یہوواہ کون ہے؟
”یہوواہ کون ہے؟“ یہ سوال کوئی ۳،۵۰۰ سال پہلے مصر کے متکبر بادشاہ، فرعون نے اٹھایا تھا۔ گستاخی نے اسے مزید یہ کہنے کی ترغیب دی: ”میں یہوواہ کو بالکل نہیں جانتا۔“ فرعون کے سامنے کھڑے ہوئے دو اشخاص جانتے تھے کہ یہوواہ کون تھا۔ وہ اسرائیل کے قبیلے لاوی کے دو سگے بھائی موسی اور ہارون تھے۔ یہوواہ نے انہیں یہ مطالبہ کرنے کیلئے بھیجا تھا کہ مصر کا حکمران اسرائیلوں کو بیابان میں مذہبی عید منعقد کرنے کیلئے بھیجے۔—خروج ۵:۱، ۲ (NW)۔
فرعون اپنے سوال کا جواب نہیں چاہتا تھا۔ اس کی حکمرانی کے تحت، کاہنوں نے سینکڑوں دیوتاؤں کی پرستش کو رواج دیا۔ تعجب نہیں کہ خود فرعون کو بھی ایک معبود خیال کیا جاتا تھا! مصری علمالاساطیر کے مطابق، وہ سورج دیوتا را کا بیٹا اور شکرا جیسے سر والے دیوتا ہورس کی تجسیم تھا۔ فرعون کو ”خدائےقادر“ اور ”ابدی“ جیسے القاب سے مخاطب کیا جاتا تھا۔ پس اس میں کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ وہ حقارتآمیز لہجے میں پوچھے گا: ”یہوواہ کون ہے کہ مجھے اسکی بات ماننی چاہئے؟“
موسی اور ہارون کو اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ فرعون جانتا تھا کہ یہوواہ وہ خدا ہے جسکی اسرائیلی پرستش کرتے تھے جو اس وقت مصری غلامی میں تھے۔ لیکن فرعون اور تمام مصر جلد ہی یہ جان جائیگا کہ یہوواہ ہی سچا خدا ہے۔ اسی طرح آجکل، یہوواہ زمین پر سب کو اپنے نام اور الوہیت سے واقف کرائے گا۔ (حزقیایل ۳۶:۲۳) لہذا ہم اس بات پر غور کرنے سے مستفید ہو سکتے ہیں کہ کیسے یہوواہ خدا نے قدیم مصر میں اپنے نام کی بڑائی کرائی۔
مصری معبودوں سے برتر
جب فرعون نے گستاخانہ لہجے میں یہ پوچھا کہ یہوواہ کون تھا تو اس نے آنے والے نتائج کی توقع نہیں کی تھی جنکا اسے تجربہ ہوا تھا۔ مصر پر دس آفتیں لانے سے یہوواہ نے خود اس کا جواب دیا۔ وہ آفتیں محض قوم کے خلاف ہی مصیبتیں نہ تھیں۔ وہ مصر کے معبودوں کے خلاف مصیبتیں تھیں۔
ان آفتوں نے مصری دیوتاؤں پر یہوواہ کی برتری کو ظاہر کیا۔ (خروج ۱۲:۱۲، گنتی ۳۳:۴) ذرا اس چیخوپکار کا تصور کریں جب یہوواہ نے دریائےنیل اور مصر کے تمام پانیوں کو خون میں تبدیل کر دیا! اس معجزہ کی بدولت فرعون اور اسکے لوگوں نے نیل کے دیوتا ہاپی پر یہوواہ کی برتری کو جان لیا تھا۔ نیل میں مچھلیوں کی موت بھی مصری مذہب کیلئے ایک آفت ہی تھی کیونکہ بعض مخصوص مچھلیوں کی اقسام کو مقدس خیال کیا جاتا تھا۔—خروج ۷:۱۹-۲۱۔
اسکے بعد، یہوواہ مصر پر مینڈکوں کی آفت لے آیا۔ اس نے مصری مینڈک دیوی ہیکٹ کو بدنام کر دیا۔ (خروج ۸:۵-۱۴) تیسری آفت نے جادوگر مذہبی راہنماؤں کو پریشان کر دیا جو کہ گرد کو جوؤں میں بدل دینے کے یہوواہ کے معجزے کی نقل نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا ”یہ خدا کا کام ہے۔“ (خروج ۸:۱۶-۱۹) مصری دیوتا توتھ جسے جادوگری کے فن کا موجد خیال کیا جاتا ہے وہ ان جھوٹے فریبیوں کی مدد کرنے کے قابل نہیں تھا۔
فرعون کو پتہ چل رہا تھا کہ یہوواہ کون تھا۔ یہوواہ وہ خدا تھا جو موسی کے ذریعے اپنے مقصد کا اعلان کروا سکتا اور پھر مصریوں پر معجزانہ آفتیں لا کر اسے سرانجام دے سکتا تھا۔ اسکے علاوہ، یہوواہ ان مصیبتوں کو اپنی مرضی کے مطابق شروع اور ختم کر سکتا تھا۔ تاہم، اس تمام علم نے فرعون کو یہوواہ کا فرمانبردار بننے کی تحریک نہ دی۔ اس کی بجائے، مصر کے مغرور بادشاہ نے ہٹدھرمی سے یہوواہ کی مزاحمت جاری رکھی۔
چوتھی آفت کے دوران، مچھروں نے ملک کو ویران کر دیا، گھروں پر حملہ کر دیا اور اغلب ہے کہ ساری ہوا میں پھیل گئے، جو بذاتخود دیوتا شو یا آسمان کی ملکہ دیوی آئسس کے تجسم میں پرستش کی چیز تھی۔ اس کیڑے کیلئے عبرانی لفظ کا ترجمہ ”بڑی مکھی“ ”کتا مکھی“ اور ”بھنورا“ کیا گیا ہے۔ (نیو ورلڈ ٹرانسلیشن، سپجوجنٹ، ینگ) اگر یہ بھنورا (مصر کا خاص مچھر) تھا تو مصریوں پر ایسے کیڑوں نے حملہ کیا تھا جنہیں وہ مقدس سمجھتے تھے اور بلاشبہ ان کو اپنے پاؤں تلے روندے بغیر لوگ ادھرادھر نہ جا سکے ہونگے۔ بہرصورت، اس آفت نے فرعون کو یہوواہ کی بابت ایک نئی بات سکھائی۔ اگرچہ مصر کے دیوتا اپنے پرستاروں کو مچھروں سے بچا نہ سکے، تو بھی یہوواہ اپنے لوگوں کو بچانے کے قابل تھا۔ اس آفت نے اور اسکے بعد آنے والی تمام کی تمام آفتوں نے مصریوں کو دکھ دیا لیکن اسرائیلیوں کو نہیں۔—خروج ۸:۲۰-۲۴۔
پانچویں آفت مصر کے مویشیوں پر مری لے لائی۔ اس مصیبت نے ہیتھور ایپس، اور گائے کے دھڑ والی آسمانی دیوی نت کو رسوا کیا۔ (خروج ۹:۱-۷) چھٹی آفت انسانوں اور جانوروں کے جسموں پر پھوڑوں کیساتھ نازل ہوئی جس سے تھوتھ، آئسس، اور پتا معبودوں کو جنہیں غلط طور پر شفا دینے کی قوت رکھنے والے خیال کیا جاتا تھا ذلیل کر دیا۔—خروج ۹:۸-۱۱۔
ساتویں آفت بھاری اولوں کی تھی، جن میں سے رعد اور آگ برس رہی تھی۔ اس مصیبت نے دیوتا ریشپو کو جو کہ برق کا مفروضہ مالک سمجھا جاتا تھا اور تھوتھ کو جسے بارش اور بادل کی گھنگرج پر حاوی خیال کیا جاتا تھا شرمسار کر دیا۔ (خروج ۹:۲۲-۲۶) آٹھویں آفت جو کہ ٹڈیوں کی وبا تھی، اس نے زرخیزی کے دیوتا من پر جو مبیّنہ طور پر فصلوں کا محافظ تھا یہوواہ کی برتری کو نمایاں کیا۔ (خروج ۱۰:۱۲-۱۵) نویں مصیبت، مصر پر تین دن تک تاریکی چھا جانے والی آفت نے سورج دیوتا را اور ہورس جیسے مصری دیوتاؤں کی تحقیر کی۔—خروج ۱۰:۲۱-۲۳۔
ان نو تباہکن آفتوں کے باوجود، فرعون نے اسرائیلیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا۔ اسکی سخت دلی مصر کو بڑی مہنگی پڑی جب خدا آخری اور دسویں آفت مصر پر لایا—انسان اور حیوان کے پہلوٹھوں کی موت۔ یہانتک کہ فرعون کا پہلوٹھا بیٹا بھی مر گیا اگرچہ اسے ایک معبود تصور کیا جاتا تھا۔ یوں یہوواہ نے ”مصر کے سب دیوتاؤں کو سزائیں“ دیں۔—خروج ۱۲:۱۲، ۲۹۔
اسکے بعد فرعون نے موسی اور ہارون کو بلوا کر کہا: ”تم بنی اسرائیل کو لے کر میری قوم کے لوگوں میں سے نکل جاؤ اور جیسا کہتے ہو جا کر خداوند [”یہوواہ،“ NW] کی عبادت کرو۔ اور اپنے کہنے کے مطابق اپنی بھیڑ بکریاں اور گائے بیل بھی لیتے جاؤ اور میرے لئے بھی دعا کرنا۔“—خروج ۱۲:۳۱، ۳۲۔
اپنے لوگوں کا محافظ
اسرائیلی وہاں سے رخصت ہوئے لیکن جلد ہی فرعون کو ایسا لگا کہ وہ بیابان میں بےمقصد پھر رہے ہیں۔ اب وہ اور اسکے خادم کہنے لگے: ”ہم نے یہ کیا کیا کہ اسرائیلیوں کو اپنی خدمت سے چھٹی دے کر انکو جانے دیا۔“ (خروج ۱۴:۳-۵) اس غلام قوم کا ہاتھ سے نکل جانا مصر کیلئے ایک بھاری معاشی مصیبت ہوگی۔
