سبق 12
موت پر کیا واقع ہوتا ہے؟
موت زندگی کی ضد ہے۔ موت گہری نیند کی مانند ہے۔ (یوحنا 11:11-14) مُردے سننے، دیکھنے، بولنے یا سوچنے کے قابل نہیں ہوتے۔ (واعظ 9:5، 10) جھوٹا مذہب یہ تعلیم دیتا ہے کہ مُردے اپنے آباؤاجداد کے ساتھ رہنے کیلئے عالمِارواح میں چلے جاتے ہیں۔ تاہم بائبل یہ تعلیم نہیں دیتی۔
جو لوگ مر چکے ہیں وہ نہ تو ہماری مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لوگ عام طور پر ایسی رسومات اور قربانیاں پیش کرتے ہیں جو اُن کے خیال میں مُردوں کو خوش کریں گی۔ یہ خدا کی نظر میں ناپسندیدہ ہے کیونکہ یہ شیطان کے ایک جھوٹ پر مبنی ہے۔ یہ مُردوں کو بھی خوش نہیں کر سکتیں کیونکہ اُن میں زندگی نہیں ہوتی۔ ہمیں مُردوں سے نہ تو ڈرنا چاہئے اور نہ ہی اُن کی پرستش کرنی چاہئے۔ ہمیں صرف خدا کی پرستش کرنی چاہئے۔—متی 4:10۔
مُردے پھر زندہ ہونگے۔ یہوواہ مُردوں کو فردوسی زمین پر زندہ کرے گا۔ یہ مستقبل میں ہوگا۔ (یوحنا 5:28، 29؛ اعمال 24:15) خدا مُردوں کو بالکل ویسے ہی زندہ کر سکتا ہے جیسے آپ کسی سوئے ہوئے شخص کو نیند سے جگا سکتے ہیں۔—مرقس 5:22، 23، 41، 42۔
یہ خیال کہ ہم مرتے نہیں شیطان اِبلیس کا پھیلایا ہؤا جھوٹ ہے۔ شیطان اور اُس کے شیاطین لوگوں کو اِس سوچ میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ مُردوں کی روحیں زندہ ہیں اور وہ بیماری اور دیگر مسائل کا سبب بنتی ہیں۔ شیطان بعضاوقات خوابوں اور رویتوں کے ذریعے لوگوں کو دھوکا دیتا ہے۔ خدا مُردوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کی مذمت کرتا ہے۔—استثنا 18:10-12۔