روحانی قلمرو میں حکمران
دُنیا پر حکمرانی کون کرتا ہے؟ کیا کوئی مافوقالبشر قسم کی نگرانی ہے؟ یا کیا خدا نے انسانوں کو خود اپنی نگہداشت کرنے کے لئے چھوڑ دیا ہے؟ اِن سوالوں کے جواب کی تلاش کرنے کے لئے، آئیے پہلے ایک واقعہ پر غور کریں جو یسوؔع مسیح کی زمینی خدمتگزاری کے دوران پیش آیا۔
اپنے بپتسمے کے تھوڑی ہی دیر بعد، یسوؔع ایک نادیدہ روحانی مخلوق سے آزمایا گیا جو شیطان اِبلیس کہلاتا ہے۔ آزمائشوں میں سے ایک کا حوالہ دیتے ہوئے بائبل کہتی ہے: ”پھر اِبلیس [یسوؔع کو] ایک بہت اونچے پہاڑ پر لے گیا اور دُنیا کی سب سلطنتیں اور اُنکی شانوشوکت اُسے دکھائی۔“ (متی ۴:۸) پھر شیطان نے یسوؔع سے کہا: ”یہ سارا اختیار اور اُن کی شانوشوکت مَیں تجھے دے دونگا کیونکہ یہ میرے سُپرد ہے اور جسکو چاہتا ہوں دیتا ہوں۔ پس اگر تو میرے آگے سجدہ کرے تو یہ سب تیرا ہوگا۔“—لوقا ۴:۶، ۷۔
شیطان نے اِس دُنیا کی تمام سلطنتوں، یا حکومتوں پر اختیار رکھنے کا دعویٰ کِیا۔ کیا یسوؔع نے اِس دعویٰ کی نفی کی؟ نہیں۔ درحقیقت، اُس نے ایک اَور موقع پر شیطان کا ”دُنیا کے سردار“ کے طور پر حوالہ دیتے ہوئے اِس کی تصدیق کی۔—یوحنا ۱۴:۳۰۔
بائبل کے مطابق، شیطان ایک شریر فرشتہ ہے جو بڑا اختیار رکھتا ہے۔ مسیحی رسول پولسؔ شیطان کو ”شرارت کی . . . روحانی فوجوں“ کا ساتھی کہتا ہے اور اُن کا ”اِس دُنیا کی تاریکی کے حاکموں“ کے طور پر ذکر کرتا ہے۔ (افسیوں ۶:۱۱، ۱۲) علاوہازیں، یوؔحنا رسول نے کہا کہ ”ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“(۱-یوحنا ۵:۱۹) بائبل کی مکاشفہ کی کتاب بیان کرتی ہے کہ شیطان ”سارے جہان کو گمراہ کر رہا“ ہے۔ (مکاشفہ ۱۲:۹) علامتی اصطلاحوں میں، مکاشفہ شیطان کو اژدہا کے طور پر بھی بیان کرتا ہے جو دُنیا کے سیاسی نظام کو ”اپنی قدرت اور اپنا تخت اور بڑا اختیار“ دیتا ہے۔—مکاشفہ ۱۳:۲۔
دُنیا کے واقعات بھی تصدیق کرتے ہیں کہ ایک بدکار قوت انسانوں کو اُن کے نقصان کیلئے استعمال کرتے ہوئے سرگرمِعمل ہے۔ اَور کس وجہ سے انسانی حکومتیں اَمن کو فروغ دینے میں ناکام ہیں؟ اَور کیا چیز لوگوں کے ایک دوسرے سے نفرت کرنے اور قتل کرنے کا سبب بنے گی؟ ایک خانہجنگی میں خونریزی اور موت سے دہشتزدہ، ایک عینیشاہد نے کہا: ”مَیں نہیں جانتی کہ یہ کیسے واقع ہو سکتا تھا۔ یہ نفرت سے زیادہ کچھ ہے۔ یہ کوئی شیطانی روح ہے جو ان انسانوں کو ایک دوسرے کو نیست کرنے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔“
ایک حقیقی ہستی نے خدا کی مخالفت کی
آجکل بہتیرے یہ نہیں مانتے کہ شیطان اِبلیس وجود رکھتا ہے۔ تاہم، جیسے کہ بعض یقین رکھتے ہیں، وہ انسان میں محض بدی کی اصل نہیں ہے۔ بائبل اور دُنیا کے واقعات دونوں ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایک حقیقی ہستی ہے۔ علاوہازیں، شیطان یہوؔواہ خدا سے یکسر متضاد ہے۔ بِلاشُبہ، شیطان خدا کے برابر نہیں ہے۔ چونکہ یہوؔواہ تمام قدرت والا خالق ہے، اِسلئے وہ تمام مخلوقات پر جائز حاکم ہے۔—مکاشفہ ۴:۱۱۔
خدا نے اپنی ہی مخالفت میں کسی شریر مخلوق کو خلق نہیں کِیا۔ بلکہ، ”خدا کے“ ملکوتی ”بیٹوں“ میں سے ایک نے جائز طور پر یہوؔواہ کے لئے پرستش کو اپنے لئے ہتھیانے کی خاطر خودغرضانہ خواہش کو بڑھنے دیا۔ (ایوب ۳۸:۷؛ یعقوب ۱:۱۴، ۱۵) یہ خواہش اُس کے لئے خدا کے خلاف باغیانہ روِش اختیار کرنے کا سبب بنی۔ بغاوت کرنے سے، اِس روحانی مخلوق نے خود کو شیطان (بمعنی ”مُزاحم“) اور اِبلیس (بمعنی ”تہمتی“) بنا لیا۔ اِس تمام کے پیشِنظر، آپ شاید یہ جاننا چاہیں کہ شیطان کو اِس دُنیا پر حکمرانی کرنے کی اجازت کیوں دی گئی ہے۔
جس وجہ سے شیطان کو حکمرانی کرنے کی اجازت دی گئی ہے
کیا آپ کو یاد ہے کہ شیطان نے زمین پر حکمرانی کے متعلق یسوؔع کو کیا بتایا؟ ”یہ سارا اختیار . . . مَیں تجھے دے دونگا کیونکہ یہ میرے سُپرد ہے،“ شیطان نے کہا۔ (لوقا ۴:۶) یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ شیطان اِبلیس صرف خدا کی اجازت سے اختیار کو عمل میں لاتا ہے۔ لیکن خدا شیطان کو برداشت کیوں کرتا ہے؟
اِس سوال کے جواب کا تعلق باغِعدن میں ہونے والے واقعات سے ہے، جہاں شیطان نے دُنیا کے حاکم کے طور پر اپنی دَوڑدھوپ شروع کی۔ وہاں شیطان نے رائے پیش کی کہ خدا پہلے مرد اور عورت، آؔدم اور حوؔا سے کسی اچھی چیز کو باز رکھتے ہوئے ایک خراب طریقے سے حکمرانی کر رہا تھا۔ شیطان کے مطابق، وہ خدا کی طرف سے ممنوعہ پھل کھا کر آزاد ہو جائینگے۔ آؔدم اور حوؔا یہوؔواہ سے آزاد اور خودمختار بن جائینگے۔ وہ خدا ہی کی مانند بن جائینگے!—پیدایش ۲:۱۶، ۱۷؛ ۳:۱-۵۔
اِس طریقے سے جھوٹ بولنے اور حوؔا کو ورغلانے اور خدا کا آئین توڑنے کے لئے اُس کے ذریعے آؔدم کو ورغلانے سے، شیطان پہلے انسانی جوڑے کو اپنی قیادت اور تسلط میں لے آیا۔ یوں اِبلیس یہوؔواہ کی مخالفت میں اُن کا معبود بن گیا۔ تاہم، آزادی کی بجائے، آؔدم اور حوؔا نے شیطان، گناہ، اور موت کی غلامی کا تجربہ کِیا۔—رومیوں ۶:۱۶؛ عبرانیوں ۲:۱۴، ۱۵۔
اپنے کامل انصاف کی مطابقت میں، یہوؔواہ شیطان اور اُس کے دو نئے پیروکاروں کو فوری طور پر ہلاک کر سکتا تھا۔ (استثنا ۳۲:۴) تاہم، ایک اخلاقی معاملہ الجھا ہوا تھا۔ شیطان نے یہوؔواہ کے حکمرانی کرنے کے طریقے کے جائز ہونے پر اعتراض اُٹھایا تھا۔ اپنی حکمت ظاہر کرتے ہوئے خدا نے وقت گزر جانے کی اجازت دی تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ اُس سے خودمختاری تباہی لاتی ہے۔ یہوؔواہ نے آؔدم اور حوؔا کو اولاد پیدا کرنے کی اجازت دیتے ہوئے، باغیوں کو کچھ وقت کے لئے زندہ رہنے دیا۔—پیدایش ۳:۱۴-۱۹۔
اگرچہ آؔدم کی اولاد میں سے زیادہتر نے یہوؔواہ کی حکمرانی کی اطاعت نہیں کی ہے، اپنے پرستاروں کے ساتھ خدا کے برتاؤ نے اُس کی حکمرانی کی برتری کو ظاہر کر دیا ہے۔ یہوؔواہ کے اختیار کی واجب قدرافزائی خوشی اور حقیقی تحفظ لاتی ہے۔ دوسری جانب، شیطان کے اثرورسوخ کے تحت انسانی حکمرانی غم اور عدمِتحفظ پر منتج ہوئی ہے۔ جیہاں، ”ایک شخص دوسرے پر حکومت کرکے اپنے اوپر بلا لاتا ہے۔“ (واعظ ۸:۹) انسانوں نے شیطان کے قبضہ میں پڑی ہوئی اِس دُنیا میں انسانی حکمرانی کے تحت حقیقی تحفظ اور دائمی خوشی حاصل نہیں کی ہے۔ تاہم، رجائیتپسند ہونے کی ٹھوس وجہ موجود ہے۔
شیطان کا وقت تھوڑا ہے!
زمین پر شیطان کا اثرورسوخ عارضی ہے۔ یہوؔواہ شیطان کی حکمرانی کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کریگا! جلد ہی شیطان کو ناکارہ بنا دیا جائیگا۔ ایک نیا حکمران، خود خدا کے ذریعے منتخب راست بادشاہ زمین پر اختیار سنبھال لیگا۔ وہ بادشاہ یسوؔع مسیح ہے۔ آسمان میں اُس کی تختنشینی کے سلسلے میں مکاشفہ کہتا ہے کہ ”دُنیا کی بادشاہی ہمارے خداوند [یہوؔواہ] اور اُس کے مسیح کی ہو گئی اور وہ ابدالآباد بادشاہی کریگا۔“ (مکاشفہ ۱۱:۱۵) صحیفائی پیشینگوئی کی تکمیل سمیت بائبل تواریخ ثابت کرتی ہے کہ یہ واقعہ ۱۹۱۴ کے سال میں رونما ہوا۔—متی ۲۴:۳، ۶، ۷۔
بائبل یہ بھی بیان کرتی ہے کہ یسوؔع کی تختنشینی کے تھوڑی ہی دیر کے بعد کیا واقع ہوا۔ یہ بیان کرتی ہے: ”پھر آسمان پر لڑائی ہوئی۔ میکائیلؔ [یسوؔع مسیح] اور اُس کے فرشتے اژدہا [شیطان اِبلیس] سے لڑنے کو نکلے اور اژدہا اور اُس کے فرشتے اُن سے لڑے۔ لیکن غالب نہ آئے اور اِس کے بعد آسمان پر اُن کے لئے جگہ نہ رہی۔ اور وہ بڑا اژدہا یعنی وہی پرانا سانپ جو اِبلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گمراہ کر دیتا ہے زمین پر گرا دیا گیا اور اُس کے فرشتے بھی اُس کے ساتھ گرا دئے گئے۔“—مکاشفہ ۱۲:۷-۹۔
شیطان کے آسمان سے نکال دئے جانے کا نتیجہ کیا ہوگا؟ آسمان میں رہنے والے خوشی منا سکیں گے، لیکن اہلِزمین کی بابت کیا ہے؟ ”خشکی اور تری تم پر افسوس،“ مکاشفہ ۱۲:۱۲ کہتی ہے، ”کیونکہ اِبلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اُتر کر آیا ہے۔ اِس لئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“ واقعی، شیطان کا آسمان سے نکال دیا جانا زمین پر افسوس کا سبب بنا ہے۔ دی کولمبیا ہسٹری آف دی ورلڈ بیان کرتی ہے: ”۱۹۱۴–۱۹۱۸ کی جنگ کے بڑی تباہی والے چار سالوں . . . نے مغربی دُنیا پر ظاہر کر دیا کہ یہ تہذیب کو اُس کی حماقت یا بدکار محرک سے بچا نہ سکی۔ مغرب کی روح اُس شکستگی سے حقیقت میں کبھی بھی بحال نہیں ہوئی ہے۔“
اِس نسل کے غم شکستہروح سے کہیں زیادہ قابلِتوجہ ہیں۔ یسوؔع نے پیشینگوئی کی: ”قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کریگی اور جگہ جگہ کال پڑینگے اور بھونچال آئینگے۔“ اُس نے وباؤں کا بھی قبلازوقت ذکر کیا۔ (متی ۲۴:۷، ۸؛ لوقا ۲۱:۱۱) علاوہازیں، بائبل کہتی ہے کہ شیطان کے اِس نظامالعمل کے ”اخیر زمانہ“ میں بہتیرے ”خودغرض۔ زردوست۔ . . . ماںباپ کے نافرمان۔ . . . ڈھیٹھ ہونگے۔“ لوگ ”خدا کی نسبت عیشوعشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے [بھی] ہونگے۔“—۲-تیمتھیس ۳:۱-۵۔
جنگوں، وباؤں، خوراک کی قلّت، بھونچال، اور اخلاقی اقدار میں تنزلی—ایسی تمام باتیں جیسے کہ بائبل نے قبلازوقت بتا دیا، ۱۹۱۴ سے لیکر ایک بینظیر پیمانے پر واقع ہوئی ہیں۔ یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ خدا اور انسان کے قہرآلودہ دشمن—شیطان اِبلیس—کو آسمان سے نکال دیا گیا ہے اور ضرور ہے کہ اب اپنے غصے کو زمین کے گردونواح تک محدود رکھے۔ لیکن بائبل یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ شیطان کو زیادہ دیر تک سرگرمِعمل رہنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ ہرمجِدّؔون تک اُس کا ”تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے“، جب خدا دُنیاوی نظام کو نیست کرتا ہے جسے شیطان کنٹرول کرتا ہے۔
اُس وقت شیطان کے ساتھ کیا واقع ہوگا؟ یوؔحنا رسول نے لکھا: ”پھر مَیں نے ایک فرشتہ کو آسمان سے اُترتے دیکھا جسکے ہاتھ میں اتھاہ گڑھے کی کُنجی اور ایک بڑی زنجیر تھی۔ اُس نے اُس اژدہا یعنی پُرانے سانپ کو جو اِبلیس اور شیطان ہے پکڑ کر ہزار برس کے لئے باندھا۔ اور اُسے اتھاہگڑھے میں ڈال کر بند کر دیا اور اُس پر مہر کر دی۔“ (مکاشفہ ۲۰:۱-۳) مصیبتزدہ نوعِانسان کے لئے کیا ہی تسکین!
بادشاہتی حکمرانی کے تحت خوشی کرنا
شیطان کے راہ سے ہٹا دئے جانے سے، یسوؔع مسیح کے تحت خدا کی بادشاہت نوعِانسان کے تمام معاملات کا مکمل کنٹرول سنبھال لیگی۔ زمین پر بہت ساری حکومتیں رکھنے کی بجائے، صرف ایک ہی آسمانی حکومت تمام کرۂارض پر حکمرانی کرنے کے لئے رہ جائیگی۔ جنگ ماضی کی بات ہوگی، اور ہر جگہ اَمن کا دَوردَورا ہوگا۔ خدا کی بادشاہت کی حکمرانی کے تحت، سب لوگ پُرمحبت برادری میں اکٹھے ملجل کر رہیں گے۔—زبور ۷۲:۷، ۸؛ ۱۳۳:۱؛ دانیایل ۲:۴۴۔
یسوؔع کس قسم کا حکمران ثابت ہوگا؟ جب وہ زمین پر تھا تو اُس نے لوگوں کے لئے گہری محبت دکھائی۔ یسوؔع نے ترس کھا کر بھوکوں کو کھانا کھلایا۔ اُس نے بیماروں کو شفا دی اور اندھوں کی بینائی، گونگوں کی گویائی، اور لنگڑوں کی ٹانگوں کی مضبوطی کو بحال کِیا۔ یسوؔع نے تو مُردوں کو ازسرِنو زندگی عطا کی! (متی ۱۵:۳۰-۳۸؛ مرقس ۱:۳۴؛ لوقا ۷:۱۱-۱۷) وہ معجزات اُن شاندار چیزوں کے پیشگی نظارے تھے جو وہ بادشاہ کے طور پر بالآخر کریگا۔ ایسا نیکورحمدل حاکم رکھنا کتنا شاندار ہوگا!
غیرمختتم برکات اُن کے تجربے میں آئینگی جو یہوؔواہ کی حاکمیت کی اطاعت کرتے ہیں۔صحائف وعدہ کرتے ہیں: ”اُس وقت اندھوں کی آنکھیں وا کی جائینگی اور بہروں کے کان کھولے جائینگے۔ تب لنگڑے ہرن کی مانند چوکڑیاں بھرینگے اور گونگے کی زبان گائیگی۔“ (یسعیاہ ۳۵:۵، ۶) اُس شاندار دن کا پہلے ہی سے اشارہ دیتے ہوئے، یوؔحنا رسول نے لکھا: ”پھر مَیں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اُس کے لوگ ہونگے اور خدا آپ اُن کے ساتھ رہے گا اور اُن کا خدا ہوگا۔ اور وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“—مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
اپنے بیٹے، یسوؔع مسیح کے ذریعے یہوؔواہ خدا کی حکمرانی کے ذریعے عطاکردہ خوشیاں کسی بھی دُکھ کی تلافی سے زیادہ ہونگی جسکا ہم نے شاید شیطان اِبلیس کے زیرِتسلط موجودہ نظامالعمل میں تجربہ کِیا ہے۔ خدا کی موعودہ نئی دُنیا میں، لوگ یہ جاننا نہیں چاہیں گے کہ ’درحقیقت کون حکمرانی کر رہا ہے؟‘ (۲-پطرس ۳:۱۳) فرمانبردار انسان روحانی قلمرو میں پُرمحبت حکمرانوں، یہوؔواہ اور یسوؔع، کی زمینی عملداری میں خوش اور محفوظ ہونگے۔ کیوں نہ اُن کی رعایا میں شامل ہونے کی اُمید رکھیں؟ (۴ ۷/۱۵ w۹۵)
[تصویر]
نسلِانسانی خدا کی بادشاہت کی عملداری میں محفوظ ہوگی
[تصویر کا حوالہ]
NASA photo