کیا آپ اُسی طرح معاف کرتے ہیں جیسے یہوؔواہ کرتا ہے؟
”اگر تم آدمیوں کے قصور معاف کروگے تو تمہارا آسمانی باپ بھی تم کو معاف کریگا۔ اور اگر تم آدمیوں کے قصور معاف نہ کروگے تو تمہارا باپ بھی تمہارے قصور معاف نہ کریگا۔“—متی ۶:۱۴، ۱۵۔
۱، ۲. ہمیں کس قسم کے خدا کی ضرورت ہے، اور کیوں؟
”خداوندرحیم اور کریم ہے۔ قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی۔ وہ سدا جھڑکتا نہ رہیگا۔ وہ ہمیشہ غضبناک نہ رہیگا۔ اُس نے ہمارے گناہوں کے موافق ہم سے سلوک نہیں کِیا اور ہماری بدکاریوں کے مطابق ہم کو بدلہ نہیں دیا۔ کیونکہ جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اُسی قدر اسکی شفقت اُن پر ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں۔ جیسے پورب پچّھم سے دُور ہے ویسے ہی اس نے ہماری خطائیں ہم سے دُور کر دیں۔ جیسے باپ اپنے بیٹوں پر ترس کھاتا ہے ویسے ہی خداوند اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں ترس کھاتا ہے۔ کیونکہ وہ ہماری سرشت سے واقف ہے، اُسے یاد ہے کہ ہم خاک ہیں۔“—زبور ۱۰۳:۸-۱۴۔
۲ بدی میں صورت پکڑنے اور گناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑنے، ہمیں گناہ کی شریعت کا غلام بنانے والی موروثی ناکاملیتوں کیساتھ، ہمیں ایک ایسے خدا کی اشد ضرورت ہے ’جِسے یاد ہے کہ ہم خاک ہیں۔‘ زبور ۱۰۳ میں داؔؤد کے یہوؔواہ کی بابت اتنی خوبصورتی سے بیان کرنے کے تین سو سال بعد، ایک اور بائبلنویس، میکاؔہ، نے ایک مرتبہ سرزد ہونے والے گناہوں سے اسکی رحمانہ معافی کیلئے اُسی خدا کی کچھ اسطرح تعریف کی: ”تجھ سا خدا کون ہے جو بدکرداری معاف کرے اور اپنی میراث کے بقیہ کی خطاؤں سے درگذرے؟ وہ اپنا قہر ہمیشہ تک نہیں رکھ چھوڑتا کیونکہ وہ شفقت کرنا پسند کرتا ہے۔ وہ پھر ہم پر رحم فرمائیگا۔ وہی ہماری بدکرداری کو پایمال کریگا اور اُنکے سب گناہ سمندر کی تہہ میں ڈال دیگا۔“—میکاہ ۷:۱۸، ۱۹۔
۳. معاف کرنے کا کیا مطلب ہے؟
۳ یونانی صحائف میں، لفظ ”معاف کرنا“ کا مطلب ”درگزر کرنا“ ہے۔ غور کریں کہ مذکورہبالا داؔؤد اور میکاؔہ کے الفاظ ایک ہی مطلب کو دلکش، توصیفی الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ یہوؔواہ کی معافی کی حیرانکُن وسعت کی پوری طرح قدر کرنے کیلئے، آئیے ہم اسکی چند ایک عملی مثالوں کا جائزہ لیں۔ پہلی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہوؔواہ کے ذہن کو بربادی سے معافی کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔
موسیٰؔ شفاعت کرتا ہے—یہوؔواہ سنتا ہے
۴. یہوؔواہ کی طرف سے طاقت کے کن مظاہروں کے باوجود اسرائیلی ملکِموعود میں داخل ہونے سے ڈرتے تھے؟
۴ یہوؔواہ حفاظت کیساتھ اسرائیل قوم کو مصرؔ سے نکال لایا اور اُس ملک کے قریب لے آیا جس کا اس نے آبائی ملک کے طور پر انہیں دینے کا وعدہ کِیا تھا، لیکن انہوں نے محض کنعاؔن کے آدمیوں کے خوف کی وجہ سے، آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ یہوؔواہ کے انہیں دس تباہکُن آفتوں کی بدولت مصر سے رہائی دلانے، بحرِقلزم میں سے گذرنے کیلئے انکی خاطر راستہ بنانے، انکا تعاقب کرنے والی مصری فوجوں کو تباہ کرنے، کوہِسیناؔ پر انہیں وہ شریعتی عہد فراہم کرنے سے جس نے انہیں خاص اُمت بنا دیا اور زندہ رہنے کیلئے انہیں معجزانہ طور پر روزانہ من فراہم کرنے کے باوجود، وہ بعض قدرآور کنعانیوں کے باعث موعودہ ملک میں داخل ہونے سے خوف محسوس کر رہے تھے!—گنتی ۱۴:۱-۴۔
۵. کیسے دو وفادار جاسوسوں نے اسرائیل کو ازسرِنو جدوجہد کیلئے جمع کرنے کی کوشش کی؟
۵ موسیٰؔ اور ہاؔرون مُنہ کے بل گر پڑے۔ یشوؔع اور کالبؔ دو وفادار جاسوسوں نے اسرائیل کو ازسرِنو جدوجہد کیلئے جمع کرنے کی کوشش کی: ’وہ نہایت اچھا ملک ہے۔ وہ ملک جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے۔ لوگوں سے نہ ڈرو۔ یہوؔواہ ہمارے ساتھ ہے!‘ ایسے الفاظ سے حوصلہافزائی حاصل کرنے کی بجائے، خوفزدہ، سرکش لوگوں نے یشوؔع اور کالبؔ پر پتھروں سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔—گنتی ۱۴:۵-۱۰۔
۶، ۷. (ا) جب اسرائیل نے ملکِموعود میں داخل ہونے میں پسوپیش کی تو یہوؔواہ نے کیا کرنے کا فیصلہ کِیا؟ (ب) کیوں موسیٰؔ نے اسرائیل پر یہوؔواہ کی طرف سے سزا پر اعتراض کِیا، اور کس نتیجے کیساتھ؟
۶ یہوؔواہ کا غضب بھڑکا! ”اور خداوند نے موسیٰؔ سے کہا کہ یہ لوگ کب تک میری توہین کرتے رہینگے؟ اور باوجود اُن سب معجزوں کے جو مَیں نے انکے درمیان کئے ہیں کب تک مجھ پر ایمان نہیں لائینگے؟ مَیں ان کو وبا سے مارونگا اور میراث سے خارج کرونگا اور تجھے ایک ایسی قوم بناؤنگا جو ان سے کہیں بڑی اور زیادہ زورآور ہو۔ موسیٰؔ نے خداوند سے کہا تب تو مصری جن کے بیچ سے تُو ان لوگوں کو اپنے زورِبازو سے نکال لے آیا یہ سنیں گے۔ اور اسے اس ملک کے باشندوں کو بتائینگے۔ . . . پس اگر تُو اس قوم کو ایک اکیلے آدمی کی طرح جان سے مار ڈالے تو وہ قومیں جنہوں نے تیری شہرت سنی ہے کہینگی کہ چونکہ خداوند اس قوم کو اس ملک میں جسے اس نے ان کو دینے کی قسم کھائی تھی پہنچا نہ سکا اسلئے اس نے ان کو بیابان میں ہلاک کر دیا۔“—گنتی ۱۴:۱۱-۱۶۔
۷ موسیٰؔ نے یہوؔواہ کے نام کی خاطر معافی کیلئے درخواست کی: ”سو تُو اپنی رحمت کی فراوانی سے اس اُمت کا گناہ جسے تُو مصرؔ سے لیکر یہاں تک ان لوگوں کو معاف کرتا رہا ہے اب بھی معاف کر دے۔ خداوند نے کہا مَیں نے تیری درخواست کے مطابق معاف کِیا۔“—گنتی ۱۴:۱۹، ۲۰۔
منسیؔ کی بُتپرستی اور داؔؤد کی زناکاری
۸. یہوؔداہ کے بادشاہ منسیؔ نے کس قسم کا ریکارڈ قائم کِیا؟
۸ یہوؔواہ کی معافی کی ایک نمایاں مثال نیک بادشاہ حزقیاؔہ کے بیٹے، منسیؔ کے معاملے میں ہے۔ منسیؔ ۱۲ برس کا تھا جب اس نے یرؔوشلیم میں حکمرانی شروع کی۔ اس نے اُونچے مقام بنائے اور بعل کیلئے مذبحے تیار کئے، یسیرتیں بنائیں، آسمان کے ستاروں کو سجدہ کِیا، جادوگری اور افسونگری کی، ارواحی رابطے اور جوتشی (نجومی) بنائے، کھودی ہوئی مورت کو یہوؔواہ کے گھر میں نصب کِیا اور اس نے بنہنوؔم کی وادی میں اپنے فرزندوں کو بھی آگ میں چلوایا۔ ”اُس نے خداوند کی نظر میں بہت بدکاری کی“ اور ”یہوؔداہ اور یرؔوشلیم کے باشندوں کو یہاں تک گمراہ کِیا کہ انہوں نے ان قوموں سے بھی زیادہ بدی کی جنکو خداوند نے بنی اسرائیل کے سامنے سے ہلاک کِیا تھا۔“—۲-تواریخ ۳۳:۱-۹۔
۹. یہوؔواہ نے منسیؔ پر کیونکر رحم ظاہر کِیا، اور کس نتیجے کیساتھ؟
۹ انجامکار، یہوؔواہ اسوؔریوں کو یہوؔداہ کے خلاف چڑھا لایا اور وہ منسیؔ کو گرفتار کر کے بابلؔ کو لے گئے۔ ”جب وہ مصیبت میں پڑا تو اس نے خداوند اپنے خدا سے منت کی اور اپنے باپ دادا کے خدا کے حضور نہایت خاکسار بنا اور اس نے اس سے دُعا کی۔ تب اس نے اُسکی دُعا قبول کر کے اسکی فریاد سنی اور اسے اسکی مملکت میں یرؔوشلیم واپس لایا۔“ (۲-تواریخ ۳۳:۱۱-۱۳) اسکے بعد منسیؔ نے اجنبی معبودوں، مورتوں اور سب مذبحوں کو دُور کِیا اور انہیں شہر کے باہر پھینک دیا۔ اس نے یہوؔواہ کے مذبح پر قربانیاں گذراننا شروع کیں اور یہوؔداہ کو سچے خدا کی خدمت کرنے کی راہ پر ڈال دیا۔ جب فروتنی، دُعا اور اصلاحی کارروائی نے توبہ کے موافق پھل پیدا کئے تو معاف کرنے کیلئے یہ یہوؔواہ کی رضامندی کا حیرانکُن مظاہرہ تھا!—۲-تواریخ ۳۳:۱۵، ۱۶۔
۱۰. داؔؤد نے اؔوریاہ کی بیوی کیساتھ اپنے گناہ کو چھپانے کی کوشش کیسے کی؟
