یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏11 ص.‏ 31
  • ملاوی سے خوشخبری!‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ملاوی سے خوشخبری!‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏11 ص.‏ 31

ملاوی سے خوشخبری!‏

نومبر۱۵، ۱۹۹۳ کو جنوب‌مشرقی افریقہ کے ملک ملاوی میں واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف پینسلوانیا کو سرکاری طور پر رجسٹر کر لیا گیا۔ اس سے یہوؔواہ کے گواہوں کو قانونی شناخت اور ملاوی کے لوگوں کو بائبل سچائیاں سنانے کی آزادی حاصل ہوگی۔‏

پیچھے ۱۹۴۸ میں، اس ملک کے اندر یہوؔواہ کے گواہوں کے کام کو منظم کرنے کے لئے ملاوی میں واچ‌ٹاور سوسائٹی کا ایک برانچ آفس قائم کِیا گیا تھا۔ جنوری ۸، ۱۹۵۷ میں واچ‌ٹاور سوسائٹی یہاں پر پہلی مرتبہ رجسٹر ہوئی۔ کئی سالوں تک یہوؔواہ کے گواہوں نے تیز رفتار ترقی سے استفادہ کِیا۔ لیکن ۱۹۶۴ میں پُرتشدد اذیت شروع ہو گئی۔ کیوں؟‏

خدا کی فرمانبرداری میں، یہوؔواہ کے گواہوں نے سیاست میں مکمل غیرجانبداری کو برقرار رکھا۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۱۶‏)‏ بدیہی طور پر، بعض نے اس صحیفائی مؤقف کو صحیح طور پر نہ سمجھا اور ایک انقلابی مذہب کے طور پر اور قانون شکنوں کے طور پر گواہوں کو غلط انداز میں پیش کِیا۔ لہٰذا، بعض نے ان امن پسند مسیحیوں کو اذیت دینے میں خود کو حق بجانب خیال کِیا۔ بہت سے گواہوں کو اُن کی ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا، مارا پیٹا گیا، اور دیگر طریقوں سے رسوا کِیا گیا۔ بعض کو جبراً اُن کے بچوں سے جُدا کر دیا گیا۔‏

۱۹۷۲ میں ۳۰،۰۰۰ سے زائد گواہوں اور اُن کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرنے والے کچھ لوگوں کو اپنی جانیں کھو دینے کے ڈر سے ملک کو چھوڑنا پڑا۔ ہزاروں ہمسایہ ملک موزمبیق میں پناہ‌گزین کیمپوں میں رہنے لگے۔ لیکن ۱۹۷۵ میں ان پناہ‌گزینوں کو واپس ملاوی بھیج دیا گیا جہاں اُنہیں مزید اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ بہتیروں کو مرکزاسیران میں رکھا گیا۔ اسی افراتفری کے دوران واچ‌ٹاور سوسائٹی کو ملاوی کے اندر قانونی تنظیموں کی سرکاری فہرست میں سے خارج کر دیا گیا۔ اسوقت سے لیکر اس ملک میں یہوؔواہ کے گواہ اور اُن کی قانونی تنظیمیں پابندی کے تحت رہی ہیں۔‏

ان تمام‌تر تبدیلیوں کے باوجود گواہوں نے سرکشی نہ کی۔ اُنہوں نے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے نہ تو جلوس نکالے اور نہ ہی دنگافساد کِیا۔ اس کی بجائے، اُنہوں نے سرکاری ”‏اعلیٰ حکومتوں“‏ کے لئے مناسب عزت اور احترام دکھانے کی اپنی مسیحی ذمہ‌داری کو دعائیہ طور پر برقرار رکھا۔ (‏رومیوں ۱۳:‏۱-‏۷؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۲:‏۱، ۲‏)‏ گواہوں نے بائبل میں قائم‌کردہ مسیحی طرزِزندگی کے اعلیٰ معیاروں کو بھی اپنائے رکھا اور یوں چال‌چلن میں ایک عمدہ نمونہ قائم کِیا ہے۔‏

اپنی نئی حاصل‌کردہ آزادی کے ساتھ یہوؔواہ کے گواہ ملاوی میں مستعدی سے، ”‏موافق حالات میں،“‏ باقاعدگی کے ساتھ بائبل سچائیوں کی منادی کرتے رہنے پر اٹل ہیں۔—‏۲-‏تیمتھیس ۴:‏۲‏، این‌ڈبلیو۔(‏۳۱ ۵/۱۵ w۹۴)‏

‏[‏صفحہ 31 پر تصویر]‏

۱۹۶۰ کے دہے میں ایم۔ جی۔ ہینشلؔ ملاوی بیت‌ایل خاندان کے ساتھ

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں