یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏6 ص.‏ 25-‏30
  • وہ دن جو ’‏بھٹی کی مانند سوزان ہے‘‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • وہ دن جو ’‏بھٹی کی مانند سوزان ہے‘‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • کیا یہوؔواہ ایک ظالم خدا ہے‏؟‏
  • ‏”‏آفتاب“‏ طالع ہوتا ہے
  • ایک عظیم‌الشان تعلیمی پروگرام
  • یہوواہ کے دن سے کون بچیگا؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • ملاکی کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • یہوؔواہ کا ہولناک دن قریب ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • کیا آپ ایلیاہ کی طرح وفادار رہینگے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏6 ص.‏ 25-‏30

وہ دن جو ’‏بھٹی کی مانند سوزان ہے‘‏

‏”‏دیکھو وہ دن آتا ہے جو بھٹی کی مانند سوزان ہوگا۔“‏—‏ملاکی ۴:‏۱۔‏

۱.‏ ملاکی ۴:‏۱ کے سلسلے میں کونسے سوالات پیدا ہوتے ہیں؟‏

اِن آخری ایام میں، مبارک ہیں وہ جنکے ناموں کو یہوؔواہ اپنے یادگار کے دفتر میں لکھنے کیلئے منتخب کرتا ہے۔ لیکن اُن کی بابت کیا ہے جو اس شرف کے لائق ٹھہرنے سے قاصر رہتے ہیں؟ خواہ وہ حکمران ہیں یا محض عام لوگ، اگر وہ خدا کی بادشاہت کے مُنادوں اور اُن کے پیغام کے ساتھ حقارت سے پیش آتے ہیں تو اُن پر کیا بیتے گی؟ ملاؔکی یومِ‌حساب کا ذکر کرتا ہے۔ ۴ باب کی پہلی آیت میں ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏کیونکہ دیکھو وہ دن آتا ہے جو بھٹی کی مانند سوزان ہوگا۔ تب سب مغرور اور بدکردار بھوسے کی مانند ہونگے اور وہ دن اُنکو ایسا جلائیگا کہ شاخ‌وبُن کچھ نہ چھوڑیگا ربُ‌الافواج فرماتا ہے۔“‏

۲.‏ حزقیؔ‌ایل کے ذریعے یہوؔواہ کی عدالت کی بابت کونسا واضح بیان دیا گیا ہے؟‏

۲ دیگر نبی بھی یہوؔواہ کی طرف سے قوموں کی عدالت کا مقابلہ بھٹی کی شدید تپش کے ساتھ کرتے ہیں۔ حزقی‌ایل ۲۲:‏۱۹-‏۲۲ کا اطلاق کس قدر موزوں طور پر خدا کی طرف سے برگشتہ مسیحی دنیا کے فرقوں کی عدالت کرنے پر ہوتا ہے!‏ یہ یوں پڑھی جاتی ہے:‏ ”‏اسلئے خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم سب میل ہو گئے ہو اسلئے دیکھو میں تمکو .‏ .‏ .‏ جمع کرونگا۔ جس طرح لوگ چاندی اور پیتل اور لوہا اور سِیسا اور رانگا بھٹی میں جمع کرتے ہیں اور اُن پر دھونکتے ہیں تاکہ اُنکو پگھلا ڈالیں اُسی طرح میں اپنے قہر اور اپنے غضب میں تمکو جمع کرونگا اور تمکو وہاں رکھ کر پگھلاؤنگا۔ ہاں مَیں تمکو اکٹھا کرونگا اور اپنے غضب کی آگ تم پر دھونکونگا اور تمکو اس میں پگھلا ڈالونگا۔ جس طرح چاندی بھٹی میں پگھلائی جاتی ہے اُسی طرح تم اُس میں پگھلائے جاؤگے اور تم جانوگے کہ مَیں خداوند نے اپنا قہر تم پر نازل کِیا ہے۔“‏

۳، ۴.‏ (‏ا)‏ پادری طبقے نے کونسا ریاکارانہ دعویٰ کِیا ہے؟ (‏ب)‏ مذہب کا گندا ریکارڈ کیا ہے؟‏

