یہوؔواہ کا ہولناک دن قریب ہے
”اُنکے لئے جو خداوند سے ڈرتے اور اُسکے نام کو یاد کر تے تھے اُسکے حضور یادگار کا دفتر لکھا گیا۔“—ملاکی ۳:۱۶۔
۱، ۲. ملاؔکی کس ہولناک دن کی پیشازوقت آگاہی دیتا ہے؟
ہولناک!جیسے ہی ۶ اگست، ۱۹۴۵ کے دن کا آغاز ہوا، ایک بہت بڑا شہر آن کی آن میں مسمار ہو گیا۔ کوئی ۸۰،۰۰۰ کھیت آئے! ہزاروں مُہلک طور پر زخمی ہوئے! بڑے زوروں کی آگ! نیوکلیئر بم اپنا کام دکھا چکا تھا۔ اس آفت کے دوران یہوؔواہ کے گواہوں پر کیا بیتی؟ ہیروشیما میں صرف ایک ہی گواہ تھا—جو اپنی مسیحی راستی کے باعث قیدخانے کی محفوظ دیواروں کے پیچھے قید تھا۔ قیدخانہ دفعتہً گِر کر ملبے کا ڈھیر بن گیا لیکن ہمارے بھائی کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔ جیسے کہ وہ بیان کرتا ہے، ایٹم بم نے اُسے قیدخانہ سے باہر نکال پھینکا—شاید واحد اچھا کام جو بم نے سرانجام دیا۔
۲ بم کا وہ دھماکا تو بہت خوفناک تھا لیکن جب اسکا مقابلہ ”خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] کے . . .ہولناک دن“ سے کِیا جاتا ہے جو بس تھوڑا ہی دُور ہے تو اسکی اہمیت ماند پڑ جاتی ہے۔ (ملاکی ۴:۵) جیہاں، ماضی میں بھی ہولناک دن واقع ہوئے ہیں، لیکن یہوؔواہ کا یہ دن ان سب پر سبقت لے جائے گا۔—مرقس ۱۳:۱۹۔
۳. ”ہر بشر“ اور نوؔح کے خاندان کے درمیان طوفان کا باعث بننے والا کونسا فرق نظر آتا ہے؟
۳ نوؔح کے زمانے میں ”ہر بشر نے زمین پر اپنا طریقہ بگاڑ لیا تھا“ اور خدا نے اعلان کِیا: ”اُنکے سبب سے زمین ظلم سے بھر گئی۔ سو دیکھ میں زمین سمیت اُنکو ہلاک کرونگا۔“ (پیدایش ۶:۱۲، ۱۳) جیسا کہ متی ۲۴:۳۹ میں درج ہے، یسوؔع نے کہا کہ ”جب تک طوفان آ کر اُن سب کو بہا نہ لے گیا“ لوگوں کو ”خبر نہ ہوئی۔“ لیکن ”راستبازی کی منادی کرنے والا،“ وفادار نوؔح اپنے خداپرست خاندان سمیت طوفان سے زندہ بچ گیا۔—۲-پطرس ۲:۵۔
۴. سدؔوم اور عموؔرہ کے ذریعے آگاہی کا کونسا نمونہ فراہم کِیا گیا ہے؟
۴ ”اسی طرح،“ یہوداہ ۷ بیان کرتی ہے، ”سدؔوم اور عموؔرہ اور اُنکے آس پاس کے شہر جو . . . حرامکاری میں پڑ گئے اور غیرجسم کی طرف راغب ہوئے ہمیشہ کی آگ کی سزا میں گرفتار ہوکر جایِعبرت ٹھہرے ہیں۔“ وہ بیدین لوگ اپنے نفرتانگیز گھناؤنی طرزِزندگی کے باعث تباہ ہوئے۔ اس جدید دنیا کے جنسپرست لوگوں کو خبردار کِیا جائے! تاہم، غور کریں کہ جیسے خداپرست لوؔط اور اُسکی بیٹیوں کو اُس آفت کے دوران زندہ بچا لیا گیا تھا ویسے ہی تیزی سے نزدیک آتی ہوئی بڑی مصیبت کے دوران یہوؔواہ کے پرستاروں کی حفاظت کی جائیگی۔—۲-پطرس ۲:۶-۹۔
۵. یرؔوشلیم پر آنے والی سزاؤں سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۵ لہٰذا جب یہوؔواہ نے پُرشکوہ شہر، یرؔوشلیم کو جو کبھی ”تمام زمین کا فخر“ رہ چکا تھا، مٹانے کیلئے حملہآور فوجوں کو استعمال کِیا تو اُس وقت مہیاکردہ آگاہی دینے والی مثالوں پر غور کریں۔ (زبور ۴۸:۲) یہ المناک واقعات پہلے ۶۰۷ ق.س.ع. میں اور پھر دوبارہ ۷۰ س.ع. میں رونما ہوئے کیونکہ خدا کے جھوٹے دعویدار لوگوں نے سچی پرستش کو ترک کر دیا تھا۔ خوشی کی بات ہے کہ یہوؔواہ کے وفادار خادم زندہ بچ گئے۔ ۷۰ س.ع. کی تباہی (نیچے تصویرکشی کی گئی ہے) کو ”ایسی مصیبت“ کے طور پر بیان کِیا گیا ہے جو ”خلقت کے شروع سے جسے خدا نے خلق کِیا نہ اب تک ہوئی ہے نہ کبھی ہوگی۔“ اس نے برگشتہ یہودی نظام کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کر دیا تھا اور اس لحاظ سے یقینی طور پر یہ پھر ”نہ کبھی ہوگی۔“ (مرقس ۱۳:۱۹) لیکن الہٰی عدالت کی یہ تعمیل بھی اُس ”بڑی مصیبت“ کا محض ایک عکس ہی تھا جو اب تمام دنیاوی نظام کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔—مکاشفہ ۷:۱۴۔
۶. یہوؔواہ آفات کی اجازت کیوں دیتا ہے؟
۶ اتنی زیادہ زندگیوں کے نقصان کیساتھ خدا دہشتناک آفات کی اجازت کیوں دیگا؟ نوؔح، سدؔوم اور عموؔرہ اور یرؔوشلیم، کے معاملات میں یہوؔواہ اُن لوگوں کو سزا دے رہا تھا جنہوں نے زمین پر اپنا طریقہ بگاڑ لیا تھا، جنہوں نے اس خوبصورت سیارے کو حقیقی آلودگی اور اخلاقی گِراوٹ سے داغدار کر دیا تھا اور جو سچی پرستش سے برگشتہ ہو گئے تھے یا پھر اُسے رد کر دیا تھا۔ آجکل ہم ایک ایسی مکمل سزا کی تعمیل کے کنارے پر کھڑے ہیں جو ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیگی۔—۲-تھسلنیکیوں ۱:۶-۹۔
”اِخیر دنوں میں“
۷. (ا) قدیم الہٰی سزائیں کس چیز کی پیشینگوئی تھیں؟ (ب) آگے کونسا شاندار امکان ہے؟
۷ قدیم وقتوں کی وہ تباہیاں ۲-پطرس ۳:۳-۱۳ میں بیانکردہ ہولناک بڑی مصیبت کی پیشینگوئی تھیں۔ رسول کہتا ہے: ”پہلے یہ جان لو کہ اِخیر دنوں میں ایسے ہنسی ٹھٹھا کرنے والے آئینگے جو اپنی خواہشوں کے موافق چلینگے۔“ پھر، نوؔح کے زمانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، پطرؔس لکھتا ہے: ”اُس زمانہ کی دنیا ڈوب کر ہلاک ہوئی۔ مگر اس وقت کے آسمان اور زمین اُسی کلام کے ذریعہ سے اسلئے رکھے ہیں کہ جلائے جائیں اور وہ بےدین آدمیوں کی عدالت اور ہلاکت کے دن تک محفوظ رہینگے۔“ تمام مصیبتوں میں سے سب سے بڑی مصیبت کے بعد مسیحا کی جس بادشاہتی حکمرانی کا طویل عرصے سے انتظار تھا وہ نئی وسعتیں اختیار کر لے گی—”نئے آسمان اور نئی زمین . . . جن میں راستبازی بسی رہیگی۔“ کیا ہی پُرمسرت امکان!
۸. دنیاوی واقعات نقطۂعروج کی طرف کسطرح بڑھ رہے ہیں؟
۸ ہماری ۲۰ویں صدی کے دوران، دنیاوی واقعات رفتہ رفتہ انتہا کو پہنچ گئے ہیں۔ اگرچہ ہیروشیما کی بربادی الہٰی عذاب نہیں تھی تو بھی اس کا شمار اُن ”دہشتناک باتوں“ میں ہو سکتا ہے جن کی یسوؔع نے خاتمے کے وقت کیلئے پیشینگوئی کی تھی۔ (لوقا ۲۱:۱۱) اس نے نیوکلیئر خطرے کی ابتدا کر دی جو ابھی تک ایک طوفانی بادل کی طرح نسلِانسانی پر منڈلا رہا ہے۔ پس، ۲۹ نومبر، ۱۹۹۳ کے دی نیو یارک ٹائمز کی ایک شہسُرخی بیان کرتی ہے: ”بندوقیں تو کچھ زنگآلود ہو سکتی ہیں لیکن نیوکلیئر ہتھیار ابھی تک چمکدار ہیں۔“ اسی اثنا میں، بینالاقوامی، نسلیاتی اور بینالقبائلی جنگیں ایک خوفناک فصل کاٹ رہی ہیں۔ ماضی میں زخمیوں کی اکثریت فوجیوں میں سے ہوتی تھی۔ آجکل، ایسے لاکھوں لوگوں کے علاوہ جو پناہگزینوں کے طور پر اپنے آبائی وطنوں کو بھاگ جاتے ہیں، جنگی زخمیوں کے ۸۰ فیصد کے عام شہری ہونے کی رپورٹ ملتی ہے۔
۹. مذہبی راہنماؤں نے دنیا کیساتھ دوستی کیسے ظاہر کی ہے؟
۹ مذہبی راہنماؤں نے جنگوں اور خونی انقلابات میں مستعدی کیساتھ ملوث ہونے سے اکثر ”دنیا سے دوستی“ کا اظہار کِیا اور کر رہے ہیں۔ (یعقوب ۴:۴) بعض نے تجارتی دنیا کے حریص سرغنوں کیساتھ اشتراک کر لیا ہے جب کہ یہ کثیر تعداد میں ہتھیار بناتے اور منشیات کی بڑی تنظیموں کو فروغ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جنوبی امریکہ کے ایک منشیات کے سرغنہ کے دھوکے سے قتل کئے جانے کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے، دی نیو یارک ٹائمز نے بیان کِیا: ”جائز کاروباری دولت کے دعوؤں اور ایک محسن کے روپ کی آڑ میں اپنی منشیات کی خریدوفروخت کو چھپاتے ہوئے، وہ ایک ذاتی ریڈیو شو کا پیشکار تھا اور اکثر رومن کیتھولک پادری اُس کے ہمراہ ہوتے تھے۔“ دی وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ دی کہ منشیات کے عادی بن جانے والے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کرنے کے علاوہ منشیات کے اس سرغنہ نے بذاتِخود ہزاروں لوگوں کو قتل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ لندن کے دی ٹائمز نے لکھا: ”قاتل اکثر شکرانہ ادا کرنے کی خاص عبادت کیلئے پیسہ دیتے ہیں . . . جبکہ کسی اَور جگہ پر اُسی وقت مقتول کے جنازے کی عبادت ادا کی جا رہی ہوتی ہے۔“ کیا ہی بدکاری!
۱۰. ہمیں دنیاوی حالتوں کی خرابی کو کیسا خیال کرنا چاہئے؟
۱۰ کون جانتا ہے کہ شیاطین کے زیرِاثر یہ انسان ابھی زمین پر کونسی بربادی لا سکتے ہیں؟ جیسا کہ ۱-یوحنا ۵:۱۹ کہتی ہے، ”تمام دنیا اُس شریر،“ شیطان ابلیس ”کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ آجکل یہ ”خشکی اور تری“ کیلئے ”افسوس [ہے] کیونکہ ابلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اُتر کر آیا ہے۔ اسلئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“ (مکاشفہ ۱۲:۱۲) تاہم، خوشی کی بات ہے کہ رومیوں ۱۰:۱۳ ہمیں یقین دلاتی ہے کہ ”جو کوئی خداوند کا نام لیگا نجات پائیگا۔“
خدا عدالت کے لئے نزدیک آتا ہے
۱۱. اسرائیل کے اندر کونسی حالتیں ملاؔکی کے پیشینگوئی کرنے کا باعث بنیں؟
۱۱ جہاں تک نوعِانسانی کے فوری مستقبل کا تعلق ہے تو جو کچھ واقع ہونے والا ہے ملاؔکی کی پیشینگوئی اُس پر روشنی ڈالتی ہے۔ قدیم عبرانی انبیاء کے طویل سلسلے میں ملاؔکی کو آخر پر شمار کِیا گیا ہے۔ اسرائیل ۶۰۷ ق.س.ع. میں یرؔوشلیم کی بربادی کا تجربہ کر چکا تھا۔ لیکن ۷۰ سال بعد یہوؔواہ نے اس اُمت کو اسکے ملک میں بحال کرکے رحمدلانہ شفقت کا مظاہرہ کِیا۔ تاہم، ایک سو سال کے اندر ہی، اسرائیل پھر سے برگشتگی اور بدکاری کی طرف جا رہا تھا۔ لوگ قربانی کیلئے اندھے، لنگڑے اور بیمار جانور لاکر یہوؔواہ کے نام کی بےعزتی کر رہے تھے، اُسکے راست قوانین سے غفلت کر رہے تھے، اور اُسکی ہیکل کو بےحُرمت کر رہے تھے۔ وہ اپنی جوانی کی بیویوں کو طلاق دے رہے تھے تاکہ اجنبی عورتوں سے شادی کر سکیں۔—ملاکی ۱:۶-۸؛ ۲:۱۳-۱۶۔
۱۲، ۱۳. (ا) ممسوح کہانتی جماعت کے لئے کونسی صفائی ضروری رہی ہے؟ (ب) پاکصاف کئے جانے سے بڑی بِھیڑ بھی کسطرح استفادہ کرتی ہے؟
۱۲ پاکصاف کئے جانے کے کام کی ضرورت تھی۔ یہ ملاکی ۳:۱-۴ میں بیان کِیا گیا ہے۔ قدیم اسرائیل کی طرح، یہوؔواہ کے جدید زمانے کے گواہوں کو پاکصاف کئے جانے کی ضرورت تھی اس لئے ملاؔکی کے ذریعے بیانکردہ پاکصاف کئے جانے کے کام کا اطلاق ان پر کِیا جا سکتا ہے۔ جیسے ہی پہلی عالمی جنگ اپنے اختتام کو پہنچی تو بائبل اسٹوڈنٹس میں سے بعض نے، جیسے کہ گواہ اُس وقت جانے جاتے تھے، دنیاوی معاملات میں واضح غیرجانبداری کو برقرار نہ رکھا۔ ۱۹۱۸ میں، یہوؔواہ نے اپنے پرستاروں کے چھوٹے سے گروہ کو دنیاوی آلودگیوں سے پاکصاف کرنے کیلئے اپنے ”عہد کے رسول،“ یسوؔع مسیح کو اپنی روحانی ہیکل کے انتظام میں بھیجا۔ نبوّتی طور پر یہوؔواہ دریافت کر چکا تھا: ”پر [رسول کے] آنے کے دن کی کس میں تاب ہے؟ اور جب اُسکا ظہور ہوگا تو کون کھڑا رہ سکے گا؟ کیونکہ وہ سنار کی آگ اور دھوبی کے صابون کی مانند ہے۔ اور وہ چاندی کو تانے اور پاکصاف کرنے والے کی مانند بیٹھیگا اور بنی لاوی [ممسوح کہانتی گروہ] کو سونے اور چاندی کی مانند پاکصاف کریگا تاکہ وہ راستبازی سے خداوند کے حضور ہدئے گذرانیں۔“ پاکصاف کئے ہوئے لوگوں کے طور پر اُنہوں نے بالکل یہی کِیا ہے!
۱۳ اُس ممسوح کہانتی گروہ کی تعداد صرف ۱۴۴،۰۰۰ ہے۔ (مکاشفہ ۷:۴-۸؛ ۱۴:۱، ۳) تاہم، آجکل دیگر مخصوصشُدہ مسیحیوں کی بابت کیا ہے؟ اب لاکھوں کی تعداد میں بڑھتے ہوئے یہ لوگ ”بڑی بِھیڑ“ کو تشکیل دیتے ہیں انہیں بھی ’برّہ کے خون سے اُنکے جامے دھوکر اور اُنہیں سفید کرکے‘ دنیاوی طورطریقوں سے پاکصاف کِیا جانا ہے۔ (مکاشفہ ۷:۹، ۱۴) لہٰذا، برّے، یسوؔع مسیح، کی فدیے کی قربانی پر ایمان ظاہر کرنے سے، وہ یہوؔواہ کے حضور پاکصاف حیثیت برقرار رکھنے کے لائق ہیں۔ اُن کیساتھ تمام بڑی مصیبت، یہوؔواہ کے ہولناک دن، میں سے زندہ بچ نکلنے کا وعدہ کِیا گیا ہے۔—صفنیاہ ۲:۲، ۳۔
۱۴. جبکہ خدا کے لوگ نئی انسانیت کو پیدا کرنا جاری رکھتے ہیں تو انہیں کن الفاظ پر دھیان دینا چاہئے؟
۱۴ کہانتی بقیے کیساتھ ملکر، اس بڑی بِھیڑ کو خدا کے آگے کے الفاظ پر دھیان دینا چاہئے: ”مَیں عدالت کیلئے تمہارے نزدیک آؤنگا اور جادوگروں اور بدکاروں اور جھوٹی قسم کھانے والوں کے خلاف اور اُنکے خلاف بھی جو مزدوروں کو مزدوری نہیں دیتے اور بیواؤں اور یتیموں پر ستم کرتے اور مسافروں کی حقتلفی کرتے ہیں اور مجھ سے نہیں ڈرتے مستعد گواہ ہونگا . . . کیونکہ میں خداوند [”یہوؔواہ،“ اینڈبلیو] لاتبدیل ہوں۔“ (ملاکی ۳:۵، ۶) نہیں، یہوؔواہ کے معیار نہیں بدلتے، اسلئے یہوؔواہ کے خوف میں، آجکل اُسکے لوگوں کو جبکہ وہ مسیحی شخصیت کو پیدا کرنا جاری رکھتے ہیں ہر قسم کی بُتپرستی سے کنارہ کرنا چاہئے اور حقگو، دیانتدار اور فیاض ہونا چاہئے۔—کلسیوں ۳:۹-۱۴۔
۱۵. (ا) یہوؔواہ کونسی رحمدلانہ دعوت دیتا ہے؟ (ب) ہم یہوؔواہ کو ”ٹھگنے“ سے کیسے گریز کر سکتے ہیں؟
۱۵ یہوؔواہ ہر اُس شخص کو جو کہ شاید اُسکی راست راہوں سے منحرف ہو چکا ہے یہ کہتے ہوئے دعوت دیتا ہے: ”میری طرف رجوع ہو تو مَیں تمہاری طرف رجوع ہونگا۔“ اگر یہ پوچھیں: ”ہم کس بات میں رجوع ہوں؟“ وہ جواب دیتا ہے: ”تم مجھ کو ٹھگتے ہو۔“ اور مزید سوال کے جواب میں: ”ہم نے کس بات میں تجھے ٹھگا؟“ یہوؔواہ بیان کرتا ہے کہ اُسکی ہیکل میں کی جانے والی خدمت کیلئے اپنی بہترین چیزوں کو بطور نذرانے پیش کرنے میں ناکام ہونے سے اُنہوں نے اُسے ٹھگا ہے۔ (ملاکی ۳:۷، ۸) یہوؔواہ کی اُمت کا حصہ بن جانے سے، یقیناً ہمیں یہوؔواہ کی خدمت کیلئے اپنی توانائیوں، لیاقتوں اور مادی اثاثوں کے بہترین حصے کو وقف کر دینے کی خواہش رکھنی چاہئے۔ پس، خدا کو ٹھگنے کی بجائے ہم ’پہلے بادشاہت اور اُسکی راستبازی کی تلاش کرتے رہتے ہیں۔‘—متی ۶:۳۳۔
۱۶. ہم ملاکی ۳:۱۰-۱۲ میں کیا حوصلہافزائی پاتے ہیں؟
۱۶ اُن تمام لوگوں کیلئے شاندار اجر موجود ہے جو دنیا کے تنپرور، مادہپرستانہ طریقوں کو اپنے پیچھے چھوڑ دیتے ہیں، جیسا کہ ملاکی ۳:۱۰-۱۲ ظاہر کرتی ہیں: ”اسی سے میرا امتحان کرو ربُالافواج فرماتا ہے کہ مَیں تم پر آسمان کے دریچوں کو کھولکر برکت برساتا ہوں کہ نہیں یہاں تک کہ تمہارے پاس اُسکے لئے جگہ نہ رہے۔“ تمام قدردان لوگوں کیلئے یہوؔواہ روحانی خوشحالی اور پھلدار ہونے کا وعدہ کرتا ہے۔ وہ مزید کہتا ہے: ”سب قومیں تمکو مبارک کہینگی کیونکہ تم دلکُشا مملکت ہوگے۔“ کیا یہ بات آجکل ساری زمین پر خدا کے لاکھوں شکرگزار لوگوں کے درمیان سچ ثابت نہیں ہوئی ہے؟
راستی برقرار رکھنے والے کتابِحیات میں
۱۷-۱۹. (ا) رواؔنڈا میں افراتفری نے وہاں پر ہمارے بھائیوں کو کیسے متاثر کِیا ہے؟ (ب) کس یقینِکامل کیساتھ یہ وفادار لوگ آگے بڑھتے رہے ہیں؟
۱۷ اس موقع پر، ہم اپنے رواؔنڈا کے بھائیوں اور بہنوں کی راستی پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ اُنہوں نے ہمیشہ پرستش کے یہوؔواہ کے روحانی گھر کیلئے عمدہترین روحانی قربانیاں چڑھائی ہیں۔ مثال کے طور پر، دسمبر ۱۹۹۳ میں اپنی ”الہٰی تعلیم“ ڈسٹرکٹ کنونشن پر اُن کے ۲،۰۸۰ بادشاہتی پبلشروں نے ۴،۰۷۵ کی کُل حاضری حاصل کی۔ ۲۳۰ نئے گواہوں کو بپتسمہ دیا گیا اور اُن میں سے تقریباً ۱۵۰ نے اگلے ہی مہینے امدادی پائنیر خدمت کیلئے نام درج کروا دیئے۔
۱۸ جب اپریل ۱۹۹۴ میں فرقہوارانہ نفرت پھوٹ نکلی تو دارالحکومت، کیگالی میں سٹی اوورسیئر اور اُسکے سارے خاندان سمیت کمازکم ۱۸۰ گواہ مارے گئے۔ کیگالی میں واچٹاور سوسائٹی کے دفتر میں چھ مترجموں نے، جن میں سے چار ہوتو اور دو تُوتسی تھے، شدید خطرے کے تحت کئی ہفتوں تک کام کرنا جاری رکھا، حتیٰکہ تُوتسیوں کو بھاگنا پڑا اور پولیس چوکی پر ہی ہلاک ہو گئے۔ آخرکار، اُنکے کمپیوٹر سامان میں سے جو کچھ بچ گیا تھا اُسے اُٹھا کر باقی کے چار زاؔئر میں گوما کو بھاگ گئے جہاں پر اُنہوں نے وفاداری سے کینیاروانڈا زبان میں مینارِنگہبانی کا ترجمہ کرنا جاری رکھا۔—یسعیاہ ۵۴:۱۷۔
۱۹ خوفناک حالات میں ہونے کے باوجود، ان پناہگزین گواہوں نے ہمیشہ مادی فراہمیوں سے پہلے روحانی خوراک کیلئے درخواست کی۔ بہت بڑی قربانی دیکر، کئی ممالک سے پُرمحبت بھائی اُن تک اشیا پہنچانے کے قابل ہوئے تھے۔ دباؤ کے تحت اپنی گفتار اور شائستگی کے ذریعے ان پناہگزینوں نے شاندار گواہی دی ہے۔ اُنہوں نے یقیناً یہوؔواہ کی پرستش کیلئے اپنی بہترین چیزیں لانا جاری رکھا ہے۔ اُنہوں نے رومیوں ۱۴:۸ میں بیانکردہ پولسؔ جیسے یقینِکامل کا مظاہرہ کِیا ہے: ”اگر ہم جیتے ہیں تو خداوند کے واسطے جیتے ہیں اور اگر مرتے ہیں تو خداوند کے واسطے مرتے ہیں۔ پس ہم جئیں یا مریں خداوند ہی کے ہیں۔“
۲۰، ۲۱. (ا) یہوؔواہ کے یادگار کے دفتر میں کن کے نام نہیں لکھے گئے ہیں؟ (ب) کن کے نام کتاب میں دکھائی دیتے ہیں اور کیوں؟
۲۰ یہوؔواہ اُن سب کو یاد رکھتا ہے جو راستی برقرار رکھتے ہوئے اُسکی خدمت کرتے ہیں۔ ملاؔکی کی پیشینگوئی جاری رہتی ہے: ”تب خداترسوں نے آپس میں گفتگو کی اور خداوند نے متوجہ ہوکر سنا اور اُنکے لئے جو خداوند سے ڈرتے اور اُسکے نام کو یاد کرتے تھے اُسکے حضور یادگار کا دفتر لکھا گیا۔“—ملاکی ۳:۱۶۔
۲۱ آجکل یہ کتنا اہم ہے کہ ہم یہوؔواہ کے نام کی تعظیم کرنے میں خدائی خوف ظاہر کریں! ایسا کرنے سے، ہمیں اُنکی طرح ناموافق سزا برداشت نہیں کرنی پڑیگی جو قابلِتعریف طور پر اس دنیا کے نظاموں کی حمایت کرتے ہیں۔ مکاشفہ ۱۷:۸ بیان کرتی ہے کہ ”[انکے] نام . . . کتابِحیات میں لکھے نہیں گئے۔“ منطقی طور پر، یہوؔواہ کی کتابِحیات میں درج ممتاز نام زندگی کے افضل نمائندے، خدا کے اپنے بیٹے، یسوؔع مسیح کا ہے۔ متی ۱۲:۲۱ بیان کرتی ہے: ”اُسکے نام سے غیرقومیں اُمید رکھینگی۔“ یسوؔع کے فدیے کی قربانی ان سب کیلئے زندگی کی ضمانت دیتی ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ کیا ہی شاندار شرف ہے کہ ہمارے ذاتی نام اس کتاب میں یسوؔع کے نام کیساتھ شامل ہوں!
۲۲. جب یہوؔواہ انصاف کو عمل میں لائیگا تو کونسا فرق نمایاں ہوگا؟
۲۲ عدالت کے دوران خدا کے خادموں پر کیا بیتے گی؟ یہوؔواہ ملاکی ۳:۱۷، ۱۸ میں جواب دیتا ہے: ”مَیں اُن پر ایسا رحیم ہونگا جیسا باپ اپنے خدمتگزار بیٹے پر ہوتا ہے۔ تب تم رجوع لاؤ گے اور صادق اور شریر میں اور خدا کی عبادت کرنے والے اور نہ کرنے والے میں امتیاز کروگے۔“ تقسیم سب کیلئے واضح ہوگی: بدکار، ابدی ہلاکت کیلئے علیٰحدہ کئے جائینگے اور راستباز بادشاہت کے قلمرو میں ابدی زندگی کیلئے منتخب کئے جائینگے۔ (متی ۲۵:۳۱-۴۶) لہٰذا بھیڑخصلت لوگوں کی ایک بڑی بِھیڑ یہوؔواہ کے عظیم اور ہولناک دن سے زندہ بچ نکلے گی۔ (۱۵ ۴/۱۵ w۹۵)
کیا آپ کو یاد ہے؟
▫ بائبل وقتوں میں یہوؔواہ نے کونسی سزائیں دیں؟
▫ آجکل کی حالتیں کسطرح قدیم وقتوں کے متوازی ہیں؟
▫ ملاؔکی کی پیشینگوئی کی تکمیل میں کونسی صفائی واقع ہوئی ہے؟
▫ خدا کے یادگار کے دفتر میں کن کے نام لکھے ہیں؟