”لگتا ہے کہ ہم گفتگو کر ہی نہیں سکتے!“
مائیکل، ایک وکیل کو اثرآفرین رابطہدان ہونا ہی ہے۔ اس کی ملازمت اسکا تقاضا کرتی ہے۔ لیکن شادی کے ۱۶ سال بعد، مائیکل کو مجبوراً یہ تسلیم کرنا پڑا کہ جب وہ اپنی بیوی ایڈریئن کے پاس گھر واپس آتا تو اسکی رابطہ کی مہارتیں غائب ہوئی معلوم ہوتیں۔ مائیکل یاد کرتا ہے، ”نکتہچینی کرنا، طعنے دینا، آیڈرئین اور میں ہمیشہ ایک دوسرے کے پیچھے پڑے رہتے تھے، اور میں نے سوچا کہ یہ ہمیں تھکا ہی دیگا۔ میں نے یہ سوچا کہ آیا بےاطمینانی اور بگاڑ کی مسلسل بوچھاڑ ہی شادی ہے۔ اگر اکھٹے رہ کر ہماری باقی زندگیوں کا انجام بھی یہی ہونا ہے تو میں شادی سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہوں گا—یہ کوئی مذاق نہیں۔ میں اس قسم کے متواتر بگاڑ اور تناؤ کیساتھ ۲۰، ۳۰، یا ۴۰ سال بالکل نہیں گذار سکتا۔“
اس طرح کے جذبات کا واسطہ صرف مائیکل اور ایڈرئین سے ہی نہیں یہ ان بہتیرے جوڑوں کیلئے حقیقت ہیں جن کا رشتہ لڑائی کرنے اور لڑائی بند کرنے کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہتا ہے۔ سادہ سی باتچیت زبانی جنگ میں بدل جاتی ہے۔ انہیں وہ باتیں ”سنائی“ دیتی ہیں جو کہی نہیں گئیں۔ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جن کا ارادہ نہیں ہوتا۔ وہ حملہ کرتے اور الزامتراشی کرتے ہیں، اور اسکے بعد، ناراضگی والی خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ جدا بھی نہیں ہوتے لیکن وہ حقیقت میں ”ایک جسم“ بھی نہیں ہیں۔ (پیدایش ۲:۲۴) ان کا رشتہ تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ پیچھے ہٹنے کا مطلب علیحدگی اختیار کرنا ہوگا: آگے بڑھنے کا مطلب اختلافات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ان میں سے کسی بھی انتخاب کی تکلیف سے بچنے کیلئے یہ جوڑے ایک دوسرے سے کسی حد تک جذباتی فاصلہ رکھنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
ایسے جوڑوں کو اپنی شادی کے سلسلے میں ”درست مشورت“ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ (امثال ۱:۵) یہ مشورت خدا کے کلام، بائبل میں دستیاب ہے۔ تیمتھیس کے نام پولس کا دوسرا خط اسکی تصدیق کرتا ہے کہ بائبل ”تعلیم، اور الزام اور اصلاح ... کرنے کے لیے فائدہمند ... ہے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶) یہ ازدواجی رابطے کے خاتمے کو بہتر بنانے میں کامیاب ثابت ہوتا ہے، جیسے کہ ہم آگے چل کر دیکھینگے۔ (۳ ۸/۱ w۹۳)