۳ واقعی ایک زوردار تمثیل!‏ پادری طبقے کو جس نے یہوؔواہ کے نام کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا ہے، حتیٰ‌کہ اُس پاک نام کو بے‌حُرمت کِیا ہے، اس یومِ‌حساب کا سامنا ضرور کرنا ہے۔ بڑی دیدہ‌دلیری سے، وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اور اُن کے سیاسی حلیف زمین پر خدا کی بادشاہت قائم کریں گے یا کم‌ازکم زمین کو اس بادشاہت کیلئے موزوں جگہ بنا دیں گے۔‏

۴ برگشتہ مسیحی دنیا خوفناک جنگیں لڑنے میں سیاسی حکمرانوں کے ساتھ مِل گئی ہے۔ تاریخ قرونِ‌وسطیٰ کے وقتوں کی صلیبی جنگوں، ہسپانوی مذہبی عدالت کے جبراً مذہب تبدیل کرانے، ۱۷ویں صدی میں یورپ کے بڑے حصے کو تباہ کرنے والی تیس سالہ جنگ اور سپینؔ میں کیتھولک مذہب کو مستحکم کرنے کی خاطر لڑی جانیوالی ۱۹۳۰ کے دہے کی ہسپانوی خانہ‌جنگی، کو قلمبند کرتی ہے۔ عظیم‌ترین کُشت‌وخون ہماری صدی کی دو عالمی جنگوں کے نتیجے میں ہوا جب کیتھولک اور پروٹسٹنٹ بِلاامتیاز ساتھی ایمانداروں اور دیگر مذہب کے لوگوں کو قتل کرتے ہوئے فساد میں شریک ہوئے۔ حال ہی میں، آؔئرلینڈ کے اندر کیتھولکوں اور پروٹسٹنٹوں کے درمیان، اؔنڈیا میں مذہبی گروہوں کے درمیان اور سابقہ یوگوؔسلاویہ کے مذہبی گروہوں کے درمیان خونی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ مذہبی تاریخ کے اوراق یہوؔواہ کے ہزاروں وفادار گواہوں کی شہادت سے بھی خون‌آلودہ ہیں۔—‏مکاشفہ ۶:‏۹، ۱۰‏۔‏

۵.‏ کونسی سزا جھوٹے مذہب کی منتظر ہے؟‏

۵ ہم بڑے بابلؔ، جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت پر، اُسکے حمایتیوں سمیت، آنے والی یہوؔواہ کی سزا کے منصفانہ ہونے کی بخوشی قدر کر سکتے ہیں۔ اس سزا کو مکاشفہ ۱۸:‏۲۱،‏ ۲۴ میں بیان کِیا گیا ہے:‏ ”‏ایک زورآور فرشتہ نے بڑی چکی کے پاٹ کی مانند ایک پتھر اُٹھایا اور یہ کہہ کر سمندر میں پھینک دیا کہ بابلؔ کا بڑا شہر بھی اسی طرح گِرایا جائیگا اور پھر کبھی اُسکا پتہ نہ ملیگا۔ اور نبیوں اور مُقدسوں اور زمین کے اَور سب مقتولوں کا خون اُس میں پایا گیا۔“‏

۶.‏ (‏ا)‏ کن کو بھوسے کی مانند بننا ہوگا اور کیوں؟ (‏ب)‏ یہوؔواہ کا خوف ماننے والوں کیلئے کونسی یقین‌دہانی موجود ہے؟‏

۶ وقت آنے پر، راستبازی کے تمام دشمن اور وہ جو اُنکے حامی ہیں ”‏بھوسے کی مانند ہونگے۔“‏ یہوؔواہ کا دن اُنکے درمیان بھٹی کی مانند بھڑکے گا۔ ”‏شاخ‌وبُن کچھ نہ چھوڑیگا۔“‏ اُس یومِ‌حساب میں، چھوٹے بچوں، یا شاخ، کے ساتھ اُنکے بُن یعنی اُنکے والدین کی بابت یہوؔواہ کی رائے کے عین مطابق سلوک کِیا جائیگا جنہیں ان بچوں کی نگرانی حاصل ہے۔ انکے بدکار طورطریقوں کو جاری رکھنے کیلئے بدکار والدین کی آئندہ نسلیں باقی نہ رہینگی۔ لیکن وہ جو خدا کے بادشاہتی وعدوں پر ایمان رکھتے ہیں کبھی جنبش نہ کھائینگے۔ اسلئے عبرانیوں ۱۲:‏۲۸، ۲۹ نصیحت کرتی ہے:‏ ”‏پس ہم .‏ .‏ .‏ اُس فضل کو ہاتھ سے نہ جانے دیں جسکے سبب سے پسندیدہ طور پر خدا کی عبادت خداترسی اور خوف کے ساتھ کریں۔ کیونکہ ہمارا خدا بھسم کرنے والی آگ ہے۔“‏

کیا یہوؔواہ ایک ظالم خدا ہے‏؟‏

۷.‏ یہوؔواہ کی محبت اُسکے سزا کے حکم میں کیسے شامل ہوتی ہے؟‏

۷ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ یہوؔواہ ایک ظالم، انتقام‌پرور خدا ہے؟ ہرگز نہیں!‏ ۱-‏یوحنا ۴:‏۸ میں، رسول ایک بنیادی سچائی بیان کرتا ہے:‏ ”‏خدا محبت ہے۔“‏ پھر، ۱۶ آیت میں وہ یہ کہتے ہوئے مزید زور دیتا ہے:‏ ”‏خدا محبت ہے اور جو محبت میں قائم رہتا ہے وہ خدا میں قائم رہتا ہے اور خدا اُس میں قائم رہتا ہے۔“‏ یہ نوعِ‌انسانی کیلئے اُسکی محبت ہی کی وجہ سے ہے کہ یہوؔواہ اس زمین کو تمام بدکاری سے پاک‌صاف کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ہمارا پُرمحبت، رحیم خدا بیان کرتا ہے:‏ ”‏مجھے اپنی حیات کی قسم شریر کے مرنے میں مجھے کچھ خوشی نہیں بلکہ اس میں ہے کہ شریر اپنی راہ سے باز آئے اور زندہ رہے۔ .‏ .‏ .‏ باز آؤ۔ تم اپنی بُری روش سے باز آؤ۔ تم کیوں مروگے؟“‏—‏حزقی‌ایل ۳۳:‏۱۱۔‏

۸.‏ یوؔحنا نے کس طرح محبت پر زور دیا، جبکہ خود کو گرج کا بیٹا بھی ظاہر کِیا؟‏

۸ یوؔحنا مجموعی طور پر دیگر تین انجیل‌نویسوں کی نسبت اگاپے، اصولی محبت، کا زیادہ مرتبہ حوالہ دیتا ہے، تاہم، مرقس ۳:‏۱۷ میں خود یوؔحنا کو ’‏گرج کا بیٹا‘‏ کہا گیا ہے۔ یہ یہوؔواہ کے الہام ہی سے تھا کہ اس گرج کے بیٹے نے بائبل کی آخری کتاب، مکاشفہ کے نبوتی پیغامات تحریر کئے جو یہوؔواہ کی ایسے خدا کے طور پر تصویرکشی کرتی ہے جو انصاف کو عمل میں لاتا ہے۔ یہ کتاب عدالتی اظہارات سے بھری پڑی ہے جیسے کہ ”‏خدا کے قہر کے بڑے حوض،“‏ ”‏خدا کے قہر کے ساتوں [‏پیالے]‏،“‏ ”‏قادرِمطلق خدا کے سخت غضب۔“‏—‏مکاشفہ ۱۴:‏۱۹؛‏ ۱۶:‏۱؛‏ ۱۹:‏۱۵‏۔‏

۹.‏ یہوؔواہ کے سزا کے حکموں کی بابت یسوؔع نے کونسے اظہارات پیش کئے اور اُسکی پیشینگوئیاں کیسے پوری ہوئیں؟‏

۹ یہاں زمین پر رہتے ہوئے ہمارے خداوند یسوؔع مسیح نے جو ”‏اندیکھے خدا کی صورت“‏ ہے نہایت دلیری کے ساتھ یہوؔواہ کے عدالتی فیصلوں کا اعلان کِیا۔ (‏کلسیوں ۱:‏۱۵‏)‏ مثال کے طور پر، متی ۲۳ باب کے سات افسوس ہیں جن کا اُس نے اپنے زمانے کے مذہبی ریاکاروں کے خلاف صاف‌گوئی سے اعلان کِیا۔ اُس نے سزا پر مبنی اس فیصلے کا اختتام ان الفاظ کیساتھ کِیا:‏ ”‏اَے یرؔوشلیم اَے یرؔوشلیم!‏ تُو جو نبیوں کو قتل کرتا اور جو تیرے پاس بھیجے گئے اُنکو سنگسار کرتا ہے!‏ کتنی بار مَیں نے چاہا کہ جس طرح مُرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے اُسی طرح مَیں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کر لوں مگر تم نے نہ چاہا!‏ دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے۔“‏ سینتیس سال بعد، جنرل ٹائٹس کی زیرِکمان رومی فوجوں کے ذریعے سزا کے حکم کی تعمیل ہوئی تھی۔ یہ ایک خوفناک دن تھا، جو یہوؔواہ کے جلد شروع ہونے والے دن—‏تمام انسانی تجربے میں نہایت ہولناک ثابت ہونے والے دن کا پیش‌خیمہ تھا۔‏

‏”‏آفتاب“‏ طالع ہوتا ہے

۱۰.‏ کس طرح ”‏آفتابِ‌صداقت“‏ خدا کے لوگوں کیلئے خوشی کا باعث بنتا ہے؟‏

۱۰ یہوؔواہ یہ اعلان کرتا ہے کہ اُس کے دن سے زندہ بچنے والے لوگ ہونگے۔ وہ ملاکی ۴:‏۲ میں یہ کہتے ہوئے ان لوگوں کا حوالہ دیتا ہے:‏ ”‏تم پر جو میرے نام کی تعظیم کرتے ہو آفتابِ‌صداقت طالع ہوگا اور اسکی کرنوں میں شفا ہوگی۔“‏ آفتابِ‌صداقت خود یسوؔع مسیح کے علاوہ اَور کوئی نہیں ہے۔ وہ ”‏دنیا کا“‏ روحانی ”‏نور“‏ ہے۔ (‏یوحنا ۸:‏۱۲‏)‏ وہ کیسے طالع ہوتا ہے؟ وہ اپنی کرنوں میں شفا لئے ہوئے طلوع ہوتا ہے—‏پہلے روحانی شفا جسکا ہم آج بھی تجربہ کر سکتے ہیں اور پھر آنے والی نئی دنیا میں تمام قوموں کے لوگوں کیلئے جسمانی شفا۔ (‏متی ۴:‏۲۳؛‏ مکاشفہ ۲۲:‏۱، ۲‏)‏ علامتی اعتبار سے، جیسا کہ ملاؔکی نے کہا، شفایاب لوگ طویلے سے رہائی پانے والے ”‏بچھڑوں کی طرح کودیں پھاندیں گے۔“‏ کیا ہی خوشی اُن قیامت‌یافتہ لوگ کے تجربہ میں بھی آئیگی جو انسانی کاملیت حاصل کرنے کے امکان کے ساتھ زندہ کئے جاتے ہیں!‏

۱۱، ۱۲.‏ (‏ا)‏ کونسا انجام شریروں کا منتظر ہے؟ (‏ب)‏ خدا کے لوگ کس طرح ”‏شریروں کو پایمال“‏ کرتے ہیں؟‏

۱۱ تاہم، شریروں کی بابت کیا ہے؟ ملاکی ۴:‏۳ میں، ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏تم شریروں کو پایمال کروگے کیونکہ اس روز وہ تمہارے پاؤں تلے کی راکھ ہونگے ربُ‌الافواج فرماتا ہے۔“‏ اپنے پرستاروں کو محفوظ کرتے ہوئے، ہمارا جنگجو خدا ظالم دشمنوں کو تباہ کر دینے سے زمین کو ان سے پاک‌صاف کر دے گا۔ شیطان اور اُسکے شیاطین کو قید کر دیا گیا ہوگا۔—‏زبور ۱۴۵:‏۲۰؛‏ مکاشفہ ۲۰:‏۱-‏۳‏۔‏

۱۲ شریروں کو ہلاک کرنے میں خدا کے لوگ کوئی حصہ نہیں لیتے۔ تو پھر، وہ کیسے ”‏شریروں کو پایمال“‏ کرتے ہیں؟ وہ یہ کام علامتی طور پر عظیم فتح کے جشن میں حصہ لینے سے کرتے ہیں۔ خروج ۱۵:‏۱-‏۲۱ ایسے ہی جشن کو بیان کرتی ہیں۔ یہ بحرِقلزم میں فرؔعون اور اُس کے لشکروں کی تباہی کے بعد منایا گیا تھا۔ یسعیاہ ۲۵:‏۳-‏۹ کی تکمیل میں، ”‏ظالموں“‏ کی تباہی کے بعد خدا کے وعدہ سے منسلک ایک فتح کے بعد ضیافت کی جانی ہے:‏ ”‏وہ موت کو ہمیشہ کیلئے نابود کر دے گا اور خداوند خدا سب کے چہروں کے آنسو پونچھ ڈالیگا اور اپنے لوگوں کی رسوائی تمام سرزمین پر سے مٹا دیگا کیونکہ خداوند نے یہ فرمایا ہے۔ اس وقت یوں کہا جائیگا لو یہ ہمارا خدا ہے۔ .‏ .‏ .‏ یہ خداوند [‏”‏یہوؔواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ ہے۔ ہم اُسکے انتظار میں تھے۔ ہم اُسکی نجات سے خوش‌وخرم ہونگے۔“‏ اس شادمانی میں کینہ‌پروری یا فخروناز نہیں بلکہ یہوؔواہ کے نام کی تقدیس اور متحد نسلِ‌انسانی کے ذریعے پُرامن آبادکاری کیلئے صاف‌کردہ زمین کو دیکھنے کی خوشی ہوگی۔‏

ایک عظیم‌الشان تعلیمی پروگرام

۱۳.‏ ”‏نئی زمین“‏ میں کونسی تعلیم دی جائے گی؟‏

۱۳ ملاکی ۴:‏۴ میں، یہودیوں کو ”‏موسیٰؔ کی شریعت یاد [‏رکھنے]‏“‏ کی فہمائش کی گئی تھی۔ اسی طرح، جیسا کہ گلتیوں ۶:‏۲ میں ذکر کِیا گیا ہے، ہمیں آجکل ”‏مسیح کی شریعت“‏ کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہرمجِدّؔون سے زندہ بچنے والوں کو بِلاشُبہ اس پر مبنی مزید ہدایات فراہم کی جائینگی جو عین ممکن ہے کہ مکاشفہ ۲۰:‏۱۲ کی ”‏کتابوں“‏ میں لکھی گئی ہوں جو قیامت کے وقت کھولی جائینگی۔ وہ کیا ہی شاندار دن ہوگا جب قیامت‌یافتہ مُردے ”‏نئی دنیا“‏ کا طرزِزندگی اختیار کرنے کیلئے تعلیم پاتے ہیں!‏—‏مکاشفہ ۲۱:‏۱‏۔‏

۱۴، ۱۵.‏ (‏ا)‏ جدید زمانے کے ایلیاؔہ کی شناخت کیسے کی جاتی ہے؟ (‏ب)‏ ایلیاؔہ جماعت کونسی ذمہ‌داری سرانجام دیتی ہے؟‏

۱۴ جیسا کہ ملاکی ۴:‏۵ میں درج ہے، یہ یہوؔواہ کے ذریعے حوالہ‌شُدہ تعلیمی کام کی توسیع ہوگی:‏ ”‏دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں ایلیاؔہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔“‏ یہ جدید زمانے کا ایلیاؔہ کون ہے؟ جیسا کہ متی ۱۶:‏۲۷، ۲۸ میں ظاہر کِیا گیا ہے، اپنے ”‏بادشاہی میں [‏آنے]‏“‏ کا ذکر کرتے ہوئے یسوؔع نے کہا:‏ ”‏ابنِ‌آدم اپنے باپ کے جلال میں اپنے فرشتوں کے ساتھ آئے گا۔ اس وقت ہر ایک کو اُس کے کام کے مطابق بدلہ دیگا۔“‏ چھ دن بعد پطرؔس، یعقوؔب، اور یوؔحنا کیساتھ ایک پہاڑ پر، ”‏اُسکی صورت بدل گئی اور اس کا چہرہ سورج کی مانند چمکا اور اُسکی پوشاک نور کی مانند سفید ہو گئی۔“‏ کیا وہ اس رویا میں اکیلا ہی تھا؟ نہیں، کیونکہ ”‏دیکھو موسیٰؔ اور ایلیاؔہ اُس کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے دکھائی دئے۔“‏—‏متی ۱۷:‏۲، ۳‏۔‏

۱۵ اس کا کیا مطلب ہو سکتا تھا؟ اس نے عدالت کیلئے اُسکی آمد کے وقت پر پیشینگوئی‌کردہ بڑے موسیٰؔ کے طور پر یسوؔع کی نشاندہی کی۔ (‏استثنا ۱۸:‏۱۸، ۱۹؛‏ اعمال ۳:‏۱۹-‏۲۳‏)‏ تب یہوؔواہ کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے قبل تمام زمین پر بادشاہت کی اس خوشخبری کی منادی کرنے کے ایک نہایت اہم کام کو سرانجام دینے کی غرض سے اُسے دورِحاضر کے ایلیاؔہ کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ اس ”‏ایلیاؔہ“‏ کے کام کو بیان کرتے ہوئے، ملاکی ۴:‏۶ کہتی ہے:‏ ”‏وہ باپ کا دل بیٹے کی طرف اور بیٹے کا باپ کی طرف مائل کریگا۔ مبادا میں آؤں اور زمین کو ملعون کروں۔“‏ پس ”‏ایلیاؔہ“‏ کی شناخت زمین پر ممسوح مسیحیوں کی دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت کے طور پر کرائی گئی ہے جسے مالک، یسوؔع نے اپنے سارے مال کا مختار کر دیا ہے۔ اس میں ایماندار گھرانے کو ”‏وقت پر“‏ ضروری روحانی ”‏کھانا“‏ فراہم کرنا شامل ہے۔—‏متی ۲۴:‏۴۵، ۴۶‏۔‏

۱۶.‏ ایلیاؔہ جماعت کے کام سے کونسے خوش‌کُن نتائج حاصل ہوئے ہیں؟‏

۱۶ آجکل عالمی پیمانے پر، ہم اس خوراک فراہم کرنے کے پروگرام کے خوش‌کُن نتائج دیکھ سکتے ہیں۔ مینارِنگہبانی کا رسالہ ۱۲۰ زبانوں میں ہر شمارے کی ۱۶،۱۰۰،۰۰۰ چھپائی کے ساتھ، جن میں سے ۹۷ زبانوں میں بیک‌وقت شائع ہوتا ہے، زمین کو ”‏بادشاہت کی خوشخبری“‏ سے معمور کر رہا ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۱۴‏)‏ بہت سی زبانوں میں دیگر مطبوعات یہوؔواہ کے گواہوں کے منادی کرنے اور تعلیم دینے کے کام کے مختلف پہلوؤں میں استعمال کی جاتی ہیں۔ ایلیاؔہ جماعت، عقلمند اور دیانتدار نوکر، اُن سب کیلئے ”‏جو اپنی روحانی ضروریات سے باخبر ہیں“‏ کثرت سے فراہم کرنے کیلئے چوکس ہے۔ (‏متی ۵:‏۳‏، این‌ڈبلیو)‏ مزیدبرآں، وہ جو اس بادشاہتی اُمید کو قبول کرتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں وہ ایک شاندار عالمگیر اتحاد میں بندھ جاتے ہیں۔ اس میں ”‏ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِ‌زبان کی“‏ بڑی بِھیڑ شامل ہے۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۹‏)‏ جب یہ کام اس حد تک مکمل ہو جائیگا جس کا تقاضا یہوؔواہ کرتا ہے تو یہوؔواہ کے بزرگ اور ہولناک دن میں خاتمہ آ جائیگا۔‏

۱۷.‏ یہوؔواہ کا ہولناک دن کب شروع ہوگا؟‏

۱۷ یہ ہولناک دن ہم پر کب آ پڑے گا؟ پولسؔ رسول جواب دیتا ہے:‏ ”‏خداوند کا دن اس طرح آنے والا ہے جس طرح رات کو چور آتا ہے۔ جس وقت لوگ [‏شاید ایک منفرد انداز میں]‏ کہتے ہونگے کہ سلامتی اور امن ہے اُس وقت اُن پر اس طرح ناگہاں ہلاکت آئے گی جس طرح حاملہ کو درد لگتے ہیں اور وہ ہرگز نہ بچیں گے۔“‏—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۲، ۳‏۔‏

۱۸، ۱۹.‏ (‏ا)‏ کسطرح ”‏سلامتی اور امن“‏ کا اعلان کِیا جاتا ہے؟ (‏ب)‏ یہوؔواہ کے لوگوں کو کب چھٹکارا ملے گا؟‏

۱۸ اس پیشینگوئی میں ”‏لوگ“‏ کون ہیں؟ یہ لوگ سیاسی راہنما ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس متشدّد دنیا کے بکھرے ہوئے حصوں سے ایک متحد نیا نظام تعمیر کر سکتے ہیں۔ اُن کی پُرشکوہ پیداوار، لیگ آف نیشنز اور اقوامِ‌متحدہ، اس میں ناکام ہو چکی ہیں۔ جیسا کہ یہوؔواہ کے نبی نے پیش‌ازوقت بتایا، وہ ابھی سے ”‏سلامتی سلامتی [‏کہتے]‏ ہیں حالانکہ سلامتی نہیں ہے۔“‏—‏یرمیاہ ۶:‏۱۴؛‏ ۸:‏۱۱؛‏ ۱۴:‏۱۳-‏۱۶‏۔‏

۱۹ اسی اثنا میں، یہوؔواہ کے لوگ اس بیدین دنیا کے دباؤ اور اذیتیں برداشت کرتے ہیں۔ لیکن جلد ہی، جیسا کہ ۲-‏تھسلنیکیوں ۱:‏۷، ۸ میں بیان کِیا گیا ہے، وہ اُس وقت چھٹکارا حاصل کرینگے جب ”‏خداوند یسوؔع اپنے قوی فرشتوں کیساتھ بھڑکتی ہوئی آگ میں آسمان سے ظاہر ہوگا۔ اور جو خدا کو نہیں پہچانتے اور خداوند کی خوشخبری کو نہیں مانتے اُن سے بدلہ لے گا۔“‏

۲۰.‏ (‏ا)‏ ’‏بھٹی کی مانند سوزان‘‏ دن کی بابت صفنیاؔہ اور حبقوؔق کیا پیشینگوئی کرتے ہیں؟ (‏ب)‏ یہ پیشینگوئیاں کونسی مشورت اور حوصلہ‌افزائی دیتی ہیں؟‏

۲۰ یہ کتنی جلدی ہوگا؟ ہم میں سے بہتیرے کافی عرصے سے انتظار کر رہے ہیں۔ اسی اثنا میں، بہتیرے حلیم لوگ جو زندہ بچ جائیں گے وہ صفنیاہ ۲:‏۲، ۳ میں پائی جانے والی بلا‌ہٹ کا جواب دے رہے ہیں:‏ ”‏خداوند [‏”‏یہوؔواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کے طالب ہو!‏ راستبازی کو ڈھونڈو۔ فروتنی کی تلاش کرو۔ شاید خداوند کے غضب کے دن تم کو پناہ ملے۔“‏ پھر، صفنیاہ ۳:‏۸ میں یہ فہمائش پائی جاتی ہے:‏ ”‏خداوند فرماتا ہے میرے منتظر رہو جب تک کہ میں لُوٹ کے لئے نہ اُٹھوں کیونکہ میں نے ٹھان لیا ہے کہ قوموں کو جمع کروں اور مملکتوں کو اکٹھا کروں تاکہ اپنے غضب یعنی تمام قہرِشدید کو اُن پر نازل کروں کیونکہ میری غیرت کی آگ ساری زمین کو کھا جائیگی۔“‏ خاتمہ قریب ہے!‏ یہوؔواہ اُس دن اور گھڑی کو جانتا ہے اور اپنے نظام‌اُلاوقات کو نہیں بدلے گا۔ آیئے ہم صبر سے برداشت کریں۔ ”‏کیونکہ یہ رویا مقررہ وقت کیلئے ہے۔ یہ جلد وقوع میں آئیگی اور خطا نہ کرے گی۔ اگرچہ اس میں دیر ہو تو بھی اس کا منتظر رہ کیونکہ یہ یقیناً وقوع میں آئیگی۔ تاخیر نہ کریگی۔“‏ (‏حبقوق ۲:‏۳)‏ یہوؔواہ کا ہولناک دن تیزی سے قریب‌تر آتا ہے۔ یاد رکھیں، وہ دن تاخیر نہیں کرے گا!‏ (‏۲۰ ۴/۱۵ w۹۵)‏

اعادے کے طور پر:‏

▫ یہوؔواہ کے ہولناک دن میں حکمرانوں اور عام لوگوں پر کیا بیتے گی؟‏

▫ یہوؔواہ کس قسم کا خدا ہے؟‏

▫ خدا کے لوگوں کیلئے کس قسم کی تعلیم کا ذکر کِیا گیا ہے؟‏

▫ خاتمے کی نزدیکی کے پیشِ‌نظر خدا کے نبی ہمیں کسطرح نصیحت کرتے ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

ہسپانوی مذہبی عدالت کی سزا کے دوران بہتیرے لوگوں کو کیتھولک مذہب میں شامل ہو نے پر مجبور کِیا گیا

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

J. G. Heck/‏The Complete Encyclopedia of Illustration

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں