مذہب پر گفتگو کرنے سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے؟
والدین اپنے بچے کی زبان سے نکلنے والے پہلے الفاظ کے بڑے اشتیاق سے منتظر ہوتے ہیں۔ جب وہ غوں غوں کے درمیان بار بار کوئی آواز سنتے ہیں، شاید ”ماما“ یا ”ڈیڈا“ تو اُنکے دل خوشی سے پھول جاتے ہیں۔ جلد ہی وہ اپنے دوستوں اور پڑوسیوں دونوں کو اسکی خبر سناتے ہیں۔ بچے کی پہلی باتچیت واقعی خوشخبری ہے جو باعثِمسرت ہوتی ہے۔
چھوٹے بچے کے حواس کو متاثر کرنے والی آوازیں، مناظر اور بُو جوابیعمل کو تحریک دیتی ہیں۔ بلاشُبہ، جوابیعمل مختلف ہوتے ہیں۔ لیکن اگر، کچھ عرصے کے بعد، شِیرخوار بچہ ان محرکات کیلئے ردِعمل دکھانے سے قاصر رہتا ہے تو والدین بجا طور پر پریشان ہونگے کہ شاید اُنکے بچے کی نشوونما میں کوئی نقص ہے۔
بچے جن سے واقف ہوتے ہیں اُنکے لئے خوشگوار جوابیعمل دکھاتے ہیں۔ جب ماں بچے کو پیار سے گلے لگاتی ہے تو عموماً یہ ایک بڑی سی مسکراہٹ پر منتج ہوتا ہے۔ لیکن، ایک مہمان رشتےدار کا چُھونا آنسوؤں کے بہہ نکلنے، حتیٰکہ ہٹدھرمی سے اُس کے پاس جانے سے انکار کرنے، کا سبب بن سکتا ہے۔ زیادہتر رشتہدار جنہیں یہ تجربہ ہوتا ہے وہ ہمت نہیں ہارتے۔ جونہی بچہ اُنہیں بہتر طور پر پہچاننے لگتا ہے تو اجنبیت کی دیوار گِرنے پر وہ خوش ہو جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ بچے کی مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے۔
اسی طرح، بہتیرے بالغ لوگ کسی ایسے شخص کیساتھ اپنے مذہبی عقائد پر کھلمکُھلا گفتگو کرنے سے ہچکچاتے ہیں جو اُنکا پُرانا واقفکار نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ یہ نہ سمجھ پائیں کہ کس وجہ سے ایک اجنبی شخص ایک ذاتی معاملے—مذہب—کی بابت گفتگو کرنا چاہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اور اُن لوگوں کے درمیان جو خالق کی بابت گفتگو کرتے ہیں ایک دیوار کھڑی کر لیتے ہیں۔ وہ اس چیز پر بھی بات کرنے سے انکار کر دیتے ہیں جو، بہرصورت، نوعِانسان کا پیدائشی وصف ہے یعنی پرستش کرنے کی خواہش۔
دراصل، ہمیں اپنے خالق کی بابت سیکھنے میں دلچسپی رکھنی چاہئے اور دوسروں کے ساتھ باتچیت کرنا ہمیں سیکھنے کے قابل بنا سکتا ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ خدا کو ایک طویل عرصے سے کُھلے رابطے کیساتھ وابستہ کِیا گیا ہے۔ آئیے ہم دیکھیں کہ کس طرح۔
’سنیں اور سیکھیں‘
ایک انسان کیساتھ خدا کا پہلا رابطہ باغِعدن میں آؔدم کے ساتھ ہوا تھا۔ لیکن، آؔدم اور حوؔا کے گناہ کرنے کے بعد، جب خدا نے اُنہیں پکارا، جبکہ وہ اُن کے ساتھ مزید باتچیت کرنا چاہتا تھا تو اُنہوں نے چھپ جانا ہی بہتر سمجھا۔ (پیدایش ۳:۸-۱۳) تاہم، بائبل ایسے مردوں اور عورتوں کی بابت تفصیل سے بیان کرتی ہے جنہوں نے خدا کی طرف سے رابطے کا خیرمقدم کِیا۔
خدا نوؔح کیساتھ اُسکے زمانے کی بدکار دنیا پر آنے والی تباہی کے سلسلے میں ہمکلام ہوا، جس وجہ سے نوؔح ”راستبازی کی منادی کرنے والا“ بن گیا۔ (۲-پطرس ۲:۵) اپنی پُشت کیلئے خدا کے نمائندے کے طور پر، نوؔح نے نہ صرف انسان کے ساتھ خدا کے برتاؤ پر ہی ایمان کا مظاہرہ کِیا بلکہ سرِعام اپنے یہوؔواہ کی طرف ہونے کا اعلان بھی کِیا۔ نوؔح نے کیسا جوابیعمل دیکھا؟ افسوس کی بات ہے کہ ”جب تک طوفان آ کر اُن سب کو بہا نہ لے گیا“ اُسکے معاصرین کی اکثریت کو ”خبر نہ ہوئی۔“ (متی ۲۴:۳۷-۳۹) لیکن ہمارے لئے خوشی کی بات ہے کہ نوؔح کے خاندان کے سات افراد نے خدا کی ہدایات کو سنا، تعمیل کی، اور عالمگیر سیلاب سے زندہ بچ گئے۔ آجکل کے تمام زندہ انسان اُنہی کی نسل ہیں۔
بعدازاں، خدا نے لوگوں کی ایک پوری قوم، قدیم اسرائیل کے ساتھ رابطہ کِیا۔ موسیٰؔ کے ذریعے خدا نے اُنہیں دس احکام اور تقریباً ۶۰۰ دیگر یکساں لازمی قوانین دیئے۔ یہوؔواہ اسرائیلیوں سے توقع کرتا تھا کہ ان سب کی فرمانبرداری کریں۔ موسیٰؔ نے حکم دیا کہ ہر ساتویں سال، سالانہ عیدِخیام کے دوران خدا کی شریعت کو پڑھا جانا تھا۔ ”سب لوگوں کو . . . جمع کرنا،“ اُس نے ہدایت دی، ”مردوں اور عورتوں اور بچوں اور اپنی بستیوں کے مسافروں کو۔“ کس مقصد کیلئے؟ ”تاکہ وہ سنیں اور سیکھیں اور خداوند تمہارے خدا کا خوف مانیں اور اس شریعت کی سب باتوں پر احتیاط رکھ کر عمل کریں۔“ سب کو سننا اور سیکھنا تھا۔ تصور کریں کہ جو کچھ اُنہوں نے سنا اُس پر گفتگو کرنے سے اُنہوں نے کسقدر لطف اُٹھایا ہوگا!—استثنا ۳۱:۱۰-۱۲۔
پانچ صدیوں سے زیادہ عرصے کے بعد، یہوؔداہ کے بادشاہ یہوؔسفط نے یہوؔواہ کی خالص پرستش کو بحال کرنے کی مہم میں شہزادوں اور لاویوں کو منظم کِیا۔ ان آدمیوں نے شہریوں کو یہوؔواہ کے قوانین کی تعلیم دیتے ہوئے یہوؔداہ کے تمام شہروں کا سفر کِیا۔ ان قوانین پر اعلانیہ بحث کرانے سے، بادشاہ نے سچی پرستش کیلئے اپنی دلیری کا مظاہرہ کِیا۔ جہاں تک اُسکی رعایا کا تعلق ہے، اُنہیں سننا اور سیکھنا تھا۔—۲-تواریخ ۱۷:۱-۶، ۹۔
گفتگو کے ذریعے گواہی دینا
خدا نے اپنے بیٹے، یسوؔع کو اپنے نمائندے کے طور پر خدمت انجام دینے کیلئے زمین پر بھیجا۔ (یوحنا ۱:۱۴) جب تین شاگردوں نے اپنے سامنے یسوؔع کی صورت کو بدلتے ہوئے دیکھا تو اُنہوں نے خدا کی اپنی آواز کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ”یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں اسکی سنو۔“ (متی ۱۷:۵) اُنہوں نے بخوشی تعمیل کی۔
اسی طرح، یسوؔع نے اپنے رسولوں کو دوسروں کے سامنے خدا کے مقاصد بیان کرنے کا حکم دیا۔ لیکن جب زمین پر خدمتگزاری کے تقریباً چھ مہینے باقی رہ گئے تو یسوؔع نے یہ بتایا کہ آسمان کی بادشاہت کی منادی کا کام اسقدر وسیع ہے کہ مزید شاگردوں کی ضرورت ہوگی۔ اُس نے اُن میں سے ۷۰ کو سکھایا کہ اجنبیوں کے ساتھ خدا کی بادشاہت کی بابت کیسے گفتگو کی جائے اور پھر اُنہیں بھیجا کہ عوامی سطح پر اُس پیغام کو پھیلائیں۔ (لوقا ۱۰:۱، ۲، ۹) آسمان میں اپنے باپ کے پاس واپس جانے سے ذرا پہلے، یسوؔع نے اپنے پیروکاروں کو اس پیغام کی بابت دوسروں کیساتھ باتچیت کرنے میں پہل کرنے کی تاکید کی اور یہ حکم بھی دیا: ”پس تم جاکر سب قوموں کو شاگرد بناؤ . . . انکو یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جنکا میں نے تم کو حکم دیا۔“ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) پوری دنیا میں، آجکل سچے مسیحی اپنے ہمسایوں کے ساتھ خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کی بابت گفتگو کرنے سے اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ یہ مباحثے اُنہیں خالق، یہوؔواہ کی بابت سچائی کی گواہی دینے کے قابل بناتے ہیں۔—متی ۲۴:۱۴۔
پُرامن، ترقیبخش مباحثے
یسوؔع کے شاگردوں کو دوسروں کے ساتھ اپنے عقائد کی بابت کس طریقے سے گفتگو کرنا تھی؟ اُنہوں نے مخالفین کو غصہ نہیں دلانا تھا اور نہ ہی اُنہوں نے مخالفین کے ساتھ بحث کرنا تھی۔ بلکہ، اُنہوں ایسے لوگوں کو تلاش کرنا تھا جنہوں نے خوشخبری کا خیرمقدم کِیا اور پھر اُسکی حمایت میں صحیفائی ثبوت پیش کرنا تھا۔ بلاشُبہ، خدا نے اُن لوگوں کی جوابی کارروائیوں کا مشاہدہ کِیا جنکی اُسکے بیٹے کے شاگردوں کے ساتھ ملاقات ہوئی، جیسے کہ یسوؔع نے یہ بیان کِیا تھا: ”جو تمکو قبول کرتا ہے وہ مجھے قبول کرتا ہے اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قبول کرتا ہے۔“ (متی ۱۰:۴۰) جب یسوؔع کے معاصرین کی اکثریت نے اُسکے پیغام کو مسترد کِیا تو یہ خدا کا کتنا بڑا استرداد تھا!
”مناسب نہیں کہ خداوند کا بندہ جھگڑا کرے،“ مسیحی رسول پولسؔ نے نصیحت کی۔ بلکہ، وہ ”سب کیساتھ نرمی کرے اور تعلیم دینے کے لائق اور بُردبار ہو۔ اور مخالفوں کو حلیمی سے تادیب کرے۔ شاید خدا اُنہیں توبہ کی توفیق بخشے تاکہ وہ حق کو پہچانیں۔“ (۲-تیمتھیس ۲:۲۴، ۲۵) جس طریقے سے پولسؔ نے اتھینےؔ، یوؔنان کے لوگوں میں خوشخبری کا اعلان کِیا وہ ایک عمدہ نمونہ فراہم کرتا ہے۔ اُس نے یہودیوں کے ساتھ اُن کے عبادتخانوں میں استدلال کِیا۔ وہ روزانہ بازار میں اُن سے ”جو ملتے تھے“ باتچیت کِیا کرتا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگرچہ بعض محض نئے خیالات کو ہی سننا پسند کرتے تھے، پولسؔ نے براہِراست اور مہربانہ انداز میں کلام کِیا۔ اُس نے اپنے سامعین کے ساتھ خدا کے پیغام پر گفتگو کی جو اُن سے توبہ کرنے کا تقاضا کرتا تھا۔ اُن کا ردِعمل تقریباً ویسا ہی تھا جیسا کہ آجکل کے لوگوں کا ہے۔ ”بعض ٹھٹھا مارنے لگے اور بعض نے کہا کہ یہ بات ہم تجھ سے پھر کبھی سنیں گے۔“ پولسؔ نے گفتگو کو طول دینے پر اصرار نہ کِیا۔ اپنے پیغام کی منادی کرنے کے بعد، وہ ”اُن کے بیچ میں سے نکل گیا۔“—اعمال ۱۷:۱۶-۳۴۔
بعد میں، پولسؔ نے افسسؔ میں مسیحی کلیسیا کے ارکان کو بتایا کہ وہ ’فائدہمند باتوں کو بیان کرنے سے اور اعلانیہ اور گھر گھر تعلیم دینے سے باز نہیں آیا تھا۔‘ علاوہازیں، اُس نے ’خدا کے سامنے توبہ کرنے اور یسوؔع مسیح پر ایمان لانے کی بابت یہودیوں اور یونانیوں دونوں کیساتھ مفصل گفتگو کی تھی۔‘—اعمال ۲۰:۲۰، ۲۱۔
یہ صحیفائی مثالیں آشکارا کرتی ہیں کہ کیسے بائبل وقتوں میں خدا کے وفادار خادموں نے مذہب پر گفتگو کی۔ لہٰذا، آجکل، یہوؔواہ کے گواہ اطاعتشعاری سے اپنے ہمسایوں کے ساتھ مذہب پر باتچیت کرتے ہیں۔
مباحثے جو نتیجہخیز ہیں
’خدا کے کلام کو سنو۔‘ ’اُس کے احکام کے شنوا ہو۔‘ کتنی بار ایسی نصیحتیں بائبل میں آتی ہیں! اگلی مرتبہ جب یہوؔواہ کے گواہ آپ سے گفتگو کریں تو آپ بائبل کی ان ہدایات کے لئے جوابیعمل دکھا سکتے ہیں۔ اُس پیغام کو سنیں جو وہ بائبل میں سے آپ کو پیش کرتے ہیں۔ یہ پیغام سیاسی تو نہیں مگر خدا کی آسمانی حکومت یعنی اُس کی بادشاہت کی حمایت کرتا ہے۔ یہ موجودہ دَور کے فسادات کے اسباب کو ختم کرنے کا خدا کا ذریعہ ہے۔ (دانیایل ۲:۴۴) اس کے بعد آسمان سے خدا کی یہ حکمرانی تمام زمین کو باغِعدن کی طرح ایک فردوس میں بدل دینے کا بندوبست کرے گی۔
جب یہوؔواہ کے گواہوں نے ایک سابق پولیس سراغرساں سے بائبل کی بابت گفتگو کی تو اُس نے سننے سے مسلسل انکار کِیا۔ لیکن جُرم کے اضافے کے باعث جس کا اُسے سامنا تھا، وہ زندگی سے مایوس ہو گیا تھا۔ لہٰذا اُس نے ملاقات کیلئے آنے والے دوسرے گواہ کو بتایا کہ وہ بائبل کے پیغام کے لئے ثبوت کی تحقیق کرے گا۔ اس کے بعد باقاعدہ مباحثے ہوئے۔ اگرچہ پولیسمین نے کئی مرتبہ رہائش تبدیل کی، گواہوں نے مباحثوں کو جاری رکھنے کیلئے ہر نئی جگہ پر بخوشی اُسے تلاش کِیا۔ آخرکار اس اہلکار نے تسلیم کِیا: ”جس ثبوت کی مَیں تلاش کر رہا تھا وہ ہمہوقت پاک صحائف میں موجود تھا۔ اگر وہ گواہ میرے ساتھ گفتگو کرنے میں مستقلمزاج نہ ہوتے تو مَیں ابھی تک اس سوچ میں ڈوبا دنیا کے اندر مارا مارا پھر رہا ہوتا کہ زندگی کا مطلب کیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میں نے سچائی سیکھ لی ہے اور اب میں اپنی باقی زندگی اُن لوگوں کو تلاش کرنے میں صرف کرنے والا ہوں جو بالکل ویسے ہی خدا کی تلاش کر رہے ہیں جیسے کہ مَیں کر رہا تھا۔“
دلچسپی رکھنے والے سامعین واقعی مزید جاننا چاہتے ہیں۔ وہ پیشکردہ عقائد کیلئے بجا طور پر دلائل کی توقع کرتے ہیں۔ (۱-پطرس ۳:۱۵) جس طرح ایک بچہ اپنے والدین پر سوالات کی بوچھاڑ کرتا ہے اور اُن سے جواب کی توقع کرتا ہے اُسی طرح آپ درست طور پر یہوؔواہ کے گواہوں سے توقع کرتے ہیں کہ آپ کو ٹھوس جوابات دیں۔ آپ یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ خوشی سے واپس آئیں گے اور آپ کیساتھ مزید بائبل کے پیغام پر گفتگو کریں گے۔
شاید آپ پہلے ہی سے بائبل کی بابت کسی حد تک جانتے ہوں۔ شاید آپ محسوس کریں کہ جس بات کی خدا آپ سے توقع کرتا ہے وہ آپ کے طرزِزندگی میں کچھ تبدیلیاں پیدا کر دیگی۔ اس خوف کی وجہ سے معاملات کی پیروی کرنے سے مت ہچکچائیں کہ خدا کے تقاضے آپکو بہت مہنگے پڑینگے۔ وہ صرف حقیقی خوشی کا باعث ہونگے۔ جب آپ بتدریج ترقی کی جانب قدم بڑھائیں گے تو آپ اس کی قدر کرینگے۔
سب سے پہلے، غور کریں کہ یہوؔواہ کون ہے، وہ آپ سے کیا توقع کرتا ہے اور وہ کس چیز کی پیشکش کرتا ہے۔ گواہوں سے درخواست کریں کہ اس کی بابت بائبل جو کچھ کہتی ہے وہ آپ کو دکھائے۔ جو کچھ وہ کہتے ہیں اُسکی تصدیق بائبل کی اپنی ذاتی کاپی میں سے کریں۔ یہ جان لینے کے بعد کہ گواہ مذہب کی بابت سچائی کے طور پر جو کچھ پیش کرتے ہیں اُس میں وہ بالکل معقول ہیں، بلاشُبہ آپ اَور بہت سی عمدہ باتوں کی تحقیق کرنا چاہینگے جو وہ صحائف میں سے آپ کو بتا سکتے ہیں۔—امثال ۲۷:۱۷۔
گواہوں کے جمع ہونے کی مقامی جگہ، کنگڈم ہال میں اُن کا مشاہدہ کرنے کیلئے آپ کا خیرمقدم کِیا جاتا ہے۔ وہاں آپ خدا کے کلام کے مفید مباحثوں کو سنیں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ وہاں پر موجود لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خدا کے مقاصد کی بابت باتچیت کرنے سے کسقدر استفادہ کرتے ہیں۔ ان گواہوں کو موقع دیں کہ آجکل ہمارے لئے خدا کی مرضی کی بابت سچائی کو جاننے میں آپکو مدد دیں۔ سچی پرستش پر گفتگو کرنے والی خدا کی دعوت سے اثرپذیر ہوں اور اُسکی خوشنودی بلکہ فردوس میں ابدی زندگی کو بھی حاصل کریں۔—ملاکی ۳:۱۶؛ یوحنا ۱۷:۳۔ (۴ ۴/۱۰ w۹۵)
[تصویر]
نوؔح نے خدا کے مقصد کی بابت اعلانیہ کلام کِیا
[تصویریں]
جیسے کہ پولسؔ نے قدیم اتھینےؔ میں کِیا، یہوؔواہ کے گواہ دوسروں کو بائبل سچائیاں سکھاتے ہیں