یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 15/‏12 ص.‏ 24-‏28
  • پناہ کے شہر—‏خدا کا مہربانہ بندوبست

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • پناہ کے شہر—‏خدا کا مہربانہ بندوبست
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • خونیوں کیلئے پناہ‌گاہ؟‏
  • یہوؔواہ کا مہربانہ بندوبست
  • پناہ کیلئے بھاگ جانا
  • جب خونیوں پر مقدمہ چلایا جاتا تھا
  • پناہ کے شہر میں زندگی
  • دائمی اثرات
  • ‏”‏پناہ کے شہر“‏ میں قیام کریں اور زندہ رہیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • یہوواہ میں پناہ لیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2017ء
  • یہوواہ میں پناہ لیں
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ 2021ء
  • یہوواہ کی پناہ میں آ جائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 15/‏12 ص.‏ 24-‏28

پناہ کے شہر—‏خدا کا مہربانہ بندوبست

‏”‏اِن چھؤں شہروں میں بنی‌اسرائیل کو اور اُن مسافروں اور پردیسیوں کو جو تُم میں بودوباش کر تے ہیں پناہ ملیگی تاکہ جس کسی سے سہواً خون ہو جائے وہ وہاں بھاگ جا سکے۔“‏—‏گنتی ۳۵:‏۱۵۔‏

۱.‏ زندگی اور خون کے جرم کی بابت خدا کا کیا نظریہ ہے؟‏

یہوؔواہ خدا انسانی زندگی کو مُقدس خیال کرتا ہے۔ اور زندگی خون میں ہے۔ (‏احبار ۱۷:‏۱۱، ۱۴)‏ اسلئے زمین پر پیدا ہونے والے پہلے انسان، قائنؔ نے جب اپنے بھائی ہابلؔ کو قتل کِیا تو وہ خون کا مجرم بن گیا۔ انجام‌کار، خدا نے قائنؔ سے کہا:‏ ”‏تیرے بھائی کا خون زمین سے مجھکو پکارتا ہے۔“‏ قتل کی جائے وقوع پر جس خون نے زمین کو داغدار کِیا، اُس نے اس زندگی کی خاموش، مگر پُرزور شہادت دی جو بے‌رحمی سے ختم کر دی گئی تھی۔ ہابلؔ کا خون انتقام کیلئے خدا کے سامنے پکار اُٹھا۔—‏پیدایش ۴:‏۴-‏۱۱‏۔‏

۲.‏ سیلاب کے بعد زندگی کیلئے یہوؔواہ کے احترام پر کیسے زور دیا گیا تھا؟‏

۲ نوؔح اور اُسکے خاندان کے عالمگیر سیلاب سے بچ نکلنے والوں کے طور پر کشتی سے باہر آنے کے بعد انسانی زندگی کیلئے خدا کے احترام کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔ اُس وقت یہوؔواہ نے نوعِ‌انسان کی خوراک میں جانور کے گوشت کا اضافہ کِیا لیکن خون کا نہیں۔ اُس نے یہ بھی حکم دیا:‏ ”‏مَیں تمہارے خون کا بدلہ ضرور لونگا۔ ہر جانور سے اُسکا بدلہ لونگا۔ آدمی کی جان کا بدلہ آدمی سے اور اُسکے بھائی‌بند سے لونگا۔ جو آدمی کا خون کرے اُسکا خون آدمی سے ہوگا کیونکہ خدا نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔“‏ (‏پیدایش ۹:‏۵، ۶‏)‏ یہوؔواہ نے مقتول کے قریبی رشتہ‌دار کے قاتل کے ملنے پر اُسے مار ڈالنے کے حق کو تسلیم کِیا۔—‏گنتی ۳۵:‏۱۹۔‏

۳.‏ موسوی شریعت نے زندگی کے تقدس پر کیا زور دیا تھا؟‏

۳ موسیٰؔ نبی کے ذریعے اسرائیل کو دی جانے والی شریعت میں، زندگی کے تقدس پر بار بار زور دِیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر، خدا نے حکم دیا:‏ ”‏تو خون نہ کرنا۔“‏ (‏خروج ۲۰:‏۱۳)‏ جو کچھ موسوی شریعت نے حاملہ عورت کو بہت زیادہ نقصان پہنچنے کی بابت کہا اُس سے بھی زندگی کیلئے احترام ظاہر ہوتا تھا۔ شریعت نے واضح کر دیا کہ اگر وہ یا اُس کا نازائیدہ بچہ دو آدمیوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے کے طور پر شدید حادثے سے دوچار ہو جاتے ہیں تو قاضیوں کو حالات اور دیدہ‌دانستہ ایسا کرنے کی حد کا اندازہ لگانا تھا، لیکن سزا ”‏جان کے بدلے جان“‏ یا زندگی کے بدلے زندگی بھی ہو سکتی تھی۔ (‏خروج ۲۱:‏۲۲-‏۲۵)‏ تاہم، کیا کوئی اسرائیلی خونی کسی نہ کسی طرح اپنے پُرتشدد فعل کے نتائج سے بچ سکتا تھا؟‏

خونیوں کیلئے پناہ‌گاہ؟‏

۴.‏ اسرائیل کے باہر، ماضی میں پناہ کی کونسی جگہیں موجود تھیں؟‏

۴ اسرائیل کے علاوہ دوسری قوموں میں، خونیوں اور دیگر مجرموں کو جائے‌پناہ یا پناہ‌گاہ فراہم کی جاتی تھی۔ اس کی ایک مثال قدیم اِفسسؔ میں ارتمسؔ دیوی کے مندر کے اردگرد کے مقامات تھے۔ ایسی جگہوں کی بابت یہ بیان کِیا گیا ہے:‏ ”‏بعض مزار مجرموں کی تعداد میں اضافے کا سبب تھے؛ اور اکثر پناہ‌گاہوں کی تعداد کو محدود کرنا ضروری ہو جاتا تھا۔ اتھینےؔ میں صرف چند مقدس مقامات کو ہی قانونی طور پر پناہ‌گاہیں تسلیم کِیا جاتا تھا (‏مثلاً، غلاموں کیلئے تھیوؔس کے مندر کو)‏؛ تبریاؔس کے زمانے میں مزاروں میں مجرموں کی جماعتیں اسقدر خطرناک بن گئی تھیں کہ پناہ‌گاہ کا حق محض چند شہروں تک ہی محدود کر دیا گیا تھا (‏سن ۲۲ میں)‏۔“‏ (‏دی جیواش انسائیکلوپیڈیا، ۱۹۰۹، جلد ۲، صفحہ ۲۵۶)‏ بعدازاں، دُنیائے مسیحیت کے گرجاگھر پناہ‌گاہیں بن گئے، لیکن یہ غیرفوجی حکمرانوں سے کہانت میں طاقت کے منتقل کرنے کا میلان رکھتا تھا اور انصاف کے مناسب ملکی نظم‌ونسق کے خلاف جاتا تھا۔ گرجاگھروں کی پناہ‌گاہوں کے ناجائز استعمال نے آخرکار اس بندوبست کو ختم کر دیا۔‏

۵.‏ اس کا کیا ثبوت ہے کہ جب کسی شخص کا قتل ہو جاتا تھا تو شریعت رحم کی درخواست کیلئے کسی طرح کی لاپروائی کو قبول نہیں کرتی تھی؟‏

۵ اسرائیلیوں میں، سہواً خونیوں کو جائے‌پناہ یا پناہ‌گاہ فراہم نہیں کی جاتی تھی۔ عیارانہ قتل کیلئے خدا کی قربانگاہ پر خدمت انجام دینے والے لاوی کاہن کو بھی سزا کیلئے حوالہ کر دیا جانا تھا۔ (‏خروج ۲۱:‏۱۲-‏۱۴)‏ مزیدبرآں، جب کوئی ہلاک ہو جاتا تھا تو شریعت غفلت کو بھی رحم کی وجہ کے طور پر قبول نہیں کرتی تھی۔ مثال کے طور پر، ایک شخص کو اپنے نئے گھر کی چھت کیلئے منڈیر بنانی پڑتی تھی۔ ورنہ، اگر کوئی گھر کی چھت سے گِر کر ہلاک ہو جاتا تو خون کا جُرم اُس گھر پر ہوتا تھا۔ (‏استثنا ۲۲:‏۸)‏ علاوہ‌ازیں، اگر سینگ مار کر زخمی کرنے کی خصلت رکھنے والے بیل کے مالک کو آگاہ کر دیا گیا ہے لیکن اُس نے جانور کو قابو میں نہیں رکھا اور اُس نے کسی شخص کو مار دیا تو بیل کا مالک خون کا مجرم تھا اور جان سے مارا جا سکتا تھا۔ (‏خروج ۲۱:‏۲۸-‏۳۲)‏ زندگی کیلئے خدا کے اعلیٰ احترام کا مزید ثبوت اس بات سے آشکارا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چور کو مُہلک ضرب لگا دیتا ہے تو اگر یہ دِن کے دوران واقع ہوا ہے جب چور کو دیکھا اور شناخت کِیا جا سکتا تھا تو وہ شخص خون کا مجرم تھا۔ (‏خروج ۲۲:‏۲، ۳)‏ لہٰذا، یقینی طور پر، خدا کے کامل طور پر متوازن قوانین سہواً خونیوں کو سزائے موت سے بچنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔‏

۶.‏ ’‏زندگی کے بدلے زندگی‘‏ کے قانون کو قدیم اسرائیل میں کیسے پورا کِیا جاتا تھا؟‏

۶ اگر قدیم اسرائیل میں خون کِیا جاتا تھا تو مقتول کے خون کا انتقام لیا جانا ضروری تھا۔ ”‏جان کے بدلے جان“‏ کی شریعت اُس وقت پوری ہوتی تھی جب قاتل کو ”‏خون کا انتقام لینے والے“‏ کے ہاتھوں مار دیا جاتا تھا۔ (‏گنتی ۳۵:‏۱۹)‏ انتقام لینے والا مقتول کا قریبی مرد رشتہ‌دار شخص ہوتا تھا۔ لیکن سہواً خونیوں کی بابت کیا ہے؟‏

یہوؔواہ کا مہربانہ بندوبست

۷.‏ خدا نے اُن کیلئے کیا بندوبست کِیا تھا جو کسی شخص کو سہواً قتل کر دیتے تھے؟‏

۷ اُن کیلئے جنہوں نے غیرارادی طور پر یا سہواً کسی شخص کو ہلاک کر دیا ہو، خدا نے ازروئے محبت پناہ کے شہر فراہم کئے تھے۔ ان کی بابت موسیٰؔ سے کہا گیا تھا:‏ ”‏بنی اسرائیل سے کہہ دے کہ جب تُم یرؔدن کو عبور کرکے ملکِ کنعاؔن میں پہنچ جاؤ۔ تو تُم کئی ایسے شہر مقرر کرنا جو تمہارے لئے پناہ کے شہر ہوں تاکہ خونی جس سے سہواً خون ہو جائے وہاں بھاگ جا سکے۔ اِن شہروں میں تُم کو انتقام لینے والے سے پناہ ملیگی تاکہ خونی جب تک وہ فیصلہ کیلئے جماعت کے آگے حاضر نہ ہو تب تک مارا نہ جائے۔ اور پناہ کے جو شہر تُم دو گے وہ چھ ہوں۔ تین شہر تُو یرؔدن کے پار اور تین ملکِ‌کنعاؔن میں دینا۔ یہ پناہ کے شہر ہونگے۔ اِن چھؤں شہروں میں .‏ .‏ .‏ پناہ ملیگی تاکہ جس کسی سے سہواً خون ہو جائے وہ وہاں بھاگ جا سکے۔“‏—‏گنتی ۳۵:‏۹-‏۱۵۔‏

۸.‏ پناہ کے شہر کہاں واقع تھے، اور اُن تک پہنچنے کیلئے سہواً خونیوں کی کیسے مدد کی جاتی تھی؟‏

۸ جب اسرائیلی ملکِ‌موعود میں داخل ہوئے تو اُنہوں نے حکم کی تعمیل میں چھ پناہ کے شہر مقرر کئے۔ ان شہروں میں سے تین—‏قاؔدس، سکمؔ اور حبرؔون—‏دریائے یردن کے مغرب میں واقع تھے۔ دریائے یردن کے مشرق میں جوؔلان، راؔمہ اور بصرؔ پناہ کے شہر تھے۔ پناہ کے چھ شہر مناسب طور پر شاہراہوں کے بالکل قریب مقرر کئے گئے تھے۔ ان راستوں پر موزوں جگہوں پر ”‏پناہ“‏ کے لفظ والے رہنما نشان نصب کر دیئے جاتے تھے۔ یہ رہنما نشان شہر پناہ کی نشاندہی کرتے تھے، اور سہواً خونی اپنی جان بچانے کیلئے کسی قریب‌ترین میں بھاگ جایا کرتا تھا۔ وہاں وہ خون کا انتقام لینے والے سے محفوظ رہ سکتا تھا۔—‏یشوع ۲۰:‏۲-‏۹۔‏

۹.‏ یہوؔواہ نے پناہ کے شہر کیوں فراہم کئے تھے، اور وہ کن کے فائدے کیلئے فراہم کئے گئے تھے؟‏

۹ خدا نے کیوں پناہ کے شہروں کا بندوبست کِیا تھا؟ وہ اسلئے فراہم کئے گئے تھے تاکہ ملک بے‌گناہوں کے خون سے آلودہ نہ ہو اور خون کا جرم قوم پر نہ آئے۔ (‏استثنا ۱۹:‏۱۰)‏ کن کے فائدے کیلئے پناہ کے شہر فراہم کئے گئے تھے:‏ شریعت نے بیان کِیا:‏ ”‏اِن چھؤں شہروں میں بنی‌اسرائیل کو اور اُن مسافروں اور پردیسیوں کو جو تُم میں بودوباش کرتے ہیں پناہ ملیگی تاکہ جس کسی سے سہواً خون ہو جائے وہ وہاں بھاگ جا سکے۔“‏ (‏گنتی ۳۵:‏۱۵)‏ لہٰذا، انصاف کرنے کی خاطر اور رحم کو ملحوظِ‌خاطر رکھتے ہوئے، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے، یہوؔواہ نے اسرائیلیوں کو سہواً خونیوں کیلئے جو کہ (‏۱)‏ مقامی اسرائیلی، (‏۲)‏ اسرائیل میں پردیسی، یا (‏۳)‏ دوسرے ممالک سے مسافر جو ملک میں بودوباش کرتے تھے پناہ کے شہر مقرر کرنے کیلئے کہا تھا۔‏

۱۰.‏ یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ پناہ کے شہر خدا کی طرف سے کِیا گیا ایک مہربانہ بندوبست تھا؟‏

۱۰ یہ بات قابلِ‌غور ہے کہ اگر ایک شخص سہواً خونی تھا تو بھی اُسے خدا کے حکم کے مطابق مارا جانا تھا:‏ ”‏جو کوئی آدمی کا خون کرے ضرور ہے کہ اُسکا خون بھی آدمی ہی کے ہاتھوں ہو۔“‏ پس، یہ صرف یہوؔواہ خدا کے مہربانہ بندوبست کے تحت ہی تھا کہ ایک سہواً خونی پناہ کے ان شہروں میں سے کسی میں بھاگ کر جا سکتا تھا۔ بظاہر، عام طور پر لوگ خون کا انتقام لینے والے سے کسی بھی بھاگنے والے شخص کیلئے ہمدردی محسوس کرتے تھے کیونکہ وہ سب جانتے تھے کہ وہ بھی نادانستہ طور پر اسی طرح کی غلطی کر سکتے تھے اور شاید اُنہیں بھی پناہ اور رحم کی ضرورت ہو۔‏

پناہ کیلئے بھاگ جانا

۱۱.‏ قدیم اسرائیل میں، ایک شخص کیا کر سکتا تھا اگر اُس سے غیرارادی طور پر کسی ساتھی کام کرنے والے کا قتل ہو جاتا تھا؟‏

۱۱ ایک مثال شاید پناہ کیلئے خدا کے مہربانہ بندوبست کیلئے آپکی سمجھ کو کسی حد تک بہتر بنا سکے۔ تصور کریں کہ آپ قدیم اسرائیل میں ایک لکڑہارے تھے۔ فرض کریں کہ اچانک کلہاڑا دستے سے نکل جاتا ہے اور بہت زور کیساتھ ایک ساتھی کارکن کو جا کر لگتا ہے۔ آپ کیا کرینگے؟ شریعت نے اس قسم کی حالت کیلئے بندوبست کِیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ اس خداداد بندوبست سے مستفید ہونگے:‏ ”‏اُس خونی کا جو وہاں [‏شہر پناہ میں]‏ بھاگ کر اپنی جان بچائے حال یہ ہو کہ اُس نے اپنے ہمسایہ کو نادانستہ اور بغیر اُس سے قدیمی عداوت رکھے مار ڈالا ہو۔ مثلاً کوئی شخص اپنے ہمسایہ کیساتھ لکڑیاں کاٹنے کو جنگل میں جائے اور کلہاڑا ہاتھ میں اُٹھائے تاکہ درخت کاٹے اور کلہاڑا دستے سے نکل کر اُسکے ہمسایہ کے جا لگے اور وہ مر جائے تو وہ اِن شہروں میں سے کسی میں بھاگ کر جیتا بچے۔“‏ (‏استثنا ۱۹:‏۴، ۵)‏ تاہم، اگر آپ پناہ کے شہر میں بھاگ بھی جائیں تو بھی آپ جو کچھ واقع ہوا ہے اُس کی ذمہ‌داری سے بری نہیں ہو جائینگے۔‏

۱۲.‏ ایک سہواً خونی کے شہر پناہ میں پہنچنے کے بعد کیا کارروائی کی جاتی تھی؟‏

۱۲ اگرچہ آپکو مسافرپروری کے تحت خوش‌آمدید کہا جاتا ہے تو بھی آپکو شہر پناہ کے پھاٹک پر بیٹھے ہوئے بزرگوں کو سارا معاملہ بتانا ہوگا۔ شہر میں داخل ہونے کے بعد، آپ کو مقدمے کی کارروائی کیلئے شہر کے پھاٹکوں پر موجود اسرائیل کی جماعت کی نمائندگی کرنے والے اُن بزرگوں کے روبرو حاضر ہونے کیلئے واپس بھیج دیا جائیگا جن کے تحت وہ علاقہ آتا ہے جہاں قتل ہوا تھا۔ وہاں آپکو اپنی بے‌گناہی ثابت کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔‏

جب خونیوں پر مقدمہ چلایا جاتا تھا

۱۳، ۱۴.‏ ایک خونی کے مقدمے کی سماعت کے دوران بزرگ بعض کن باتوں کا یقین کر لینا چاہینگے؟‏

۱۳ اُس دائرۂ اختیار کے شہر کے پھاٹک کے بزرگوں کے سامنے مقدمے کی سماعت کے دوران، آپ بِلاشُبہ اس چیز کیلئے شکرگزاری کیساتھ غور کرینگے کہ آپکے گزشتہ چال‌چلن کو بہت اہمیت دی گئی تھی۔ بزرگ مقتول کیساتھ آپکے تعلقات کا بغور جائزہ لینگے۔ کیا آپ اُس شخص سے نفرت کرتے تھے، اُس کی گھات میں بیٹھے تھے اور دانستہ طور پر اُسے جان سے مار ڈالا تھا؟ اگر ایسا ہے، تو بزرگوں کو آپ کو خون کا انتقام لینے والے کے حوالہ کرنا ہوگا اور آپ قتل کئے جائینگے۔ یہ ذمہ‌دار آدمی شریعت کے تقاضے سے واقف تھے کہ ’‏بے‌گناہ کے خون کو اسرائیل سے دفع کِیا جائے۔‘‏ (‏استثنا ۱۹:‏۱۱-‏۱۳)‏ اسی نسبت سے، آجکل کسی عدالتی کارروائی کے سلسلے میں، کسی خطاکار کے گزشتہ رجحان اور چال‌چلن کو مدِنظر رکھتے ہوئے،مسیحی بزرگوں کو صحائف کی مطابقت میں کام کرتے ہوئے ان سے بخوبی واقف ہونے کی ضرورت ہے۔‏

۱۴ نرمی کیساتھ جانچ‌پڑتال کرتے ہوئے، شہر کے بزرگ یہ جاننا چاہینگے کہ آیا آپ نے مقتول کو گھات لگا کر تو نہیں مارا۔ (‏خروج ۲۱:‏۱۲، ۱۳)‏ کیا آپ نے کسی خفیہ مقام سے اُس پر حملہ کِیا تھا؟ (‏استثنا ۲۷:‏۲۴)‏ کیا آپ اُس شخص کے خلاف اسقدر اشتعال‌انگیز تھے کہ آپ نے اُسے قتل کرنے کا مکارانہ منصوبہ بنایا؟ اگر ایسا ہے تو آپ قتل کئے جانے کے مستحق ہونگے۔ (‏خروج ۲۱:‏۱۴)‏ بالخصوص بزرگوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہوگی کہ آیا آپکے اور مقتول کے درمیان کوئی دُشمنی، یا عداوت تو نہیں تھی۔ (‏استثنا ۱۹:‏۴، ۶، ۷؛ یشوع ۲۰:‏۵)‏ یوں کہہ لیجئے کہ بزرگوں نے آپکو بے‌گناہ پایا اور آپکو پناہ کے شہر میں بھیج دِیا۔ آپ دکھائے جانے والے رحم کیلئے کسقدر شکرگزار ہونگے!‏

پناہ کے شہر میں زندگی

۱۵.‏ ایک سہواً خونی سے کن باتوں کا تقاضا کِیا جاتا تھا؟‏

۱۵ ایک سہواً خونی کو پناہ کے شہر کے اندر یا اس کی دیواروں سے باہر تقریباً ۱،۴۵۰ فٹ کے فاصلے تک رہنا پڑتا تھا۔ (‏گنتی ۳۵:‏۲-‏۴)‏ اگر وہ اس حد سے پار چلا جاتا تو ہو سکتا تھا کہ اُسکا سامنے خون کا انتقام لینے والے سے ہو جاتا۔ ان حالات کے تحت، انتقام لینے والا بِلاخوف خونی کو مار سکتا تھا۔ لیکن خونی کو بیڑیوں یا قید میں نہیں رکھا جاتا تھا۔ پناہ کے شہر میں رہائش‌پذیر ہونے والے کے طور پر اُسے کوئی ہنر سیکھنا پڑتا تھا، کام کرنا ہوتا تھا اور معاشرے کے ایک کارآمد ممبر کے طور پر خدمت انجام دینی پڑتی تھی۔‏

۱۶.‏ (‏ا)‏ سہواً خونی کو کتنے عرصہ تک پناہ کے شہر میں رہنا ہوتا تھا؟ (‏ب)‏ سردار کاہن کی موت کیوں ایک خونی کیلئے پناہ کے شہر کو چھوڑنا ممکن بنا دیتی تھی؟‏

۱۶ سہواً خونی کو کتنی مدت تک پناہ کے شہر میں رہنا ہوگا؟ غالباً اپنی باقی کی ساری زندگی۔ بہرصورت، شریعت نے بیان کیا:‏ ”‏کیونکہ خونی کو لازم تھا تھا کہ سردار کاہن کی وفات تک اُسی پناہ کے شہر میں رہتا پر سردار کاہن کے مرنے کے بعد خونی اپنی موروثی جگہ کو لوٹ جائے۔“‏ (‏گنتی ۳۵:‏۲۶-‏۲۸)‏ سردار کاہن کی موت سہواً خونی کو پناہ کے شہر کو چھوڑنے کی اجازت کیوں دیتی تھی؟ سردار کاہن قوم کی ممتازترین شخصیات میں سے ایک ہوتا تھا۔ اسلئے اُس کی موت ایک ایسا نمایاں واقع ہوگی کہ اسکی خبر اسرائیل کے سارے قبیلوں میں پھیل جائیگی۔ اُس وقت پناہ کے شہروں کے تمام پناہ‌گزیں خون کا انتقام لینے والوں کی طرف سے کسی خطرے سے آزاد اپنے اپنے گھروں کو لوٹ سکتے تھے۔ کیوں؟ کیونکہ خدا کی شریعت نے حکم دِیا تھا کہ انتقام لینے والے کا خونی کو مارنے کا استحقاق سردار کاہن کی موت کیساتھ ہی ختم ہو جاتا تھا اور ہر ایک یہ جانتا تھا۔ اگر دوسرا قریبی رشتہ‌دار اس کے بعد موت کا انتقام لیگا تو وہ ایک قاتل ہوگا اور انجام‌کار قتل کی سزا پائیگا۔‏

دائمی اثرات

۱۷.‏ سہواً خونی پر لگائی گئی پابندیوں کے امکانی اثرات کیا تھے؟‏

۱۷ سہواً خونیوں پر لگائی گئی پابندیوں کے امکانی اثرات کیا تھے۔ یہ اس بات کی یاددہانی تھے کہ وہ کسی شخص کی موت کا باعث بنا تھا۔ اغلب ہے کہ اس کے بعد وہ انسانی زندگی کو ہمیشہ مُقدس خیال کریگا۔ علاوہ‌ازیں، وہ بمشکل اس بات کو بھول پائیگا کہ اس کیساتھ مشفقانہ برتاؤ کِیا گیا ہے۔ رحم دکھائے جانے کے بعد، وہ یقیناً دوسروں کیساتھ رحم سے پیش آنا چاہیگا۔ پناہ کے شہروں کا بندوبست اپنی پابندیوں کے باوجود تمام لوگوں کیلئے بھی فائدے کا باعث تھا۔ وہ کیسے؟ اس نے یقینی طور پر اس بات کو اُن کے ذہن‌نشین کر دیا ہوگا کہ اُنہیں انسانی زندگی کے سلسلے میں لاپرواہ نہیں ہونا چاہئے یا اسے معمولی خیال نہیں کرنا چاہئے۔ اس طرح مسیحیوں کو بھی لاپروائی سے گریز کرنے کی یاددہانی کرائی جانی چاہئے جو کہ ناگہانی موت کا باعث بن سکتی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ، پناہ کے شہروں کیلئے یہوؔواہ کے مہربانہ بندوبست کو جب ایسا کرنا موزوں ہو تو ہمیں رحم دکھانے کی تحریک دینی چاہئے۔—‏یعقوب ۲:‏۱۳‏۔‏

۱۸.‏ کن طریقوں سے خدا کا پناہ کے شہروں کا بندوبست فائدہ‌مند تھا؟‏

۱۸ یہوؔواہ خدا کا پناہ کے شہروں کا بندوبست دیگر طریقوں سے بھی فائدہ‌مند تھا۔ لوگ کسی خونی کے مقدمے کی سماعت سے پہلے ہی اُسے خطاوار فرض کرتے ہوئے اُسے تلاش کرنے کیلئے محلے کے افراد کو اکٹھا نہیں کرتے تھے، اسکی بجائے، وہ اُسے دانستہ قتل سے بری خیال کرتے تھے اور تحفظ حاصل کرنے میں اُس کی مدد بھی کرتے تھے۔ مزیدبرآں، پناہ کے شہروں کا بندوبست آجکل قاتلوں کو جیلوں اور اصلاحی قیدخانوں میں رکھنے کے بندوبست کے بالکل برعکس تھا، جہاں مالی طور پر عوام اُنکی کفالت کرتی ہے اور دوسرے خطاکاروں کیساتھ اپنی قریبی رفاقت کی وجہ سے اکثر زیادہ خراب مجرم بن جاتے ہیں۔ پناہ کے شہر کے بندوبست میں، بہت قیمتی دیواروں، آہنی جنگلوں والے قیدخانے جن میں رہنے والے اکثراوقات فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، تعمیر کرنے اور اُنکی دیکھ‌بھال کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ درحقیقت، خونی خود کو ”‏قید“‏ کر لیتا تھا اور مخصوص عرصے کے دوران وہاں رہتا تھا۔ اُسے ایک کام کرنے والا بھی ہونا تھا، یوں وہ ساتھی انسانوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے کچھ نہ کچھ کرتا تھا۔‏

۱۹.‏ پناہ کے شہروں کی بابت کونسے سوال اُٹھائے جاتے ہیں؟‏

۱۹ یقیناً، سہواً خونیوں کے تحفظ کیلئے اسرائیل میں پناہ کے شہروں کا یہوؔواہ کا بندوبست مہربانہ تھا۔ اس بندوبست نے یقینی طور پر زندگی کیلئے احترام کو فروغ دیا۔ تاہم، کیا قدیم پناہ کے شہر ۲۰ ویں صدی میں رہنے والے لوگوں کیلئے کچھ مطلب رکھتے ہیں؟ کیا ہم یہوؔواہ خدا کے حضور خون کے مجرم ہو سکتے ہیں اور ہمیں یہ احساس بھی نہ ہو کہ ہمیں اُسکے رحم کی ضرورت ہے؟ کیا اسرائیل میں پناہ کے شہر ہمارے لئے جدید زمانے میں کوئی اہمیت رکھتے ہیں؟‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ یہوؔواہ انسانی زندگی کو کیسا خیال کرتا ہے؟‏

▫ خدا نے سہواً خونیوں کیلئے کونسا مہربانہ بندوبست کِیا تھا؟‏

▫ کیسے ایک خونی پناہ کے شہر تک رسائی حاصل کرتا تھا، اور اُسے کتنے عرصہ تک وہاں رہنا ہوتا تھا؟‏

▫ سہواً خون کرنے والے پر لگائی گئی پابندیوں کے امکانی اثرات کیا تھے؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں