یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏7 ص.‏ 25-‏29
  • اخلاق کو بگا‌ڑنے والی موسیقی سے بچیں!‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اخلاق کو بگا‌ڑنے والی موسیقی سے بچیں!‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • موسیقی کا غلط استعمال
  • احتیاط کی ضرورت
  • ریپ میوزک—‏بغاوت کی موسیقی
  • ہیوی میٹل—‏جنس، تشدد، اور شیطان‌پرستی
  • جو کچھ آپ بوتے ہیں وہی کاٹنا
  • خبردار رہیں
  • میں کیسے موسیقی کو اس کے مقام پر رکھ سکتا ہوں؟‏
    جاگو!‏—‏1993ء
  • موسیقی کی طاقت
    جاگو!‏—‏1999ء
  • موسیقی ہم پر کیوں اثرانداز ہوتی ہے
    جاگو!‏—‏1999ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏7 ص.‏ 25-‏29

اخلاق کو بگا‌ڑنے والی موسیقی سے بچیں!‏

‏”‏غور سے دیکھو کہ کس طرح چلتے ہو۔ نادانوں کی طرح نہیں بلکہ داناؤں کی مانند چلو۔ اور وقت کو غنیمت جانو کیونکہ دن برے ہیں۔“‏—‏افسیوں ۵:‏۱۵، ۱۶‏۔‏

۱.‏ موسیقی کو ”‏ایک الہٰی بخشش“‏ کیوں کہا جا سکتا ہے؟‏

‏”‏موسیقی .‏.‏.‏ ایک الہٰی بخشش ہے۔“‏ لولو رمسے وائلی نے اپنی کتاب بائبل میوزک میں یوں لکھا۔ قدیم وقتوں ہی سے، خداترس مردوں اور عورتوں نے اس جذبے کی قدرافزائی کی ہے۔ موسیقی کے ذریعے، انسان نے اپنے گہرے جذبات—‏خوشی، غم، سخت توہین اور محبت کا اظہار کیا ہے۔ یوں موسیقی نے اس پوری متبرک کتاب میں بیان کئے جانے سے بائبل وقتوں میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔—‏پیدایش ۴:‏۲۱،‏ مکاشفہ ۱۸:‏۲۲‏۔‏

۲.‏ بائبل وقتوں میں موسیقی کو یہوواہ کی ستائش کرنے کیلئے کیسے استعمال کیا گیا تھا؟‏

۲ یہ یہوواہ کی پرستش ہی تھی جس میں موسیقی نے شاندار اظہارات حاصل کئے۔ یہوواہ خدا کی حمد کیلئے بلندترین تعریفی کلمات میں سے کچھ جو کبھی استعمال کئے گئے تھے انکا اصل سہرا موسیقی کے سر ہے۔ زبورنویس داؤد نے لکھا، ”‏میں گیت گا کر خدا کے نام کی تعریف کرونگا۔“‏ (‏زبور ۶۹:‏۳۰‏)‏ موسیقی کو خلوت میں دعائیہ غوروفکر کے لوازمہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ ”‏مجھے رات کو اپنا گیت یاد آتا ہے۔ میں اپنے دل ہی میں سوچتا ہوں۔ میری روح بڑی تفتیش میں لگی ہے،“‏ آسف نے لکھا۔ (‏زبور ۷۷:‏۶‏، NW)‏ یہوواہ کے مقدس میں، موسیقی کو اعلی پیمانے پر منظم کیا گیا تھا۔ (‏۱-‏تواریخ ۲۳:‏۱-‏۵،‏ ۲-‏تواریخ ۲۹:‏۲۵، ۲۶‏)‏ بعض اوقات، موسیقی میں مہارت رکھنے والوں کی بھاری تعداد کو منظم کیا جاتا تھا، جیسے کہ ہیکل کی مخصوصیت پر، جب ۱۲۰ نرسنگے پھونکنے والوں کو استعمال کیا گیا تھا۔ (‏۲-‏تواریخ ۵:‏۱۲، ۱۳‏)‏ ہمارے پاس کوئی ایسا ریکارڈ تو موجود نہیں کہ یہ پرجلال موسیقی کی آواز کیسی تھی، لیکن کتاب دی میوزک آف دی بائبل بیان کرتی ہے:‏ ”‏سنجیدہ مواقع پر ہیکل کی موسیقی کے عمومی اثر کی بابت ایک رائے قائم کرنا مشکل نہ ہوگا۔ .‏.‏.‏ اگر ہم میں سے کسی کو اب ایک ایسے منظر کے بیچ پہنچایا جا سکتا تو احترام اور جلال کا ایک شدید احساس ناگزیر ہوگا۔“‏ a

