یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏2 ص.‏ 13-‏17
  • یہوؔواہ تھکے‌ماندہ کو زور بخشتا ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوؔواہ تھکے‌ماندہ کو زور بخشتا ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • دُعا کی قوت
  • برادری کی محبت
  • خدا کے کلام کی قوت
  • بزرگ جو ”‏آندھی سے پناہ‌گاہ“‏ ہیں
  • ہمت نہ ہاریں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ‏”‏وہ تھکے ہوئے کو زور بخشتا ہے“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
  • یہوواہ تھکے‌ماندے کو زور بخشتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • ‏”‏یہوواہ اور اُسکی قوت کے طالب ہو“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏2 ص.‏ 13-‏17

یہوؔواہ تھکے‌ماندہ کو زور بخشتا ہے

‏”‏خداوند کا انتظار کر نے والے ازسرِنو زور حاصل کرینگے۔ وہ عقابوں کی مانند بال‌وپر سے اُڑینگے۔“‏—‏یسعیاہ ۴۰:‏۳۱‏۔‏

۱، ۲.‏ یہوؔواہ اُنہیں کیا بخشتا ہے جو اُس پر بھروسہ کرتے ہیں، اور اب ہم کس چیز پر غور کرینگے؟‏

عقاب آسمانوں میں اُڑنے والے پرندوں میں سب سے زیادہ طاقتور ہیں۔ وہ اپنے پروں کو پھڑپھڑائے بغیر بھی بہت دُور تک پرواز کر سکتے ہیں۔ ایسے پروں کے ساتھ جوکہ شاید سات فٹ سے زیادہ پھیلے ہوں، ”‏پرندوں کا بادشاہ،“‏ سنہری عقاب، ”‏تمام عقابوں سے زیادہ اثرآفرین ہے؛ ٹیلوں اور وادیوں کے اُوپر اُڑتے ہوئے، [‏یہ]‏ گھنٹوں بعض پہاڑی سلسلوں کے اُوپر پرواز کرتا رہتا ہے، اس کے بعد اُسوقت تک دائرے کی شکل میں بلند ہوتا رہتا ہے جبتک‌کہ آسمان پر اندھیرانہیں چھا جاتا۔“‏—‏دی آڈوبون سوسائٹی انسائیکلوپیڈیا آف نارتھ امریکن برڈز۔‏

۲ عقاب کی اُڑنے کی صلاحیتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے، یسعیاؔہ نے لکھا:‏ ”‏[‏یہوؔواہ]‏ تھکے ہوئے کو زور بخشتا ہے اور ناتوان کی توانائی کو زیادہ کرتا ہے۔ نوجوان بھی تھک جائینگے اور ماندہ ہونگے اور سورما بالکل گِر پڑینگے۔ لیکن خداوند کا انتظار کرنے والے ازسرِنو زور حاصل کرینگے۔ وہ عقابوں کی مانند بال‌وپر سے اُڑینگے وہ دَوڑینگے اور نہ تھکیں گے۔ وہ چلیں گے اور ماندہ نہ ہونگے۔“‏ (‏یسعیاہ ۴۰:‏۲۹-‏۳۱‏)‏ یہ جاننا کتنا تسلی‌بخش ہے کہ یہوؔواہ اپنے اُوپر بھروسہ رکھنے والوں کو چلتے رہنے کی توانائی عطا کرتا ہے، گویا اُنہیں اُڑتے ہوئے عقاب کے بظاہر اَن‌تھک پروں سے لیس کرتا ہے!‏ اب، اُن بعض انتظامات پر غور کریں جو اُس نے تھکے‌ماندہ کو زور بخشنے کیلئے کئے ہیں۔‏

دُعا کی قوت

۳، ۴.‏ (‏ا)‏ یسوؔع نے اپنے شاگردوں کو کیا کرنے کی تاکید کی؟ (‏ب)‏ اپنی دُعاؤں کے جواب میں ہم یہوؔواہ سے کیا کرنے کی توقع کر سکتے ہیں؟‏

۳ یسوؔع نے اپنے شاگردوں کو تاکید کی کہ ”‏ہر وقت دُعا کرتے رہنا اور ہمت نہ ہارنا۔“‏ (‏لوقا ۱۸:‏۱‏)‏ کیا یہوؔواہ کے حضور اپنا دِل اُنڈیل دینا واقعی ہمیں ازسرِنو زور بخشتا اور اُس وقت ہمت ہارنے سے بچنے میں مدد دیتا ہے جب زندگی کے دباؤ ناقابلِ‌برداشت دکھائی دیتے ہیں؟ جی‌ہاں، لیکن چند چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں ذہن میں رکھنی چاہئیں۔‏

