رابطہ—فقط گفتگو سے زیادہ
سیاحوں کے ایک ہجوم کا تصور کریں جو کہ دلکش خشکی کے مناظر کو دیکھ رہا ہے۔ اگرچہ پورے کا پورا گروپ ایک ہی منظر کو دیکھتا ہے، تو بھی ہر شخص اسے فرق طریقے سے دیکھتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ہر شخص کا نکتہنظر مختلف ہوتا ہے۔ کوئی بھی دو شخص بالکل ٹھیک سے ایک ہی مقام پر کھڑے نہیں ہیں۔ اسکے علاوہ، یہ کہ ہر شخص منظر کے ایک ہی حصے پر توجہ مرکوز نہیں کئے ہوتا۔ ہر شخص ایک مختلف پہلو کو خاص طور پر شوق آفریں پاتا ہے۔
یہی بات شادی کے سلسلے میں بھی سچ ہے۔ اس وقت بھی جبکہ وہ بہت حد تک ہمآہنگ دکھائی دیتے ہیں، کوئی بھی دو ساتھی معاملات کی بابت بالکل ایک سا نظریہ نہیں رکھتے۔ شوہر اور بیوی جذباتی بناوٹ، بچپن کے تجربے اور خاندانی اثرورسوخ جیسے پہلوؤں میں مختلف ہوتے ہیں۔ یہ مختلف پسمنظر جن کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ شدید جھگڑوں کا باعث ہو سکتے ہیں۔ رسول پولس نے صافگوئی سے یہ بیان کیا: ”وہ جو شادی کرتے ہیں وہ درد اور غم پائینگے۔“—۱-کرنتھیوں ۷:۲۸، دی نیو انگلش بائبل۔
رابطے میں ان اختلافات کو ایک جسم والے رشتے میں یکجا کرنے کی کوشش شامل ہے۔ یہ گفتگو کرنے کی خاطر وقت نکالنے کا تقاضا کرتا ہے۔ (صفحہ ۷ پر کے بکس کو دیکھیں۔) لیکن اس میں اور بہت کچھ بھی شامل ہے۔
بصیرت ظاہر کرنا
بائبل کی ایک امثال بیان کرتی ہے: ”دانا کا دل اسکے منہ کی تربیت [”بصیرت ظاہر،“ این ڈبلیو] کراتا ہے اور اسکے لبوں کو علم بخشتا ہے۔“ (امثال ۱۶:۲۳، این ڈبلیو) عبرانی لفظ جسکا ترجمہ یہاں ”بصیرت ظاہر کرتا“ کیا گیا ہے، بنیادی طور پر اسکا مطلب ہے اندھا دھند قدم نہ اٹھانے والا، دماغ میں پہلے ہی احتیاط سے معاملات پر غور کرنا۔ اسلئے مؤثر گفتگو کا مرکز منہ نہیں بلکہ دل ہے۔ ایک اچھے رابطدان کو محض ایک بولنے والے سے زیادہ کچھ ہونا چاہیے، اسے ایک ہمدرد سننے والا بھی ہونا چاہیے۔ (یعقوب ۱:۱۹) اسے اپنے ساتھی کے طرزعمل کی سطح میں چھپے ہوئے مسائل اور احساسات کو بھی سمجھنا چاہیے۔—امثال ۲۰:۵۔
کیسے؟ بعض اوقات یہ کسی تنازعے کا احاطہ کرنے والے حالات کا مشاہدہ کرنے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ کیا آپ کا شریکزندگی شدید جذباتی یا جسمانی دباؤ کا شکار ہے؟ کیا کوئی بیماری آپکے ساتھی کے مزاج پر اثرانداز ہو رہی ہے؟ بائبل کہتی ہے، ”درست موقع کیلئے درست بات پانا کیا ہی شادمانی کی بات ہے!“ (امثال ۱۵:۲۳ ٹوڈیز انگلش ورشن) لہذا حالات کا تجزیہ کرنا آپکو اسکے مطابق جواب دینے میں مدد دیگا۔—امثال ۲۵:۱۱۔
تاہم، اکثر اوقات، کسی بھی جھگڑے کا سبب موجودہ حالات سے الگ کسی اور معاملے کی میں چھپا ہوتا ہے۔
ماضی کو سمجھنا
بچپن کے تجربات بڑی حد تک ہماری جوانی کی سوچ کو تشکیل دینے میں کارفرما ہوتے ہیں۔ اب چونکہ بیاہتا ساتھی مختلف خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اسلئے متضاد نظریات کا پایا جانا ناگزیر ہے۔
بائبل میں ریکارڈشدہ ایک واقعہ اس کی مثال پیش کرتا ہے۔ جب عہد کا صندوق واپس یروشلیم میں لایا گیا تو داؤد نے کھلے عام اپنے جوش کا اظہار کیا۔ لیکن اسکی بیوی میکل کی بابت کیا ہے؟ بائبل بیان کرتی ہے: ”ساؤل کی بیٹی میکل نے کھڑکی سے نگاہ کی اور داؤد بادشاہ کو خداوند کے حضور اچھلتے اور ناچتے دیکھا۔ سو اس نے اپنے دل ہی دل میں اسے حقیر جانا۔“—۲-سموئیل ۶:۱۴-۱۶۔
میکل نے اپنے ناراست باپ، ساؤل کی طرح کے بےایمان مزاج کا مظاہرہ کیا۔ بائبل کے مفسرین سی۔ ایف۔ اور ایف۔ ڈیلکائل یہ تجویز کرتے ہیں کہ اسی لئے ۱۶ آیت میں میکل کا حوالہ داؤد کی بیوی کی بجائے ”ساؤل کی بیٹی“ کے طور پر دیا گیا ہے۔ بہرحال ان کے درمیان ہونے والا تنازعہ اسے بالکل عیاں کر دیتا ہے کہ داؤد اور میکل اس خوشی کے مواقع کی بابت ایک جیسے نظریات نہیں رکھتے تھے۔—۲-سموئیل ۶:۲۰-۲۳۔
یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ بچپن کی تربیت کے پیچیدہ اثرات کسی شوہر اور بیوی کے لئے معاملات کو یکسر مختلف نظریے سے دیکھنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہ اس حالت میں بھی سچ ہے جب کہ دونوں متحدہ طور پر یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، شاید ایک بیوی جسے بچے کے طور پر مناسب جذباتی حمایت نہیں دی گئی ہو سکتا ہے کہ وہ حد سے زیادہ پسندیدگی اور ہمتافزائی حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرے۔ یہ چیز شاید اسکے شوہر کو پریشان کر دے۔ وہ شاید کہے کہ ”میں اسے سو دفعہ بتا سکتا ہوں کہ مجھے اس سے محبت ہے اور پھر بھی یہ کافی نہیں ہوگا!“
اس مثال میں، رابطے میں ”اپنے ہی احوال پر نہیں بلکہ دوسروں کے احوال پر بھی نظر رکھنا“ شامل ہے۔ (فلپیوں ۲:۴) رابطہ رکھنے کیلئے، ایک شوہر کو اپنے ہی ماضی کے تجربے کی بجائے اپنی بیوی کو اسکے ماضی کے پسمنظر سے دیکھنا چاہئے۔ اور بلاشبہ، ایک بیوی کو بھی اپنے شوہر کے سلسلے میں ایسا ہی کرنے کی تحریک ملنی چاہیے۔—۱-کرنتھیوں ۱۰:۲۴۔
جب ماضی میں بدسلوکی ہوئی تھی
شخصی دلچسپی بالخصوص اس وقت دشوار ہوتی ہے جب کہ ایک ساتھی بچپن میں عصمتدری یا جنسی بدسلوکی کا شکار رہا ہے—افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ آج کا بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر، ایک بیوی، کا شاید یہ تجربہ رہا ہو کہ جنسی تعلقات کے دوران وہ حال کو ماضی سے الگ نہیں کر سکتی، یعنی اپنے ساتھی کو جنسی بدسلوکی کا ارتکاب کرنے والے سے یا جنسی تعلقات کو جنسی بدسلوکی سے۔ یہ مایوسکن ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب شوہر اپنی بیوی کے پسمنظر سے متعلق اس نازک مسئلے پر دھیان نہیں دیتا۔—۱-پطرس ۳:۸۔
اب جبکہ آپ نہ تو ماضی کو ختم کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے اثرات کو پوری طرح سے زائل کر سکتے ہیں، لیکن آپ پریشان شریکزندگی کو تسلی دینے کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ (امثال ۲۰:۵) کیسے؟ پطرس نے لکھا، ”اے شوہرو! تم بھی اپنی بیویوں کی بات سمجھنے کی کوشش کرو جنکے ساتھ تم رہتے ہو۔“ (۱-پطرس ۳:۷، فلپس) اپنے ازدواجی ساتھی کے ماضی کو سمجھنا رابطہ قائم رکھنے کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہمدردانہ ترس کے بغیر آپ کے الفاظ بےمعنی ہونگے۔
بیماروں سے اچانک ملاقات پر یسوع کو ان پر ”ترس آیا“ اگرچہ اسے ذاتی طور پر ان کی بیماریوں کا تجربہ نہ ہوا تھا۔ (متی ۱۴:۱۴) اسی طرح، شاید آپکو ذاتی طور پر اس طرح کی غفلت یا بدسلوکی کا تجربہ نہ ہوا ہو جیسے کہ آپ کی بیوی کو ہوا، لیکن اسکی شدید ذہنی کوفت کو کمتر خیال کرنے کی بجائے، اس کے ماضی کو تسلیم کریں، اور اسے اپنی حمایت کا یقین دلائیں۔ (امثال ۱۸:۱۳) پولس نے لکھا: ”غرض ہم زورآوروں کو چاہیے کہ ناتوانوں کی کمزوریوں کی رعایت کریں نہ کہ اپنی خوشی کریں۔“—رومیوں ۱۵:۱۔
آزردگی کے پھندے میں پھنسنا
شادی ایک انمول ظرف کی مانند ہے۔ جب زناکاری سے اسے ضرر پہنچتا ہے تو بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ (امثال ۶:۳۲) سچ ہے کہ اگر معصوم ساتھی معاف کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو شاید مصالحت کے ذریعے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو جوڑا جا سکے۔ لیکن دراڑیں باقی رہ جاتی ہیں اور کسی بھی تکرار کے دوران، ان دراڑوں کی جانب خیال جانے اور ماضی کے ان واقعات کو بطور ہتھیار کے استعمال کرنے کا رحجان ہو سکتا ہے۔
شریکزندگی کی بےوفائی کے جواب میں آزردگی ایک طبعی عمل ہے۔ لیکن اگر آپ نے اپنے ساتھی کو معاف کر دیا ہے تو برہمی کے دیر تک قائم رہنے سے خبردار رہیں کیونکہ یہ اس نیکی کو ختم کر دیگا جو آپ نے معافی کے عمل سے حاصل کی ہے۔ چاہے یہ اندر ہی اندر خاموشی سے بھڑکتی رہتی ہے یا بےرحمی سے بےقابو ہوتی ہے، تاہم جاری رہنے والی آزردگی دونوں ساتھیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ کیوں؟ ایک ڈاکٹر تجویز کرتی ہے: ”اگر آپکو اپنے ساتھی سے دکھ پہنچ رہا ہے تو یہ اسلئے ہے کہ آپ کو ابھی تک اسکی فکر ہے۔ اسلئے پسپائی کا اظہار کرنے یا انتقام لینے سے آپ نہ صرف اپنے شریکزندگی کو ٹھیس لگاتے ہیں بلکہ اپنے آپ کو بھی تباہ کرتے ہیں۔ آپ مزید اس رشتے کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں جسے آپ سالم رکھنا چاہتے تھے۔“
جیہاں، اپنے غصے کو ٹھنڈا کئے بغیر آپ اپنی شادی کے اندر اختلافات سے مصالحت نہیں کر سکتے۔ لہذا، جب آپ کے جذبات اشتعالانگیز نہیں، اسی وقت اپنے احساسات کی بابت اپنے ساتھی سے گفتگو کریں۔ واضح کریں کہ کیوں آپکو دکھ پہنچا ہے، اپنے اندیشوں کو دور کرنے کے لیے آپ کیا چاہتے ہیں اور اپنے رشتے کو بحال رکھنے کیلئے آپ کیا کریں گے۔ کسی بھی بحثوتکرار میں سبقت لینے کیلئے ماضی کو بطور ایک آلہ کے کبھی استعمال نہ کریں۔
نشہ رابطے کو گھائل کرتا ہے
شادی اس وقت شدید پریشانی کا شکار ہوتی ہے جب ایک ساتھی الکحل یا منشیات کا ناجائز استعمال کرتا ہے۔ نشہ نہ کرنے والا ساتھی شاید بالکل اسی طرح کی حالت سے دوچار ہو جو کہ ابیجیل کی تھی جیسے کہ بائبل میں بیان کیا گیا ہے۔ جبکہ اس کا شوہر نابال ”نشے میں چور تھا،“ ابیجیل اسکے احمقانہ طرزعمل سے پیدا ہونے والے حالات کو بدلنے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔ (۱-سموئیل ۲۵:۱۸-۳۱، ۳۶) شادیاں جن میں ایک شریکزندگی نشہبازی کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہے اور دوسرا اسکی جو اس بری عادت کو تبدیل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے اکثر نابال اور ابیجیل کے گھرانے کے مشابہ ہیں۔a
قابلفہم طور پر، اس وقت بڑا سکون محسوس ہوتا ہے جب کوئی نشہباز بہتر ہونا شروع کر دیتا ہے۔ لیکن یہ محض ابتدا ہی ہے۔ ذرا ایک ایسے بڑے طوفانبادوباراں کا تصور کریں جو ایک چھوٹے قصبے پر بربادی لے آتا ہے۔ گھر گر رہے ہیں، درخت اکھڑ رہے ہیں، ٹیلیفون کی تاریں زمین پر گر رہی ہیں۔ جب یہ طوفان ختم ہو جاتا ہے تو بڑی مسرت کا سماں ہوتا ہے۔ لیکن اب وسیعتر مرمت کا کام درکار ہے۔ یہی بات اس وقت بھی صادق آتی ہے جب ایک ساتھی بہتر ہونا شروع کرتا ہے۔ ٹوٹے ہوئے رشتوں کو ازسرنو بحال کیا جانا چاہیے۔ اعتماد اور وفاداری کو پھر سے قائم کیا جانا ہے۔ رابطے کے سلسلے کو دوبارہ استوار کرنا چاہئے۔ ایک واپس پلٹنے والے نشہباز کیلئے یہ بتدریج ازسرنو بحالی اس ”نئی انسانیت“ کا ایک حصہ ہے جسے پیدا کرنے کا تقاضا بائبل مسیحیوں سے کرتی ہے۔ اس نئی انسانیت میں ”عقل کی روحانی حالت میں نئے بنتے [جانا]“ بھی شامل ہے۔—افسیوں ۴:۲۲-۲۴۔
ایک بائبل مطالعے نے لینارڈ اور ایلین کو منشیات کے ناجائز استعمال پر قابو پانے کے قابل بنایا، لیکن عقل کی روحانی حالت ابھی پوری طرح سے حاصل نہیں ہوئی تھی۔b لہذا جلد ہی دوسری نشہ کی عادتیں غالب آ گئیں۔ ایلین کہتی ہے، ”۲۰ سال تک ہم نے بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے اور ایک اطمینانبخش شادیشدہ زندگی بسر کرنے کی کوشش کی لیکن یہ ہمیشہ ہماری پہنچ سے باہر تھا۔ ہماری عادتیں جڑ پکڑ چکی تھیں۔ ہم ان حالتوں کا مطالعہ کرنے اور دعا کے ذریعہ بھی چھٹکارا حاصل نہ کرسکے۔“
لینارڈ اور ایلین نے اپنی نشہ کی عادتوں کی وجوہات کو سمجھنے کیلئے مشورت کیلئے کوشش کی۔ ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کی طرف سے بچوں کیساتھ بدسلوکی جنسی صحبت، الکحل کے غلط استعمال اور خواتین کیلئے واجب احترام کی بابت بروقت مواد خصوصی امداد ثابت ہوا ہے۔c (متی ۲۴:۴۵-۴۷) ایلین کہتی ہے، ”ہمیں نقصان کی تلافی کرنے اور اپنے رشتے کو دوبارہ بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔“
مسائل کو حل کرنا
ربقہ کو اپنے بیٹے عیسو کی بیویوں پر ناقابلبرداشت ذہنی کوفت ہوئی۔ اس خوف سے کہ کہیں اسکا دوسرا بیٹا یعقوب بھی عیسو کے نمونے پر نہ چل نکلے، ربقہ نے اپنے شوہر اضحاق کو یہ کہتے ہوئے اپنی مایوسی کا اظہار کیا: ”میں حتی لڑکیوں کے سبب سے اپنی زندگی سے تنگ ہوں۔ سو اگر یعقوب حتی لڑکیوں میں سے جیسی اس ملک کی لڑکیاں ہیں کسی سے بیاہ کر لے تو میری زندگی میں کیا لطف رہیگا؟“—پیدایش ۲۷:۴۶۔
غور کریں کہ جب ربقہ نے اپنے احساسات کا اظہار مستقلمزاجی سے کیا تو اس نے اضحاق کی ذات پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔ اس نے یہ نہیں کہا، ”یہ سب تمہارا قصور ہے!“ یا یہ کہ ”بہتر ہوتا کہ تم حالات کو قابو میں رکھتے!“ بلکہ اسکی بجائے، یہ بیان کرنے کیلئے کہ اس مشکل نے اسے کیسے متاثر کیا ہے ربقہ نے اسم اشارہ ”میں“ استعمال کیا۔ اس رسائی نے اضحاق کے اندر اپنی عزت بچانے کی خواہش کی بجائے ہمدردی کو تحریک دی۔ اپنی ذات پر حملہ نہ محسوس کرتے ہوئے، ربقہ کی استدعا کیلئے اضحاق کا ردعمل واضح طور پر فوری تھا۔—پیدایش ۲۸:۱، ۲۔
شوہر اور بیویاں ربقہ کے نمونے سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ جب کوئی جھگڑا پیدا ہوتا ہے تو ایک دوسرے پر حملہ کرنے کی بجائے مسئلے پر حملہ کریں۔ ربقہ کی طرح، اپنی پریشانی کا اظہار اس نکتہءنظر کیساتھ کریں کہ یہ آپکو کیسے متاثر کئے ہوئے ہے۔ یہ کہنا زیادہ مؤثر ہے، ”میں پریشان ہوں کیونکہ ...“ یا ”مجھے غلطفہمی کا احساس ہے کیونکہ ...“ بجائے اسکے کہ یہ کہا جائے ”آپ مجھے پریشان کرتے ہیں!“ یا ”آپ میری بات کبھی نہیں سمجھتے!“
پائیدار ہونے سے کہیں زیادہ
پہلے انسانی جوڑے آدم اور حوا کی شادی، ایک خاندان کے اندر بیٹے بیٹیاں پیدا کرنے کیساتھ ساتھ، کئی صدیوں تک قائم رہی۔ (پیدایش ۵:۳-۵) لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انکی شادی قابلتقلید تھی۔ شروع ہی میں، خودمختاری کی روح اور خالق کے راست قوانین کیلئے بےپروائی نے ان کے اس ایک تن ہونے کے بندھن کا ستیاناس کر دیا تھا۔
اسی طرح، آج کی کوئی شادی شاید پائیدار ہو، لیکن شاید رابطے کیلئے ضروری عناصر سے عاری ہو۔ محفوظ بنا لینے والے دلائل اور نامناسب شخصیتی عادتوں کو شاید ختم کرنے کی ضرورت ہو۔ (مقابلہ کریں ۲-کرنتھیوں ۱۰:۴، ۵۔) یہ ایک جاری رہنے والا تعلیمی عمل ہے۔ لیکن اسکے لئے جدوجہد سودمند ہے۔ یہوواہ خدا ازدواجی بندوبست میں بہت گہری دلچسپی رکھتا ہے، چونکہ وہ خود اسکا خالق ہے۔ (ملاکی ۲:۱۴-۱۶، عبرانیوں ۱۳:۴) اسلئے، اگر ہم اپنا کردار ادا کرتے ہیں تو ہم اسکا اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہماری کاوشوں کو تسلیم کرے گا اور ازدواجی رابطے میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ کو عبور کرنے کیلئے درکار حکمت اور قوت ہمیں عطا کریگا۔—مقابلہ کریں زبور ۲۵:۴، ۵، ۱۱۹:۳۴۔ (۴ ۸/۱ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a الکحل کا شکار خاندانوں کی مدد کی بابت اویک! کے شمارے مئی ۲۲، ۱۹۹۲ کے ۳-۷ صفحات پر گفتگو کی گئی ہے۔
b نام تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔
c اویک! اکتوبر ۸، ۱۹۹۱، مئی ۲۲، ۱۹۹۲، اور جولائی ۸، ۱۹۹۲ کے شماروں کو دیکھیں۔
[تصویر]
جب کوئی جھگڑا اٹھ کھڑا ہو تو ایک دوسرے پر حملہ کرنے کی بجائے اس مسئلے پر حملہ کریں۔
[تصویر]
جذبات کا اظہار کریں، الزامتراشی نہ کریں