مریض کے حقوق کا احترام کِیا گیا
’ایسی کوئی صورت نہیں کہ مَیں بغیر خون کے یہ عملِجراحی انجام دے سکوں۔ اگر آپ آپریشن کروانا چاہتی ہیں تو آپکو میرے طریقۂعلاج کو اپنانا ہوگا۔ ورنہ، آپکو کسی اَور ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر کے الفاظ تھاؔئیلینڈ میں رہنے والی ایک یہوؔواہ کی گواہ، چنگؔساجو کے ایمان کو متزلزل نہ کر سکے۔ مینّجیوما، ایک قسم کی دماغ کی رسولی کی تشخیص کے بعد، چنگؔ کو سرجری کی فوری ضرورت تھی۔ لیکن وہ بائبل کے حکم ”لہو سے . . . پرہیز کرو“ کی فرمانبرداری کرنے کیلئے اَٹل تھی۔—اعمال ۱۵:۲۸، ۲۹۔
ممکنہ طور پر اپنے ہی مُلک میں علاج کروانے کو ترجیح دیتے ہوئے، چنگؔ نے دو اَور ہسپتالوں سے بھی رجوع کِیا۔ جب وہاں کے ڈاکٹروں نے بھی بغیر خون سرجری کرنے سے انکار کر دیا تو اُسے سخت مایوسی ہوئی۔ انجامکار، تھاؔئیلینڈ کی ہاسپٹل انفارمیشن سروسز (ایچآئیایس) کے ذریعے، چنگؔ کا رابطہ ویمنز میڈیکل کالج ٹوکیو کے نیورولاجیکل انسٹیٹیوٹ سے کرایا گیا۔ اُس ہسپتال نے گاما شعاؤں، ریڈیایشن تھراپی (شعاؤں سے علاج) کی ایک جدیدترین ایجاد کو استعمال کرتے ہوئے ۲۰۰ سے زیادہ دماغ کی رسولیوں کا علاج کِیا تھا۔
چنگؔ کی رہائش کا بندوبست ہسپتال کے قریب ہی رہائشپذیر جاپانی گواہوں کے ہاں کر دیا گیا۔ ائیرپورٹ پر ایک گروپ اُسے ملا، جس میں تھائی بولنے والے دو یہوؔواہ کے گواہ اور ایچآئیایس کا ایک نمائندہ شامل تھا۔ کوئی ہفتہبھر کی جانچپڑتال کے بعد، چنگؔ کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا جہاں گاما شعاؤں کیساتھ اُسکا علاج کِیا گیا۔ اس عمل میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔ اگلے دن ہسپتال سے واپس آنے کے بعد، چنگؔ اُس سے ایک دن بعد واپس تھاؔئیلینڈ کیلئے روانہ ہو گئی۔
”مَیں نے کبھی تصور بھی نہیں کِیا تھا کہ اس انتظام کے ذریعے اتنی زیادہ مدد فراہم کی جا سکتی ہے،“ چنگؔ نے کہا۔ ”مَیں ظاہرکردہ محبت سے نیز بہتیری متعلقہ پارٹیوں کے درمیان تعاون سے واقعی متاثر ہوئی تھی۔“
اس خبر کو شائع کرتے ہوئے، جاپانی اخبار میانچی شیمبن نے تبصرہ کِیا: ”اب تک انتقالِخون سے انکار کی مذہبی وجوہات کو نمایاں کِیا جاتا رہا ہے۔ تاہم، انتقالِخون کے مُضر اثرات بھی ہیں جیسےکہ ایڈز، وبائی امراض کا خطرہ جیسےکہ ہپیٹاٹس سی، اور الرجیز۔ اِس وجہ سے ایسے مریض ہوتے ہیں جو اپنے مذہبی عقیدے سے قطعنظر انتقالِخون نہیں چاہتے۔“
اخبار نے مزید بیان کِیا: ”بہتیرے مریض جنہوں نے انتقالِخون سے انکار کِیا ہسپتال تبدیل کرنے کیلئے مجبور کئے گئے، مگر تبدیلی کی ضرورت طبّی اداروں کو ہے کہ مریض کے انتخاب کے حق کا احترام کریں۔ جامع اجازتنامہ (ایک مریض کا مکمل وضاحت حاصل کرنا کہ علاج میں کیا کچھ شامل ہے اور پھر طریقۂعلاج سے اتفاق کرنا) درکار ہے، اور انتقالِخون کے معاملات مستثنیٰ نہیں ہیں۔ اِس بات کو تسلیم کِیا جانا چاہئے کہ یہ محض کسی ایک مذہب سے وابستگی کا معاملہ نہیں ہے۔“
خون کے بغیر علاج کو ترجیح دینے والے، چنگؔساجو جیسے بہتیرے لوگوں کو دیگر ہسپتالوں میں منتقل ہونا پڑتا ہے۔ تاہم، وہ اُن ڈاکٹروں کی کوششوں کی قدر کرتے ہیں جو اپنے مریضوں کے حقوق کا احترام کرنے کیلئے رضامند ہیں۔
ایسے ڈاکٹروں کے تعاون کو حاصل کرنے کے لئے جو اُن کے عقائد کا احترام کرتے ہیں یہوؔواہ کے گواہوں نے واچٹاور سوسائٹی کی برانچوں میں ہوسپٹل انفارمیشن سروسز کو قائم کِیا تھا۔ پوری دُنیا میں، ایچآئیایس ہسپتالوں، ڈاکٹروں، طبّی عملے، وکلاء، اور ججوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرتی ہے۔ (۳۱ ۰۱/۱۵ w۹۵)