فرعون نے اپنی فوج کو جمع کیا اور فیہخیروت تک اسرائیل کا پیچھا کیا۔ (خروج ۱۴:۶-۹) فوجی اعتبار سے تو حالات مصریوں کے حق میں سازگار دکھائی دے رہے تھے کیونکہ اسرائیلی سمندر اور پہاڑوں کے درمیان پھنس چکے تھے۔ لیکن یہوواہ نے انکے اور مصریوں کے درمیان بادل کا ستون حائل کرنے سے اسرائیلیوں کو بچانے کیلئے کارروائی کی۔ یہ مصریوں کی طرف ”بادل بھی ثابت ہوا اور اندھیرا بھی،“ اور یوں یہ حملے کو روک رہا تھا۔ اسکی دوسری طرف، وہ بادل چمک رہا تھا اور اسرائیلیوں کو ”رات کو روشنی دے رہا تھا۔“—خروج ۱۴:۱۰-۲۰، NW۔
مصری تباہی اور بربادی کرنے کا تہیہ کئے ہوئے تھے لیکن وہ بادل انہیں روکے ہوئے تھا۔ (خروج ۱۵:۹) جب وہ وہاں سے ہٹا تو کیا عجیب کام تھا! بحرقلزم کا پانی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا اور اسرائیلی خشک زمین سے ہو کر دوسری جانب پار جا رہے تھے! فرعون اور اسکی فوجیں اپنے سابقہ غلاموں کو پکڑنے اور نیستونابود کرنے کے عزممُصمم کیساتھ سمندر میں کود پڑیں۔ تاہم، مصر کے مغرور حکمران نے عبرانیوں کے خدا پر یقین نہیں کیا تھا۔ یہوواہ نے انکے رتھوں کے پہیے نکال کر مصریوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔—خروج ۱۴:۲۱-۲۵ الف۔
مصر کے سورما لوگ چلائے، ”آؤ ہم اسرائیلیوں کے سامنے سے بھاگیں کیونکہ خداوند [”یہوواہ،“ NW] انکی طرف سے مصریوں کیساتھ جنگ کرتا ہے۔“ فرعون اور اسکے آدمیوں کو یہ احساس بڑی دیر میں ہوا۔ دوسرے کنارے پر محفوظ، موسی نے اپنا ہاتھ سمندر پر بڑھایا اور پانی پلٹ کر آیا اور فرعون اور اسکی فوجوں کو مار دیا۔—خروج ۱۴:۲۵ ب-۲۸۔
تجربہ سے سکھائے گئے اسباق
تو پھر، یہوواہ کون ہے؟ متکبر فرعون کو اس سوال کا جواب مل گیا تھا۔ قوموں کے ”محض بت [”بےوقعت خداؤں،“ NW]“ کے بالکل برعکس مصر میں واقعات نے ظاہر کر دیا کہ یہوواہ ہی سچا خدا ہے۔ (زبور ۹۶:۴، ۵) اپنی پرجلال طاقت سے یہوواہ نے ”آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔“ وہ عظیم چھڑانے والا بھی ہے، وہی جو ”اپنی قوم اسرائیل کو ملک مصر سے نشانوں اور عجائب اور قوی ہاتھ اور بلند بازو سے اور بڑی ہیبت کے ساتھ نکال لایا۔“ (یرمیاہ ۳۲:۱۷-۲۱) اس نے کتنے عمدہ طریقے سے یہ ثابت کر دیا کہ یہوواہ اپنے لوگوں کی حفاظت کر سکتا ہے!
فرعون نے تلخ تجربے سے یہ سبق سیکھے۔ درحقیقت آخری سبق نے تو اسکی جان بھی لے لی۔ (زبور ۱۳۶:۱، ۱۵) وہ بڑا عقلمند ثابت ہؤا ہوتا اگر اس نے اسوقت فروتنی کا مظاہرہ کیا ہوتا جب اس نے پوچھا تھا، ”یہوواہ کون ہے؟“ (NW) تب وہ حاکم اسے حاصل ہونے والے جواب کی مطابقت میں کارروائی کر سکتا تھا۔ خوشی کی بات ہے بہتیرے فروتن لوگ آج بھی یہ سیکھ رہے ہیں کہ یہوواہ کون ہے۔ اور یہ کہ اسکی شخصیت کس قسم کی ہے؟ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ دعا ہے کہ اگلا مضمون وہ جسکا نام یہوواہ ہے اسکے لئے آپکی قدردانی کو بڑھائے۔—زبور ۸۳:۱۸۔ (۳ ۷/۱۵ w۹۳)
[صفحہ 3 پر تصویر کا حوالہ]
.Pictorial Archive )Near Eastern History( Est