دعوت کا جواب دینے میں مدد دیتی ہے:‏ ”‏رُوح اور دُلہن کہتی ہیں آ اور سننے والا بھی کہے آ۔ اور جو پیاسا ہو وہ آئے اور جو کوئی چاہے آبِ‌حیات مُفت لے۔“‏ (‏مکاشفہ ۲۲:‏۱۷‏)‏ لہٰذا، شمعدان بڑی بِھیڑ کو اُنکی مسیحیوں کے طور پر چمکنے اور رویے، خیال، کلام یا عمل میں کسی بھی ایسی چیز سے گریز کرنے کی ذمہ‌داری کی یاددہانی کراتا ہے جو خدا کی پاک رُوح کو رنجیدہ کریگی۔—‏افسیوں ۴:‏۳۰‏۔‏

۹ نذر کی روٹی کی میز بڑی بِھیڑ کو یاد دِلاتی ہے کہ روحانی طور پر صحتمند رہنے کیلئے، لازم ہے کہ وہ باقاعدگی سے بائبل اور ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ کی مطبوعات سے روحانی خوراک حاصل کریں۔ (‏متی ۴:‏۴‏)‏ بخور کی قربانگاہ اُنہیں اپنی راستی برقرار رکھنے میں مدد کی خاطر اشتیاق کیساتھ یہوؔواہ سے دُعا کرنے کی اہمیت کی یاد دلاتی ہے۔ (‏لوقا ۲۱:‏۳۶‏)‏ اُنکی دُعاؤں میں حمدوتعریف اور شکرگزاری کے دلی اظہارات شامل ہونے چاہئیں۔ (‏زبور ۱۰۶:‏۱‏)‏ بخور کی قربانگاہ اُنہیں دوسرے طریقوں سے بھی خدا کی حمد کرنے کی ضرورت کی بابت یاد دِلاتی ہے، جیسے‌کہ اپنے مسیحی اجلاسوں پر جوش‌وخروش کیساتھ بادشاہتی گیت گانے سے اور مؤثر طور پر ”‏نجات کیلئے مُنہ سے اقرار“‏ کرنے کیلئے اپنی عمدہ تیاری سے۔—‏رومیوں ۱۰:‏۱۰‏۔‏

سچی پرستش کی مکمل فتح

۱۰.‏ (‏ا)‏ ہم کس شاندار امکان کی اُمید رکھ سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ پہلے کیا واقع ہونا ضروری ہے؟‏

۱۰ آجکل تمام قوموں میں سے ”‏بہت سی اُمتیں“‏ یہوؔواہ کے پرستش کے گھر کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ (‏یسعیاہ ۲:‏۲، ۳‏)‏ اس کی تصدیق کرتے ہوئے، مکاشفہ ۱۵:‏۴ بیان کرتی ہے:‏ ”‏اے خداوند!‏ کون تجھ سے نہ ڈریگا؟ اور کون تیرے نام کی تمجید نہ کریگا؟ کیونکہ صرف تُو ہی قدوس ہے اور سب قومیں آ کر تیرے سامنے سجدہ کرینگی کیونکہ تیرے انصاف کے کام ظاہر ہو گئے ہیں۔“‏ اسکے بعد جوکچھ واقع ہوگا زکریاہ ۱۴ باب اُسے بیان کرتا ہے۔ مستقبل قریب میں، زمین پر لوگوں کی اکثریت کی عداوت نقطۂ‌عروج کو پہنچ جائیگی جب وہ آخری مرتبہ یرؔوشلیم—‏زمین پر آسمانی یرؔوشلیم کے نمائندوں—‏کے خلاف جنگ کرنے کیلئے صف‌آرا ہوتی ہے۔ تب یہوؔواہ کارروائی کریگا۔ صاحبِ‌جنگ خدا کے طور پر، وہ ”‏خروج کریگا اور اُن قوموں سے لڑیگا“‏ جنہوں نے حملہ کرنے کی جُرأت کی ہے۔—‏زکریاہ ۱۴:‏۲، ۳۔‏

۱۱، ۱۲.‏ (‏ا)‏ اپنی ہیکل میں پرستاروں پر ہونے والے ہمہ‌گیر حملے کا یہوؔواہ کیسے جواب دیگا؟ (‏ب)‏ خدا کی لڑائی کا کیا نتیجہ نکلے گا؟‏

۱۱ ”‏خداوند یرؔوشلیم سے جنگ کرنے والی سب قوموں پر یہ عذاب نازل کریگا کہ کھڑے کھڑے اُنکا گوشت سُوکھ جائیگا اور اُنکی آنکھیں چشم خانوں میں گل جائینگی اور اُنکی زبان اُنکے مُنہ میں سڑ جائیگی۔ اور اُس روز خداوند کی طرف سے اُنکے درمیان بڑی ہل‌چل ہوگی اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑینگے اور ایک دوسرے کے خلاف ہاتھ اُٹھائیگا۔“‏—‏زکریاہ ۱۴:‏۱۲، ۱۳۔‏

۱۲ آیا یہ عذاب حقیقی ہے یا علامتی، ہمیں اسکا انتظار کرنا پڑیگا۔ تاہم، ایک بات یقینی ہے۔ جبکہ خدا کے دُشمن یہوؔواہ کے خادموں پر اپنا ہمہ‌گیر حملہ کرنے کیلئے پیش‌قدمی کر رہے ہیں، اُنہیں خدا کی قادرِمطلق قوت کے غیرمعمولی مظاہروں کے ذریعے روک دیا جائیگا۔ اُنکے مُنہ بند کر دیئے جائینگے۔ یہ ایسے ہوگا کہ گویا اُن کی نافرمان زبانیں جل گئی ہوں۔ اُنکا متحدہ نصب‌العین اُن کی آنکھوں کے سامنے دُھندلا جائیگا، گویا کہ اُنکی آنکھیں سڑ گئی ہوں۔ اُنکی جسمانی قوتیں، جنہوں نے اُنہیں حملہ کرنے کی دلیری بخشی تھی، زائل ہو جائینگی۔ افراتفری کے عالم میں، وہ عظیم قتل‌وغارت کیساتھ ایک دوسرے کے خلاف اُٹھینگے۔ یوں خدا کی پرستش کے تمام زمینی دُشمن ختم کر دیئے جائینگے۔ انجام‌کار، تمام قوموں کو یہوؔواہ کی عالمگیر حاکمیت کو تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا جائیگا۔ یہ پیشینگوئی تکمیل پائے گی:‏ ”‏خداوند ساری دُنیا کا بادشاہ ہوگا۔“‏ (‏زکریاہ ۱۴:‏۹)‏ اسکے بعد، جب مسیح کی ہزار سالہ حکمرانی نوعِ‌انسان کیلئے محفوظ‌کردہ عظیم برکات کیساتھ شروع ہوگی تو شیطان اور اُسکے شیاطین کو بند کر دیا جائیگا۔—‏مکاشفہ ۲۰:‏۱، ۲؛‏ ۲۱:‏۳، ۴‏۔‏

زمینی قیامت

۱۳.‏ ”‏سب قوموں میں سے بچ رہنے والے“‏ لوگ کون ہیں؟‏

۱۳ زکرؔیاہ کی پیشینگوئی ۱۴ باب کی ۱۶ آیت میں جاری رہتی ہے:‏ ”‏یرؔوشلیم سے لڑنے والی قوموں میں سے جو بچ رہینگے سال‌بسال بادشاہ ربُ‌الافواج کو سجدہ کرنے اور عیدِخیام منانے کو آئینگے۔“‏ بائبل کے مطابق، آجکل تمام زندہ لوگ جو اس شریر نظام کے خاتمہ تک زندہ رہتے ہیں اور جنکی عدالت سچی پرستش کے دُشمنوں کے طور پر ہوتی ہے وہ ”‏ابدی ہلاکت کی سزا پائینگے۔“‏ (‏۲-‏تھسلنیکیوں ۱:‏۷-‏۹‏؛ نیز دیکھیں متی ۲۵:‏۳۱-‏۳۳،‏ ۴۶‏۔)‏ اُنکی قیامت نہیں ہوگی۔ اسکے بعد، غالباً جو ”‏بچ رہینگے“‏ اُن میں قوموں کے وہ لوگ شامل ہیں جو خدا کی فیصلہ‌کُن لڑائی سے پہلے مر گئے تھے اور جن کیلئے بائبل پر مبنی قیامت کی اُمید موجود ہے۔ ”‏وہ وقت آتا ہے،“‏ یسوؔع نے وعدہ کِیا، ”‏کہ جتنے قبروں میں ہیں اُسکی آواز سن کر نکلینگے۔ جنہوں نے نیکی کی ہے زندگی کی قیامت کے واسطے اور جنہوں نے بدی کی ہے سزا کی قیامت کے واسطے۔“‏—‏یوحنا ۵:‏۲۸، ۲۹‏۔‏

۱۴.‏ (‏ا)‏ ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کے لئے قیامت‌یافتہ لوگوں کو کیا کرنا ہوگا؟ (‏ب)‏ کوئی بھی شخص جو خود کو یہوؔواہ کیلئے مخصوص کرنے اور سچی پرستش کرنے سے انکار کرتا ہے اُس کے ساتھ کیا واقع ہوگا؟‏

۱۴ ان تمام قیامت‌یافتہ لوگوں کو اپنی قیامت کو ناموافق سزا کی قیامت بنانے کی بجائے زندگی کی قیامت بنانے کیلئے کچھ نہ کچھ کرنا پڑیگا۔ اُنہیں یہوؔواہ کی ہیکل کے زمینی صحنوں میں آنا ہوگا اور یسوؔع مسیح کے وسیلے سے خدا کے حضور مخصوصیت میں جھکنا ہوگا۔ قیامت‌یافتہ لوگوں میں سے کوئی بھی جو ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ اُسی عذاب کا شکار ہو جائینگے جس کا سامنا جدید زمانے کی اقوام کو ہے۔ (‏زکریاہ ۱۴:‏۱۸)‏ کون جانتا ہے کہ کتنے قیامت‌یافتہ لوگ شادمانی کیساتھ علامتی عیدِخیام منانے کیلئے بڑی بِھیڑ کیساتھ شامل ہونگے؟ بِلاشُبہ، بہت سے ایسے ہونگے، اور نتیجے کے طور پر یہوؔواہ کی عظیم روحانی ہیکل اَور زیادہ پُرجلال بن جائیگی!‏

علامتی عیدِخیام

۱۵.‏ (‏ا)‏ قدیم اسرائیلی عیدِخیام کی چند ایک خصوصیات کیا تھیں؟ (‏ب)‏ عید کے دوران ۷۰ بیل کیوں قربان کئے جاتے تھے؟‏

۱۵ ہر سال، قدیم اسرائیل سے تقاضا کِیا جاتا تھا کہ وہ عیدِخیام منائیں۔ یہ ایک ہفتے تک جاری رہتی تھی اور اسکا اختتام اُنکے فصل جمع کرنے کیساتھ ہوتا تھا۔ یہ شکرگزاری کا پُرمسرت وقت ہوتا تھا۔ ہفتے کے دوران، اُنہیں درختوں کے پتوں بالخصوص کھجور کی ڈالیوں سے بنی ہوئی عارضی جھونپڑیوں میں رہنا ہوتا تھا۔ یہ عید اسرائیل کو یاد دلاتی تھی کہ خدا نے اُنکے باپ‌دادا کو مصرؔ سے کسطرح رہائی دلائی تھی اور یہ کہ ۴۰ برس تک بیابان میں سفر کے دوران جب وہ جھونپڑوں میں رہتے تھے تو یہوؔواہ نے اُنکی کیسے نگہداشت کی جبتک کہ وہ موعودہ مُلک میں نہ پہنچ گئے۔ (‏احبار ۲۳:‏۳۹-‏۴۳)‏ عید کے دوران، ۷۰ بیل ہیکل کے مذبح پر قربان کئے جاتے تھے۔ واضح طور پر، عید کی یہ خصوصیت یسوؔع مسیح کے ذریعے انجام دیئے جانے والے کامل اور مکمل زندگی‌بخش کام کی نبوّتی تصویر تھی۔ اُسکی فدیے کی قربانی کے فوائد انجام‌کار نوعِ‌انسان کے اُن ۷۰ خاندانوں کی بیشمار نسلوں کو حاصل ہونگے جو نوؔح کی نسل سے ہیں۔—‏پیدایش ۱۰:‏۱-‏۲۹؛‏ گنتی ۲۹:‏۱۲-‏۳۴؛‏ متی ۲۰:‏۲۸‏۔‏

۱۶، ۱۷.‏ (‏ا)‏ علامتی عیدِخیام کا آغاز کب ہوا، اور یہ کیسے جاری رہا؟ (‏ب)‏ بڑی بِھیڑ کیسے تقریب میں شریک ہوتی ہے؟‏

۱۶ لہٰذا قدیمی عیدِخیام نے چھڑائے گئے گنہگاروں کے یہوؔواہ کی عظیم روحانی ہیکل میں خوشی کیساتھ جمع ہونے کی طرف اشارہ کِیا تھا۔ اس عید کی تکمیل کا آغاز پنتِکُست ۳۳ س.‏ع.‏ پر روحانی اسرائیلیوں کے مسیحی کلیسیا میں بخوشی جمع ہونے کیساتھ شروع ہوا۔ (‏اعمال ۲:‏۴۱،‏ ۴۶، ۴۷‏)‏ ان ممسوحوں نے اس بات کو سمجھ لیا کہ وہ شیطان کی اس دُنیا میں ”‏پردیسی اور مسافر“‏ ہیں کیونکہ اُنکا حقیقی ”‏وطن آسمان پر ہے۔“‏ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۱۱؛‏ فلپیوں ۳:‏۲۰‏)‏ پُرمسرت عید عارضی طور پر اُس برگشتگی کے باعث ماند پڑ گئی جو دُنیائے مسیحیت کی تشکیل پر منتج ہوئی۔ (‏۲-‏تھسلنیکیوں ۲:‏۱-‏۳‏)‏ تاہم، ۱۹۱۹ میں ۱،۴۴،۰۰۰ روحانی اسرائیلیوں کے باقیماندہ اراکین کے خوشی سے جمع ہونے اور اسکے بعد مکاشفہ ۷:‏۹ کی بین‌الاقوامی بڑی بِھیڑ کے جمع کئے جانے کیساتھ عید دوبارہ منائی جانے لگی۔‏

۱۷ بڑی بِھیڑ کی تصویرکشی ہاتھوں میں کھجور کی ڈالیاں لئے ہوئے کی گئی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بھی خوشی سے علامتی عیدِخیام منانے والے ہیں۔ مخصوص‌شُدہ مسیحیوں کے طور پر، وہ زیادہ سے زیادہ پرستاروں کو یہوؔواہ کی ہیکل میں جمع کرنے کے کام میں خوشی سے شرکت کرتے ہیں۔ علاوہ‌ازیں، گنہگاروں کے طور پر، وہ سمجھتے ہیں کہ اُنکے پاس زمین پر رہنے کے مستقل حقوق نہیں ہیں۔ اُنہیں، مستقبل میں قیامت یافتہ لوگوں سمیت، مسیح کی فدیے کی قربانی پر ایمان ظاہر کرتے رہنا ہے تاوقتیکہ وہ مسیح کی ہزار سالہ حکمرانی کے اختتام پر انسانی کاملیت تک نہیں پہنچ جاتے۔—‏مکاشفہ ۲۰:‏۵‏۔‏

۱۸.‏ (‏ا)‏ یسوؔع مسیح کی ہزار سالہ حکمرانی کے اختتام پر کیا واقع ہوگا؟ (‏ب)‏ یہوؔواہ کی سچی پرستش آخرکار کیسے فتح پائیگی؟‏

۱۸ اس کے بعد، زمین پر خدا کے پرستار آسمانی کہانت کی ضرورت کے بغیر انسانی کاملیت میں اُس کے حضور کھڑے ہونگے۔ وہ وقت آ چکا ہوگا جب یسوؔع مسیح ”‏بادشاہی کو خدا یعنی باپ کے حوالہ کر دے گا۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۴‏)‏ کامل بنا دئیے گئے نوعِ‌انسان کو آزمانے کے لئے شیطان کو ”‏تھوڑی دیر کے لئے“‏ کھولا جائے گا۔ تمام بیوفا لوگوں کو، بمع شیطان اور اُس کے شیاطین کے ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے گا۔ جو وفادار رہتے ہیں ہمیشہ کی زندگی حاصل کرینگے۔ وہ زمینی فردوس کے مستقل باشندے بن جائینگے۔ یوں علامتی عیدِخیام اپنے پُرشکوہ، کامیاب اختتام کو پہنچ چکی ہوگی۔ سچی پرستش یہوؔواہ کے ابدی جلال اور نوعِ‌انسان کی دائمی خوشی کے لئے فتح پا چکی ہوگی۔—‏مکاشفہ ۲۰:‏۳،‏ ۷-‏۱۰،‏ ۱۴، ۱۵‏۔ (‏۱۹ ۰۷/۰۱ w۹۶)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a زکریاہ ۱۴ باب پر آیت‌باآیت تبصرے کیلئے، واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی ۱۹۷۲ میں شائع‌کردہ کتاب پیراڈائز ریسٹورڈ ٹو مین‌کائینڈ—‏بائے تھیوکریسی!‏ کے ۲۱ اور ۲۲ ابواب کو دیکھیں۔‏

b جدید زمانے کے نتنیم کے بارے میں مزید معلومات کیلئے دیکھیں مینارِنگہبانی، اکتوبر، ۱۹۹۲، صفحہ ۲۰۔‏

اعادے کیلئے سوالات

▫ پہلی عالمی جنگ کے دوران ”‏یرؔوشلیم“‏ کیسے حملے کے تحت تھا؟—‏زکریاہ ۱۴:‏۲۔‏

▫ ۱۹۱۹ سے لیکر خدا کے لوگوں کیساتھ کیا واقع ہوا ہے؟‏

▫ آجکل کون علامتی عیدِخیام منانے میں حصہ لیتے ہیں؟‏

▫ سچی پرستش کیسے مکمل طور پر فتح پائیگی؟‏

‏[‏تصویر]‏

عیدِخیام مناتے وقت کھجور کی ڈالیاں استعمال کی جاتی تھیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں