والدین اور بچو: خدا کو پہلا درجہ دیں!
”خدا سے ڈر اور اُسکے حکموں کو مان۔“—واعظ ۱۲:۱۳۔
۱. والدین اور بچوں کو کونسا خوف پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ اُنکے لئے کس چیز کا باعث ہوگا؟
یسوؔع مسیح کی بابت ایک پیشینگوئی نے کہا کہ ”اُسکی شادمانی خداوند کے خوف میں ہوگی۔“ (یسعیاہ ۱۱:۳) اُسکا خوف لازمی طور پر گہری تعظیم اور خدا کیلئے جذبۂاحترام تھا، خدا کو ناراض کرنے کا خوف کیونکہ وہ اُسے پیار کرتا تھا۔ والدین اور بچوں کو خدا کے لئے مسیح جیسا ہی خوف پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جو اُنکے لئے شادمانی کا باعث ہوگا جیسے یہ یسوؔع کیلئے تھا۔ اُنہیں خدا کے احکام کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اپنی زندگیوں میں اُسے پہلا درجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک بائبل نویس کے مطابق، ”انسان کا فرضِکلی یہی ہے۔“—واعظ ۱۲:۱۳۔
۲. شریعت کا سب سے اہم حکم کونسا تھا، اور یہ اوّلین طور پر کن کو دیا گیا تھا؟
۲ شریعت کا نہایت ہی اہم حکم یعنی، یہ کہ ہم ’یہوواہ سے اپنے سارے دل، جان اور طاقت سے محبت رکھیں،‘ اوّلین طور پر والدین کو ہی دیا گیا تھا۔ اِس بات کو شریعت کے اگلے الفاظ سے ظاہر کِیا گیا ہے: ”تُو اِنکو [یہوؔواہ سے محبت کرنے کی بابت الفاظ کو] اپنی اولاد کے ذہننشین کرنا اور گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت اِنکا ذکر کِیا کرنا۔“ (استثنا ۶:۴-۷؛ مرقس ۱۲:۲۸-۳۰) لہٰذا والدین کو خود خدا سے محبت کرتے اور اپنے بچوں کو بھی ایسا کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے اُسے پہلا درجہ دینے کا حکم دیا گیا تھا۔
ایک مسیحی ذمہداری
۳. یسوؔع نے بچوں کو توجہ دینے کی اہمیت کیسے ظاہر کی تھی؟
۳ یسوؔع نے چھوٹے بچوں کو بھی توجہ دینے کی اہمیت کو ظاہر کِیا۔ یسوؔع کی زمینی خدمتگزاری کے اختتام کے قریب ایک موقع پر، لوگ اپنے ننھے بچوں کو اُسکے پاس لانے لگے۔ ظاہری طور پر یہ سمجھتے ہوئے کہ یسوؔع بہت مصروف تھا اُسے تنگ نہیں کرنا چاہئے، شاگردوں نے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی۔ لیکن یسوؔع نے اپنے شاگردوں کو جھڑکا: ”بچوں کو میرے پاس آنے دو۔ اُنہیں منع نہ کرو۔“ یسوؔع نے تو ”اُنہیں اپنی گود میں لیا،“ یوں چھوٹے بچوں کو توجہ دینے کی اہمیت کو ایک ہمدردانہ انداز میں ظاہر کِیا۔—لوقا ۱۸:۱۵-۱۷؛ مرقس ۱۰:۱۳-۱۶۔
۴. ”سب قوموں کو شاگرد بناؤ“ کا حکم کن کو دیا گیا تھا اور یہ اُن سے کیا کرنے کا تقاضا کریگا؟
۴ یسوؔع نے یہ بھی واضح کِیا کہ اپنے بچوں کے علاوہ دوسروں کو تعلیم دینا بھی اُسکے پیروکاروں کی ذمہداری تھی۔ اپنی موت اور قیامت کے بعد، یسوؔع بعض والدین سمیت—”پانچ سو بھائیوں کو ایک ساتھ دکھائی دیا۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۶) بظاہر ایسا گلیلؔ میں ایک پہاڑ پر واقع ہوا جہاں اُسکے ۱۱ رسول بھی جمع ہوئے تھے۔ وہاں یسوؔع نے تمام کو نصیحت کی: ”جاؤ سب قوموں کو شاگرد بناؤ . . . اُنکو تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جنکا مَیں نے تم کو حکم دیا۔“ (متی ۲۸:۱۶-۲۰) کوئی مسیحی بھی واجب طور پر اس حکم کو نظرانداز نہیں کر سکتا! اُسے پورا کرنے کیلئے والدوں اور ماؤں سے تقاضا کِیا جاتا ہے کہ اپنے بچوں کی نگہداشت کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی منادی کرنے اور تعلیم دینے کے کام میں شریک ہوں۔
۵. (ا) کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ رسولوں میں سے، اگر سب نہیں تو، زیادہتر شادیشُدہ تھے اور یوں ممکنہ طور پر بچوں والے تھے؟ (ب) خاندانی سرداروں کو کس مشورت کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے؟
۵ نمایاں طور پر، رسولوں کو بھی منادی کرنے اور خدا کے گلّہ کی نگہبانی کرنے کی ذمہداری کیساتھ اپنی خاندانی ذمہداریوں کو متوازن رکھنا پڑتا تھا۔ (یوحنا ۲۱:۱-۳، ۱۵-۱۷؛ اعمال ۱:۸) یہ اسلئے تھا کہ اُن میں سے زیادہتر، مگر سب نہیں، شادیشُدہ تھے۔ لہٰذا پولسؔ رسول نے وضاحت کی: ”کیا ہم کو یہ اختیار نہیں کہ کسی مسیحی بہن کو بیاہ کر لئے پھریں جیسا اَور رسول اور خداوند کے بھائی اور کیفاؔ کرتے ہیں؟“ (۱-کرنتھیوں ۹:۵؛ متی ۸:۱۴) بعض رسولوں کے تو شاید بچے بھی تھے۔ ابتدائی مؤرخین، جیسےکہ یوسؔیبیُس، بیان کرتا ہے کہ پطرؔس کے بچے تھے۔ تمام ابتدائی مسیحی والدین کو صحیفائی مشورت پر دھیان دینے کی ضرورت تھی: ”اگر کوئی اپنوں اور خاص کر اپنے گھرانے کی خبرگیری نہ کرے تو ایمان کا منکر اور بےایمان سے بدتر ہے۔“—۱-تیمتھیس ۵:۸۔
اوّلین ذمہداری
۶. (ا) خاندانوں والے مسیحی بزرگوں کے پاس کونسا چیلنج ہے؟ (ب) ایک بزرگ کی اوّلین ذمہداری کیا ہے؟
۶ آجکل جن مسیحی بزرگوں کے خاندان ہیں وہ رسولوں جیسی حالت میں ہی ہیں۔ اُنہیں چاہئے کہ اعلانیہ منادی کرنے اور خدا کے گلّے کی نگہبانی کرنے کی اپنی ذمہداری کیساتھ ساتھ اپنے خاندانوں کی روحانی اور جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کی اپنی ذمہداری کو متوازن کریں۔ کس کارگزاری کو اوّلیت ملنی چاہئے؟ مارچ ۱۵، ۱۹۶۴ کا مینارِنگہبانی (انگریزی) بیان کرتا ہے: ”[باپ کی] اوّلین ذمہداری اُسکا خاندان ہے، اور، دراصل، اگر وہ اپنی اِس ذمہداری کو پورا نہیں کرتا تو وہ موزوں طور پر کلیسیا میں خدمت نہیں کر سکتا۔“
۷. مسیحی والد خدا کو پہلا درجہ کیسے دے سکتے ہیں؟
۷ لہٰذا والدوں کو چاہئے کہ ’یہوؔواہ کیطرف سے تربیت اور نصیحت دیکر اپنے بچوں کی پرورش کرنے‘ کے حکم پر دھیان دیتے ہوئے خدا کو پہلا درجہ دیں۔ (افسیوں ۶:۴) اگرچہ والد کے پاس مسیحی کلیسیا میں کارگزاریوں کی نگرانی کرنے کی تفویض بھی ہو تو بھی یہ ذمہداری کسی دوسرے کے سپرد نہیں کی جا سکتی۔ ایسے والد کسطرح اپنی ذمہداریوں—خاندانی افراد کیلئے جسمانی، روحانی، اور جذباتی طور پر بہم پہنچانا—کو پورا کر سکتے اور اسکے ساتھ ساتھ کلیسیا میں پیشوائی اور نگہبانی فراہم کر سکتے ہیں؟
درکار مدد فراہم کرنا
۸. ایک بزرگ کی بیوی کیسے اُسکی مدد کرتی ہے؟
۸ واقعی، خاندانی ذمہداریاں رکھنے والے بزرگ مدد سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ مذکورہبالا مینارِنگہبانی نے بیان کِیا کہ مسیحی بیوی اپنے شوہر کے لئے مددگار ہو سکتی ہے۔ اِس نے کہا: ”وہ جتنا زیادہ ممکن ہو اُس کے لئے اپنی مختلف تفویضات کو تیار کرنا سہل بنا سکتی ہے، اور گھر میں اچھا جدوَل قائم رکھنے سے، وقت پر کھانا تیار کرنے سے، بِلاتاخیر کلیسیا اجلاسوں پر جانے کے لئے تیار ہونے سے اُس کے لئے اور اپنے لئے بیشقیمت وقت کو بچا سکتی ہے۔ . . . اپنے شوہر کی زیرِہدایت، مسیحی بیوی بچوں کی اُس راہ میں تربیت کرنے کے لئے بہت کچھ کر سکتی ہے جس پر اُنہیں یہوؔواہ کو خوش کرنے کے لئے چلنا چاہئے۔“ (امثال ۲۲:۶) جیہاں، بیوی کو ”مددگار“ ہونے کے لئے خلق کِیا گیا تھا، اور اُسکا شوہر دانشمندی سے اُس کی مدد کا خیرمقدم کرے گا۔ (پیدایش ۲:۱۸) اُس کی مدد اُسے اپنی خاندانی اور کلیسیائی ذمہداریوں دونوں کو نہایت مؤثر طریقے سے پورا کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔
۹. تھسلنیکے کی کلیسیا میں کلیسیا کے دیگر ارکان کی مدد کرنے کیلئے کن کی حوصلہافزائی کی گئی تھی؟
۹ تاہم، صرف مسیحی بزرگوں کی بیویاں ہی نہیں جو ایسی کارگزاری میں شریک ہو سکتی ہیں جو اُس نگہبان کی مدد کرتی ہے جسے ”خدا کے گلّہ کی نگہبانی“ اور اپنے گھرانے کی نگہداشت کرنا لازم ہے۔ (۱-پطرس ۵:۲) اَور کون کر سکتا ہے؟ پولسؔ رسول نے تھسلنیکے میں بھائیوں کو جو اُنکے ”پیشوا ہیں“ اُنکے لئے احترام دکھانے کی تاکید کی۔ تاہم، آگے چلتے ہوئے اور انہی بھائیوں—خصوصاً جو پیشوا نہیں—سے مخاطب ہوتے ہوئے پولسؔ نے لکھا: ”اَے بھائیو! ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ بےقاعدہ چلنے والوں کو سمجھاؤ۔ کمہمتوں کو دلاسا دو۔ کمزوروں کو سنبھالو۔ سب کے ساتھ تحمل سے پیش آؤ۔“—۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۲-۱۴۔
۱۰. تمام بھائیوں کی پُرمحبت مدد کا کلیسیا پر کیا عمدہ اثر ہوتا ہے؟
۱۰ کتنی عمدہ بات ہوتی ہے جب کلیسیا کے اندر بھائیوں میں ایسی محبت پائی جاتی ہے جو اُنہیں افسردہدلوں کو تسلی دینے، کمزوروں کی مدد کرنے، بےقاعدہ چلنے والوں کو نصیحت کرنے اور سب کیساتھ تحمل سے پیش آنے کی تحریک دیتی ہے! تھسلنیکے کے بھائیوں نے، جنہوں نے بڑی مصیبت اُٹھانے کے باوجود بائبل سچائی کو حال ہی میں قبول کِیا تھا، ایسا کرنے کے لئے پولسؔ کی مشورت کا اطلاق کِیا۔ (اعمال ۱۷:۱-۹؛ ۱-تھسلنیکیوں ۱:۶؛ ۲:۱۴؛ ۵:۱۱) ساری کلیسیا کو مضبوط اور متحد کرنے کے سلسلے میں اُنکے پُرمحبت تعاون کا جو عمدہ اثر ہوا تھا اُسکی بابت سوچیں! اسی طرح، آجکل جب بھائی ایک دوسرے کو تسلی دیتے، مدد کرتے، اور نصیحت کرتے ہیں تو یہ بزرگوں کیلئے، جنکے اکثر دیکھبھال کرنے کیلئے خاندان ہوتے ہیں، نگہبانی کرنے والی ذمہداریوں کو نبھانا بہت آسان بنا دیتا ہے۔
۱۱. (ا) یہ نتیجہ اخذ کرنا کیوں معقول ہے کہ ”بھائیو“ کی اصطلاح میں عورتیں شامل تھیں؟ (ب) آجکل ایک پُختہ مسیحی عورت جوان عورتوں کو کیا مدد دے سکتی ہے؟
۱۱ کیا عورتیں بھی اُن ”بھائیوں“ میں شامل تھیں جن سے پولسؔ رسول مخاطب تھا؟ جیہاں عورتیں بھی تھیں، کیونکہ بہتیری عورتیں ایماندار بن گئی تھیں۔ (اعمال ۱۷:۱، ۴؛ ۱-پطرس ۲:۱۷؛ ۵:۹) ایسی عورتیں کس قسم کی مدد کر سکتی تھیں؟ کلیسیا میں ایسی جوان عورتیں تھیں جنہیں اپنے ”نفس“ پر قابو پانے کا مسئلہ تھا یا جو ”کمہمت“ ہو چکی تھیں۔ (۱-تیمتھیس ۵:۱۱-۱۳) آجکل بعض عورتوں کو ایسے ہی مسائل درپیش ہیں۔ جس چیز کی اُنہیں زیادہتر ضرورت ہو سکتی ہے وہ محض ایک سننے والا کان یا سہارا دینے والا کندھا ہوتا ہے۔ اکثر ایسی مدد فراہم کرنے کے لئے بہترین شخص ایک پُختہ مسیحی بہن ہی ہوتی ہے۔ مثال کیطور پر، وہ کسی دوسری عورت کے ساتھ ذاتی مسائل پر گفتگو کر سکتی ہے جو ایک مسیحی آدمی موزوں طور پر حل نہیں کر سکتا۔ ایسی مدد فراہم کرنے کی قدروقیمت کو اُجاگر کرتے ہوئے، پولسؔ نے لکھا: ”بوڑھی عورتیں . . . اچھی باتیں سکھانے والی ہوں۔ تاکہ جوان عورتوں کو سکھائیں کہ اپنے شوہروں کو پیار کریں۔ بچوں کو پیار کریں۔ اور مُتقی اور پاکدامن اور گھر کا کاروبار کرنے والی اور مہربان ہوں اور اپنے اپنے شوہر کے تابع رہیں تاکہ خدا کا کلام بدنام نہ ہو۔“—ططس ۲:۳-۵۔
۱۲. کلیسیا میں تمام لوگوں کو کس کی ہدایت کی پیروی کرنا لازم ہے؟
۱۲ کلیسیا میں ایسی فروتن بہنیں کیا ہی برکت ہیں جب وہ معاون طریقے سے اپنے شوہروں اور بزرگوں دونوں کی مدد کرتی ہیں! (۱-تیمتھیس ۲:۱۱، ۱۲؛ عبرانیوں ۱۳:۱۷) خاندانی ذمہداریوں والے بزرگ خاص طور پر مستفید ہوتے ہیں جب سب محبت کے جذبے کیساتھ ایک دوسرے کی مدد کرنے کیلئے تعاون کرتے ہیں اور جب سب مقررہ چرواہوں کی ہدایت کے تابع ہوتے ہیں۔—۱-پطرس ۵:۱، ۲۔
اولاد والو، آپ کس چیز کو پہلا درجہ دیتے ہیں؟
۱۳. بہت سے والد اپنے خاندانوں میں کیسے ناکام ہو جاتے ہیں؟
۱۳ برسوں پہلے ایک ممتاز مسخرے نے بیان کِیا: ”مَیں کامیاب انسانوں کو سینکڑوں آدمیوں والی کمپنیاں چلاتے ہوئے دیکھتا ہوں؛ اُنہیں معلوم ہے کہ ہر صورتحال سے کیسے نپٹا جائے، کاروباری دُنیا میں انضباط سے کیسے کام لیا جائے اور صلہ حاصل کِیا جائے۔ لیکن سب سے بڑا کاروبار جسے وہ چلا رہے ہیں اُنکا خاندان ہے اور اِس میں وہ ناکام ہیں۔“ کیوں؟ کیا یہ اس لئے نہیں کیونکہ وہ کاروبار اور دیگر مفادات کو پہلا درجہ دیتے ہیں اور خدا کی مشورت کو نظرانداز کرتے ہیں؟ اُس کا کلام کہتا ہے: ”یہ باتیں جنکا حکم . . . مَیں تجھے دیتا ہوں . . . اپنی اولاد کے ذہننشین کرنا۔“ اور ایسا ہر روز کِیا جانا تھا۔ والدین کو فراخدلی سے اپنا وقت دینے کی ضرورت ہے—اور بالخصوص اپنی محبت اور گہری فکرمندی۔—استثنا ۶:۶-۹۔
۱۴. (ا) والدین کو اپنے بچوں کی نگہداشت کیسے کرنی چاہئے؟ (ب) بچوں کی مناسب تربیت میں کیا کچھ شامل ہے؟
۱۴ بائبل ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بچے یہوؔواہ کی طرف سے ایک میراث ہیں۔ (زبور ۱۲۷:۳) کیا آپ اپنے بچوں کی نگہداشت خدا کی ملکیت جان کر کرتے ہیں، ایک ایسا تحفہ جو اُس نے آپ کے سپرد کِیا ہے؟ اگر آپ اپنی پُرمحبت فکرمندی اور توجہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیٹے یا بیٹی کو اپنے بازوؤں میں لیتے ہیں تو آپکا بچہ ضرور جوابیعمل دکھائے گا۔ (مرقس ۱۰:۱۶) لیکن ’بچے کی اُس کی راہ‘ میں تربیت کرنا ’جس میں اُسے جانا ہے‘ محض بغلگیری اور بوسوں سے زیادہ کا تقاضا کرتا ہے۔ زندگی کے پوشیدہ خطرات سے بچنے کے لئے حکمت سے لیس ہونے کی خاطر، ایک بچے کو پُرمحبت تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ماں یا باپ ’اپنے بچے کو تنبیہ‘ کرنے سے حقیقی محبت کو ظاہر کرتا ہے۔—امثال ۱۳:۱، ۲۴؛ ۲۲:۶۔
۱۵. کونسی چیز والدین کی طرف سے تربیت کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے؟
۱۵ والدین کی طرف سے تربیت کی ضرورت کو اُن بچوں کی بابت سکول کی ایک مشیر کے بیان سے دیکھا جا سکتا ہے جو اُس کے دفتر میں آتے ہیں: ”وہ قابلِرحم، افسردہدل، اور مایوس ہیں۔ حالات درحقیقت جیسے ہیں اُن کی بابت باتچیت کرتے ہوئے وہ روتے ہیں۔ بہتیروں—کسی کی سوچ سے بھی زیادہ—نے خودکُشی کرنے کی کوشش کی ہے، اس لئے نہیں کہ وہ اتنے خوش ہیں کہ اِسے سنبھال نہیں سکتے؛ چونکہ اتنی چھوٹی عمر میں وہ ”نگران“ ہیں اور اسے پورا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اسلئے وہ اتنے غمگین، بےیارومددگار، اور بوجھ سے دبے ہوئے ہوتے ہیں۔“ وہ مزید کہتی ہے: ”نوعمر شخص کے لئے یہ محسوس کرنا خوفزدہ کرنے والی بات ہوتی ہے کہ وہ معاملات کی نگرانی کر رہا ہے۔“ سچ، بچے تربیت کو رد کر سکتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ والدین کی طرف سے راہنمائیوں اور ہدایات کی قدر کرتے ہیں۔ وہ خوش ہوتے ہیں کہ اُن کے والدین اُن کے لئے حدود مقرر کرنے کا خیال رکھتے ہیں۔ ایک نوعمر نے کہا جسکے والدین نے ایسا کِیا تھا: ”اِس نے میرے ذہن سے بہت بڑے بوجھ کو ہٹا دیا۔“
۱۶. (ا) مسیحی گھرانوں میں پرورش پانے والے بعض بچوں کیساتھ کیا واقع ہوتا ہے؟ (ب) ایک بچے کی خودسر روش کا ضروری طور پر یہ مطلب کیوں نہیں ہوتا کہ والدین کے ذریعے دی گئی تربیت اچھی نہیں تھی؟
۱۶ تاہم، ایسے والدین رکھنے کے باوجود جو اُن سے پیار کرتے اور جو عمدہ تربیت فراہم کرتے ہیں، بعض نوعمر، یسوؔع کی تمثیل کے مسرف بیٹے کی مانند، والدین کی راہنمائی کو رد کر دیتے اور راہ سے بھٹک جاتے ہیں۔ (لوقا ۱۵:۱۱-۱۶) تاہم، اس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا ہے کہ اپنے بچوں کی مناسب طور پر تربیت کرنے کے سلسلے میں والدین نے اپنی ذمہداری کو پورا نہیں کِیا، جیسےکہ امثال ۲۲:۶ ہدایت دیتی ہے۔ ’بچے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے وہ اُس سے نہیں مڑیگا‘ والا بیان ایک عام اصول کے طور پر دیا گیا تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ مسرف بیٹے کی طرح، بعض بچے ’ماں یا باپ کی فرمانبرداری کو حقیر جانتے ہیں۔‘—امثال ۳۰:۱۷۔
۱۷. خودسر بچوں کے والدین کس سے تسلی پا سکتے ہیں؟
۱۷ ایک خودسر بیٹے کے باپ نے آہوبکا کی: ”مَیں نے اُسکے دل تک پہنچنے کی بہت کوشش کی ہے۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ کیا کروں کیونکہ بہت سے طریقوں کو آزما لیا ہے۔کوئی بھی کارگر نہیں ہوا۔“ اُمیدافزا طور پر، ایسے خودسر بچے، وقت آنے پر، اُس پُرمحبت تربیت کو ضرور یاد کرینگے جو اُنہوں نے حاصل کی اور مسرف بیٹے کی مانند لوٹ آئینگے۔ تاہم، حقیقت تو قائم ہی رہتی ہے کہ بعض بچے اپنے والدین کو صدمہ پہنچانے کے لئے بغاوت کرتے اور بداخلاقی کے کام کرتے ہیں۔ والدین اس بات کو جاننے سے تسلی پا سکتے ہیں کہ اُس عظیمترین اُستاد نے بھی جو کبھی زمین پر ہو گزرا ہے اپنے پُرانے شاگرد یہوؔداہ اسکریوتی کے ذریعے خود کو دھوکے سے گرفتار کرواتے ہوئے دیکھا۔ اور بِلاشُبہ خود یہوؔواہ کو بھی دُکھ پہنچا ہوگا جب اُسکے اپنے بہت سے روحانی بیٹوں نے اُس کی مشورت کو رد کر دیا اور باغی ثابت ہوئے جبکہ اُس کی کوئی غلطی نہ تھی۔—لوقا ۲۲:۴۷، ۴۸؛ مکاشفہ ۱۲:۹۔
بچو! آپ کسے خوش کرینگے؟
۱۸. بچے کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ خدا کو پہلا درجہ دیتے ہیں؟
۱۸ آپ نوجوانوں کو یہوؔواہ تاکید کرتا ہے: ”خداوند میں اپنے ماں باپ کے فرمانبردار رہو۔“ (افسیوں ۶:۱) نوجوان لوگ ایسا کرنے سے خدا کو پہلا درجہ دیتے ہیں۔ احمق نہ بنیں! ”احمق اپنے باپ کی تربیت کو حقیر جانتا ہے،“ خدا کا کلام کہتا ہے۔ آپ کو متکبرانہ طریقے سے یہ بھی فرض نہیں کرنا چاہئے کہ آپ تربیت کے بغیر زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ”ایک پُشت ایسی ہے جو اپنی نگاہ میں پاک ہے لیکن اُسکی گندگی اُس سے دھوئی نہیں گئی۔“ (امثال ۱۵:۵؛ ۳۰:۱۲) لہٰذا، الہٰی ہدایت پر دھیان دیں—والدین کے احکام اور تربیت پر ”کان لگا،“ ”نگاہ میں رکھ،“ ”فراموش نہ کر،“ ”توجہ کر،“ ”بجا لا،“ اور ”نہ چھوڑ۔“—امثال ۱:۸؛ ۲:۱؛ ۳:۱؛ ۴:۱؛ ۶:۲۰۔
۱۹. (ا) یہوؔواہ کی فرمانبرداری کرنے کیلئے بچوں کے پاس کونسی زبردست وجوہات ہیں؟ (ب) نوجوان لوگ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ خدا کے احسانمند ہیں؟
۱۹ آپ کے پاس یہوؔواہ کی فرمانبرداری کرنے کی زبردست وجوہات ہیں۔ وہ آپ سے محبت کرتا ہے، اور اُس نے آپکی حفاظت کیلئے اور خوشحال زندگی سے لطفاندوز ہونے میں آپ کی مدد کیلئے آپ کو اپنے قوانین دئے ہیں جن میں بچوں کیلئے اپنے والدین کی فرمانبرداری کرنے کا حکم بھی شامل ہے۔ (یسعیاہ ۴۸:۱۷) اُس نے آپکی خاطر قربان ہونے کیلئے اپنے بیٹے کو بھی دے دیا تاکہ آپ موت اور گناہ سے بچ جائیں اور ابدی زندگی سے لطف اُٹھائیں۔ (یوحنا ۳:۱۶) کیا آپ احسانمند ہیں؟ یہ جاننے کیلئے آپ کے دل کی جانچ کرتے ہوئے خدا آسمان سے دیکھ رہا ہے کہ آیا آپ واقعی اُس سے محبت کرتے اور اُسکی فراہمیوں کی قدر کرتے ہیں۔ (زبور ۱۴:۲) شیطان بھی دیکھ رہا ہے، اور اِس دعوے کے ساتھ خدا پر طنز کر رہا ہے کہ آپ اُسکی فرمانبرداری نہیں کرینگے۔ جب آپ خدا کی نافرمانی کرتے ہیں تو شیطان کو خوش اور یہوؔواہ کو ”آزردہ“ کرتے ہیں۔ (زبور ۷۸:۴۰، ۴۱) یہوؔواہ آپ سے اپیل کرتا ہے: ”اَے میرے بیٹے! دانا بن اور میرے دل کو [میری فرمانبرداری کرنے سے] شاد کر تاکہ مَیں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکوں۔“ (امثال ۲۷:۱۱) جیہاں، سوال یہ ہے، آپ کسے خوش کرینگے، شیطان کو یا یہوؔواہ کو؟
۲۰. کیسے ایک نوجوان نے یہوؔواہ کی خدمت کرنے کا حوصلہ برقرار رکھا ہے اُس وقت بھی جب وہ خوفزدہ ہو جاتی ہے؟
۲۰ شیطان اور اُسکی دُنیا کی طرف سے آپ پر آنے والے دباؤ کے پیشِنظر خدا کی مرضی بجا لانا آسان نہیں ہوتا۔ یہ خوفزدہ کرنے والے ہو سکتے ہیں۔ ایک نوجوان نے بیان کِیا: ”خوفزدہ ہونا ایسے ہی ہے جیسےکہ آپ کو سردی لگتی ہو۔ آپ اسکی بابت کچھ کر سکتے ہیں۔“ وہ وضاحت کرتی ہے: ”جب آپ کو سردی لگتی ہے تو آپ ایک سویٹر پہن لیتے ہیں۔ اگر پھربھی آپکو سردی لگتی ہے تو آپ ایک اَور پہن لیتے ہیں۔ اور آپ اُسوقت تک کوئی نہ کوئی چیز پہنتے رہتے ہیں جب تک کہ آپ کو سردی لگنا ختم نہیں ہو جاتی اور پھر دوبارہ آپ کو سردی نہیں لگتی۔ لہٰذا جب آپ خوفزدہ ہوں تو یہوؔواہ سے دُعا کرنا آپ کو سردی لگنے کی حالت میں سویٹر پہننے کی مانند ہے۔ اگر ایک بار دُعا کرنے کے بعد بھی مجھے ڈر لگتا ہے تو مَیں بار بار اُس وقت تک دُعا کرتی ہوں جبتک کہ میرا خوف ختم نہیں ہو جاتا۔ اور یہ کارگر ثابت ہوتا ہے۔ اِس نے مجھے مشکل میں پڑنے سے دُور رکھا ہے!“
۲۱. یہوؔواہ کیسے ہماری مدد کریگا اگر ہم واقعی اُسے اپنی زندگیوں میں پہلا درجہ دینے کی کوشش کرتے ہیں؟
۲۱ اگر ہم واقعی خدا کو اپنی زندگیوں میں پہلا درجہ دینے کی کوشش کرتے ہیں تو یہوؔواہ ہماری مدد کریگا۔ وہ ضرورت کے وقت ملکوتی مدد فراہم کرتے ہوئے، جیسےکہ اُس نے اپنے بیٹے کے لئے کی تھی، ہمیں تقویت دے گا۔ (متی ۱۸:۱۰؛ لوقا ۲۲:۴۳) آپ سب اولاد والے اور بچے دلیر بنیں۔ مسیح جیسا خوف رکھیں، اور یہ آپ کو خوشی دیگا۔ (یسعیاہ ۱۱:۳) جیہاں، ”خدا سے ڈر اور اُس کے حکموں کو مان کہ انسان کا فرضِکلی یہی ہے۔“—واعظ ۱۲:۱۳۔
کیا آپ جواب دے سکتے ہیں؟
▫ یسوؔع کے ابتدائی پیروکاروں کو کن ذمہداریوں کو متوازن رکھنے کی ضرورت تھی؟
▫ مسیحی والدین کو کونسی ذمہداری ضرور پوری کرنی چاہئے؟
▫ خاندانوں والے مسیحی بزرگوں کیلئے کونسی مدد دستیاب ہے؟
▫ کلیسیا میں بہنیں کونسی قابلِقدر خدمت سرانجام دے سکتی ہیں؟
▫ بچوں کیلئے کس مشورت اور ہدایت پر دھیان دینا نہایت اہم ہے؟
[تصویر]
اکثر ایک پُختہ مسیحی عورت ایک جوان عورت کو درکار مدد فراہم کر سکتی ہے
[تصویر]
خودسر بچوں کے والدین صحائف سے کونسی تسلی حاصل کر سکتے ہیں؟