۴ اپنی دُعاؤں کے جواب کے سلسلے میں جس چیز کی ہم یہوؔواہ سے توقع کرتے ہیں ہمیں اُس میں حقیقت‌پسند ہونا چاہئے۔ ایک مسیحی بہن نے جو شدید افسردگی کا شکار ہو گئی تھی بعدازاں یوں اظہارِخیال کِیا:‏ ”‏جیسے‌کہ دیگر بیماریوں کے سلسلے میں ہے یہوؔواہ اس زمانے میں معجزے نہیں کرتا۔ لیکن وہ ہمیں اس سے نپٹنے اور اُس حد تک شفا حاصل کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے جتنی کہ ہم اس نظام میں حاصل کر سکتے ہیں۔“‏ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ کیوں اسکی دُعاؤں نے اثر دکھایا، وہ اضافہ کرتی ہے:‏ ”‏دِن کے ۲۴ گھنٹے مجھے یہوؔواہ کی پاک روح تک رسائی حاصل تھی۔“‏ لہٰذا، یہوؔواہ ہمیں زندگی کے اُن دباؤں سے تو نہیں بچاتا جو ہمیں ماندہ کر سکتے ہیں لیکن وہ ”‏اپنے مانگنے والوں کو رُوح‌اُلقدس“‏ ضرور دیتا ہے!‏ (‏لوقا ۱۱:‏۱۳؛‏ زبور ۸۸:‏۱-‏۳‏)‏ یہ روح ہمیں کسی بھی آزمائش یا دباؤ کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا سکتا ہے جس کا شاید ہمیں سامنا ہو۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۳‏)‏ اگر ضروری ہو تو یہ ہمیں اُس وقت تک برداشت کرنے کیلئے ”‏حد سے زیادہ قدرت“‏ سے بھی معمور کر سکتا ہے جبتک خدا کی بادشاہت تمام پریشان‌کُن مسائل کو عنقریب نئی دُنیا میں ختم نہیں کر دیتی۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۷‏۔‏

۵.‏ (‏ا)‏ ہماری دُعاؤں کے مؤثر ہونے کے لئے، کونسی دو چیزیں ضروری ہیں؟ (‏ب)‏ اگر ہم کسی جسمانی کمزوری کے خلاف نبردآزما ہیں تو ہم کیسے دُعا کر سکتے ہیں؟ (‏پ)‏ ہماری لگاتار اور خصوصی دُعائیں یہوؔواہ پر کیا ظاہر کرینگی؟‏

۵ تاہم، اپنی دُعاؤں کے مؤثر ہونے کیلئے، ہمیں اس میں مشغول رہنا چاہئے اور ہمیں واضح بھی ہونا چاہئے۔ (‏رومیوں ۱۲:‏۱۲‏)‏ مثلاً، اگر آپ کبھی‌کبھار اسلئے تھک جاتے ہیں کیونکہ آپ کسی جسمانی کمزوری کے خلاف لڑ رہے ہیں تو ہر دِن کے آغاز پر، یہوؔواہ سے درخواست کریں کہ وہ دِن کے دوران اس خاص کمزوری کا شکار ہونے سے بچنے کیلئے آپکی مدد کرے۔ دِن‌بھر اور ہر رات سونے سے پہلے اسی طرح دُعا کریں۔ اگر آپ دوبارہ اس میں مبتلا ہو گئے ہیں تو یہوؔواہ سے معافی کیلئے درخواست کریں لیکن اُسے یہ بھی بتائیں کہ کیا چیز دوبارہ وہی کام کرنے کا سبب بنی اور یہ کہ آئندہ ایسے حالات سے بچنے کیلئے آپ کیا کر سکتے ہیں۔ ایسی لگاتار اور خصوصی دُعائیں ”‏دُعا کے سننے والے“‏ پر اس لڑائی کو جیتنے کیلئے آپکی خالص خواہش کو ظاہر کرینگی۔—‏زبور ۶۵:‏۲؛‏ لوقا ۱۱:‏۵-‏۱۳‏۔‏

۶.‏ ہم کیوں موزوں طور پر یہوؔواہ کی طرف سے دُعائیں سننے کی توقع کر سکتے ہیں اُس صورت میں بھی جب ہم دُعا کرنے کے قابل محسوس نہیں کرتے ہیں؟‏

۶ تاہم، بعض‌اوقات، جو تھک گئے ہیں وہ شاید دُعا کرنے کے قابل محسوس نہ کریں۔ ایک مسیحی خاتون جس نے ایسا ہی محسوس کِیا بعدازاں بیان کرتی ہے:‏ ”‏یہ انتہائی خطرناک سوچ ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ ہم نے اپنا انصاف کرنے کی ذمہ‌داری خود اُٹھالی ہے لیکن یہ ہمارا کام نہیں ہے۔“‏ یقیناً، ”‏خدا آپ ہی انصاف کرنے والا ہے۔“‏ (‏زبور ۵۰:‏۶‏)‏ بائبل ہمیں یقین دلاتی ہے کہ اگرچہ ”‏ہمارا دِل ہمیں الزام دیگا .‏ .‏ .‏ خدا ہمارے دل سے بڑا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۳:‏۱۹، ۲۰‏)‏ یہ جاننا کتنا اطمینان‌بخش ہے کہ جب ہم شاید خود کو دُعا کرنے کے قابل بھی نہیں سمجھتے، ہو سکتا ہے کہ یہوؔواہ ہماری بابت ایسا محسوس نہ کرتا ہو!‏ وہ ہماری بابت ”‏سب کچھ جانتا“‏ ہے بشمول ہماری زندگی کے اُن حالات کے جوکہ شاید ہمارے اسقدر نااہل محسوس کرنے کا باعث بنے ہوں۔ (‏زبور ۱۰۳:‏۱۰-‏۱۴‏)‏ اُس کا رحم اور گہری سمجھ اُسے ”‏شکستہ اور خستہ دِل“‏ کی دُعائیں سننے کی تحریک دیتے ہیں۔ (‏زبور ۵۱:‏۱۷‏)‏ کیسے وہ مدد کیلئے ہماری پکار سننے سے انکار کر سکتا ہے جب کہ وہ خود ”‏مسکین کا نالہ سن کر اپنے کان بند [‏کرنے والے]‏“‏ کی مذمت کرتا ہے؟—‏امثال ۲۱:‏۱۳‏۔‏

برادری کی محبت

۷.‏ (‏ا)‏ ہمیں ازسرِنو زور حاصل کرنے میں مدد دینے کیلئے یہوؔواہ نے ایک اَور کونسا انتظام کِیا ہے؟ (‏ب)‏ اپنی برادری کی بابت کیا جاننا ہمارے لئے تقویت‌بخش ہو سکتا ہے؟‏

۷ ایک اَور انتظام جو یہوؔواہ نے ہمارے ازسرِنو زور حاصل کرنے کیلئے کِیا ہے وہ ہماری مسیحی برادری ہے۔ بھائیوں اور بہنوں کے عالمگیر خاندان کا حصہ ہونا کیا ہی انمول استحقاق ہے!‏ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۱۷‏)‏ جب زندگی کے دباؤ ہمیں ماندہ کر دیتے ہیں تو ہماری برادری کی محبت ہمیں ازسرِنو زور حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ وہ کیسے؟ یہ جاننا کہ پریشان‌کُن چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں ہم تنہا نہیں، بذاتِ‌خود تقویت‌بخش ہو سکتا ہے۔ ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے درمیان، بِلاشُبہ بعض ایسے ہیں جنہوں نے اسی طرح کے دباؤ یا آزمائشوں کا مقابلہ کِیا ہے اور جنہوں نے خود ہماری طرح کے احساسات کا تجربہ کِیا ہے۔ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۹‏)‏ یہ جاننا ہمت‌افزا ہے کہ جس مرحلے سے ہم گزر رہے ہیں وہ غیرمعمولی نہیں ہے اور یہ کہ ہمارے احساسات بھی غیرمعمولی نہیں ہیں۔‏

۸.‏ (‏ا)‏ کونسی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ ہم اپنی برادری کے اندر اشد ضروری امداد اور تسلی کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ کس طرح سے آپ نے ذاتی طور پر ”‏ایک حقیقی دوست“‏ سے مدد یا تسلی حاصل کی ہے؟‏

۸ برادری کی محبت میں ہم ’‏حقیقی دوست‘‏ حاصل کر سکتے ہیں جو پریشانی کے وقت میں ہمیں ضروری مدد اور تسلی فراہم کر سکتے ہیں۔ (‏امثال ۱۷:‏۱۷‏)‏ اکثر، اس کیلئے جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ محض چند مشفقانہ الفاظ یا بامروّت افعال ہیں۔ ایک مسیحی جو اپنے ناکارہ ہونے کے احساسات کیساتھ جدوجہد کر رہی تھی یاد کرتی ہے:‏ ”‏ایسے دوست تھے جو اُن منفی خیالات پر قابو پانے میں جو مَیں رکھتی تھی میری مدد کرنے کیلئے مجھ سے میری بابت مثبت چیزوں پر بات‌چیت کرتے تھے۔“‏ (‏امثال ۱۵:‏۲۳‏)‏ اپنی جوان بیٹی کی موت کے بعد، ایک بہن نے پہلے‌پہل کلیسیائی اجلاسوں پر بادشاہتی گیت گانا مشکل محسوس کِیا، بالخصوص ایسے گیت جو قیامت کا ذکر کرتے تھے۔ ”‏ایک مرتبہ،“‏ وہ یاد کرتی ہے، ”‏دوسری طرف میرے برابر کی قطار میں بیٹھی ہوئی ایک بہن نے مجھے روتے ہوئے دیکھ لیا۔ وہ میرے پاس آئی، اپنی بانہیں میری کمر کے گرد ڈالیں اور باقی کا گیت میرے ساتھ گایا۔ یہ پہچانتے ہوئے کہ کنگڈم ہال ہی وہ جگہ ہے جہاں ہماری مدد ہوتی ہے، مَیں نے خود کو بھائیوں اور بہنوں کی محبت سے اتنا زیادہ معمور پایا اور اسقدر خوش محسوس کِیا کہ ہم اجلاسوں پر گئے تھے۔“‏

۹، ۱۰.‏ (‏ا)‏ ہم اپنی برادری کی محبت میں کیسے حصہ ادا کر سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ بالخصوص کن کو صحتمندانہ رفاقت کی ضرورت ہے؟ (‏پ)‏ جنہیں حوصلہ‌افزائی کی ضرورت ہے اُنکی مدد کرنے کیلئے ہم کیا کر سکتے ہیں؟‏

۹ بیشک، ہم میں سے ہر ایک کی ذمہ‌داری ہے کہ مسیحی برادری کے جوش کو بڑھائے۔ لہٰذا، ہمارے دِلوں کو تمام بھائیوں اور بہنوں کو اپنے اندر جگہ دینے کیلئے ”‏کشادہ ہونا“‏ چاہئے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۶:‏۱۳‏)‏ ایسے لوگوں کیلئے یہ کتنے دُکھ کی بات ہے جو یہ محسوس کرکے تھک گئے ہیں کہ اُن کیلئے برادری کی محبت ٹھنڈی پڑ گئی ہے!‏ تاہم، بعض مسیحی تنہا اور نظرانداز کئے گئے محسوس کرنے کی رپورٹ دیتے ہیں۔ ایک بہن نے جس کا شوہر سچائی کی مخالفت کرتا ہے درخواست کی:‏ ”‏کون تعمیری دوستی، حوصلہ‌افزائی اور پُرمحبت رفاقت کا خواہشمند نہیں ہوتا اور کسے اسکی ضرورت نہیں ہوتی؟ براہِ‌مہربانی ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو یاد دلائیں کہ ہمیں اُنکی ضرورت ہے!‏“‏ جی‌ہاں، بالخصوص وہ جنکے حالاتِ‌زندگی اُنہیں ماندہ کر دیتے ہیں—‏وہ جنکے ساتھی ہم‌ایمان نہیں، والدین میں سے کوئی ایک ہے، وہ جنکے صحت کے دائمی مسائل ہیں، عمررسیدہ اور دیگر لوگوں کو—‏صحتمندانہ رفاقت کی ضرورت ہے۔ کیا ہم میں سے بعض کو اسکی بابت یاددہانی کی ضرورت ہے؟‏

۱۰ ہم مدد دینے کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟ آیئے اپنی محبت کا اظہار کرنے میں کشادہ دِل ہو جائیں۔ مہمان‌نوازی دکھاتے ہوئے، اُنہیں نہ بھولیں جنہیں حوصلہ‌افزائی کی ضرورت ہے۔ (‏لوقا ۱۴:‏۱۲-‏۱۴؛‏ عبرانیوں ۱۳:‏۲‏)‏ یہ فرض کرنے کی بجائے کہ اُن کے حالات اُنہیں قبول کرنے سے روکتے ہیں، پھربھی کیوں نہ اُنہیں مدعو کریں؟ اسکے بعد اُنہیں فیصلہ کرنے دیں۔ اگر وہ قبول نہیں بھی کر سکتے توبھی بِلاشُبہ وہ یہ جان کر حوصلہ‌افزائی محسوس کرینگے کہ دوسروں نے اُنکی بابت سوچا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اُنہیں ازسرِنو قوت حاصل کرنے کیلئے صرف اسی چیز کی ضرورت ہو۔‏

۱۱.‏ جو ماندہ ہو گئے ہیں اُنہیں کن طریقوں سے مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے؟‏

۱۱ وہ جو ماندہ ہو گئے ہیں شاید اُنہیں دوسرے طریقوں سے مدد کی ضرورت ہو۔ مثال کے طور پر، ایک تنہا ماں کو اپنے یتیم بیٹے میں دلچسپی دکھانے کے لئے ایک پُختہ بھائی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ (‏یعقوب ۱:‏۲۷‏)‏ صحت کے سنگین مسئلے کے ساتھ ایک بھائی یا بہن کو خریداری یا گھریلو کام‌کاج کے سلسلے میں کچھ مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ایک عمررسیدہ شاید کسی مستقل رفاقت کا متمنی ہو یا باہر میدانی خدمتگزاری میں جانے کے لئے کچھ مدد کا حاجتمند ہو۔ جب ایسی امداد کی ضرورت بڑھ جاتی ہے تو یہ واقعی ’‏ہماری محبت کی سچائی کی آزمائش‘‏ پیدا کرتی ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۸:‏۸‏)‏ اس میں شامل وقت اور کوشش کی وجہ سے حاجتمندوں سے پہلوتہی کرنے کی بجائے، دُعا ہے کہ ہم دوسروں کی ضروریات کے لئے حساس اور اثرپذیر ہوتے ہوئے مسیحی محبت کے امتحان میں پورے اُتریں۔‏

خدا کے کلام کی قوت

۱۲.‏ خدا کا کلام ہمیں کیسے ازسرِنو قوت حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے؟‏

۱۲ ایک شخص جو کھانا بند کر دیتا ہے وہ جلد ہی اپنی طاقت یا قوت کھو بیٹھیگا۔ چنانچہ، ایک اَور طریقہ جس سے یہوؔواہ ہمیں چلتے‌پھرتے رہنے کی طاقت بخشتا ہے وہ اس بات کا خیال رکھنے سے ہے کہ ہم سب روحانی طور پر خوب سیر ہیں۔ (‏یسعیاہ ۶۵:‏۱۳، ۱۴‏)‏ اُس نے کونسی روحانی خوراک فراہم کی ہے؟ سب سے بڑھ کر، اُس کا کلام، بائبل۔ (‏متی ۴:‏۴‏؛ مقابلہ کریں عبرانیوں ۴:‏۱۲‏۔)‏ یہ ہمیں ازسرِنو زور حاصل کرنے میں کیسے مدد دے سکتا ہے؟ جب دباؤ اور مسائل جنکا ہمیں سامنا ہے ہماری طاقت کو زائل کرنے لگتے ہیں تو ہم بائبل وقتوں کے وفادار مردوں اور عورتوں کے احساسات اور زندگی کی حقیقی کاوشوں کی بابت پڑھنے سے تقویت حاصل کر سکتے ہیں۔ اگرچہ وہ راستی کی غیرمعمولی مثالیں ہیں توبھی وہ ”‏ہمارے ہم طبیعت“‏ انسان تھے۔ (‏یعقوب ۵:‏۱۷؛‏ اعمال ۱۴:‏۱۵‏)‏ اُنہوں نے بالکل ہماری طرح کی مشکلات اور دباؤ کا سامنا کِیا۔ چند ایک مثالوں پر غور کریں۔‏

۱۳.‏ کونسی صحیفائی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ بائبل وقتوں کے ایماندار مرد اور عورتیں کافی حد تک ہماری ہی طرح کے احساسات اور تجربات رکھتے تھے؟‏

۱۳ آبائی بزرگ اؔبرہام اپنی بیوی کی موت پر بڑا غمناک ہوا اگرچہ وہ قیامت پر ایمان رکھتا تھا۔ (‏پیدایش ۲۳:‏۲‏؛ مقابلہ کریں عبرانیوں ۱۱:‏۸-‏۱۰،‏ ۱۷-‏۱۹‏۔)‏ تائب داؔؤد نے محسوس کِیا کہ اُس کے گناہوں نے اُسے یہوؔواہ کی خدمت کرنے کے ناقابل بنا دیا تھا۔ (‏زبور ۵۱:‏۱۱‏)‏ موسیٰؔ اپنے اندر نااہلی کے احساسات رکھتا تھا۔ (‏خروج ۴:‏۱۰)‏ اپفرؔدتس اُس وقت افسردہ ہو گیا جب اُسے یہ معلوم ہوا کہ ایک سنگین بیماری نے ”‏خداوند کے کام“‏ میں اُس کی کارکردگی کو محدود کر دیا ہے۔ (‏فلپیوں ۲:‏۲۵-‏۳۰‏)‏ پولسؔ کو بھی ناکامل جسم کے خلاف لڑنا پڑا تھا۔ (‏رومیوں ۷:‏۲۱-‏۲۵‏)‏ فلپیؔ کی کلیسیا میں دو ممسوح بہنوں یوؤؔدیہ اور سنتخےؔ، کو بھی بظاہر ایک دوسرے کیساتھ نباہ کرنے میں کچھ مشکل تھی۔ (‏فلپیوں ۱:‏۱؛‏ ۴:‏۲، ۳‏)‏ یہ جاننا کسقدر حوصلہ‌افزا ہے کہ یہ ایماندار اشخاص بھی ہماری ہی طرح کے احساسات اور تجربات رکھتے تھے، تاہم اُنہوں نے ہمت نہ ہاری!‏ نہ ہی یہوؔواہ نے اُنہیں ترک کِیا۔‏

۱۴.‏ (‏ا)‏ ہمیں اپنے کلام سے تقویت حاصل کرنے میں مدد دینے کیلئے یہوؔواہ نے کونسا ذریعہ استعمال کِیا ہے؟ (‏ب)‏ مینارِنگہبانی اور جاگو!‏ کے جرائد نے کیوں معاشرتی، خاندانی اور جذباتی مسائل پر مضامین شائع کئے ہیں؟‏

۱۴ ہمیں اپنے کلام سے تقویت حاصل کرنے میں مدد دینے کیلئے یہوؔواہ دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت کو ہمیں لگاتار ”‏وقت پر روحانی خوراک“‏ فراہم کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵‏)‏ وفادار نوکر نے کافی عرصہ سے مینارِنگہبانی اور جاگو!‏ کے جرائد کو بائبل سچائی کا دفاع کرنے اور خدا کی بادشاہت کا انسان کی واحد اُمید کے طور پر اعلان کرنے کیلئے استعمال کِیا ہے۔ بالخصوص گزشتہ چند عشروں میں، ان جرائد نے ایسے معاشرتی، خاندانی اور جذباتی چیلنجوں پر جنکا خدا کے بعض لوگوں کو بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، بروقت صحیفائی مضامین پیش کئے ہیں۔ ایسی معلومات کس مقصد کے تحت شائع کی گئی ہیں؟ یقینی طور پر اُنکی مدد کرنے کیلئے جو اِن چیلنجوں کا تجربہ کر رہے ہیں تاکہ خدا کے کلام سے تقویت اور حوصلہ‌افزائی حاصل کریں۔ لیکن ایسے مضامین اُس حالت کی بابت واضح سمجھ حاصل کرنے کیلئے ہم سب کی مدد کرتے ہیں جس میں سے ہمارے بعض بھائی بہن گزر رہے ہیں۔ لہٰذا ہم پولسؔ کے الفاظ پر دھیان دینے کیلئے بہتر طور پر لیس ہیں:‏ ”‏کم‌ہمتوں کو دِلاسا دو۔ کمزوروں کو سنبھالو۔ سب کیساتھ تحمل سے پیش آؤ۔“‏—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۴‏۔‏

بزرگ جو ”‏آندھی سے پناہ‌گاہ“‏ ہیں

۱۵.‏ یسعیاؔہ نے اُنکی بابت جو بزرگوں کے طور پر خدمت انجام دیتے ہیں کیا پیشینگوئی کی، اور یہ اُن پر کیا ذمہ‌داری عائد کرتی ہے؟‏

۱۵ جب ہم ماندہ ہو جاتے ہیں تو ہماری مدد کرنے کیلئے یہوؔواہ نے ایک اَور چیز بھی فراہم کی ہے—‏کلیسیا کے بزرگ۔ ان کی بابت یسعیاؔہ نبی نے لکھا:‏ ”‏[‏ہر ایک]‏ شخص آندھی سے پناہ‌گاہ کی مانند ہوگا اور طوفان سے چھپنے کی جگہ اور خشک زمین میں پانی کی ندیوں کی مانند اور ماندگی کی زمین میں بڑی چٹان کے سایہ کی مانند ہوگا۔“‏ (‏یسعیاہ ۳۲:‏۱، ۲‏)‏ ایسی صورتحال میں، بزرگوں کی یہ ذمہ‌داری ہے کہ جوکچھ یہوؔواہ نے اُنکی بابت پہلے سے بیان کِیا ہے اُس پر پورا اُتریں۔ اُنہیں دوسروں کیلئے تسلی اور تازگی ”‏ثابت ہونا چاہئے“‏ اور ”‏ایک دوسرے کا بار [‏یا، ”‏تکلیف‌دہ مشکلات،“‏ حقیقی مفہوم میں، ”‏بھاری بوجھ“‏]‏ اُٹھانے“‏ کیلئے رضامند ہونا چاہئے۔ (‏گلتیوں ۶:‏۲‏)‏ وہ یہ کیسے کر سکتے ہیں؟‏

۱۶.‏ ایک شخص جو دُعا کرنے کے قابل محسوس نہیں کرتا بزرگ اُسکی مدد کرنے کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟‏

۱۶ جیسے‌کہ پہلے ذکر کِیا گیا، بعض‌اوقات ایک شخص جو ماندہ ہو گیا ہے ہو سکتا ہے کہ وہ دُعا کرنے کے قابل محسوس نہ کرے۔ بزرگ کیا کر سکتے ہیں؟ وہ اُس شخص کے ساتھ اور اُس کیلئے دُعا کر سکتے ہیں۔ (‏یعقوب ۵:‏۱۴‏)‏ ماندہ شخص کی موجودگی میں، یہوؔواہ سے محض یہ درخواست کرنا کہ اُس شخص کو یہ سمجھنے میں مدد دے کہ یہوؔواہ اور دوسرے لوگ اُسے کسقدر پیار کرتے ہیں، یقینی طور پر تسلی‌بخش ہوگا۔ ایک بزرگ کی طرف سے پُرجوش دلی دُعا سننا ایک افسردہ شخص کے اعتماد کو تقویت دینے میں معاون ہو سکتا ہے۔ اُسے یہ استدلال کرنے میں مدد دی جا سکتی ہے کہ اگر بزرگ پُراعتماد ہیں کہ یہوؔواہ اُس شخص کی خاطر کی گئی دُعاؤں کا جواب دیگا، توپھر وہ بھی اس اعتماد میں شریک ہو سکتا یا ہو سکتی ہے۔‏

۱۷.‏ بزرگوں کو کیوں ہمدرد سامع ہونا چاہئے؟‏

۱۷ ”‏ہر آدمی سننے میں تیز اور بولنے میں دھیرا .‏ .‏ .‏ ہو،“‏ یعقوب ۱:‏۱۹ کہتی ہے۔ تھکے ہوؤں کو ازسرِنو زور حاصل کرنے میں مدد دینے کے لئے، بزرگوں کو ہمدرد سامع بھی ہونا چاہئے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض معاملات میں کلیسیا کے اراکین ایسے مسائل کے خلاف جدوجہد کر رہے ہوں جنہیں اس نظام‌العمل میں حل نہیں کِیا جا سکتا۔ ایسی صورتحال میں ہو سکتا ہے کہ اُنہیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ اُنکے مسئلے کو سلجھانے کیلئے کوئی حل نہیں بلکہ محض ایک اچھے سامع کیساتھ بات‌چیت ہے—‏کسی ایسے شخص کی جو اُنہیں یہ نہیں کہے گا کہ اُنہیں کیسا محسوس کرنا چاہئے بلکہ جو منصف بنے بغیر سنیگا۔—‏لوقا ۶:‏۳۷؛‏ رومیوں ۱۴:‏۱۳‏۔‏

۱۸، ۱۹.‏ (‏ا)‏ سننے میں تیز ہونا کیسے ایک بزرگ کو ایک تھکے ہوئے کا بوجھ اَور زیادہ بھاری بنانے سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے؟ (‏ب)‏ جب بزرگ ”‏ہمدردی“‏ ظاہر کرتے ہیں تو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟‏

۱۸ بزرگو!‏ سننے میں تیز بننا آپکو ناخواستہ طور پر بھی ماندہ شخص کا بوجھ اَور زیادہ بھاری بنانے سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ مثلاً، اگر ایک بہن یا بھائی چند اجلاسوں پر حاضر نہیں ہوا یا میدانی خدمتگزاری میں سُست پڑ گیا ہے تو کیا اُسے خدمتگزاری میں اَور زیادہ کام کرنے کی بابت یا اجلاسوں پر اَور زیادہ باقاعدہ ہونے کے سلسلے میں واقعی مشورت کی ضرورت ہے؟ شاید۔ لیکن کیا آپ تمام حالت سے واقف ہیں؟ کیا صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل ہیں؟ کیا حال ہی میں خاندانی ذمہ‌داریاں تبدیل ہوئی ہیں؟ کیا اور دیگر حالات یا دباؤ ہیں جوکہ اُسے ماندہ کر رہے ہیں؟ یاد رکھیں، ہو سکتا ہے کہ وہ شخص پہلے ہی زیادہ کام کرنے کے قابل نہ ہونے کی بابت نہایت خطاوار محسوس کر رہا ہے۔‏

۱۹ تب‌پھر، آپ اُس بھائی یا بہن کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟ اس سے پہلے کہ آپ نتائج اخذ کریں اور مشورت پیش کریں، سنیں!‏ (‏امثال ۱۸:‏۱۳‏)‏ قابلِ‌فہم سوالات کیساتھ اُس شخص کے دلی احساسات ’‏کھینچ نکالیں۔‘‏ (‏امثال ۲۰:‏۵‏)‏ ان احساسات کو نظرانداز نہ کریں—‏اُنہیں سمجھیں۔ ماندہ شخص کو شاید اس بات کی یقین‌دہانی کرانے کی ضرورت ہو کہ یہوؔواہ ہماری فکر کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ کبھی‌کبھار ہمارے حالات ہمیں محدود کر سکتے ہیں۔ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۷‏)‏ جب بزرگ ایسی ”‏ہمدردی“‏ ظاہر کرتے ہیں تو ماندہ لوگ ’‏اپنی جانوں کیلئے تازگی پائینگے۔‘‏ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۸؛‏ متی ۱۱:‏۲۸-‏۳۰‏)‏ جب وہ ایسی تازگی پاتے ہیں تو اُنہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ اَور زیادہ کریں؛ اُنکے دل اُنہیں تحریک دینگے کہ یہوؔواہ کی خدمت کرنے میں معقول طور پر جوکچھ وہ کر سکتے ہیں کریں۔—‏مقابلہ کریں ۲-‏کرنتھیوں ۸:‏۱۲؛‏ ۹:‏۷‏۔‏

۲۰.‏ اس کجرو نسل کے خاتمے کے اسقدر قریب ہونے کے باعث، ہمیں کیا کرنے کا عزمِ‌مُصمم کرنا چاہئے؟‏

۲۰ واقعی ہم انسانی تاریخ کے انتہائی مبارزت‌طلب دَور میں رہ رہے ہیں۔ جُوں جُوں ہم خاتمے کے قریب ہوتے ہیں، شیطان کی دُنیا میں زندہ رہنے کے دباؤ بڑھ رہے ہیں۔ یاد رکھیں، شکاری شیرببر کی طرح، اِبلیس ہمارے تھک جانے اور ہمت ہارنے کا انتظار کرتا ہے تاکہ وہ ہمارے آسان شکار ہونے کا فائدہ اُٹھا سکے۔ ہم کسقدر شکرگزار ہو سکتے ہیں کہ یہوؔواہ تھکے ہوئے کو زور بخشتا ہے!‏ دُعا ہے کہ ہم اُن انتظامات سے بھرپور فائدہ اُٹھا سکیں جو اُس نے ہمیں قائم رہنے کیلئے قوت بخشنے کی خاطر کئے ہیں، گویا وہ ہمیں اُڑتے ہوئے عقاب کے قوی پر فراہم کر رہا ہے۔ اس کجرو نسل کے خاتمے کے اسقدر قریب ہونے کے باعث، اب انعام کیلئے—‏ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کی دوڑ میں رک جانے کا وقت نہیں ہے۔—‏عبرانیوں ۱۲:‏۱‏۔ (‏۱۴ ۱۲/۰۱ w۹۵)‏

آپ کا جواب کیا ہے؟‏

▫ اپنی دُعاؤں کے جواب میں ہم یہوؔواہ سے کیا کرنے کی توقع کر سکتے ہیں؟‏

▫ کن طریقوں سے ہم اپنی مسیحی برادری سے حوصلہ‌افزائی حاصل کر سکتے ہیں؟‏

▫ خدا کا کلام ہمیں کیسے ازسرِنو زور حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے؟‏

▫ بزرگ ماندہ اشخاص کو ازسرِنو زور حاصل کرنے میں مدد دینے کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

مہمان‌نوازی دکھاتے وقت، آئیے اُنہیں نہ بھولیں جنہیں حوصلہ‌افزائی کی ضرورت ہے

‏[‏تصویر]‏

بزرگ یہوؔواہ سے دُعا کر سکتے ہیں کہ ماندہ اشخاص کو یہ سمجھنے میں مدد دیں کہ اُن سے کسقدر محبت کی جاتی ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں