چوری میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
ریو ڈی جینرو—اتوار ۱۸، اکتوبر، ۱۹۹۲۔ کوپاکابانا اور ایپانیما کے مشہور ساحل سمندر بھرے ہوئے ہیں۔ اچانک نوجوانوں کے گروہ، آپس میں جھگڑتے ہوئے ساحلوں پر حملہآور ہوتے ہیں اور ساحل پر موجود لوگوں سے انکی قیمتی چیزیں اڑا لے جاتے ہیں۔ وہاں پر موجود بیشمار پولیس—بےبس کھڑی رہ جاتی ہے۔ ریو ڈی جینرو کے باشندوں اور سیاحوں کیلئے یہ بات دن کے وقت میں رات کے دہشتناک وقوعہ کی مانند ہے۔
واقعی مالواسباب سے متعلق جرائم بہت عام ہو گئے ہیں۔ بڑے شہروں میں، اکثر چور نوجوانوں سے—انکے سنیکرز حاصل کرنے کیلئے چوری کرنے—اور بعض اوقات انکی جان تک لے لینے کیلئے مشہور ہیں۔ لوگ چاہے گھر میں ہوں یا نہ ہوں، چور گھروں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ بددیانت گھریلو خادمائیں، گھر کا بھید پا لینے کے بعد، زیورات اور پیسے چرا لیتی اور پھر غائب ہو جاتی ہیں۔ گروہ کے گروہ دکانوں کو لوٹ لیتے ہیں۔ منظم گروہ تو خود لوگوں کو بھی چرا لیتے ہیں جیسے کہ برازیل میں اغوا ہونے والوں کی تعداد میں اضافے سے دیکھا گیا ہے۔ اور آپ غالباً اپنے ذاتی تجربے سے اور جو کچھ آپ کے علاقے میں واقع ہوتا ہے اس تمام سے اس طرح کی بیشمار مثالیں دے سکتے ہیں۔ لیکن اس قدر چوری کیوں؟
لوگ کیوں چوری کرتے ہیں؟
اگرچہ غربت میں اضافہ اور منشیات کا استعمال دو بڑی وجوہات ہیں، تاہم جواب اسقدر واضح نہیں۔ دی نیو انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا مشاہدہ کرتا ہے: ”جرم کے کسی ایک سبب کی تلاش کو بےثمر خیال کرتے ہوئے بڑی حد تک چھوڑ دیا گیا ہے۔“ تاہم، وہی تحقیق اس کا مشورہ دیتی ہے کہ چوری جیسے مسائل کو ”براہراست نوجوانوں کے ناکارہ ہونے کے احساسات اور مادی حاصلات سے انکے خارج کئے جانے پر غموغصے کے جذبات اور زندگی کی عام سی چیزوں کو بطور بخشش دئے جانے سے منسوب ہیں۔“ جیہاں، تصرفپرستی کے بےحد دباؤ کی وجہ سے بہتیروں کو ان چیزوں کو حاصل کرنے کیلئے جن کی وہ خواہش کرتے ہیں چوری کے علاوہ اور کوئی دوسری راہ دکھائی نہیں دیتی۔
تاہم، دلچسپی کی بات ہے کہ دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے: ”ان روایتی معاشروں میں جہاں لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ انکی زندگی یونہی چلتی رہیگی وہاں پر جرم کی شرح نسبتاً متوازن ہے۔ جرم کی شرح کے بڑھنے کا میلان اس معاشرے میں زیادہ ہوتا ہے جہاں لوگوں کے رہنے کی جگہوں اور انکی طرززندگی اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اس میں—اور مستقبل میں خوش آئند حالات کی بابت انکی امیدوں میں بڑی تیزی سے تبدیلی ہوتی ہے۔“ انسائیکلوپیڈیا مزید اضافہ کرتا ہے: ”جوانوں کو ملازمت کے بہت کم مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔ فراہمکردہ غیرکاریگر ملازمتیں اس رقم کے مقابلے میں جو بہت تھوڑے وقت میں اور شاندار طریقے سے چوری کے ذریعے حاصل ہوتی ہے بیحد مایوسکن دکھائی دیتی ہیں۔ نوجوان اس لئے بھی گرفتاری کا خطرہ مول لینے کیلئے رضامند ہوتے ہیں کیونکہ وہ نقصان کو زیادہ اہم خیال نہیں کرتے۔“
تاہم، بہتیرے جو بےروزگار ہیں یا جن کی کم تنخواہ والی ملازمتیں ہیں چوری نہیں کرتے، جبکہ وائٹ کالر (سفیدپوش) اور بلوکالر (مزدور) کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کام کی جگہ پر چھوٹی چوری کو اپنی تنخواہ کے ایک حصے کے طور پر خیال کرتی ہے۔ دراصل، بعض دھوکےبازی کے کاموں کو کرنے کیلئے بھی ایک معاشرتی حیثیت درکار ہے۔ کیا آپ نے ایسے واقعات نہیں سنے جہاں کثیر رقوم کے خردبرد میں شریک لوگوں میں سیاستدان، سرکاری ملازمین اور بزنسمین ملوث تھے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ چوری صرف غریبوں تک ہی محدود نہیں۔
یہ بھی یاد کریں کہ فلمیں اور ٹیوی پروگرام بھی اکثر چوری کا تمسخر اڑاتے ہیں (ہیرو چور بھی ہو سکتا ہے) جو کہ چوری کو زیادہ قابلقبول بنانے کی طرف مائل ہوتا ہے۔ مانا کہ اس طرح کی چیز کو دیکھنے کو تفریح کا نام دیا جا سکتا ہے لیکن اس کیساتھ ساتھ، یہ بھی ہے کہ اس طرح سامعین کو یہ دکھایا جاتا ہے کہ چوری کیسے کی جائے۔ کیا اس سے خفیہ طور پر جرم کو سودمند چیز کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا ہوتا؟ بلاشبہ، لالچ، سستی اور یہ خیال کہ سزا سے بلاخوفوخطر سب ہی چوری کرتے ہیں چوری میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ناقابلانکار طور پر ہم پیشنگوئیکردہ ان ”برے دنوں“ میں رہ رہے ہیں جب خودغرضی اور زر کی دوستی عام ہے۔—۲-تیمتھیس ۳:۱-۵۔
تو چوری نہ کرنا
دنیا کی توڑ مروڑ کر بیان کی گئی اقدار کے باوجود، اس حکم کی فرمانبرداری نہایت اہم ہے: ”چوری کرنے والا پھر چوری نہ کرے۔“ (افسیوں ۴:۲۸) ایک شخص جو مالودولت یا تفریحطبع کو حد سے زیادہ اہم خیال کرتا ہے وہ شاید خود کو اس بات سے دھوکا دے رہا ہو کہ چوری کیلئے خطرہ مول لیا جا سکتا ہے۔ لیکن چوری خدا کی نظر میں سنگین ہے اور ساتھی انسانوں کے لیے محبت کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، شاید چھوٹی سی چوری ہی کسی شخص کے دل کو سخت بنا دینے کا باعث بن جائے۔ اور بددیانت خیال کئے جانے کی بابت کیا ہے؟ کون ایک چور پر بھروسہ کریگا؟ دانشمندانہ طور پر خدا کا کلام کہتا ہے: ”تم میں سے کوئی شخص خونی یا چور یا بدکار ... ہو کر دکھ نہ پائے۔“—۱-پطرس ۴:۱۵۔
یقیناً آپ چوری میں اضافے کو برا بھلا کہتے ہیں، لیکن جرائم والے علاقوں میں لوگ کیونکر گزارہ کرتے ہیں؟ کیسے بعض گزشتہ وقت کے چوروں نے اپنی طرززندگی کو تبدیل کر لیا ہے؟ کیا کبھی عالمی سطح پر چوری کا خاتمہ ہوگا؟ ہم آپ کو اگلے مضمون ”چوروں سے پاک دنیا“ کو پڑھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ (۳ ۱۰/۱۵ w۹۳)