یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏10 ص.‏ 4-‏6
  • خوف دنیا کو گرفت میں کیوں لے لیتا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خوف دنیا کو گرفت میں کیوں لے لیتا ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • عالمگیر خوف اہمیت کا حامل
  • یہ دنیا جس چیز کی توقع کر سکتی ہے
  • خوشی کا ایک وقت، نہ کہ خوف کا
  • یہوواہ کا خوف ماننے والا دل پیدا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • یہوواہ سے ڈرو اور اس کے پاک نام کی تمجید کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • یہوؔواہ کے خوف میں شادمانی حاصل کرنا سیکھنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • خاتمے کے متعلق چار سوالوں کے جواب
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏10 ص.‏ 4-‏6

خوف دنیا کو گرفت میں کیوں لے لیتا ہے؟‏

کون خوف میں زندہ رہنا چاہتا ہے؟ عام شخص اپنی زندگی اور املاک کیلئے کسی بھی خطرے کے بغیر تحفظ کی خواہش کرتا ہے۔ لہٰذا، بہتیرے جرم والے علاقوں سے نقل مکانی کر لیتے ہیں۔ پھر بھی، خوف کے اسباب ہر طرف موجود رہتے ہیں۔‏

نیوکلیئر ہتھیاروں اور ری‌ایکٹروں کے حادثات سے خطرات نوعِ‌انسانی کیلئے بربادی کا خوف پیدا کر دیتے ہیں۔ تیزی سے بڑھنے والا تشدد خوف کو بڑھاتا ہے۔ بہتیرے خوفزدہ ہیں کہ ایڈز اس صدی کی نہایت مُہلک وبا بن جائیگی۔ ہمارے ماحول کی تباہی خوف کے دیگر اسباب میں شامل ہے۔ کیا یہ اندیشے خاص طور پر اہمیت کے حامل ہیں؟ اور کیا ہم کبھی ایسے خوف کے بغیر دنیا میں زندہ رہنے کی امید کر سکتے ہیں؟‏

عالمگیر خوف اہمیت کا حامل

جو کچھ بائبل نے پہلے سے بتا دیا تھا اُسکی وجہ سے ہر طرف پھیلا ہوا آجکل کا خوف اہمیت کا حامل ہے۔ آخری دنوں کی بابت اپنی پیشینگوئی میں، یسوؔع مسیح نے ایسی حالتوں کا حوالہ دیا جو خوف کا سبب بنیں گی۔ اُس نے کہا:‏ ”‏قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کریگی اور جگہ جگہ کال پڑینگے اور بھونچال آئینگے۔“‏ یسوؔع نے ”‏بے‌دینی کے بڑھ جانے“‏ کا بھی ذکر کِیا۔ ۱۹۱۴ سے لیکر، بینظیر جنگیں، کال، بھونچال اور بے‌دینی بڑے خوف اور جانی نقصان پر منتج ہوئی ہیں۔—‏متی ۲۴:‏۷-‏۱۴‏۔‏

آجکل لوگوں کے رویے بھی خوف میں اضافہ کرتے ہیں۔ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۴ میں ہم پولسؔ رسول کے نبوتی الفاظ پڑھتے ہیں:‏ ”‏اخیر زمانہ میں بُرے دن آئینگے۔ کیونکہ آدمی خودغرض۔ زردوست۔ شیخی‌باز۔ مغرور۔ بدگو۔ ماں باپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بے‌ضبط۔ تندمزاج۔ نیکی کے دشمن۔ دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عیش‌وعشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہونگے۔“‏ چونکہ ان آخری دنوں میں ہم ایسے لوگوں سے گِھرے ہوئے ہیں اسلئے اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ بہت زیادہ خوف پایا جاتا ہے!‏

یہ دنیا جس چیز کی توقع کر سکتی ہے

یسوؔع نے اس دور کا موازنہ نوؔح کے وقت کی دنیا کے آخری ایام کیساتھ کِیا۔ بلا‌شُبہ اُسوقت خوف بہت زیادہ تھا کیونکہ بائبل کا تاریخی ریکارڈ کہتا ہے:‏ ”‏زمین خدا کے آگے ناراست ہو گئی تھی اور وہ ظلم سے بھری تھی۔“‏ اسلئے، ”‏خدا نے نوؔح سے کہا کہ تمام بشر کا خاتمہ میرے سامنے آ پہنچا ہے کیونکہ اُنکے سبب سے زمین ظلم سے بھر گئی۔“‏ (‏پیدایش ۶:‏۱۱،‏ ۱۳‏)‏ وہ بدکار دنیا اسقدر تشددآمیز تھی کہ خدا نے ایک عالمگیر سیلاب کے ذریعے اسے نابود کر دیا۔ تاہم، محبت کی بنا پر یہوؔواہ خدا نے راستباز نوؔح اور اُسکے خاندان کو بچا لیا۔—‏۲-‏پطرس ۲:‏۵‏۔‏

لہٰذا موجودہ متشدّد دنیا کس چیز کی توقع کر سکتی ہے؟ خدا دوسروں کی فلاح‌وبہبود کیلئے تشددآمیز بے‌پروائی سے نفرت کرتا ہے۔ یہ بات زبور نویس کے الفاظ سے ظاہر ہے:‏ ”‏خداوند صادق کو پرکھتا ہے پر شریر اور ظلم دوست سے اُسکی روح کو نفرت ہے۔“‏ (‏زبور ۱۱:‏۵‏)‏ یہوؔواہ نوؔح کے زمانے کی متشدّد دنیا پر خاتمہ لایا۔ تو پھر کیا ہمیں خوفناک تشدد سے دق اس دنیا کو ختم کرنے کی خدا سے توقع نہیں کرنی چاہئے؟‏

پطرؔس رسول کو الہٰی طور پر مسیح کی موجودگی کا ذکر کرنے اور موجودہ بدکار دنیا کیلئے مصیبت کی پیشینگوئی کرنے کا الہام ہوا۔ اُس نے لکھا:‏ ”‏اخیر دنوں میں ایسے ہنسی ٹھٹھا کرنے والے آئینگے جو اپنی خواہشوں کے موافق چلینگے۔ اور کہینگے کہ اُسکے آنے کا وعدہ کہاں گیا؟ کیونکہ جب سے باپ دادا سوئے ہیں اُس وقت سے اب تک سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا خلقت کے شروع سے تھا۔“‏ پھر پطرؔس نے نوعِ‌انسانی پر ناکامل حکومتی نظام کی علامت میں اصطلا‌ح ”‏آسمان“‏ اور ناراست انسانی معاشرے کیلئے لفظ ”‏زمین“‏ کو استعمال کِیا۔ اُس نے کہا، ”‏وہ تو جان بوجھ کر یہ بھول گئے کہ خدا کے کلام کے ذریعہ سے آسمان قدیم سے موجود ہیں اور زمین پانی میں سے بنی اور پانی میں قائم ہے۔ اِن ہی کے ذریعہ سے اُس زمانہ [‏نوؔح کے زمانہ]‏ کی دنیا ڈوب کر ہلاک ہوئی۔ مگر اِس وقت کے آسمان اور زمین اُسی کلام کے ذریعہ سے اِسلئے رکھے ہیں کہ جلائے جائیں اور وہ بے‌دین آدمیوں کی عدالت اور ہلاکت کے دن تک محفوظ رہینگے۔“‏—‏۲-‏پطرس ۳:‏۳-‏۷‏۔‏

اسی طرح کے خیال کے ساتھ پولسؔ نے واضح کیا کہ مسیح اور اُسکے طاقتور فرشتے ”‏جو خدا کو نہیں پہچانتے اور ہمارے خداوند یسوؔع کی خوشخبری کو نہیں مانتے اُن سے بدلہ [‏لینگے]‏۔ وہ .‏ .‏ .‏ ابدی ہلاکت کی سزا پائینگے۔“‏ (‏۲-‏تھسلنیکیوں ۱:‏۶-‏۹‏)‏ بائبل کی آخری کتاب ”‏قادرِمطلق خدا کے روزِعظیم کی لڑائی“‏ کیلئے تمام قوموں کے جمع کئے جانے کا ذکر کرتی ہے اور یقین دلاتی ہے کہ یہوؔواہ ”‏زمین کے تباہ کرنے والوں کو تباہ“‏ کریگا۔—‏مکاشفہ ۱۱:‏۱۸؛‏ ۱۶:‏۱۴-‏۱۶‏۔‏

خوشی کا ایک وقت، نہ کہ خوف کا

بائبل جو کچھ اس دنیا کیلئے پیشتر سے بتاتی ہے اُس سے خوفزدہ ہونے کی بجائے راستباز لوگوں کے پاس خوش ہونے کی وجہ ہے۔ یہوؔواہ بہت جلد اس بدکار دنیا پر خاتمہ لائے گا، لیکن یہ اُن لوگوں کی بھلائی کی خاطر کیا جائے گا جو راستبازی سے محبت رکھتے ہیں۔ موجودہ نظام کے الہٰی خاتمے کے بعد کیا ہونا ہے؟ خدا کی آسمانی بادشاہت کے تحت ایک نیا نظام جس کے لئے یسوؔع نے اپنے پیروکاروں کو دعا کرنا سکھائی تھی!‏ اُس نے کہا تھا:‏ ”‏پس تم اِس طرح دعا کِیا کرو کہ اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“‏ (‏متی ۶:‏۹، ۱۰‏)‏ جب زمین پر خدا کی مرضی پوری ہوتی ہے تو کن تبدیلیوں کی توقع کی جا سکتی ہے؟‏

جنگ اور اسکے خدشات ختم ہو چکے ہونگے۔ زبور ۴۶:‏۹ کہتی ہے:‏ ”‏وہ [‏یہوؔواہ خدا]‏ زمین کی اِنتہا تک جنگ موقوف کراتا ہے۔ وہ کمان کو توڑتا اور نیزے کے ٹکڑے کر ڈالتا ہے۔ وہ [‏جنگی]‏ رتھوں کو آگ سے جلا دیتا ہے۔“‏ پھر لوگوں میں سے ”‏ہر ایک آدمی اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے بیٹھیگا اور اُنکو کوئی نہ ڈرائیگا۔“‏—‏میکاہ ۴:‏۴۔‏

مُہلک بیماریاں پھر کبھی بھی خوف کا باعث نہیں بنیں گی اور جانیں نہیں لیں گی۔ الہٰی وعدہ یہ ہے:‏ ”‏وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہیگا کہ میں بیمار ہوں۔“‏ (‏یسعیاہ ۳۳:‏۲۴‏)‏ شادمانی کی کیا ہی بڑی وجہ!‏

جرم اور تشدد سے منسلک خطرات بھی ماضی کی باتیں ہونگے۔ زبور ۳۷:‏۱۰، ۱۱ وعدہ کرتی ہیں:‏ ”‏کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائیگا۔ تُو اُسکی جگہ کو غور سے دیکھیگا پر وہ نہ ہوگا۔ لیکن حلیم ملک کے وارث ہونگے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔“‏

موجودہ زمانے کے اندیشوں کی جگہ حقیقی امن اور سلامتی کیسے لے لیں گے؟ ایک راست حکومت—‏خدا کی بادشاہت—‏کے ذریعے۔ ہمارے زمانے کی بابت دانی‌ایل ۲:‏۴۴ بیان کرتی ہے:‏ ”‏اور اُن بادشاہوں کے ایام میں آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کریگا جو تا ابد نیست نہ ہوگی اور اُسکی حکومت کسی دوسری قوم کے حوالہ نہ کی جائیگی بلکہ وہ اِن تمام مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست کریگی اور وہی ابد تک قائم رہیگی۔“‏ یہوؔواہ کے مقررکردہ بادشاہ، یسوؔع مسیح کو ’‏اسوقت تک بادشاہی کرنا ضرور ہے جبتک کہ خدا تمام دشمنوں کو اُسکے پاؤں تلے نہیں کر دیتا۔‘‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۵‏)‏ یسوؔع کا ہزار سالہ عہدِحکومت ہمیشہ کیلئے خوش‌باش انسانوں سے آباد ایک فردوسی زمین کو وجود میں لانے کے خدا کے ابتدائی مقصد کو پورا کریگا۔—‏لوقا ۲۳:‏۴۳؛‏ مکاشفہ ۲۰:‏۶؛‏ ۲۱:‏۱-‏۵‏۔‏

اس فردوسی زمین میں ایک خوشگوار خوف ہوگا۔ یہ ”‏خداوند کا خوف“‏ ہوگا۔ (‏امثال ۱:‏۷‏)‏ درحقیقت، ہمیں اب بھی یہ خوف رکھنا چاہئے، کیونکہ یہ خدا کو ناخوش کرنے کے خوف کیساتھ گہری تعظیم‌وتکریم ہے اسلئے کہ ہم اُسکی شفقت اور نیکی کی قدر کرتے ہیں۔ ایسا خوف یہوؔواہ پر پُختہ یقین اور اُسکے لئے وفادارانہ فرمانبرداری کا تقاضا کرتا ہے۔—‏زبور ۲:‏۱۱؛‏ ۱۱۵:‏۱۱‏۔‏

خوفناک واقعات ان دنوں کی اخیر زمانہ کے طور پر نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم، اگر ہم خدا کیلئے اپنی محبت کو ثابت کرتے ہیں تو ہم خوفزدہ ہونے کی بجائے شادمان ہو سکتے ہیں۔ بائبل کی پیشینگوئیاں ظاہر کرتی ہیں کہ اس دنیا کا الہٰی خاتمہ قریب ہے۔ اسکی جگہ یہوؔواہ خدا کی موعودہ نئی راستباز دنیا لے لیگی۔ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏)‏ یقیناً، بادشاہتی حکمرانی کے تحت بہت جلد ناخوشگوار خوف کے بغیر ایک دنیا ہوگی۔ (‏۴ ۷/۱۵ w۹۴)‏

‏[‏بکس]‏

صرف ایک ہی کاپی کی طاقت

ٹوؔماز، پولینڈ کا ایک جوان آدمی، ایک ایسی قانونی مشکل میں پھنس گیا جو اُس کے ملک سے بھاگ جانے کا سبب بنی۔ چھ ماہ تک وہ بیگانہ لوگوں کی گاڑیوں میں پورے یورپ کا مُفت سفر کرتا، خیمے میں سوتا اور مختلف ملازمتوں پر کام کرتا رہا۔ اسی اثنا میں، ایک سوال مسلسل اُس کے ذہن میں تھا:‏ زندگی کا مقصد کیا ہے؟‏

ٹوؔماز کے سوال کا جواب مِل گیا جب اُسے پولش زبان میں دی واچ‌ٹاور کی ایک کاپی دی گئی۔ اُس نے اسے کئی مرتبہ پڑھا اور جان لیا کہ اسی رسالے میں وہ سچائی پائی جاتی ہے جسکی وہ تلاش کرتا رہا تھا۔ ٹوؔماز بیگانہ لوگوں کی گاڑیوں میں ہی ۱۲۰ میل کا سفر کرکے سیلٹرز/‏ٹاؤنس جرمنی میں واچ‌ٹاور برانچ آفس پہنچا۔ سوموار کی شام پہنچ کر اُس نے اپنا واچ‌ٹاور رسالہ ہاتھ میں لیا اور کہا:‏ ”‏میں چاہوں گا کہ اس رسالے میں جو کچھ بھی ہے کوئی اُسکی بابت مزید وضاحت کرے۔ مجھے کیا کرنے کی ضرورت ہے؟“‏

اُس شام دو یہوؔواہ کے گواہوں نے اپنی گفتگو کی بنیاد کے طور پر بائبل کو استعمال کرتے ہوئے ٹوؔماز کے ساتھ زندگی کے مقصد کی بابت گفتگو کی۔ مزید سیکھنے کے شوق کے ساتھ ٹوؔماز اُس ہفتے ہر روز برانچ آفس جاتا رہا اور بائبل اور آپ زمین پر فردوس میں ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں (‏انگریزی)‏ کتاب کا مطالعہ کرتا رہا۔‏

ٹوؔماز نے پولینڈ واپس جانے کا فیصلہ کِیا اگرچہ وہاں اُسے مشکلات کا سامنا ہو سکتا تھا۔ لہٰذا، جمعہ کے روز، سیلٹرز برانچ آفس پہنچنے کے صرف چار دن بعد، ٹوؔماز اپنے آبائی وطن کو روانہ ہو گیا۔ اُس نے پولینڈ میں بلا‌تاخیر یہوؔواہ کے گواہوں کے ساتھ مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ ٹوؔماز نے بڑی جلدی ترقی کی اور جو کچھ وہ سیکھ رہا تھا اُسکی بابت گرمجوشی کیساتھ دوسروں سے بات‌چیت کرنا شروع کر دی۔ اکتوبر ۱۹۹۳ میں، سیلٹرز میں اپنی پہلی ملاقات کے صرف چار مہینے بعد، یہوؔواہ کے گواہوں میں سے ایک کے طور پر اُس کا بپتسمہ ہو گیا۔‏

دی واچ‌ٹاور کی محض ایک کاپی نے زندگی کے مقصد کی تحقیق‌وتفتیش میں اس جوان آدمی کی مدد کی!‏

‏[‏تصویر]‏

یسوؔع مسیح کی بادشاہتی حکمرانی کے تحت، پھر کبھی خوف دنیا کو گرفت میں نہیں لے گا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں