نہایت دردمند بنیں
”دردمندی اور مہربانی . . . کا لباس پہنو۔“—کلسیوں ۳:۱۲۔
۱. آجکل دردمندی کی اتنی زیادہ ضرورت کیوں ہے؟
تاریخ میں کبھی بھی اتنے زیادہ لوگ دردمندانہ مدد کے حاجتمند نہیں رہے۔ بیماری، بھوک، بیروزگاری، جرم، جنگوں، بدنظمی اور قدرتی آفات کے باعث لاکھوں لوگوں کو مدد درکار ہے۔ لیکن ایک مسئلہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے اور وہ ہے نوعِانسان کی مایوسکُن روحانی خستہحالی۔ شیطان، جو جانتا ہے کہ اُس کا وقت تھوڑا ہے، ”سارے جہان کو گمراہ کر [رہا] ہے۔“ (مکاشفہ ۱۲:۹، ۱۲) لہٰذا، وہ لوگ جو سچی مسیحی کلیسیا سے باہر ہیں خاص طور پر اپنی زندگیاں کھو دینے کے خطرے میں ہیں اور بائبل اُن کیلئے قیامت کی کوئی اُمید نہیں دیتی جنکو خدا کے آنے والے عدالتی دن کے دوران ہلاک کیا جاتا ہے۔—متی ۲۵:۳۱-۳۳، ۴۱، ۴۶؛ ۲-تھسلنیکیوں ۱:۶-۹۔
۲. یہوؔواہ شریر کو ہلاک کرنے سے باز کیوں رہا ہے؟
۲ تاہم، اس آخری وقت تک، یہوؔواہ خدا ناشکر اور شریر کیلئے صبر اور دردمندی دکھانا جاری رکھتا ہے۔ (متی ۵:۴۵؛ لوقا ۶:۳۵، ۳۶) اُس نے ایسا اُسی وجہ سے کِیا ہے جس کے باعث اُس نے اسرائیل کی ناشکر قوم کو سزا دینے میں تاخیر کی تھی۔ ”خداوند خدا فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم شریر کے مرنے میں مجھے کچھ خوشی نہیں بلکہ اس میں ہے کہ شریر اپنی راہ سے باز آئے اور زندہ رہے۔ اَے بنی اسرائیل باز آؤ۔ تم اپنی بُری روش سے باز آؤ۔ تم کیوں مرو گے؟“—حزقیایل ۳۳:۱۱۔
۳. ہمارے پاس اُن کیلئے یہوؔواہ کی دردمندی کی کونسی مثال ہے جو اُسکے لوگ نہیں ہیں اور ہم اس سے ہم سیکھتے ہیں؟
۳ یہوؔواہ کی دردمندی نینوہ کے بدکار لوگوں کیلئے بھی دکھائی گئی تھی۔ یہوؔواہ نے اپنے نبی یوؔناہ کو اُنہیں سر پر منڈلاتی تباہی کی بابت آگاہ کرنے کیلئے بھیجا۔ اُنہوں نے یوؔناہ کی منادی کیلئے مثبت جوابیعمل دکھایا اور توبہ کر لی۔ اس چیز نے دردمند خدا، یہوؔواہ کو اُسوقت پر شہر کو تباہ کرنے سے باز رہنے کی تحریک دی۔ (یوناہ ۳:۱۰؛ ۴:۱۱) اگر خدا نے نینوہ کے لوگوں پر ترس کھایا جنکے پاس قیامت کا امکان تھا تو آجکل ایک ابدی تباہی کا سامنا کرنے والے لوگوں کے لئے اُسے کتنی زیادہ دردمندی محسوس کرنی ہوگی!—لوقا ۱۱:۳۲۔
دردمندی کا ایک بےمثال کام
۴. آجکل یہوؔواہ لوگوں کیلئے دردمندی کیسے ظاہر کر رہا ہے؟
۴ اپنی دردمند شخصیت کی مطابقت میں یہوؔواہ نے اپنے گواہوں کو ”بادشاہی کی . . . خوشخبری“ کیساتھ اپنے پڑوسیوں سے ملاقات کرتے رہنے کا حکم دیا ہے۔ (متی ۲۴:۱۴) اور جب لوگ اس زندگی بچانے والے کام کیلئے قدردانی کیساتھ جوابیعمل دکھاتے ہیں تو یہوؔواہ بادشاہتی پیغام کو سمجھنے کیلئے اُنکے دلوں کو کھول دیتا ہے۔ (متی ۱۱:۲۵؛ اعمال ۱۶:۱۴) اپنے خدا کی نقل میں سچے مسیحی دلچسپی رکھنے والے اشخاص کے پاس واپس جاتے ہوئے، جہاں ممکن ہو بائبل مطالعے کے ذریعے اُنکی مدد کرتے ہوئے دردمندی دکھاتے ہیں۔ یوں، ۱۹۹۳ میں ساڑھے چار ملین سے زیادہ یہوؔواہ کے گواہوں نے ۲۳۱ ممالک کے اندر گھرباگھر کی منادی کرتے ہوئے اور اپنے پڑوسیوں کیساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک بلین سے زائد گھنٹے صرف کئے۔ اس کے بعد ان نئے دلچسپی رکھنے والے اشخاص کو یہوؔواہ کیلئے اپنی زندگیوں کو مخصوص کرنے اور اُسکے بپتسمہیافتہ گواہوں کی صفوں میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے۔ اسطرح، وہ بھی ابھی تک شیطان کی دم توڑتی دنیا میں پھنسے ہوئے متوقع شاگردوں کی خاطر دردمندی کے اس بےمثال کام کو کرنے کا ذمہ اپنے سر لے لیتے ہیں۔—متی ۲۸:۱۹، ۲۰؛ یوحنا ۱۴:۱۲۔
۵. جب الہٰی دردمندی اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی تو اُس مذہب کیساتھ کیا واقع ہوگا جو خدا کی غلط نمائندگی کرتا ہے؟
۵ جلد ہی یہوؔواہ ”صاحبِجنگ“ کے طور پر کارروائی کریگا۔ (خروج ۱۵:۳) اپنے نام کی خاطر اور اپنے لوگوں کی خاطر دردمندی کی بدولت وہ بدکرداری کو ختم کر ڈالیگا اور ایک راستباز نئی دنیا قائم کریگا۔ (۲-پطرس ۳:۱۳) خدا کے قہر کا سب سے پہلے تجربہ کرنے والے مسیحی دنیا کے چرچ ہونگے۔ جسطرح خدا نے یرؔوشلیم میں اپنی ہیکل کو شاہِبابل کے ہاتھ سے نہیں بچایا تھا اسی طرح وہ اُن مذہبی تنظیموں کو بھی نہیں بچائیگا جنہوں نے اُسکی غلط نمائندگی کی ہے۔ خدا اس بات کو اقوامِمتحدہ کے ممبروں کے دلوں میں ڈالیگا کہ مسیحی دنیا اور جھوٹے مذہب کی دیگر تمام اقسام کو نیست کر دیں۔ (مکاشفہ ۱۷:۱۶، ۱۷) یہوؔواہ اعلان کرتا ہے، ”میری آنکھ رعایت نہ کریگی اور میں ہرگز رحم نہ کرونگا۔ میں اُنکی روش کا بدلہ اُنکے سر پر لاؤنگا۔“—حزقیایل ۹:۵، ۱۰۔
۶. کن طریقوں سے یہوؔواہ کے گواہوں نے دردمندی ظاہر کرنے کی تحریک پائی ہے؟
۶ جبکہ ابھی وقت باقی ہے، یہوؔواہ کے گواہ نجات کی بابت خدا کے پیغام کی گرمجوشی کیساتھ منادی کرنے سے اپنے پڑوسیوں کیلئے دردمندی دکھانا جاری رکھتے ہیں۔ اور قدرتی بات ہے کہ جہاں ممکن ہو وہ اُن لوگوں کی مدد بھی کرتے ہیں جو مادی مشکل میں ہیں۔ تاہم، اس سلسلے میں، اُنکی اوّلین ذمہداری قریبی خاندانی افراد کی اور اُنکی ضروریات کو پورا کرنا ہے جو انکے اہلِ ایمان ہیں۔ (گلتیوں ۶:۱۰؛ ۱-تیمتھیس ۵:۴، ۸) مختلف آفات کا شکار ہونے والے ساتھی ایمانداروں کی خاطر یہوؔواہ کے گواہوں کے ذریعے انجام دئے گئے بہت سے امدادی کام دردمندی کی نمایاں مثالیں رہی ہیں۔ تاہم، مسیحیوں کو دردمندی دکھانے سے پہلے کسی بحران کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ روزمرہ زندگی کے نشیبوفراز کیساتھ نپٹنے میں فوراً اس خوبی کو ظاہر کرتے ہیں۔
نئی شخصیت کا حصہ
۷. (ا) کلسیوں ۳:۸-۱۳ میں، دردمندی کو نئی شخصیت کیساتھ کسطرح منسلک کِیا گیا ہے؟ (ب) شفقت مسیحیوں کیلئے کیا کرنا آسان بنا دیتی ہے؟
۷ یہ سچ ہے کہ ہماری گنہگارانہ فطرت اور شیطان کی دنیا کا بُرا اثر ہمارے دردمند ہونے کی راہ میں رکاوٹیں ہیں۔ اسی لئے بائبل ہمیں ”غصہ اور قہر اور بدخواہی اور بدگوئی“ چھوڑ دینے کی تاکید کرتی ہے۔ اسکی بجائے ہمیں ’خود کو نئی شخصیت سے مُلبّس‘ کرنے کی مشورت دی گئی ہے—ایسی شخصیت جو خدا کی صورت کے مطابق ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں ”دردمندی اور مہربانی اور فروتنی اور حلم اور تحمل“ کیساتھ خود کو ملبوس کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر بائبل ہمیں ان خوبیوں کو ظاہر کرنے کا عملی طریقہ بتاتی ہے۔ ”اگر کسی کو دوسرے کی شکایت ہو تو ایک دوسرے کی برداشت کرے اور ایک دوسرے کے قصور معاف کرے۔ جیسے خداوند نے تمہارے قصور معاف کئے ویسے ہی تم بھی کرو۔“ اگر ہم نے اپنے بھائیوں کیلئے ’دردمندی‘ کو پیدا کر لیا ہے تو معاف کرنے والا بننا بہت ہی آسان ہو جاتا ہے۔—کلسیوں ۳:۸-۱۳۔
۸. معاف کرنے والا جذبہ رکھنا کیوں لازمی ہے؟
۸ اسکے برعکس، دردمندانہ معافی کا اظہار کرنے میں ناکامی یہوؔواہ کیساتھ ہمارے رشتے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اس بات کو یسوؔع نے اپنی معاف نہ کرنے والے نوکر کی اپنی تمثیل میں بڑے زوردار انداز سے واضح کِیا جسکو اُس کے مالک نے اُس وقت تک قیدخانہ میں ڈال دیا ”جب تک [وہ] تمام قرض ادا نہیں کر دیتا۔“ نوکر ایسے سلوک کا مستحق تھا کیونکہ وہ ایک ہمخدمت کیلئے دردمندی دکھانے میں بُری طرح ناکام ہو گیا تھا جس نے رحم کی بھیک مانگی تھی۔ یسوؔع نے یہ کہتے ہوئے تمثیل کا اختتام کِیا: ”میرا آسمانی باپ بھی تمہارے ساتھ اسی طرح کریگا اگر تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کو دل سے معاف نہ کرے۔“—متی ۱۸:۳۴، ۳۵۔
۹. نئی شخصیت کے اہمترین پہلو کا دردمندی کیساتھ کس طرح تعلق پایا جاتا ہے؟
۹ دردمند ہونا محبت کا ایک اہم پہلو ہے۔ اور محبت سچی مسیحیت کا شناختی نشان ہے۔ (یوحنا ۱۳:۳۵) لہٰذا، نئی شخصیت کی بابت بائبل کا بیان یوں اختتامپزیر ہوتا ہے: ”ان سب کے اُوپر محبت کو جو کمال کا پٹکا ہے باندھ لو۔“—کلسیوں ۳:۱۴۔
رشک—دردمندی کی راہ میں ایک رکاوٹ
۱۰. (ا) کونسی چیز ہمارے دلوں میں حسد کے جڑ پکڑنے کا سبب بن سکتی ہے؟ (ب) حسد کے کونسے بُرے نتائج نکل سکتے ہیں؟
۱۰ ہماری گنہگارانہ انسانی فطرت کے باعث رشک کے احساسات بڑی آسانی سے ہمارے دلوں میں جڑ پکڑ سکتے ہیں۔ کسی بھائی یا بہن کو ایسی قدرتی لیاقتوں یا مادی فوائد کی برکت حاصل ہو سکتی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہیں۔ یا شاید کسی نے خاص روحانی برکات اور استحقاقات حاصل کئے ہیں۔ اگر ہمیں ایسے اشخاص پر رشک آتا ہے تو کیا ہم اُن کیساتھ دردمندی سے پیش آنے کے قابل ہونگے؟ غالباً نہیں۔ بلکہ حاسد احساسات انجامکار تنقیدی گفتگو یا بےرحم افعال کی صورت میں خود کو ظاہر کر دیں گے کیونکہ یسوؔع نے انسانوں کی بابت کہا تھا: ”جو دل میں بھرا ہے وہی اُسکے مُنہ پر آتا ہے۔“ (لوقا ۶:۴۵) دیگر لوگ بھی شاید ایسی نکتہچینی میں شریک ہو جائیں۔ یوں ایک خاندان یا خدا کے لوگوں کی کلیسیا کا امن تباہ ہو سکتا ہے۔
۱۱. یوؔسف کے دس بھائیوں نے اپنے دلوں کو دردمندی سے کسطرح خالی کر لیا تھا اور کس انجام کیساتھ؟
۱۱ غور کریں کہ ایک بڑے خاندان میں کیا واقع ہوا۔ یعقوؔب کے دس بڑے بیٹے اپنے چھوٹے بھائی یوؔسف سے حسد کرنے لگے کیونکہ وہ اُنکے باپ کا چہیتا تھا۔ نتیجتاً، ”وہ . . . اُس سے ٹھیک طور سے بات بھی نہیں کرتے تھے۔“ بعد میں، یوؔسف کو الہٰی خوابوں کی برکت حاصل ہوئی جس سے یہ ثابت ہوا کہ اُسے یہوؔواہ کی خوشنودی حاصل تھی۔ اس سے اُس کے بھائی ”اُس سے اور بھی بغض رکھنے لگے۔“ چونکہ اُنہوں نے حسد کو اپنے دلوں سے نہ نکالا اسلئے اس نے دردمندی کیلئے کوئی جگہ نہ چھوڑی اور سنگین گناہ کا باعث ہوا۔—پیدایش ۳۷:۴، ۵، ۱۱۔
۱۲، ۱۳. جب حسد کے احساسات ہمارے دل میں داخل ہو جائیں تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۱۲ بڑی سنگدلی سے، اُنہوں نے یوؔسف کو غلامی میں بیچ ڈالا۔ اپنی غلطکاری پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں اُنہوں نے اپنے باپ کو اس سوچ میں مبتلا کر کے دھوکا دیا کہ یوؔسف کو کسی جنگلی جانور نے ہلاک کر دیا تھا۔ کئی سال بعد جب وہ ایک قحط سے مجبور ہو کر مصر گئے اور اناج خریدا تو اُنکا گناہ عیاں ہو گیا۔ اناج کے ناظم نے، جسے انہوں نے نہ پہچانا کہ یوؔسف ہے، اُن پر جاسوسی کرنے کا الزام لگایا اور اُن سے کہا کہ وہ اسوقت تک اُسکی مدد کے خواہاں نہ ہوں جبتک کہ وہ اپنے سب سے چھوٹے بھائی بنیمینؔ کو ساتھ نہیں لاتے۔ اس وقت تک بنیاؔمین اُنکے باپ کا چہیتا بن چکا تھا اور وہ جانتے تھے کہ یعقوؔب کبھی بھی نہیں چاہیگا کہ اُسے جانے کی اجازت دے۔
۱۳ لہٰذا یوؔسف کے حضور کھڑے ہو کر، اُنکے ضمائر نے اُنہیں یہ اعتراف کرنے کی تحریک دی: ”ہم دراصل اپنے بھائی [یوؔسف] کے سبب سے مجرم ٹھہرے ہیں کیونکہ جب اُس نے ہم سے منت کی تو ہم نے یہ دیکھ کر بھی کہ اُسکی جان کیسی مصیبت میں ہے اُسکی نہ سنی۔ اسی لئے یہ مصیبت ہم پر آ پڑی ہے۔“ (پیدایش ۴۲:۲۱) اپنے دردمندانہ مگر ٹھوس برتاؤ سے یوؔسف نے اپنے بھائیوں کی اپنی توبہ کی صداقت کو ثابت کرنے کیلئے مدد کی۔ پھر اُس نے اُنہیں اپنی شناخت کروا دی اور فیاضدلی سے اُنہیں معاف کر دیا۔ خاندانی اتحاد بحال ہو گیا تھا۔ (پیدایش ۴۵:۴-۸) مسیحیوں کے طور پر، ہمیں اس سے سبق سیکھنا چاہئے۔ رشک کے بُرے نتائج کو جانتے ہوئے، ہمیں حاسد احساسات کو ’دردمندی‘ میں بدل دینے کیلئے مدد کیلئے یہوؔواہ سے دعا کرنی چاہئے۔
دردمندی کی راہ میں دیگر رکاوٹیں
۱۴. ہمیں غیرضروری طور پر تشدد کے خطرے میں پڑنے سے کیوں بچنا چاہئے؟
۱۴ ہمارے دردمند ہونے کی راہ میں ایک اَور رکاوٹ خود کو غیرضروری طور پر تشدد کے خطرے میں ڈالنے کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ تشدد کو نمایاں کرنے والے کھیل اور تفریح خونی ہوس کو فروغ دیتے ہیں۔ بائبل وقتوں میں بتپرست لوگ رومی حکومت کے اکھاڑوں میں خونی مقابلے اور انسانی اذیت کی دیگر اقسام کو باقاعدگی کیساتھ دیکھا کرتے تھے۔ ایک تاریخدان کے مطابق، ایسی تفریح نے، ”دکھ کیلئے ہمدردی کی حس کو ختم کر دیا تھا جو ایک انسان کو حیوان سے جدا کرتی ہے۔“ آج کی جدید دنیا میں زیادہتر تفریح ایسا ہی اثر رکھتی ہے۔ مسیحیوں کو جو دردمند بننے کی کوشش کرتے ہیں پڑھنے کے مواد، فلموں اور ٹیوی پروگراموں کی اپنی پسند میں بہت زیادہ انتخابپسند ہونے کی ضرورت ہے۔ دانشمندی کیساتھ وہ زبور ۱۱:۵ کے الفاظ کو اپنے ذہن میں رکھتے ہیں: ”ظلم دوست سے [یہوؔواہ] کو نفرت ہے۔“
۱۵. (ا) ایک شخص کس طرح سے دردمندی کی سنگین کمی ظاہر کر سکتا ہے؟ (ب) سچے مسیحی ساتھی ایمانداروں اور ہمسایوں کی ضروریات کیلئے کیسا جوابیعمل دکھاتے ہیں؟
۱۵ ایک خودپرست انسان میں بھی غالباً دردمندی کی کمی ہوتی ہے۔ یہ نہایت سنگین ہے جیسے کہ یوحنا رسول وضاحت کرتا ہے: ”جس کسی کے پاس دنیا کا مال ہو اور وہ اپنے بھائی کو محتاج دیکھ کر رحم [”دردمندی،“ اینڈبلیو] کرنے میں دریغ کرے تو اُس میں خدا کی محبت کیونکر قائم رہ سکتی ہے؟“ (۱-یوحنا ۳:۱۷) یسوؔع کی ہمسایہپرور سامری کی تمثیل میں خودراست کاہن اور لاوی نے دردمندی کی ایسی ہی کمی دکھائی تھی۔ اپنے اَدھموے یہودی بھائی کی خستہحالی کو دیکھنے پر یہ سڑک کے دوسرے کنارے پر چلے گئے اور اپنی راہ چلتے رہے۔ (لوقا ۱۰:۳۱، ۳۲) اسکے برعکس، دردمند مسیحی اپنے بھائیوں کی مادی اور روحانی ضروریات کیلئے فوری جوابیعمل دکھاتے ہیں۔ اور یسوؔع کی تمثیل کے سامری کی مانند وہ اجنبیوں کی ضروریات کی بابت بھی فکرمند ہیں۔ لہٰذا شاگرد بنانے کے کام کو ترقی دینے کیلئے وہ خوشی کیساتھ اپنا وقت، توانائی اور مادی وسائل خرچ کر ڈالتے ہیں۔ اس طرح وہ لاکھوں لوگوں کی نجات کا سبب بنتے ہیں۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۶۔
بیماروں کیلئے دردمندی
۱۶. بیماری کی حالتوں سے نپٹتے وقت ہمیں کن حدود کا سامنا ہوتا ہے؟
۱۶ بیماری اس ناکامل، دم توڑتی ہوئی نوعِانسان کا بخرہ ہے۔ مسیحی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں اور اُن میں سے اکثر طبّی پیشہور نہیں ہیں اور نہ ہی وہ معجزے کر سکتے ہیں جیسے بعض ابتدائی مسیحیوں نہیں کئے جنہوں نے ایسی قوتیں مسیح اور اُسکے رسولوں سے حاصل کی تھیں۔ مسیح کے رسولوں اور اُنکے قریبی رفقاء کی موت کیساتھ ہی ایسی معجزانہ قوتیں جاتی رہیں۔ لہٰذا، اُن لوگوں کی مدد کرنے کیلئے ہماری اہلیت محدود ہے جو جسمانی بیماری میں مبتلا ہیں جس میں ذہنی خرابی اور اَوہام شامل ہیں۔—اعمال ۸:۱۳، ۱۸؛ ۱-کرنتھیوں ۱۳:۸۔
۱۷. بیمار اور سوگوار شخص اؔیوب سے جس طرح کا سلوک کِیا گیا اُس سے ہم کونسا سبق سیکھتے ہیں؟
۱۷ بیماری کیساتھ اکثر افسردگی بھی وارد ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، خداترس اؔیوب اُس شدید بیماری اور آفات کے باعث بہت افسردہ تھا جو شیطان اُس پر لایا تھا۔ (ایوب ۱:۱۸، ۱۹؛ ۲:۷؛ ۳:۳، ۱۱-۱۳) اُسے دوستوں کی ضرورت تھی جو اسکے ساتھ دردمندی کیساتھ پیش آئیں اور اُسے ”دلاسا“ دیں۔ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۴) اسکی بجائے، تین جھوٹے تسلی دینے والے اُسکے پاس آئے اور جلد ہی غلط نتائج اخذ کر لئے۔ اُنہوں نے یہ رائے پیش کرنے سے اؔیوب کی افسردگی میں اضافہ کر دیا کہ اُسکی مصیبتیں اُسکے اپنے کسی گناہ کی پاداش میں آئی تھیں۔ جب ساتھی ایماندار بیمار یا افسردہ ہوں تو مسیحیوں کو دردمند ہوتے ہوئے ایسے پھندے میں پھنسنے سے بچنا چاہئے۔ بعضاوقات، ان اشخاص کو جس خاص چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ چند ایسے بزرگوں یا دیگر پُختہ مسیحیوں کی طرف سے پُرشفقت ملاقاتیں ہوتی ہیں جو ہمدردی کیساتھ سنیں گے، سمجھداری دکھائیں گے اور پُرمحبت صحیفائی مشورت فراہم کریں گے۔—رومیوں ۱۲:۱۵؛ یعقوب ۱:۱۹۔
کمزوروں کیلئے دردمندی
۱۸، ۱۹. (ا) کمزور یا خطاکار اشخاص کیساتھ بزرگوں کو کیسے پیش آنا چاہئے؟ (ب) اگر ایک عدالتی کمیٹی کو تشکیل دینا ضروری بھی ہو تو بزرگوں کیلئے یہ کیوں ضروری ہے کہ خطاکاروں سے دردمندی کیساتھ پیش آئیں؟
۱۸ بزرگوں کو خاص طور پر دردمند ہونا چاہئے۔ (اعمال ۲۰:۲۹، ۳۵) ”ہم زورآوروں کو چاہئے کہ ناتوانوں کی کمزوریوں کی رعایت کریں،“ بائبل حکم دیتی ہے۔ (رومیوں ۱۵:۱) ناکامل ہوتے ہوئے، ہم سب ہی غلطیاں کرتے ہیں۔ (یعقوب ۳:۲) ایسے شخص کیساتھ پیش آنے میں شفقت کی ضرورت ہے جو ”کسی قصور میں پکڑا“ جاتا ہے۔ (گلتیوں ۶:۱) بزرگوں کو کبھی بھی برخودنیک فریسیوں کی طرح نہیں ہونا چاہئے جو خدا کی شریعت کے اپنے اطلاق میں نامعقول تھے۔
۱۹ اس کے برعکس، بزرگ یہوؔواہ خدا اور یسوؔع مسیح کے دردمندانہ نمونوں کی تقلید کرتے ہیں۔ اُنکا سب سے اہم کام خدا کی بھیڑوں کو خوراک، حوصلہ اور تازگی بہم پہنچانا ہے۔ (یسعیاہ ۳۲:۱، ۲) مسائل کو قوانین کی بہتات کے ذریعے سلجھانے کی کوشش کرنے کی بجائے وہ مدد کیلئے خدا کے کلام کے عمدہ اصولوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ لہٰذا، بزرگوں کا کام مضبوط کرنا، اپنے بھائیوں کے دلوں میں یہوؔواہ کی نیکی کیلئے خوشی اور قدردانی پیدا کرنا ہونا چاہئے۔ اگر ایک ساتھی ایماندار چھوٹی سی غلطی کرتا ہے تو ایک بزرگ عام طور پر دوسروں کے سنتے ہوئے اُسکی اصلاح کرنے سے گریز کریگا۔ اگر بات کرنا ناگزیر ہو تو دردمندی کے احساسات بزرگ کو تحریک دینگے کہ اُس شخص کو ایک طرف لے جائے اور دوسروں کی سماعت سے دُور مسئلے پر گفتگو کرے۔ (مقابلہ کریں متی ۱۸:۱۵۔) کسی کیساتھ گزارہ کرنا خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، ایک بزرگ کی رسائی متحمل اور مددگار ہونی چاہئے۔ اُسے کبھی بھی ایسے شخص کو کلیسیا سے نکال باہر کرنے کیلئے بہانوں کی تلاش نہیں کرنی چاہئے۔ جب ایک عدالتی کمیٹی کو تشکیل دینا ضروری بھی ہو تو بھی بزرگ سنگین غلطکاری میں ملوث شخص کیساتھ برتاوُ میں دردمندی ظاہر کریں گے۔ اُنکی نرمی اُس شخص کو توبہ کی طرف مائل کر سکتی ہے۔—۲-تیمتھیس ۲:۲۴-۲۶۔
۲۰. دردمندی کے جذباتی اظہارات کب نامناسب ہوتے ہیں اور کیوں؟
۲۰ تاہم، ایسے اوقات بھی ہوتے ہیں جب یہوؔواہ کا ایک خادم دردمندی ظاہر نہیں کر سکتا۔ (مقابلہ کریں استثنا ۱۳:۶-۹) ایک مسیحی کے لئے کسی ایسے قریبی دوست یا رشتہدار سے جس کو کہ خارج کر دیا گیا ہے ”صحبت نہ رکھنا“ ایک حقیقی آزمائش ہو سکتی ہے۔ ایسے معاملے میں، یہ ضروری ہے کہ وہ ترس کے احساسات سے مغلوب نہ ہو جائے۔ (۱-کرنتھیوں ۵:۱۱-۱۳) ایسی ثابتقدمی خطاکار کو توبہ کرنے کا حوصلہ بھی دے سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، مخالف جنس کے ساتھ برتاؤ میں مسیحیوں کو دردمندی کے نامناسب اظہارات سے بچنا چاہئے جو جنسی بداخلاقی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
۲۱. کن دیگر حلقوں میں ہمیں دردمندی دکھانے کی ضرورت ہے اور فوائد کیا ہیں؟
۲۱ جگہ کی کمی اجازت نہیں دیتی کہ ایسے تمام حلقوں کو زیرِبحث لایا جائے جن میں دردمندی درکار ہوتی ہے—بوڑھوں، سوگواروں اور بےایمان بیاہتا ساتھیوں کی جانب سے اذیت اُٹھانے والوں کے ساتھ پیش آنے میں۔ محنتی بزرگوں کیساتھ بھی ایسے ہی دردمندی سے پیش آنا چاہئے۔ (۱-تیمتھیس ۵:۱۷) اُن کی عزت کریں اور اُن کی حمایت کریں۔ (عبرانیوں ۱۳:۷، ۱۷) ”سب کے سب نرمدل [”دردمند،“ اینڈبلیو] . . . بنو،“ پطرس رسول نے لکھا۔ (۱-پطرس ۳:۸) اس بات کا تقاضا کرنے والی تمام حالتوں میں اسی طرح عمل کرتے ہوئے، ہم کلیسیا میں اتحاد اور خوشی کو فروغ دیتے ہیں اور باہر والوں کو سچائی کی طرف راغب کرتے ہیں۔ سب سے بڑھکر، یوں ہم اپنے دردمند باپ، یہوؔواہ کی تعظیم کرتے ہیں۔ (۱۶ ۱۱/۱ w۹۴)
اعادے میں سوالات
▫ یہوؔواہ گنہگار نوعِانسان کیلئے دردمندی کسطرح دکھاتا ہے؟
▫ نہایت دردمند ہونا کیوں لازمی ہے؟
▫ ہمارے نہایت دردمند ہونے کی راہ میں بعض رکاوٹیں کونسی ہیں؟
▫ ہمیں بیمار اور افسردہ شخص کیساتھ کیسے پیش آنا چاہئے؟
▫ خاص طور پر کس کو دردمند ہونے کی ضرورت ہے اور کیوں؟