بادشاہتی مُناد رپورٹ دیتے ہیں
تکلیفدہ وقت میں منادی کرنا
پولسؔ رسول نے پیشینگوئی کی کہ ”اخیر زمانہ میں بُرے دن آئینگے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱) یہ الفاظ کسقدر درست ثابت ہوئے ہیں! وسطی امریکہ میں ایلسلوؔاڈور کے لوگوں نے کافی عرصہ سے اس تلخ حقیقت کا تجربہ کِیا ہے۔ ایک دہے سے زیادہ کے لئے، یہ ملک خانہجنگی کا شکار تھا جو ہزاروں لوگوں کیلئے سخت تکلیف اور موت کا باعث بنی ہے۔ جنگ تو اب ختم ہو چکی ہے لیکن سخت تکلیف ابھی تک باقی ہے۔ جنگ کے بعد جُرم بڑی تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ حال ہی میں ایک مقامی ٹیلیوژن کے کمنٹیٹر نے بیان کِیا: ”تشدد اور ڈاکہزنی اب ہمارا روزمرّہ کا معمول بن چکے ہیں۔“
یہوؔواہ کے گواہ بھی جُرم کی اس لہر سے بچ نہیں پائے۔ چور بہت سے کنگڈم ہالوں میں گھس آئے ہیں اور صوتی آلات چرا کر لے گئے ہیں۔کئی موقعوں پر مسلح نوجوانوں کے گروہوں نے اس وقت جبکہ اجلاس جاری تھے، کنگڈم ہالوں پر دھاوا بول کر حاضرین سے پیسے، گھڑیاں اور دیگر قیمتی چیزیں چھین لی ہیں۔ اپنے روزمرّہ کے کاموں کے دوران، چند ایک گواہ چوروں کے ہاتھوں قتل بھی ہو چکے ہیں۔
ان رکاوٹوں کے باوجود، ایلسلوؔاڈور میں یہوؔواہ کے گواہ خوشخبری کی منادی کرنے میں سخت محنت کر رہے ہیں۔ وہ اس صحیفائی حکم کی تعمیل میں یہ کام کرتے ہیں: ”ضرور ہے کہ پہلے سب قوموں میں انجیل کی منادی کی جائے۔“ (مرقس ۱۳:۱۰) اس ملک میں بہتیرے ابھی تک اس بادشاہتی اُمید کے آرزُومند ہیں جو بائبل پیش کرتی ہے اور گواہ ان میں سے ہر ایک تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غیررسمی گواہی منادی کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ثابت ہو رہی ہے۔
ایک ہسپتال میں طبّی علاج کے دوران، ایک گواہ نے دوسرے مریضوں کیساتھ مستقبل کیلئے بائبل میں پائے جانے والے خدا کے وعدوں کی بابت گفتگو کرنے کے لئے ہر موقع سے فائدہ اُٹھایا۔ ایک انتہائی علیل مریض نے افسوس کیساتھ کہا: ”میں جلد مرنے والا ہوں!“ لیکن مریض کی بظاہر خراب حالت نے گواہ کو اُسے خدا کی بادشاہت کی خوشخبری میں شریک کرنے کیلئے بےحوصلہ نہ کِیا۔ بلکہ، اس نے یہوؔواہ کے گواہوں کی شائعکردہ کتاب یو کین لِو فار ایور اِن پیراڈائز آن ارتھ میں سے اس آدمی کو پڑھ کر سنایا۔ چند دن بعد، گواہ ہسپتال سے افسوس کیساتھ یہ سوچتے ہوئے چلا گیا کہ وہ آدمی اپنے بسترِمرگ پر تھا۔
چار سال بعد اس گواہ کو ایک دوسرے ہسپتال میں طبّی علاج کروانا پڑا۔ جب وہ وہاں تھا تو ایک مریض اس کے پاس آیا اور کہا: ”کیا مَیں آپ کو یاد ہوں؟“ یہ وہی آدمی تھا جس سے وہ چار سال پہلے مِل چکا تھا، وہ آدمی جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ مر رہا تھا! کیا ہی خوشکُن خلافِتوقع بات جب اس آدمی نے اسے گلے لگایا اور مزید کہا: ”اب مَیں بھی یہوؔواہ کے گواہوں میں سے ایک ہوں!“ اس آدمی نے مستقبل کیلئے بائبل کی اُمید کو قبول کر لیا تھا، یہوؔواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کِیا تھا اور اپنی زندگی یہوؔواہ کے لئے مخصوص کر دی تھی۔ وہ نہ صرف ایک گواہ ہی تھا بلکہ وہ تقریباً دو سال سے باقاعدہ پائنیر کے طور پر کُلوقتی خدمت میں حصہ لے رہا تھا۔
اس معاملے میں، سچائی کے وہ بیج جو ایک غیررسمی ماحول میں بوئے گئے تھے ایک اثرپذیر دل تک پہنچ گئے۔ لوگوں کو سچائی کا علم حاصل کرنے میں مدد دینے کا یہ استحقاق سچے مسیحیوں کو ان ”بُرے دنوں“ کے باوجود بھی منادی کے کام کو جاری رکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔ (۹ ۴/۱۰ w۹۵)