سوالات از قارئین
صریح مفہوم میں بات کرتے ہوئے، کیا بائبل کی اصطلاحات ”دوسری بھیڑوں“ اور ”بڑی بِھیڑ“ میں کوئی فرق ہے؟
جیہاں، تاہم، ہمیں بیجا طور پر لفظ کے استعمال کی بابت حساس نہیں ہونا چاہئے یا اگر کوئی اصطلاحات کو ادلبدل کر استعمال کرتا ہے تو اسکے لئے پریشان نہیں ہونا چاہئے۔
زیادہتر مسیحی اُن اقتباسات سے واقف ہیں جہاں ہمیں یہ اصطلاحات ملتی ہیں۔ یوحنا ۱۰:۱۶ ایک ہے۔ وہاں یسوؔع نے کہا: ”میری اَور بھی [”دوسری،“ اینڈبلیو] بھیڑیں ہیں جو اِس بھیڑخانہ کی نہیں مجھے اُنکو بھی لانا ضرور ہے اور وہ میری آواز سنیں گی۔ پھر ایک ہی گلّہ اور ایک ہی چرواہا ہوگا۔“ دوسری اصطلاح، ”بڑی بِھیڑ،“ مکاشفہ ۷:۹ میں نظر آتی ہے۔ ہم پڑھتے ہیں: ”اِن باتوں کے بعد جو مَیں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِزبان کی ایک ایسی بڑی بِھیڑ جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا سفید جامے پہنے اور کھجور کی ڈالیاں اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے تخت اور برّہ کے آگے کھڑی ہے۔“
آئیں پہلے یوحنا ۱۰:۱۶ پر غور کریں۔ بھیڑیں کون ہیں؟ اِس بات کو ذہن میں رکھنا اچھا ہوگا کہ یسوؔع کے تمام وفادار پیروکاروں کا حوالہ بھیڑوں کے طور پر دیا گیا ہے۔ لوقا ۱۲:۳۲ میں، اُس نے آسمان پر جانیوالے اپنے شاگردوں کو ”چھوٹا گلّہ“ کہا۔ کن کا گلّہ؟ بھیڑوں کا۔ ”چھوٹے گلّے“ کی ”بھیڑیں“ آسمان میں بادشاہت کا حصہ ہوں گی۔ تاہم، دوسرے بھی ہیں، ایک فرق اُمید والے، اُنہیں بھی یسوؔع بھیڑیں ہی سمجھتا ہے۔
ہم اس بات کو یوحنا ۱۰ باب میں دیکھ سکتے ہیں۔ بھیڑوں کا ذکر کرنے کے بعد جیسے کہ اُسکے رسول جنہیں وہ آسمان میں زندگی کیلئے بلائے گا، یسوؔع نے ۱۶ آیت میں اضافہ کِیا: ”میری اَور بھی [”دوسری،“ اینڈبلیو] بھیڑیں ہیں جو اِس بھیڑخانہ کی نہیں مجھے اُنکو بھی لانا ضرور ہے۔“ یہوؔواہ کے گواہوں نے طویل عرصے سے یہ جان لیا ہے کہ اِس آیت میں یسوؔع زمین پر زندگی کا امکان رکھنے والے لوگوں کا ذکر کر رہا تھا۔ مسیحیت سے قبل کے زمانے میں بہتیرے وفادار اشخاص، جیسے کہ اؔبرہام، ساؔرہ، نوؔح، اور ملاؔکی، ایسے امکانات رکھتے تھے۔ لہٰذا ہم درست طور پر اُنہیں یوحنا ۱۰:۱۶ کی ”دوسری بھیڑوں“ کے حصے کے طور پر شامل کر سکتے ہیں۔ ہزار سالہ حکومت میں، مسیحیت سے قبل کے ایسے وفادار گواہ زندہ کئے جائینگے اور پھر اچھے چرواہے کی ”دوسری بھیڑیں“ بنتے ہوئے وہ یسوؔع مسیح کی بابت سیکھیں گے اور اسے قبول کرینگے۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جب سے آسمانی جماعت کی عمومی بلاہٹ ختم ہوئی ہے، لاکھوں لوگ سچے مسیحی بن گئے ہیں۔ انہیں بھی درست طور پر ”دوسری بھیڑوں“ کا نام دیا جاتا ہے جبکہ وہ ”چھوٹے گلّے“ کا حصہ نہیں ہیں۔ بلکہ، دوسری بھیڑیں آجکل بالکل ایک زمینی فردوس پر زندہ رہنے کی آرزو رکھتی ہیں۔
اب، مکاشفہ ۷:۹ میں بیانکردہ ”بڑی بِھیڑ“ کی شناخت کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟ اب آیت ۱۳ اور سوال کو دیکھیں، ”یہ . . . کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟“ جواب ہمیں مکاشفہ ۷:۱۴ میں ملتا ہے: ”یہ وہی ہیں جو اُس بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں۔“ پس ”بڑی بِھیڑ“ اُن لوگوں پر مشتمل ہے جو بڑی مصیبت میں سے نکل کر، زندہ بچ کر آتے ہیں۔ جیسے کہ ۱۷ آیت بیان کرتی ہے، اُنہیں زمین پر ’آبِحیات کے چشموں‘ کے پاس لیجایا جائیگا۔
قابلِفہم طور پر، تاہم، آنے والی بڑی مصیبت سے اِنکے بچنے کیلئے، اُنکے لئے لازم ہے کہ سچے پرستار بنتے ہوئے، پہلے اپنے جامے برّہ کے خون سے دھوئیں۔ لہٰذا، اگرچہ مکاشفہ ۷:۹ بڑی مصیبت کے بعد اِس بِھیڑ کا ذکر کر رہی ہے، ہم ”بڑی بِھیڑ“ کی اصطلاح کو تمام زمینی اُمید رکھنے والوں پر عائد کر سکتے ہیں جو اب، جھوٹے مذہب پر قوموں کے حملے کیساتھ بڑی مصیبت کے آغاز سے ذرا پہلے، یہوؔواہ کیلئے پاک خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔
بطور خلاصہ، ہم ”دوسری بھیڑوں“ کو ایک وسیع اصطلاح کے طور پر یاد رکھ سکتے ہیں جو زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہنے کی اُمید رکھنے والے خدا کے تمام خادموں کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں بھیڑخصلت اشخاص کی زیادہ محدود قسم بھی شامل ہے جنکو ”بڑی بِھیڑ“ کے طور پر بڑی مصیبت میں سے نکل کر زندہ رہنے کی اُمید کیساتھ آجکل جمع کِیا جا رہا ہے۔ وفادار مسیحیوں میں سے زیادہتر جو آج زندہ ہیں وہ ”دوسری بھیڑوں“ میں سے ہیں اور وہ ”بڑی بِھیڑ“ کا حصہ بھی ہیں۔
تاہم، اس بات کو دہرانا مفید ہے، اگرچہ اِن تفصیلات کی سمجھ رکھنا موزوں ہے، پھربھی کسی مسیحی کو لفظوں کی بابت حد سے زیادہ حساس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے—جسے کہ لفظی نقاد کہا جا سکتا ہے۔ پولسؔ نے اُن بعض لوگوں کی بابت آگاہ کِیا جو ”مغرور“ تھے اور ”لفظی تکرار“ میں ملوث تھے۔ (۱-تیمتھیس ۶:۴) اگر ہم اصطلاحات کے درمیان مخصوص امتیاز کو ذاتی طور پر پہچان لیتے ہیں تو اچھا ہے۔ تاہم، ہمیں ظاہر یا باطن میں، کسی ایسے شخص کیلئے تنقیدی ہونے کی ضرورت نہیں جو شاید بائبل کی اصطلاحات کو بالکل ٹھیک طرح سے استعمال نہیں کرتا۔ (۱۵ w۹۵/۴ ۳۱)