”تیرے ہاتھ ڈھیلے نہ ہوں“
”تیرے ہاتھ ڈھیلے نہ ہوں۔ خداوند تیرا خدا جو تجھ میں ہے قادر ہے۔ وہی بچا لیگا۔“—صفنیاہ ۳:۱۶، ۱۷۔
۱. صفنیاؔہ کی پیشینگوئی کی بابت ایک عالم نے کیا کہا؟
صفنیاؔہ کی پیشینگوئی نے چھٹی اور ساتویں صدی ق.س.ع. میں اپنی پہلی تکمیل سے کہیں دُور کے وقت کی طرف اشارہ کِیا۔ صفنیاؔہ پر اپنے تبصرے میں پروفیسر سی. ایف. کیلؔ نے لکھا: ”صفنیاؔہ کی پیشینگوئی . . . کا آغاز نہ صرف پوری دُنیا پر عالمگیر سزا کے اعلان کے ساتھ ہوتا ہے، جس سے وہ سزا سامنے آتی ہے جو یہوؔداہ پر اُس کے گناہوں کے باعث آئیگی اور اقوامِعالم پر یہوؔواہ کے لوگوں کے ساتھ اُن کی دُشمنی کے پیشِنظر آئیگی؛ بلکہ یہ یہوؔواہ کے عظیم اور ہولناک دن کے متعلق شروع سے لیکر آخر تک بیان کرتی ہے۔“
۲. صفنیاؔہ کے دنوں کی حالتوں اور دُنیائے مسیحیت کی آجکل کی حالتوں کے درمیان کونسی مماثلتیں پائی جاتی ہیں؟
۲ آجکل، یہوؔواہ کا عدالتی فیصلہ ہے کہ قوموں کو صفنیاؔہ کے زمانے کی نسبت کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر ہلاکت کے لئے جمع کِیا جائے۔ (صفنیاہ ۳:۸) وہ اقوام جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں وہ خدا کی نظر میں بالخصوص ملامت کے لائق ہیں۔ جیسے یرؔوشلیم نے یہوؔواہ کے لئے اپنی بیوفائی کی بھاری قیمت ادا کی، اُسی طرح دُنیائے مسیحیت کو بھی اپنے اوباش طریقوں کے لئے خدا کو جواب دینا پڑیگا۔ صفنیاؔہ کے دنوں میں یہوؔداہ اور یرؔوشلیم کے خلاف صادر کی جانے والی الہٰی سزاؤں کا اطلاق اَور زیادہ پُرزور طور پر دُنیائے مسیحیت کی کلیسیاؤں اور فرقوں پر ہوتا ہے۔ اُنہوں نے بھی خدا کی بےحُرمتی کرنے والے اپنے عقائد سے پاک پرستش کو آلودہ کِیا ہے، جن میں سے زیادہ کا تعلق غیرقوم اصل سے ہے۔ اُنہوں نے اپنے لاکھوں جوان بیٹوں کو جنگ کی جدید قربانگاہ پر قربان کر دیا ہے۔ علاوہازیں، یرؔوشلیم کی مماثل نامنہاد مسیحیت کے باشندے علمِنجوم، ارواحپرستی کے کاموں اور تذلیلکُن جنسی بداخلاقی کو، بیتے دنوں کی بعل کی پرستش کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔—صفنیاہ ۱:۴، ۵۔
۳. آجکل کے بہتیرے دُنیاوی راہنماؤں اور سیاسی حکومتوں کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے، اور صفنیاؔہ نے کیا پیشینگوئی کی تھی؟
۳ دُنیائے مسیحیت کے بہت سے سیاسی راہنما چرچ میں ممتاز نظر آنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن یہوؔداہ کے ”شہزادوں“ کی طرح اُن میں سے بعض لوگ ”گرجنے والے ببر“ اور بھوکے ”بھیڑیے“ کی طرح ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ (صفنیاہ ۳:۱-۳) ایسے اشخاص کی سیاسی خوشامدیں ”اپنے آقا کے گھر کو لُوٹ اور مکر سے [بھرتی] ہیں۔“ (صفنیاہ ۱:۹) رشوت اور بدعنوانی بہت عام ہیں۔ جہاں تک دُنیائے مسیحیت کے اندر اور باہر سیاسی حکومتوں کا تعلق ہے تو اُن کی ایک بڑی تعداد لشکروں کے یہوؔواہ کے لوگوں، اُس کے گواہوں کو حقیر ”فرقے“ کے طور پر خیال کرتے ہوئے اُن کے کیخلاف ’فضیحت آمیز باتیں کرتے‘ ہیں۔ (صفنیاہ ۲:۸؛ اعمال ۲۴:۵، ۱۴) ایسے تمام سیاسی راہنماؤں اور اُن کے حامیوں کی بابت صفنیاؔہ نے پیشینگوئی کی تھی: ”خداوند کے قہر کے دن اُن کا سونا چاندی اُنکو بچا نہ سکے گا بلکہ تمام مُلک کو اُس کی غیرت کی آگ کھا جائیگی کیونکہ وہ یکلخت مُلک کے سب باشندوں کو تمام کر ڈالیگا۔“—صفنیاہ ۱:۱۸۔
”خداوند کے غضب کے دن پناہ“
۴. کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ یہوؔواہ کے روزِعظیم سے بچنے والے ہونگے، لیکن اُنہیں کیا کرنا ہوگا؟
۴ ساتویں صدی ق.س.ع. میں یہوؔداہ کے تمام باشندے نیست نہیں ہوئے تھے۔ اسی طرح، یہوؔواہ کے عظیم دن سے بھی بچنے والے ہونگے۔ ایسے لوگوں سے یہوؔواہ نے اپنے نبی صفنیاؔہ کی معرفت فرمایا: ”اس سے پہلے کہ تقدیرِالہٰی ظاہر ہو اور وہ دن بُھس کی مانند جاتا رہے اور خداوند کا قہرِشدید تُم پر نازل ہو اور اُس کے غضب کا دن تُم پر آ پہنچے۔ اَے مُلک کے سب حلیم لوگو جو خداوند کے احکام پر چلتے ہو اُس کے طالب ہو! راستبازی کو ڈھونڈو۔ فروتنی کی تلاش کرو۔ شاید خداوند کے غضب کے دن تُم کو پناہ ملے۔“—صفنیاہ ۲:۲، ۳۔
۵. خاتمے کے اس وقت میں، صفنیاؔہ کی آگاہی پر سب سے پہلے دھیان دینے والے کون لوگ تھے، اور یہوؔواہ نے اُنہیں کیسے استعمال کِیا ہے؟
۵ اس دُنیا کے خاتمے کے وقت کے دوران، نبوّتی دعوت کو پہلے قبول کرنے والا روحانی اسرائیلیوں، ممسوح مسیحیوں کا بقیہ تھا۔ (رومیوں ۲:۲۸، ۲۹؛ ۹:۶؛ گلتیوں ۶:۱۶) راستبازی اور فروتنی کی تلاش کرنے اور یہوؔواہ کے عدالتی فیصلوں کے لئے احترام ظاہر کرنے کے بعد، اُنہیں بڑے بابلؔ، جھوٹے مذہب کی عالمی سلطنت سے آزاد کرا لیا گیا، اور ۱۹۱۹ میں الہٰی مقبولیت میں بحال کر دیا گیا تھا۔ اُس وقت سے لیکر، اور بالخصوص ۱۹۲۲ سے لیکر، یہ وفادار بقیہ بِلاخوف دُنیائے مسیحیت کی کلیسیاؤں اور اس کے فرقوں اور سیاسی اقوام کیخلاف یہوؔواہ کی سزاؤں کا اعلان کرتا رہا ہے۔
۶. (ا) صفنیاؔہ نے وفادار بقیے کی بابت کیا پیشینگوئی کی تھی؟ (ب) یہ پیشینگوئی کیسے پوری ہوئی ہے؟
۶ اس وفادار بقیے کی بابت، صفنیاؔہ نے پیشینگوئی کی تھی: ”مَیں تجھ میں ایک مظلوم اور مسکین بقیہ چھوڑ دُونگا اور وہ خداوند کے نام پر توکل کرینگے۔ اسرائیل کے باقی لوگ نہ بدی کرینگے نہ جھوٹ بولینگے اور نہ اُن کے مُنہ میں دغا کی باتیں پائی جائینگی بلکہ وہ کھائینگے اور لیٹ رہینگے اور کوئی اُنکو نہ ڈرائیگا۔“ (صفنیاہ ۳:۱۲، ۱۳) ان ممسوح مسیحیوں نے ہمیشہ یہوؔواہ کے نام کو عزت دی ہے، لیکن خاص طور پر ۱۹۳۱ سے لیکر، جب اُنہوں نے نام یہوؔواہ کے گواہ اَپنایا تھا۔ (یسعیاہ ۴۳:۱۰-۱۲) یہوؔواہ کی حاکمیت کے مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے اُنہوں نے الہٰی نام کو جلال دیا ہے، اور یہ اُن کے لئے پناہگاہ ثابت ہوا ہے۔ (امثال ۱۸:۱۰) یہوؔواہ نے اُنہیں روحانی طور پر خوب سیر کِیا ہے اور وہ بِلاخوف روحانی فردوس میں رہتے ہیں۔—صفنیاہ ۳:۱۶، ۱۷۔
”سب قوموں کے درمیان نامور اور ستودہ“
۷، ۸. (ا) روحانی اسرائیل کے بقیے کے سلسلے میں مزید کونسی پیشینگوئی پوری ہوئی ہے؟ (ب) لاکھوں لوگوں نے کیا سمجھ لیا ہے، اور اس سلسلے میں آپکے اپنے احساسات کیا ہیں؟
۷ بقیے کی یہوؔواہ کے نام اور اُس کے کلام کے راست اصولوں کے ساتھ گہری وابستگی کو نظرانداز نہیں کِیا گیا ہے۔ خلوصدل لوگ بقیے کے چالچلن اور اس دُنیا کے سیاسی اور مذہبی پیشواؤں کی بدعنوانی اور ریاکاری کے درمیان فرق کو پہچان گئے ہیں۔ یہوؔواہ نے ”[روحانی] اسرائیل کے بقیے کو“ برکت دی ہے۔ اُس نے اُنہیں اپنے نام سے کہلانے کا شرف عطا کِیا ہے اور وہ زمین کی اقوام کے درمیان اُن کے لئے اچھی شہرت رکھنے کا باعث بنا ہے۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے صفنیاؔہ نے پیشینگوئی کی تھی: ”اُس وقت مَیں تُم کو جمع کرکے مُلک میں لاؤنگا کیونکہ جب تمہاری حین حیات ہی میں تمہاری اسیری کو موقوف کرونگا تو تُم کو زمین کی سب قوموں کے درمیان نامور اور ستودہ کرونگا خداوند فرماتا ہے۔“—صفنیاہ ۳:۲۰۔
۸ ۱۹۳۵ سے لیکر، حقیقی معنوں میں لاکھوں لوگ یہ سمجھنے کے قابل ہوئے ہیں کہ بقیے پر یہوؔواہ کی برکت ہے۔ وہ یہ کہتے ہوئے ان روحانی یہودیوں یا اسرائیلیوں کی خوشی کے ساتھ پیروی کرتے ہیں: ”ہم تمہارے ساتھ جائینگے کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔“ (زکریاہ ۸:۲۳) یہ ”دوسری بھیڑیں“ ممسوح بقیے کو مسیح کی طرف سے ”اپنے سارے [زمینی] مال“ پر مقررشُدہ ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ سمجھتی ہیں۔ وہ شکرگزاری کے ساتھ نوکر جماعت کی طرف سے ”وقت پر“ تیارکردہ روحانی خوراک کو کھاتے ہیں۔—یوحنا ۱۰:۱۶؛ متی ۲۴:۴۵-۴۷۔
۹. لاکھوں لوگوں نے کونسی ”زبان“ بولنا سیکھ لی ہے، اور دوسری بھیڑیں کونسے عظیم کام میں ممسوح بقیے کے ساتھ ”ایک دل ہو کر“ خدمت کر رہی ہیں؟
۹ بقیے کے شانہبشانہ، یہ لاکھوں دوسری بھیڑیں ”خالص زبان“ کی مطابقت میں چلنا اور بولنا سیکھ رہی ہیں۔a یہوؔواہ نے صفنیاؔہ کی معرفت پیشینگوئی کی: ”اور مَیں اُس وقت لوگوں کے ہونٹ پاک کر دونگا تاکہ وہ سب خداوند سے دُعا کریں اور ایک دل ہوکر اُسکی عبادت کریں۔“ (صفنیاہ ۳:۹) جیہاں، دوسری بھیڑیں ”بادشاہی کی اس خوشخبری“ کی منادی کے اہم کام میں ”چھوٹے گلّے“ کے ممسوح اراکین کے ”شانہبہشانہ“ متحد ہوکر یہوؔواہ کی خدمت کرتی ہیں ”تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔“—لوقا ۱۲:۳۲؛ متی ۲۴:۱۴۔
”خداوند کا دن آئیگا“
۱۰. ممسوح بقیے نے ہمیشہ کس بات کا یقین کِیا ہے، اور بطور ایک گروہ کے، وہ کس چیز کو دیکھنے کے لئے زندہ رہینگے؟
۱۰ ممسوح بقیے نے ہمیشہ پطرؔس رسول کے الہامی الفاظ کو ذہن میں رکھا ہے: ”خداوند اپنے وعدہ میں دیر نہیں کرتا جیسی دیر بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ تمہارے بارے میں تحمل کرتا ہے اسلئے کہ کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے۔ لیکن خداوند کا دن چور کی طرح آ جائیگا۔“ (۲-پطرس ۳:۹، ۱۰) دیانتدار نوکر کے اراکین نے ہمارے زمانے میں یہوؔواہ کے دن کے آنے کی بابت کبھی کسی قسم کے شکوشبہات کو ذہن میں نہیں رکھا۔ وہ روزِعظیم یرؔوشلیم کی مماثل، دُنیائے مسیحیت، اور بڑے بابلؔ کے باقیات پر خدا کی سزاؤں کی تعمیل کے ساتھ شروع ہوگا۔—صفنیاہ ۱:۲-۴؛ مکاشفہ ۱۷:۱، ۵؛ ۱۹:۱، ۲۔
۱۱، ۱۲. (ا) صفنیاؔہ کی پیشینگوئی کے کونسے دوسرے حصے کی تکمیل بقیے پر ہوئی ہے؟ (ب) ممسوح بقیے نے ”تیرے ہاتھ ڈھیلے نہ ہوں“ کی پکار کا جواب کیسے دیا ہے؟
۱۱ وفادار بقیہ ۱۹۱۹ میں بڑے بابلؔ، جھوٹے مذہب کی عالمی سلطنت کی روحانی اسیری سے رہائی پانے پر خوش ہے۔ اُنہوں نے صفنیاؔہ کی پیشینگوئی کی اس تکمیل کا تجربہ کِیا ہے: ”اَے بنتِصیوؔن نغمہ سرائی کر! اَے اسرائیل! للکار۔ اَے دُخترِیرؔوشلیم! پورے دل سے خوشی منا اور شادمان ہو۔ خداوند نے تیری سزا کو دُور کر دیا۔ اُس نے تیرے دُشمنوں کو نکال دیا۔ خداوند اسرائیل کا بادشاہ تیرے اندر ہے۔ تُو پھر مصیبت کو نہ دیکھے گی۔ اُس روز یرؔوشلیم سے کہا جائیگا ہراسان نہ ہو! اَے صیوؔن تیرے ہاتھ ڈھیلے نہ ہوں۔ خداوند تیرا خدا جو تجھ میں ہے قادر ہے۔ وہی بچا لیگا۔“—صفنیاہ ۳:۱۴-۱۷۔
۱۲ اس یقین اور کثیر ثبوت کے ساتھ کہ یہوؔواہ اُن کے درمیان ہے، ممسوح بقیہ اپنی الہٰی تفویض کو پورا کرنے کی خاطر بِلاخوف کافی آگے نکل چکا ہے۔ اُنہوں نے بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کی ہے اور دُنیائے مسیحیت، بڑے بابلؔ کے باقیماندہ حصے، اور شیطان کے تمام شریر نظامالعمل کے خلاف یہوؔواہ کی عدالتی سزاؤں کا اعلان کِیا ہے۔ ۱۹۱۹ سے لیکر، کئی عشروں کے دوران، ہر حال میں، اُنہوں نے اس الہٰی حکم کی فرمانبرداری کی ہے: ”ہراسان نہ ہو اَے صیوؔن تیرے ہاتھ ڈھیلے نہ ہوں۔“ اُنہوں نے یہوؔواہ کی بادشاہی کا اعلان کرنے والے کروڑہا اشتہار، رسائل، کُتب اور کتابچے تقسیم کرنے میں اپنے ہاتھوں کو ڈھیلے نہیں پڑنے دیا۔ وہ دوسری بھیڑوں کے لئے ایمانافزا نمونہ ثابت ہوئے ہیں جو ۱۹۳۵ سے لیکر، اُن کے ساتھ مل گئی ہیں۔
”تیرے ہاتھ ڈھیلے نہ ہوں“
۱۳، ۱۴. (ا) کیوں بعض یہودی یہوؔواہ کی خدمت کرنے سے پیچھے ہٹ گئے اور یہ کیسے ظاہر ہوا تھا؟ (ب) ہمارے لئے کیا کرنا غیردانشمندانہ بات ہوگی، اور کس کام میں ہمیں اپنے ہاتھوں کو ڈھیلا نہیں ہونے دینا ہے؟
۱۳ جب ہم ’خود کو یہوؔواہ کے روزِعظیم کے منتظر رکھتے ہیں‘ تو ہم صفنیاؔہ کی پیشینگوئی سے کیسے عملی مدد حاصل کر سکتے ہیں؟ اوّل تو یہ کہ ہمیں صفنیاؔہ کے زمانے کے اُن یہودیوں کی مانند بننے سے خبردار رہنا چاہئے جو یہوؔواہ کی پیروی کرنے سے پھر گئے کیونکہ اُنہوں نے یہوؔواہ کے دن کے قریب آنے کی بابت شکوشبہات کو اپنے ذہنوں میں جگہ دی۔ ایسے یہودیوں نے ضروری طور پر اپنے شکوک کا اعلانیہ اظہار نہ کِیا، مگر اُن کی روِش نے آشکارا کِیا کہ وہ درحقیقت یہ یقین نہیں رکھتے کہ یہوؔواہ کا روزِعظیم قریب تھا۔ خود کو یہوؔواہ کا منتظر رکھنے کی بجائے اُنہوں نے مالودولت جمع کرنے پر توجہ مرکوز رکھی۔—صفنیاہ ۱:۱۲، ۱۳؛ ۳:۸۔
۱۴ آجکل شکوک کو اپنے دلوں میں جڑ پکڑنے کی اجازت دینے کا وقت نہیں ہے۔ اپنے ذہنوں یا دلوں میں یہوؔواہ کے دن کے آنے کو التوا میں رکھنا بڑی غیردانشمندانہ بات ہوگی۔ (۲-پطرس ۳:۱-۴، ۱۰) ہمیں یہوؔواہ کی پیروی کرنے سے پیچھے ہٹنے یا اُس کی خدمت میں ’اپنے ہاتھ ڈھیلے کرنے‘ سے گریز کرنا چاہئے۔ اس میں اپنی ”خوشخبری“ کی منادی کے سلسلے میں ”ڈھیلے ہاتھ سے کام“ نہ کرنا شامل ہے۔—امثال ۱۰:۴؛ مرقس ۱۳:۱۰۔
بےحسی کے خلاف نبردآزما ہونا
۱۵. کیا چیز یہوؔواہ کی خدمت میں ہمارے سُست پڑنے کا سبب بن سکتی ہے، اور صفنیاؔہ کی پیشینگوئی میں اس مشکل کو پہلے ہی سے کیسے بیان کِیا گیا تھا؟
۱۵ دوئم، ہمیں بےحسی کے مُضمحل کرنے والے اثرات کے خلاف خبردار رہنا چاہئے۔ بہت سے مغربی ممالک میں، روحانی معاملات کے سلسلے میں لاپروائی خوشخبری کے بعض منادوں کو بےحوصلہ کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسی بےحسی صفنیاؔہ کے دنوں میں بھی پائی جاتی تھی۔ یہوؔواہ نے اپنے نبی کی معرفت فرمایا: ”پھر مَیں . . . تلاش کرونگا . . . جتنے . . . دل میں کہتے ہیں کہ خداوند سزاوجزا نہ دیگا۔“ (صفنیاہ ۱:۱۲) کیمبرج بائبل فار سکول اینڈ کالجز میں اس عبارت پر لکھتے ہوئے، اے. بی. ڈؔیوڈسن نے کہا کہ یہ اُن لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ”نوعِانسان کے معاملات میں کسی بڑی طاقت کی کسی بھی طرح کی مداخلت کے سلسلے میں بےاعتقادی یا شدید بےحسی کا شکار“ ہو گئے۔
۱۶. دُنیائےمسیحیت کی کلیسیاؤں کے بہت سے اراکین میں کیا ذہنی رجحان پایا جاتا ہے، لیکن یہوؔواہ ہمیں کیا حوصلہافزائی دیتا ہے؟
۱۶ آجکل دُنیا کے بیشتر حصوں میں، خاص طور پر متموّل اقوام میں بےحسی کا میلان بہت عام ہے۔ یہانتککہ دُنیائے مسیحیت کی کلیسیاؤں کے اراکین بھی یہ تسلیم نہیں کرتے کہ یہوؔواہ خدا ہمارے زمانے میں انسانی معاملات میں مداخلت کریگا۔ اُن تک بادشاہت کی خوشخبری کے ساتھ پہنچنے کی ہماری کاوشوں پر وہ یا تو ایک غیریقینی مسکراہٹ یا پھر اس مختصر جواب سے ”مَیں دلچسپی نہیں رکھتا!“ پانی پھیر دیتے ہیں۔ ایسے حالات کے تحت، گواہی دینے کے کام میں ثابتقدمی ایک حقیقی چیلنج ہو سکتی ہے۔ یہ ہمارے صبر کو آزماتی ہے۔ لیکن صفنیاؔہ کی پیشینگوئی کے ذریعے، یہوؔواہ اپنے وفادار لوگوں کو یہ کہتے ہوئے تقویت بخشتا ہے: ”تیرے ہاتھ ڈھیلے نہ ہوں۔ خداوند تیرا خدا جو تجھ میں ہے قادر ہے۔ وہی بچا لیگا۔ وہ تیرے سبب سے شادمان ہوکر خوشی کریگا۔ وہ اپنی محبت میں مسرور رہیگا۔ وہ گاتے ہوئے تیرے لئے شادمانی کریگا۔“—صفنیاہ ۳:۱۶، ۱۷۔
۱۷. دوسری بھیڑوں کے اندر نئے اشخاص کو کس عمدہ نمونے کی پیروی کرنی چاہئے، اور کیسے؟
۱۷ یہوؔواہ کے لوگوں کی جدید زمانے کی تاریخ میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بقیہ، اور دوسری بھیڑوں کے اندر عمررسیدہ اشخاص نے بھی ان آخری ایّام میں جمع کرنے کا بہت کام کِیا ہے۔ ان تمام وفادار مسیحیوں نے ان عشروں کے دوران صبر کا مظاہرہ کِیا ہے۔ اُنہوں نے دُنیائے مسیحیت کی اکثریت کی طرف سے بےاعتنائی کو خود کو بےحوصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ پس دُعا ہے کہ دوسری بھیڑوں کے درمیان نئے اشخاص بھی خود کو روحانی معاملات کے سلسلے میں اُس بےحسی سے خود کو بےحوصلہ نہ ہونے دیں جو آجکل بہتیرے ممالک میں بہت عام ہے۔ دُعا ہے کہ وہ اپنے ’ہاتھوں کو ڈھیلے ہونے،‘ یا سُست پڑنے کی اجازت نہ دیں۔ دُعا ہے کہ وہ ہر موقع کو مینارِنگہبانی، جاگو! اور دیگر عمدہ اشاعات پیش کرنے کے لئے استعمال کریں جو خاص طور پر بھیڑخصلت لوگوں کو یہوؔواہ کے دن اور اس کے بعد آنے والی برکات کے متعلق سچائی سیکھنے میں مدد دینے کے لئے ترتیب دی گئی ہیں۔
روزِعظیم کے منتظر رہتے ہوئے آگے بڑھنا!
۱۸، ۱۹. (ا) متی ۲۴:۱۳ اور یسعیاہ ۳۵:۳، ۴ میں ہم برداشت کرنے کے سلسلے میں کونسی حوصلہافزائی پاتے ہیں؟ (ب) اگر ہم متحد طور پر یہوؔواہ کی خدمت میں آگے بڑھتے رہتے ہیں تو ہمیں کیسے برکت ملیگی؟
۱۸ یسوؔع نے بیان کِیا: ”جو آخر تک برداشت کرے گا وہ نجات پائیگا۔“ (متی ۲۴:۱۳) لہٰذا، جب ہم یہوؔواہ کے روزِعظیم کے منتظر ہیں تو ”کمزور ہاتھوں“ یا ’ناتواں گھٹنوں‘ سے کام نہ لیں! (یسعیاہ ۳۵:۳، ۴) صفنیاؔہ کی پیشینگوئی یقیندہانی کے طور پر یہوؔواہ کی بابت بیان کرتی ہے: ”جو تجھ میں قادر ہے وہی بچا لیگا۔“ (صفنیاہ ۳:۱۷) جیہاں، یہوؔواہ ”بڑی بھیڑ“ کو ”بڑی مصیبت“ کے آخری مرحلے میں سے بچا لیگا جب وہ اپنے بیٹے کو اُن سیاسی اقوام کو چکناچُور کرنے کا حکم دیتا ہے جو اُس کے لوگوں کے خلاف ”فضیحتآمیز باتیں“ کرتے ہیں۔—مکاشفہ ۷:۹، ۱۴؛ صفنیاہ ۲:۱۰، ۱۱؛ زبور ۲:۷-۹۔
۱۹ جُوںجُوں یہوؔواہ کا روزِعظیم قریب آتا ہے، دُعا ہے کہ ہم ”ایک دل ہوکر“ اُس کی خدمت کرتے ہوئے سرگرمی کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں! (صفنیاہ ۳:۹) ایسا کرنے سے، ہم خود اور بیشمار دیگر لوگ ”خداوند کے غضب کے دن پناہ“ حاصل کرنے اور اُس کے پاک نام کی تقدیس کی گواہی دینے کے قابل ہونگے۔ (۱۳ ۰۳/۰۱ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a ”خالص زبان“ پر مفصل بحث کے لئے دیکھیں مینارِنگہبانی، یکم اپریل ۱۹۹۱ (انگریزی) صفحات ۲۰-۲۵، اور یکم مئی ۱۹۹۱، (انگریزی) صفحات ۱۰-۲۰۔
نظرثانی کے طور پر
▫ کس لحاظ سے دُنیائےمسیحیت کی مذہبی حالت صفنیاؔہ کے دنوں کے مماثل ہے؟
▫ آجکل بہتیرے سیاسی راہنما کسطرح صفنیاؔہ کے دنوں کے غیرمذہبی ”شہزادوں“ کے مشابہ ہیں؟
▫ صفنیاہ میں درج کونسے وعدے بقیے کے سلسلے میں تکمیل پا چکے ہیں؟
▫ لاکھوں لوگوں نے کیا سمجھ لیا ہے؟
▫ ہمیں کیوں یہوؔواہ کی خدمت میں اپنے ہاتھوں کو ڈھیلا نہیں ہونے دینا چاہئے؟
[تصویریں]
صفنیاؔہ کی مانند، ممسوح مسیحیوں کا وفادار بقیہ دلیری کیساتھ یہوؔواہ کی سزاؤں کا اعلان کر رہا ہے
[تصویریں]
”دوسری بھیڑوں“ نے لوگوں کی بےحسی کو اُنہیں بےحوصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی ہے