بادشاہتی مُناد رپورٹ دیتے ہیں
سچے مسیحی ستائے جائیں گے
ہابلؔ کے دِنوں سے لیکر، یہوؔواہ کے متعدد خادموں نے مذہبی اذیت برداشت کی ہے۔ (لوقا ۱۱:۴۹-۵۱) اور اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں، کیونکہ بائبل آگاہ کرتی ہے کہ ”جتنے مسیح یسوؔع میں دینداری کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں وہ سب ستائے جائینگے“! (۲-تیمتھیس ۳:۱۲) اِس لئے، آجکل ۲۵ سے زائد ممالک میں، یہوؔواہ کے گواہوں پر پابندی عائد ہے اور وہ اذیت برداشت کرتے ہیں۔
ایک ملک میں جہاں یہوؔواہ کے گواہوں پر نہ صرف پابندی ہی عائد ہے بلکہ وہ مذہبی عناصر کے ہاتھوں ستائے بھی جاتے ہیں، خوشخبری کے ۱۲،۰۰۰ سے زیادہ پبلشر، ۱۵،۰۰۰ سے زیادہ لوگوں کیساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے ہوئے، جانفشانی سے کام کر رہے ہیں۔ بِلاشُبہ، اُنکا منادی کا کام ہوشمندی کیساتھ کِیا جاتا ہے۔ عام طور پر، وہ اپنے مسیحی اجلاس ذاتی گھروں میں منعقد کرتے ہیں، اور وہ ایسے اجلاسوں پر دلچسپی لینے والے اشخاص کو مدعو کرتے وقت بہت محتاط ہوتے ہیں۔
حال ہی میں حکومت نے گواہوں کے ساتھ زیادہ نرم رویہ اختیار کِیا ہے، جوکہ اب اپنا زیادہتر کام بغیر جارحانہ مداخلت کے کرتے ہیں۔ تاہم، مختلف مذہبی گروہوں نے پریشانی میں اضافہ کرنے کیلئے اپنے اثرورسوخ کو استعمال کِیا ہے۔
ایک شہر میں کوئی ۲۰۰ کے قریب مذہبی انتہاپسندوں کا ایک مشتعل ہجوم ایک گھر کی جانب بڑھا جہاں تقریباً ۵۰ یہوؔواہ کے گواہ ایک کلیسیائی اجلاس منعقد کر رہے تھے۔ ہجوم میں سے بعض پتھر اُٹھائے ہوئے تھے اور مذہبی نعرے لگا رہے تھے۔ اُنکا واضح مقصد گواہوں پر حملہ کرنا اور گھر کو مسمار کرنا تھا۔ ظاہر ہے کہ مذہبی پیشوا کچھ عرصہ سے اجلاسوں کی کارگزاری دیکھ رہے تھے اور حملہ کرنے کیلئے کسی مناسب وقت کے منتظر تھے۔ جب ہجوم گھر کے اندر داخل ہونے ہی والا تھا کہ ۱۵ پولیس والے پہنچ گئے اور ہجوم کو منتشر ہونے کا حکم دِیا۔ گواہوں کیلئے یہ حیرانی کی بات تھی، کیونکہ اُن میں سے کسی کو بھی پولیس کو مطلع کرنے کا وقت نہیں ملا تھا۔
تاہم، دیگر مواقع پر، مخالفین کامیاب رہے ہیں۔ متعدد گواہوں پر مقدمات چلائے گئے ہیں اور اُنہیں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ایک عدالتی مقدمہ کئی سالوں سے التوا میں پڑا ہوا تھا اور مدعی ظاہراً اس میں دلچسپی کھو چکے ہیں۔ تاہم، مقامی پادری کے اُکسانے پر، معاملہ دوبارہ عدالت کے سامنے لایا گیا اور گواہ کو قید کی سزا سنائی گئی۔
ایک دوسری جگہ پر، گواہوں کا ایک گروہ عشائے خداوندی کی یادگار منانے کیلئے ایک نجی گھر میں جمع ہوا۔ بعدازاں اُسی شام کئی پولیس والوں نے صاحبِخانہ اور اُس بزرگ کو جس نے اجلاس منعقد کروایا تھا گرفتار کر لیا۔ پولیس چوکی پر، اُنہیں بُری طرح زدوکوب کِیا گیا۔ ظالمانہ تفتیش کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ ایک گواہ نے ٹھنڈے پانی کے کنوئیں میں ڈبوئے جانے کی اذیت کو بھی برداشت کِیا۔
پولیس ایسے حملے کیوں کر رہی تھی؟ ایک بار پھر، مقامی پادری کی مدد کے ساتھ، مذہبی انتہاپسندوں کا ایک گروہ پولیس کارروائی کی پُشتپناہی کر رہا تھا۔ بعد میں پولیس کے چیف نے انکشاف کِیا کہ گرفتاریاں اُس کی اجازت کے بغیر عمل میں لائی گئی تھیں۔ ایک معافینامہ جاری کِیا گیا، اور مارپیٹ کے ذمہدار اشخاص کی تادیب کی گئی تھی۔
پوری دُنیا میں یہوؔواہ کے گواہ، پُرتشدد مخالفت کے باوجود، خدا کی بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتے ہیں۔ وہ یسوؔع کی نصیحت پر عمل کرتے ہیں: ”دیکھو مَیں تم کو بھیجتا ہوں گویا بھیڑوں کو بھیڑیوں کے بیچ۔ پس سانپوں کی مانند ہوشیار اور کبوتروں کی مانند بےآزار بنو۔“—متی ۱۰:۱۶۔ (۳۱ ۹/۰۱ w۹۵)
[تصویر]
سب سے پہلا اذیت پانے والا ہاؔبل تھا