۱۰ حتیاؔوریاہ کی بیوی کیساتھ داؔؤد بادشاہ کا زناکارانہ گناہ خوب مشہور ہے۔ اس نے نہ صرف اس کیساتھ زناکاری ہی کی بلکہ جب وہ حاملہ ہو گئی تو اسے چھپانے کیلئے ایک بڑی چال بھی چلی۔ بادشاہ نے یہ توقع کرتے ہوئے اؔوریاہ کو جنگ سے چھٹی دے دی کہ وہ اپنے گھر جائیگا اور اپنی بیوی کیساتھ مباشرت کریگا۔ لیکن میدانِجنگ میں موجود اپنے ساتھی سپاہیوں کا لحاظ رکھتے ہوئے، اؔوریاہ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اسکے بعد داؔؤد نے اسے دعوت پر مدعو کِیا اور اُسے خوب کھلایا اور پلا کر متوالا کِیا لیکن اؔوریاہ پھر بھی اپنی بیوی کے پاس نہ گیا۔ اسکے بعد داؔؤد نے اسکے جرنیل کو پیغام بھیجا کہ اؔوریاہ کو گھمسان میں سب سے آگے رکھے تاکہ وہ مارا جائے، اور ایسا ہی ہوا۔—۲-سموئیل ۱۱:۲-۲۵۔
۱۱. داؔؤد کو اپنے گناہ کیلئے توبہ کرنے کا احساس کیسے دلایا گیا، پھر بھی اس کو کیا دکھ اُٹھانا پڑا؟
۱۱ بادشاہ کے گناہ کو فاش کرنے کیلئے یہوؔواہ نے اپنے نبی ناتنؔ کو داؔؤد کے پاس بھیجا۔ ”تب داؔؤد نے ناتنؔ سے کہا مَیں نے خداوند کا گناہ کِیا۔ ناتنؔ نے داؔؤد سے کہا کہ خداوند نے بھی تیرا گناہ بخشا۔ تُو مریگا نہیں۔“ (۲-سموئیل ۱۲:۱۳) داؔؤد اپنے گناہ پر نہایت نادم ہوا اور یہوؔواہ سے دلی دُعا میں اپنی توبہ کا اظہار کِیا: ”کیونکہ قربانی میں تیری خوشنودی نہیں ورنہ میں دیتا۔ سوختنی قربانی سے تجھے کچھ خوشی نہیں۔ شکستہ روح خدا کی قربانی ہے۔ اے خدا تُو شکستہ اور خستہدل کو حقیر نہ جانیگا۔“ (زبور ۵۱:۱۶، ۱۷) یہوؔواہ نے شکستہ دل سے نکلی ہوئی داؔؤد کی دُعا کو حقیر نہ جانا۔ تاہم، خروج ۳۴:۶، ۷ میں معافی کی بابت درج یہوؔواہ کے بیان: ”لیکن وہ مجرم کو ہرگز بری نہیں کریگا“ کی مطابقت میں داؔؤد کو بھاری سزا اُٹھانی پڑی۔
سلیماؔن کا ہیکل کو مخصوص کرنا
۱۲. ہیکل کی مخصوصیت کے وقت سلیماؔن نے کیا درخواست کی، اور یہوؔواہ کا جوابیعمل کیا تھا؟
۱۲ جب سلیماؔن نے یہوؔواہ کی ہیکل کی تعمیر مکمل کر لی تو اس نے اپنی مخصوصیت کی دُعا میں کہا: ”تُو اپنے بندہ اور اپنی قوم اسرائیل کی مناجات کو جب وہ اس جگہ کی طرف رُخ کرکے کریں تو سن لینا بلکہ تُو آسمان پر سے جو تیری سکونتگاہ ہے سن لینا اور سن کر معاف کر دینا۔“ یہوؔواہ نے جواب دیا: ”اگر مَیں آسمان کو بند کر دوں کہ بارش نہ ہو یا ٹڈیوں کو حکم دوں کہ ملک کو اُجاڑ ڈالیں یا اپنے لوگوں کے درمیان وبا بھیجوں۔ تب اگر میرے لوگ خاکسار بن کر دُعا کریں اور میرے دیدار کے طالب ہوں اور اپنی بُری راہوں سے پھریں تو مَیں آسمان پر سے سن کر انکا گناہ معاف کرونگا اور انکے ملک کو بحال کر دُونگا۔“—۲-تواریخ ۶:۲۱؛ ۷:۱۳، ۱۴۔
۱۳. کسی شخص کے متعلق یہوؔواہ کے نظریے کی بابت حزقیایل ۳۳:۱۳-۱۶ کیا ظاہر کرتی ہیں؟
۱۳ جب یہوؔواہ آپ پر نظر کرتا ہے تو وہ آپکو ویسے ہی قبول کرتا ہے جیسے آپ اب ہیں نہ کہ جیسے آپ پہلے کبھی تھے۔ یہ ایسے ہی ہوگا جیسے حزقیایل ۳۳:۱۳-۱۶ کہتی ہیں: ”جب مَیں صادق سے کہوں کہ تو یقیناً زندہ رہیگا اگر وہ اپنی صداقت پر تکیہ کرکے بدکرداری کرے تو اسکی صداقت کے کام فراموش ہو جائینگے اور وہ اُس بدکرداری کے سبب سے جو اس نے کی ہے مریگا۔ اور جب مَیں شریر سے کہوں تو یقیناً مریگا اگر وہ اپنے گناہ سے باز آئے اور وہی کرے جو جائزوروا ہے۔ اگر وہ شریر گِرو واپس کر دے اور جو اس نے لُوٹ لیا ہے واپس دیدے اور زندگی کے آئین پر چلے اور ناراستی نہ کرے تو وہ یقیناً زندہ رہیگا۔ وہ نہیں مریگا۔ جو گناہ اُس نے کئے ہیں اسکے خلاف محسوب نہ ہونگے۔ اس نے وہی کِیا جو جائزوروا ہے۔ وہ یقیناً زندہ رہیگا۔“
۱۴. یہوؔواہ کی معافی کی بابت نمایاں بات کیا ہے؟
۱۴ معافی جو یہوؔواہ خدا ہمیں عطا کرتا ہے وہ امتیازی خصوصیت رکھتی ہے، ایک ایسی خصوصیت جسے انسانی مخلوق کا ایک دوسرے کو معاف کرنے کے سلسلے میں ظاہر کرنا مشکل ہے—وہ معاف بھی کرتا ہے اور بھول بھی جاتا ہے۔ بعض لوگ کہیں گے، ’جو کچھ آپ نے کِیا ہے مَیں اسے معاف تو کر سکتا ہوں لیکن مَیں اسے بھول نہیں سکتا۔‘ اس کے برعکس، غور کریں کہ یہوؔواہ کیا فرماتا ہے کہ وہ کیا کرے گا: ”مَیں ان کی بدکرداری کو بخش دونگا اور ان کے گناہ کو یاد نہ کروں گا۔“—یرمیاہ ۳۱:۳۴۔
۱۵. یہوؔواہ معافی کا کونسا ریکارڈ رکھتا ہے؟
۱۵ یہوؔواہ زمین پر اپنے پرستاروں کو ہزاروں سال سے معاف کرتا رہا ہے۔ وہ انکے ان گناہوں کو جنکے مرتکب ہونے سے وہ واقف ہیں اور اس کیساتھ ساتھ بہتیرے ایسے گناہوں کو بھی معاف کرتا رہا ہے جن سے وہ بےخبر ہیں۔ رحم، تحمل اور معافی کا اُسکا بندوبست لامحدود رہا ہے۔ یسعیاہ ۵۵:۷ کہتی ہے: ”شریر اپنی راہ کو ترک کرے اور بدکردار اپنے خیالوں کو اور وہ خداوند کیطرف پھرے اور وہ اس پر رحم کریگا اور ہمارے خدا کیطرف کیونکہ وہ کثرت سے معاف کریگا۔“
مسیحی یونانی صحائف میں معافی
۱۶. ہم کیوں یہ کہہ سکتے ہیں کہ یسوؔع کا معاف کرنے کا عمل یہوؔواہ کے معاف کرنے کے عمل کی مطابقت میں ہے؟
۱۶ خدا کی معافی کی سرگزشتوں نے مسیحی یونانی صحائف کے ریکارڈ کو بھر دیا ہے۔ یسوؔع اکثر یہ ظاہر کرتے ہوئے اُسکا ذکر کرتا ہے کہ وہ اس موضوع کے سلسلے میں یہوؔواہ کا ہم خیال ہے۔ یسوؔع کی سوچ یہوؔواہ کی طرف سے ہے، وہ یہوؔواہ کا عکس پیش کرتا ہے، وہ یہوؔواہ کی ذات کا پرتَو ہے؛ اُسے دیکھنا یہوؔواہ کو دیکھنا ہے۔—یوحنا ۱۲:۴۵-۵۰؛ ۱۴:۹؛ عبرانیوں ۱:۳۔
۱۷. یسوؔع نے کیسے یہوؔواہ کے ”کثرت سے“ معاف کرنے کی مثال پیش کی؟
۱۷ یہوؔواہ کے کثرت سے معاف کرنے کی نشاندہی یسوؔع کی تمثیلوں میں سے ایک سے ہوتی ہے، جو کہ ایک بادشاہ کی ہے جس نے اپنے نوکر کو ۱۰،۰۰۰ توڑوں (تقریباً ۳۳،۰۰۰،۰۰۰ یو.ایس. ڈالر) کا قرض معاف کر دیا۔ لیکن جب اس نوکر نے اپنے ہمخدمتوں میں سے ایک کو سو دینار (کوئی ۶۰ یو.ایس. ڈالر) کا قرض معاف نہ کِیا تو بادشاہ نہایت غضبناک ہوا۔ ”اے شریر نوکر! مَیں نے وہ سارا قرض تجھے اسلئے بخشدیا کہ تُو نے میری منت کی تھی۔ کیا تجھے لازم نہ تھا کہ جیسا مَیں نے تجھ پر رحم کِیا تُو بھی اپنے ہمخدمت پر رحم کرتا؟ اور اسکے مالک نے خفا ہو کر اُسکو جلادوں کے حوالہ کِیا کہ جب تک قرض ادا نہ کر دے قید میں رہے۔“ اسکے بعد یسوؔع نے اسکا یوں اطلاق کِیا: ”میرا آسمانی باپ بھی تمہارے ساتھ اسی طرح کریگا اگر تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کو دل سے معاف نہ کرے۔“—متی ۱۸:۲۳-۳۵۔
۱۸. پطرؔس کے معاف کرنے کی بابت نظریے کا یسوؔع کے نظریے کیساتھ کیسے موازنہ کِیا جا سکتا ہے؟
۱۸ یسوؔع کے مذکورہبالا تمثیل دینے سے ذرا پہلے، پطرؔس یسوؔع کے پاس آیا اور پوچھا: ”اے خداوند اگر میرا بھائی میرا گناہ کرتا رہے تو مَیں کتنی دفعہ اُسے معاف کروں؟ کیا سات بار تک؟“ پطرؔس نے خیال کِیا کہ وہ بہت فیاضی دکھا رہا تھا۔ چونکہ فقیہ اور فریسی معاف کرنے کی حد مقرر کرتے تھے، یسوؔع نے پطرؔس سے کہا: ”مَیں تجھ سے یہ نہیں کہتا کہ سات بار بلکہ سات دفعہ کے ستر بار تک۔“ (متی ۱۸:۲۱، ۲۲) ایک دن کیلئے سات بار بمشکل کافی ہونگے، جیسے یسوؔع نے کہا: ”خبردار رہو! اگر تیرا بھائی گناہ کرے تو اسے ملامت کر۔ اگر توبہ کرے تو اسے معاف کر۔ اور اگر وہ ایک دن میں سات دفعہ تیرا گناہ کرے اور ساتوں دفعہ تیرے پاس آ کر کہے کہ توبہ کرتا ہوں تو اسے معاف کر۔“ (لوقا ۱۷:۳، ۴) ہمارے لئے یہ خوشی کی بات ہے کہ جب یہوؔواہ معاف کرتا ہے تو وہ اسکا حساب نہیں رکھتا۔
۱۹. یہوؔواہ کی معافی حاصل کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۱۹ اگر ہم توبہ کرنے اور اپنے گناہوں کا اقرار کرنے کیلئے فروتن ہوتے ہیں تو یہوؔواہ ہماری حمایت کیلئے تیار ہے: ”اگر اپنے گناہوں کا اقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے۔“—۱-یوحنا ۱:۹۔
۲۰. گناہ کو معاف کرنے کی بابت ستفنسؔ کی طرف سے کیسی رضامندی دکھائی گئی؟
۲۰ یسوؔع کے پیروکار ستفنسؔ پر جب ایک مشتعل ہجوم پتھر برسا رہا تھا تو معافی کے ایک غیرمعمولی جذبے کیساتھ اس نے چلّا چلّا کر یہ التجا کی: ”اے خداوند یسوؔع! میری روح کو قبول کر۔ پھر اس نے گھٹنے ٹیک کر بڑی آواز سے پکارا کہ اے خداوند! یہ گناہ انکے ذمہ نہ لگا اور یہ کہہ کر وہ [موت میں] سو گیا۔“—اعمال ۷:۵۹، ۶۰۔
۲۱. رومی سپاہیوں کو معاف کرنے کی یسوؔع کی رضامندی اس قدر حیرانکُن کیوں تھی؟
۲۱ یسوؔع نے معاف کرنے کیلئے تیار ہونے کی اس سے بھی زیادہ حیرانکُن مثال قائم کی۔ اسکے دشمنوں نے اسے گرفتار کر لیا، اس پر غیرقانونی مقدمہ چلایا، اسے مجرم قرار دیا، اسے ٹھٹھوں میں اُڑایا، اس پر تھوکا، اسے ایسے کوڑے سے مارا پیٹا جس میں غالباً بہت سی ہڈیاں اور لوہا لگا چمڑا تھا اور بالآخر اسے کئی گھنٹوں کیلئے سولی پر جڑ دیا۔ اس میں رومی بھی بڑی حد تک ملوث تھے۔ پھر بھی، جب یسوؔع سولی پر مر رہا تھا تو اس نے ان سپاہیوں کی بابت جنہوں نے اُسے سولی چڑھایا تھا اپنے آسمانی باپ سے دُعا کی: ”اے باپ! اِن کو معاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں۔“—لوقا ۲۳:۳۴۔
۲۲. پہاڑی وعظ کے کونسے الفاظ کو ہمیں عمل میں لانے کی کوشش کرنی چاہئے؟
۲۲ اپنے پہاڑی وعظ میں، یسوؔع کہہ چکا تھا: ”اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کیلئے دُعا کرو۔“ اپنی زمینی خدمتگزاری کے آخر تک، اس نے خود اس اصول کی فرمانبرداری کی۔ کیا یہ ہم سے، جو اپنے گنہگار جسم کی کمزوریوں کیساتھ نبردآزما ہیں، بہت زیادہ کا تقاضا کرتا ہے؟ کمازکم ہمیں یسوؔع کے ان الفاظ پر تو عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو اس نے اپنے شاگردوں کو نمونے کی دُعا فراہم کرنے کے بعد، انہیں سکھائے: ”اسلئے اگر تم آدمیوں کے قصور معاف کروگے تو تمہارا آسمانی باپ بھی تم کو معاف کریگا۔ اور اگر تم آدمیوں کے قصور معاف نہ کروگے تو تمہارا باپ بھی تمہارے قصور معاف نہ کریگا۔“ (متی ۵:۴۴؛ ۶:۱۴، ۱۵) اگر ہم یہوؔواہ کی طرح معاف کرتے ہیں تو ہم معاف کرینگے اور بھول جائینگے۔
کیا آپکو یاد ہے؟
▫ یہوؔواہ ہمارے گناہوں کو کیسے نپٹاتا ہے، اور کیوں؟
▫ کیوں منسیؔ کو اسکی بادشاہی میں بحال کر دیا گیا تھا؟
▫ یہوؔواہ کی معافی کی کس خصوصیت کی نقل کرنا انسانوں کیلئے مشکل ہے؟
▫ معاف کرنے کے لئے یسوؔع کی رضامندی اسقدر حیرانکُن کیسے تھی؟
[تصویر]
نؔاتن نے خدا سے معافی حاصل کرنے کی ضرورت کو محسوس کرنے میں داؔؤد کی مدد کی