یہوؔواہ—ہمارا نہایت ہی دردمند باپ
”یہوؔواہ بڑا شفیق اور دردمند ہے۔“—یعقوب ۵:۱۱، فٹنوٹ، نیو ورلڈ ٹرانسلیشن۔
۱. مسکین لوگ یہوؔواہ خدا کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں؟
کائنات اسقدر بڑی ہے کہ ماہرِفلکیات اسکی تمام کہکشاؤں کو شمار بھی نہیں کر سکتے۔ ہماری کہکشاں، مِلکیوے، اتنی وسیع ہے کہ انسان اس کے تمام ستاروں کو شمار ہی نہیں کر سکتا۔ ، جیسے کہ اینتارس جیسے بعض ستارے، ہمارے سورج سے ہزاروں گُنا بڑے اور روشن ہیں۔ کائنات کے تمام ستاروں کا عظیم خالق کتنا طاقتور ہوگا! یقیناً، وہ ”وہی“ ہے ”جو ان کے لشکر کو شمار کرکے نکالتا ہے اور اُن سب کو نام بنام بلاتا ہے۔“ (یسعیاہ ۴۰:۲۶) تاہم، یہی مہیب خدا ”بڑا شفیق اور دردمند“ بھی ہے۔ یہوؔواہ کے فروتن خادموں کیلئے ایسا علم کتنا تازگیبخش ہے، بالخصوص اُن کیلئے جو اذیت، بیماری، افسردگی یا دیگر مشکلات میں مبتلا ہوتے ہیں!
۲. اس دنیا کے لوگ نرم جذبات کو اکثر کیسا خیال کرتے ہیں؟
۲ بہتیرے نرم جذبات، جیسے کہ مسیح کی ”شفقتوں اور دردمندیوں،“ کو کمزوریاں خیال کرتے ہیں۔ (فلپیوں ۲:۱، اینڈبلیو) ارتقائی فلسفے سے متاثر ہو کر وہ لوگوں کی اپنی ذات کو پہلا درجہ دینے کیلئے حوصلہافزائی دیتے ہیں، خواہ اسکا مطلب دوسروں کے احساسات کو پامال کرنا ہی کیوں نہ ہو۔ تفریح اور کھیلوں میں بہت سے تقلیدی کردار کرخت ہوتے ہیں جو نہ تو آنسو بہاتے ہیں اور نہ ہی شفقت کا دکھاتے ہیں۔ بعض سیاسی حکمران اسی طرح عمل کرتے ہیں۔ ستوئیکی [سردمہری اور جذبات سے عاری ہونے کے حامی] فلاسفر سینیکاؔ نے، جس نے ظالم شہنشاہ نیرؔو کو تعلیموتربیت دی، اس بات پر زور دیا کہ ”ترس ایک کمزوری ہے۔“ مکلینٹاک اور سٹرانگ کا سائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے: ”ستوئیکیت کے اثرات . . . موجودہ زمانے میں بھی انسانوں کے ذہنوں پر اثرانداز رہتے ہیں۔“
۳. یہوؔواہ نے موسیٰؔ کے سامنے خود کو کیسے بیان کِیا؟
۳ اس کے برعکس، نوعِانسان کے خالق کی شخصیت دل کو گرما دینے والی ہے۔ اُس نے موسیٰؔ کے سامنے خود کو ان الفاظ میں بیان کِیا: ”خداوند خداوند خدایِ رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت اور وفا میں غنی۔ . . . گناہ اور تقصیر اور خطا کا بخشنے والا لیکن وہ مجرم کو ہرگز بری نہیں کریگا۔“ (خروج ۳۴:۶، ۷) سچ ہے کہ یہوؔواہ نے اپنی بابت اس بیان کا اختتام اپنے انصاف کو نمایاں کرتے ہوئے کِیا۔ وہ قصداً گناہ کرنے والوں کو واجب سزا سے ہرگز بری نہیں کریگا۔ پھر بھی، وہ سب سے پہلے خود کو ایک رحیم خدا کے طور پر بیان کرتا ہے، حقیقی مفہوم میں ”رحم سے معمور۔“
۴. جس عبرانی لفظ کا ترجمہ اکثر ”رحم“ کِیا جاتا ہے اُسکا دل کو گرما دینے والا مفہوم کیا ہے؟
۴ بعض اوقات لفظ ”رحم“ کو سزا روک لینے کے سردمہر، عدالتی مفہوم میں ہی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، بائبل ترجموں کا موازنہ عبرانی اسمصفت کے پُرمطلب مفہوم کو واضح کرتا ہے جو فعل راقم سے ماخوذ ہے۔ بعض علماء کے مطابق اسکا بنیادی مطلب ”نرم ہونا“ ہے۔ کتاب سائنونیمس آف دی اولڈ ٹسٹامنٹ (عہدِعتیق کے مترادف الفاظ) وضاحت کرتی ہے کہ ”راقم دردمندی کے ایک گہرے اور شفیق احساس کو ظاہر کرتا ہے، ایسا احساس اُن لوگوں کی کمزوری یا دکھ کو دیکھ کر پیدا ہوتا ہے جو ہمیں بہت عزیز ہیں یا جنہیں ہماری مدد درکار ہے۔“ اس دلپسند خوبی کی دیگر دل کو گرما دینے والی تشریحات انسائٹ آن دی سکرپچرز، جِلد ۲، صفحات ۳۷۵-۳۷۹ پر مل سکتی ہیں۔
۵. موسوی شریعت میں رحم کیسے عیاں تھا؟
۵ خدا کی دردمندی اُس شریعت سے صاف طور پر واضح ہے جو اُس نے اسرائیلی قوم کو دی۔ بنیادی سہولیات سے محروم اشخاص، جیسے کہ بیواؤں، یتیموں اور غریبوں کے ساتھ دردمندی سے برتاؤ کِیا جانا تھا۔ (خروج ۲۲:۲۲-۲۷؛ احبار ۱۹:۹، ۱۰؛ استثنا ۱۵:۷-۱۱) بشمول غلاموں اور جانوروں کے، سب نے ہفتہواری سبت کے آرام سے مستفید ہونا تھا۔ (خروج ۲۰:۱۰) مزیدبرآں، خدا نے اُن افراد کو ملحوظِخاطر رکھا جو مسکینوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے تھے۔ امثال ۱۹:۱۷ بیان کرتی ہے: ”جو مسکینوں پر رحم کرتا ہے خداوند کو قرض دیتا ہے اور وہ اپنی نیکی کا بدلہ پائیگا۔“
الہٰی دردمندی کی حدود
۶. یہوؔواہ نے اپنے لوگوں کے پاس نبی اور پیغمبر کیوں بھیجے؟
۶ اسرائیلی خدا کے نام سے پہچانے جاتے تھے اور یرؔوشلیم میں ہیکل کے اندر پرستش کرتے تھے، جو ”یہوؔواہ کے نام کے لئے ایک گھر“ تھا۔ (۲-تواریخ ۲:۴؛ ۶:۳۳، اینڈبلیو) تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ، وہ بداخلاقی، بتپرستی اور قتلوغارت کو روا رکھنے لگے جو یہوؔواہ کے نام بڑی ملامت لایا۔ اپنی دردمند شخصیت کی مطابقت میں، خدا نے تمام قوم پر آفت لائے بغیر بڑے صبر سے اِس بُری حالت کو درست کرنے کی کوشش کی۔ اُس نے ”اپنے پیغمبروں کو اُنکے پاس بروقت بھیج بھیج کر پیغام بھیجا کیونکہ اُسے اپنے لوگوں اور اپنے مسکن پر ترس آتا تھا۔ لیکن اُنہوں نے خدا کے پیغمبروں کو ٹھٹھوں میں اُڑایا اور اُسکی باتوں کو ناچیز جانا اور اُسکے نبیوں کی ہنسی اُڑائی یہاں تک کہ خداوند کا غضب اپنے لوگوں پر ایسا بھڑکا کہ کوئی چارہ نہ رہا۔“—۲-تواریخ ۳۶:۱۵، ۱۶۔
۷. جب یہوؔواہ کی دردمندی اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو یہوؔداہ کی سلطنت کے ساتھ کیا واقع ہوا؟
۷ اگرچہ یہوؔواہ دردمند اور قہر کرنے میں دھیما ہے تو بھی جب ضروری ہوتا ہے تو وہ راست غصے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس وقت ماضی میں الہٰی دردمندی اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھی۔ ہم نتائج کی بابت پڑھتے ہیں: ”چنانچہ [یہوؔواہ] کسدیوں کے بادشاہ کو اُن پر چڑھا لایا جس نے اُن کے مقدِس کے گھر میں اُن کے جوانوں کو تلوار سے قتل کِیا اور اُس نے کیا جوان مرد کیا کنواری کیا بڈھا یا عمررسیدہ کسی پر ترس نہ کھایا۔ اُس نے سب کو اُس کے ہاتھ میں دے دیا۔“ (۲-تواریخ ۳۶:۱۷) یوں یرؔوشلیم اور اُس کی ہیکل برباد کر دئے گئے تھے اور قوم کو اسیر کرکے بابل میں پہنچایا گیا تھا۔
اپنے نام کی خاطر دردمندی
۸، ۹. (ا) یہوؔواہ نے یہ اعلان کیوں کِیا کہ وہ اپنے نام کی خاطر رحم کریگا؟ (ب) یہوؔواہ کے دشمن کیسے خاموش ہو گئے؟
۸ گردونواح کی قوموں نے اس بربادی پر خوشی منائی۔ ایک طنزیہ انداز میں، اُنہوں نے کہا: ”یہ یہوؔواہ کے لوگ ہیں اور اُسکے ملک سے نکل گئے ہیں۔“ اس ملامت کا گہرا اثر لیتے ہوئے یہوؔواہ نے اعلان کِیا: ”میں اپنے پاک نام پر رحم کرونگا . . . اور میں یقیناً اپنے بزرگ نام کی تقدیس کرونگا، . . .اور قوموں کو جاننا پڑے گا کہ میں یہوؔواہ ہوں۔“—حزقیایل ۳۶:۲۰-۲۳، اینڈبلیو۔
۹ جب اسکی قوم کو اسیری میں ۷۰ سال ہو چکے تھے تو دردمند خدا، یہوؔواہ نے اُنکو رہا کیا اور اُنہیں واپس جانے اور یرؔوشلیم میں ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دی۔ اس چیز نے گردونواح کی قوموں کو خاموش کر دیا جنہوں نے بڑی حیرانگی سے دیکھا۔ (حزقیایل ۳۶:۳۵، ۳۶) تاہم، افسوس کی بات ہے کہ اسرائیلی قوم پھر بُرے کاموں میں پڑ گئی۔ ایک وفادار یہودی، نحمیاؔہ نے صورتحال کی تصحیح کرنے میں مدد کی۔ ایک اعلانیہ دعا میں اُس نے قوم کے ساتھ خدا کے دردمندانہ برتاؤ کا یہ کہتے ہوئے اعادہ کِیا:
۱۰. نحمیاؔہ نے یہوؔواہ کی دردمندی کو کسطرح نمایاں کِیا؟
۱۰ ”اپنے دکھ کے وقت میں جب اُنہوں نے تجھ سے فریاد کی تو تُو نے آسمان پر سُن لیا اور اپنی گوناگون رحمتوں کے مطابق اُنکو چھڑانے والے دئے جنہوں نے اُنکو اُنکے دشمنوں کے ہاتھ سے چھڑایا۔ لیکن جب اُنکو آرام ملا تو اُنہوں نے پھر تیرے آگے بدکاری کی اسلئے تُو نے اُنکو اُنکے دشمنوں کے قبضہ میں چھوڑ دیا سو وہ اُن پر مسلّط رہے تو بھی جب وہ رجوع لائے اور تجھ سے فریاد کی تو تُو نے آسمان پر سے سُن لیا اور اپنی رحمتوں کے مطابق اُنکو باربار چھڑایا۔ . . . تو بھی تُو بہت برسوں تک اُنکی برداشت کرتا رہا۔“—نحمیاہ ۹:۲۶-۳۰؛ نیز دیکھیں یسعیاہ ۶۳:۹، ۱۰۔
۱۱. یہوؔواہ اور انسانوں کے دیوتاؤں کے درمیان کونسا فرق پایا جاتا ہے؟
۱۱ آخرکار، ظالمانہ طور پر خدا کے عزیز بیٹے کو ردّ کرنے کے بعد یہودی قوم نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنے متشرف مقام کو کھو دیا۔ اُنکے ساتھ خدا کی وفادارانہ وابستگی ۱،۵۰۰ برس تک قائم رہی۔ یہ اس حقیقت کی دائمی گواہی ہے کہ بےشک یہوؔواہ خدایِ رحیم ہے۔ گنہگار انسانوں کے ایجادکردہ ظالم دیوتاؤں اور بےحس معبودوں سے کتنا فرق!
دردمندی کا عظیمترین اظہار
۱۲. خدا کی دردمندی کا عظیمترین اظہار کیا تھا؟
۱۲ خدا کی دردمندی کا عظیمترین اظہار اُسکا اپنے عزیز بیٹے کو زمین پر بھیجنا تھا۔ یہ سچ ہے کہ ابلیس کے جھوٹے الزامات کیلئے یہوؔواہ کو مکمل جواب فراہم کرتے ہوئے یسوؔع کی راستی کی زندگی اس کیلئے بڑی خوشی لائی۔ (امثال ۲۷:۱۱) تاہم، اس کیساتھ ہی ساتھ، اپنے عزیز بیٹے کو ایک ظالمانہ اور شرمناک موت کا سامنا کرتے ہوئے دیکھنا بلاشُبہ یہوؔواہ کیلئے ایسی شدید درد کا باعث بنا جسے شاید ہی کبھی کسی انسانی ماں یا باپ نے برداشت کِیا ہو۔ نوعِانسانی کی نجات کی راہ کھولنے والی یہ ایک بڑی پُرمحبت قربانی تھی۔ (یوحنا ۳:۱۶) جیسے کہ یوؔحنا اصطباغی کے باپ زکریاؔہ نے پیشینگوئی کی اس نے ”ہمارے خدا کی دردمندی“ کی بڑائی کی۔—لوقا ۱:۷۷، ۷۸، اینڈبلیو۔
۱۳. کس اہم طریقے سے یسوؔع نے اپنے باپ کی شخصیت کی عکاسی کی ہے؟
۱۳ خدا کے بیٹے کو زمین پر بھیجنے سے نوعِانسان کو خدا کی شخصیت کا ایک واضح تصور بھی بخشا گیا۔ کسطرح سے؟ اس طرح کہ یسوؔع نے بالخصوص مسکینوں کے ساتھ دردمندانہ طریقے سے پیش آنے سے اپنے باپ کی شخصیت کی مکمل طور پر عکاسی کی! (یوحنا ۱:۱۴؛ ۱۴:۹) اس سلسلے میں، تین انجیل نویس متیؔ، مرقسؔ اور لوؔقا ایک یونانی فعل، سپلاگخنیزومائی، استعمال کرتے ہیں جو ”انتڑیوں“ کیلئے ایک یونانی لفظ سے مشتق ہے۔ بائبل عالم وؔلیم بارکلے وضاحت کرتا ہے کہ ”اسکے اشتقاق ہی سے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ کسی عام ترس یا دردمندی کو بیان نہیں کرتا بلکہ ایک ایسے جذبے کو بیان کرتا ہے جو ایک انسان کو اُسکی ذات کی گہرائیوں تک متحرک کرتا ہے۔ دردمندی کے احساس کیلئے یہ یونانی زبان کا سب سے طاقتور لفظ ہے۔“ اسکا ”ترس آیا“ یا ”ترس سے تحریک پاکر“ کے طور پر مختلف انداز میں ترجمہ کِیا گیا ہے۔—مرقس ۶:۳۴؛ ۸:۲، اینڈبلیو۔
جب یسوؔع کو ترس آیا
۱۴، ۱۵. گلیل کے ایک شہر میں، یسوؔع ترس سے کیسے تحریک پاتا ہے اور یہ کس بات کو واضح کرتا ہے؟
۱۴ جائےوقوع گلیل کا شہر ہے۔ ”کوڑھ سے بھرا ہوا“ ایک آدمی دستور کے مطابق آگاہی دئے بغیر یسوؔع کے پاس آتا ہے۔ (لوقا ۵:۱۲) کیا یسوؔع اُسے خدا کی شریعت کے تقاضے کے مطابق ”ناپاک ناپاک“ نہ چلانے کیلئے سختی سے ڈانٹتا ہے؟ (احبار ۱۳:۴۵) نہیں۔ اسکی بجائے، یسوؔع اُسکی مایوس التجا کو سنتا ہے: ”اگر تُو چاہے تو مجھے پاک صاف کر سکتا ہے۔“ ”ترس سے تحریک پاکر“ یسوؔع یہ کہتے ہوئے آگے بڑھتا اور کوڑھی کو چھوتا ہے: ”میں چاہتا ہوں۔ تُو پاک صاف ہو جا۔“ اُس آدمی کی صحت فوراً بحال ہو جاتی ہے۔ یوں یسوؔع نہ صرف اپنی معجزانہ خداداد قوتوں کا بلکہ بامروت احساسات کا بھی مظاہرہ کرتا ہے جو ایسی قوتوں کو استعمال کرنے کیلئے اُسے تحریک دیتے ہیں۔—مرقس ۱:۴۰-۴۲۔
۱۵ کیا یہ ضروری ہے کہ یسوؔع کے پاس جایا جائے اس پہلے کہ وہ رحم کے احساسات کو ظاہر کرے؟ نہیں۔ کچھ عرصے کے بعد، نائین کے شہر سے باہر نکلتے ہوئے اس کا سامنا ایک جنازے سے ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یسوؔع نے پہلے بہت سے جنازے دیکھے تھے لیکن یہ خاص طور پر المناک تھا۔ مرنے والا ایک بیوہ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ”ترس سے تحریک پاکر،“ یسوؔع اُسکے پاس جاتا اور کہتا ہے: ”مت رو۔“ پھر وہ اُسکے بیٹے کو دوبارہ زندہ کر دینے کا نمایاں معجزہ سرانجام دیتا ہے۔—لوقا ۷:۱۱-۱۵۔
۱۶. یسوؔع اپنے پیچھے آنے والی بڑی بھیڑ پر ترس کیوں کھاتا ہے؟
۱۶ مندرجہبالا واقعات سے سیکھا جانے والا نمایاں سبق یہ ہے کہ یسوؔع جب ”ترس سے تحریک“ پاتا تھا تو وہ مدد کرنے کیلئے کوئی مثبت کام کرتا تھا۔ بعد کے ایک موقع پر، یسوؔع لوگوں کی بڑی بھیڑ کو دیکھتا ہے جو اُسکے پیچھے چلی آتی ہے۔ متیؔ بیان کرتا ہے کہ ”اُسکو لوگوں پر ترس آیا کیونکہ وہ اُن بھیڑوں کی مانند جنکا چرواہا نہ ہو خستہحال اور پراگندہ تھے۔“ (متی ۹:۳۶) فریسی عام لوگوں کی روحانی بھوک کو مٹانے کیلئے بمشکل ہی کچھ کرتے تھے۔ اسکی بجائے وہ ادنیٰ لوگوں پر بہت سے غیرضروری قوانین کا بوجھ ڈال دیتے تھے۔ (متی ۱۲:۱، ۲؛ ۱۵:۱-۹؛ ۲۳:۴، ۲۳) عام لوگوں کی بابت اُنکا نظریہ اس وقت ظاہر ہو گیا تھا جب اُنہوں نے یسوؔع کی بات سننے والوں کی بابت کہا: ”یہ عام لوگ جو شریعت سے واقف نہیں لعنتی ہیں۔“—یوحنا ۷:۴۹۔
۱۷. لوگوں کیلئے یسوؔع کا ترس اُسے کیسے متحرک کرتا ہے اور وہاں پر وہ کونسی دُوررس راہنمائی فراہم کرتا ہے؟
۱۷ اس کے برعکس، یسوؔع بھیڑ کی روحانی خستہحالی سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ لیکن اُس کیلئے وہاں پر بہت زیادہ دلچسپی رکھنے والے لوگ تھے جن کی اُس نے ذاتی دیکھبھال کرنی تھی۔ لہٰذا وہ اپنے شاگردوں سے کہتا ہے کہ اَور مزدوروں کیلئے دعا کریں۔ (متی ۹:۳۵-۳۸) ایسی دعاؤں کی مطابقت میں، یسوؔع اس پیغام کے ساتھ اپنے رسولوں کو باہر بھیجتا ہے: ”آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔“ اُس موقع پر فراہمکردہ ہدایات آج تک مسیحیوں کیلئے قابلِقدر راہنمائی کا کام دیتی ہیں۔ بلاشُبہ، یسوؔع کے دردمندانہ احساسات نے اُسے نوعِانسان کی روحانی بھوک کو مٹانے کی تحریک دی۔—متی ۱۰:۵-۷۔
۱۸. جب لوگ یسوؔع خلوت میں مداخلت کرتے ہیں تو وہ کیسا ردِعمل دکھاتا ہے، اور اس سے ہم کیا سبق سیکھتے ہیں؟
۱۸ ایک اَور موقع پر یسوؔع ایک بار پھر لوگوں کی روحانی حاجتوں کیلئے فکرمندی محسوس کرتا ہے۔ اس مرتبہ وہ اور اُسکے رسول منادی کے ایک مصروف دورے کے بعد تھک گئے ہیں اور وہ آرام کرنے کیلئے ایک جگہ تلاش کرتے ہیں۔ لیکن لوگ جلد ہی اُنہیں ڈھونڈھ لیتے ہیں۔ اپنی خلوت میں اس مداخلت کے باعث یسوؔع کے برہم ہونے کی بجائے، مرقسؔ درج کرتا ہے کہ اُس نے ”ترس سے تحریک“ پائی۔ اور یسوؔع کے گہرے احساسات کا سبب کیا تھا؟ ”وہ اُن بھیڑوں کی مانند تھے جنکا چرواہا نہ ہو۔“ ایک بار پھر، یسوؔع اپنے احساسات کے مطابق عمل کرتا ہے اور لوگوں کو ”خدا کی بادشاہی کی“ بابت تعلیم دینا شروع کر دیتا ہے۔ جیہاں، وہ اُنکی روحانی بھوک سے اتنا زیادہ متاثر ہوا تھا کہ اُس نے اُن کو تعلیم دینے کی خاطر ضروری آرام کو بھی قربان کر دیا۔—مرقس ۶:۳۴، اینڈبلیو؛ لوقا ۹:۱۱۔
۱۹. لوگوں کیلئے یسوؔع کی فکرمندی اُنکی روحانی ضروریات سے بھی آگے کیسے بڑھ جاتی ہے؟
۱۹ یسوؔع اگرچہ اوّلین طور پر لوگوں کی روحانی ضروریات کی بابت فکر رکھتا تھا تو بھی اس نے کبھی بھی اُنکی بنیادی جسمانی ضروریات کو نظرانداز نہ کِیا۔ اُسی موقع پر اُس نے ”جو شفا پانے کے محتاج تھے اُنہیں شفا“ بھی ”بخشی۔“ (لوقا ۹:۱۱) بعد کے کسی موقع پر، بھیڑ کافی دیر سے اُسکے ساتھ تھی اور وہ گھر سے بہت دُور تھے۔ اُنکی جسمانی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے، یسوؔع نے اپنے شاگردوں سے کہا: ”مجھے اس بھیڑ پر ترس آتا ہے کیونکہ یہ لوگ تین دن سے برابر میرے ساتھ ہیں اور اُنکے پاس کھانے کو کچھ نہیں اور میں اُنکو بھوکا رُخصت کرنا نہیں چاہتا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ راہ میں تھک کر رہ جائیں۔“ (متی ۱۵:۳۲) یسوؔع ممکنہ تکلیف کا ازالہ کرنے کیلئے اب کچھ کرتا ہے۔ وہ معجزانہ طور پر ہزاروں مردوں، عورتوں اور بچوں کو سات روٹیوں اور چند چھوٹی مچھلیوں سے تیارکردہ کھانا فراہم کرتا ہے۔
۲۰. یسوؔع کے ترس رحم سے تحریک پانے کا آخری تحریری واقعہ سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟
۲۰ یسوؔع کے ترس سے تحریک پانے کا آخری تحریری واقعہ یرؔوشلیم کی جانب اُسکے آخری سفر کا ہے۔ بہت بڑی بھیڑ عیدفسح منانے کیلئے اُسکے ساتھ سفر کر رہی ہے۔ یریحو کے قریب ایک راہ میں دو اندھے بھکاری چلا چلا کر کہہ رہے ہیں: ”اَے خداوند . . . ہم پر رحم کر۔“ بھیڑ اُنہیں خاموش کرانے کی کوشش کرتی ہے لیکن یسوؔع اُنہیں بلاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ وہ اُس سے کیا کرانا چاہتے ہیں۔ ”اَے خداوند یہ کہ ہماری آنکھیں کھل جائیں،“ وہ التجا کرتے ہیں۔ ”ترس سے تحریک پا کر،“ وہ اُنکی آنکھوں کو چھوتا ہے اور وہ بینائی حاصل کرتے ہیں۔ (متی ۲۰:۲۹-۳۴) اس سے ہم کتنا اہم سبق سیکھتے ہیں! یسوؔع اپنی زمینی خدمتگزاری کے آخری ہفتے میں داخل ہونے کو ہے۔ شیطان کے نمائندوں کے ہاتھوں ایک اذیتناک موت کی تکلیف اُٹھانے سے پہلے اُسے بہت سا کام سرانجام دینا ہے۔ پھر بھی، وہ اس نہایت اہم وقت کے دباؤ کم اہم انسانی ضروریات کیلئے اپنے دردمندی کے بامروت احساسات کو ظاہر کرنے سے روکنے کی اجازت نہیں دیتا۔
تمثیلیں جو دردمندی کو اُجاگر کرتی ہیں
۲۱. مالک کا اپنے غلام کے بڑے قرضے کو معاف کر دینا کس بات کی وضاحت کرتا ہے؟
۲۱ یسوؔع کی زندگی کے ان بیانات میں استعمال ہونے والا یونانی فعل سپلاگخنیزومائی یسوؔع کی تین تمثیلوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ ایک کہانی میں ایک غلام ایک بہت بڑا قرض واپس کرنے کیلئے وقت مانگتا ہے۔ اُسکا آقا، ”ترس سے تحریک پا کر،“ قرض معاف کر دیتا ہے۔ یہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یہوؔواہ خدا نے ہر اس مسیحی کے گناہ کے بڑے قرض کو معاف کر دینے سے بڑی دردمندی دکھائی ہے جو یسوؔع کے فدیے کی قربانی پر ایمان ظاہر کرتا ہے۔—متی ۱۸:۲۷، اینڈبلیو؛ ۲۰:۲۸۔
۲۲. مسرف بیٹے کی تمثیل کیا واضح کرتی ہے؟
۲۲ پھر مسرف بیٹے کی کہانی ہے۔ یاد کریں کہ کیا واقع ہوتا ہے جب سرکش بیٹا گھر واپس لوٹتا ہے۔ ”وہ ابھی دُور ہی تھا کہ اُسے دیکھ کر اُسکے باپ کو ترس آیا اور دوڑ کر اُسکو گلے لگا لیا اور چوما۔“ (لوقا ۱۵:۲۰) اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب کوئی مسیحی جو سرکش بن گیا تھا سچی توبہ کرتا ہے تو یہوؔواہ ترس کھائے گا اور شفقت سے اُس کو واپس قبول کر لے گا۔ لہٰذا، ان دو تمثیلوں کے ذریعے، یسوؔع ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا باپ، یہوؔواہ، ”بڑا شفیق اور دردمند ہے۔“—یعقوب ۵:۱۱، اینڈبلیو، فٹنوٹ۔
۲۳. یسوؔع کی ہمسایہپرور سامری کی تمثیل سے ہم کیا سبق سیکھتے ہیں؟
۲۳ سپلاگخنیزومائی کے تیسرے تمثیلی استعمال کا تعلق دردمند سامری سے ہے جس نے ایک یہودی کی خستہحالی پر ”ترس سے تحریک پائی تھی“ جس کو لوٹ لیا گیا اور اَدھمؤا چھوڑ دیا گیا تھا۔ (لوقا ۱۰:۳۳، اینڈبلیو) ان احساسات کے مطابق عمل کرتے ہوئے سامری نے اُس اجنبی کی مدد کرنے کیلئے وہ سب کچھ کِیا جو اُسکے بس میں تھا۔ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہوؔواہ اور یسوؔع سچے مسیحیوں سے شفقت اور رحم ظاہر کرنے میں انکے نمونے کی پیروی کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ جن بعض طریقوں سے ہم ایسا کر سکتے ہیں اُن پر اگلے مضمون میں گفتگو کی جائے گی۔ (۹ ۱۱/۱ w۹۴)
اعادے میں سوالات
▫ رحمدل ہونے کا مطلب کیا ہے؟
▫ یہوؔواہ اپنے نام کی خاطر دردمندی کیسے دکھاتا ہے؟
▫ دردمندی کا عظیمترین اظہار کونسا ہے؟
▫ کس نمایاں طریقے سے یسوؔع اپنے باپ کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے؟
▫ یسوؔع کے دردمندانہ کاموں سے اور اُسکی تمثیلوں سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