موسیقی کا غلط استعمال

۳، ۴.‏ کس طریقے سے خدا کے لوگوں اور انکی ہمسایہ بت‌پرست قوموں نے موسیقی کی بخشش کا غلط استعمال کیا؟‏

۳ تاہم، موسیقی کو ایک اعلی طریقے سے ہمیشہ استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ کوہ‌سینا پر، موسیقی کو سونے کے بچھڑے کی بت‌پرستانہ پرستش کی ترغیب دینے کیلئے استعمال کیا گیا تھا۔ (‏خروج ۳۲:‏۱۸)‏ بعض اوقات موسیقی کو متوالے ہونے کے طرزعمل اور عصمت‌فروشی کیساتھ بھی منسلک کیا جاتا تھا۔ (‏زبور ۶۹:‏۱۲،‏ یسعیاہ ۲۳:‏۱۵‏)‏ اسرائیل کی بت‌پرست ہمسایہ قومیں اسی طرح اس الہٰی بخشش کے غلط استعمال کرنے کی مجرم تھیں۔ انٹرپریٹرز ڈکشنری آف دی بائبل کہتی ہے کہ ”‏سور اور فنیکے میں تقریباً ہر قسم کی مقبول موسیقی نے باروری کی دیوی عستارات کی پرستش کو منعکس کیا۔ پس مقبول گیت عام طور پر جنسی رنگ رلیوں کا آغاز ہوتا تھا۔“‏ اسی طرح سے قدیم یونانیوں نے مقبول ”‏شہوانی رقصوں“‏ کیساتھ موسیقی کا استعمال کیا۔‏

۴ جی‌ہاں، موسیقی آمادہ کرنے، گرویدہ کرنے، اور متاثر کرنے والی قوت رکھتی ہے۔ عشروں پہلے، جان سٹینر کی کتاب دی میوزک آف دی بائبل نے تو اس حد تک دعوی کیا:‏ ”‏اس دور میں نسل‌انسانی پر کوئی فن اتنا پرزور اثر نہیں کرتا جتنا کہ فن‌موسیقی کرتا ہے۔“‏ آجکل موسیقی لگاتار ایک طاقتور اثر کرتی ہے۔ تاہم، ایک غلط قسم کی موسیقی خداترس نوجوانوں کیلئے ایک حقیقی خطرہ بن سکتی ہے۔‏

احتیاط کی ضرورت

۵.‏ (‏ا)‏ بہت سے نوعمروں کی زندگیوں میں موسیقی کتنا بڑا کردار ادا کرتی ہے؟ (‏ب)‏ نوجوان لوگوں کے خوش ہونے کی بابت یہوواہ کا کیا نظریہ ہے؟‏

۵ اگر آپ ایک نوجوان شخص ہیں تو آپ خوب جانتے ہیں کہ آپکی عمر کے بہت سے لوگوں کیلئے موسیقی—‏خاص طور پر مختلف قسم کی پاپ یا راک موسیقی—‏کتنی اہم ہے۔ موسیقی کو تو ”‏نوجوانوں کا جزولازم کہا گیا ہے۔“‏ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ میں ایک اوسط درجے کا نوجوان اپنے سکول کے آخری چھ سالوں میں ہر روز چار گھنٹوں سے زیادہ راک موسیقی کو سنے گا!‏ یقینی طور پر یہ توازن کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بات نہیں کہ کسی ایسی چیز سے لطف‌اندوز ہونے میں کوئی غلطی ہے جو آپ کو خوشی یا خرمی کا احساس دیتی ہے۔ یقینی طور پر یہوواہ، جو خوش‌کن موسیقی کا خالق ہے، وہ نوجوان لوگوں سے غمزدہ اور اداس رہنے کی توقع نہیں کرتا۔ درحقیقت، وہ اپنے لوگوں کو حکم دیتا ہے:‏ ”‏اے صادقو!‏ خداوند میں خوش‌وخرم رہو اور اے راست دلو!‏ خوشی سے للکارو۔“‏ (‏زبور ۳۲:‏۱۱‏)‏ نوجوانوں سے اسکا کلام کہتا ہے:‏ ”‏اے جوان تو اپنی جوانی میں خوش ہو اور اسکے ایام میں اپنا جی بہلا۔“‏—‏واعظ ۱۱:‏۹‏۔‏

۶.‏ (‏ا)‏ نوجوانوں کو موسیقی کے اپنے انتخاب میں ہوشیار ہونے کی کیوں ضرورت ہے؟ (‏ب)‏ آجکل کی موسیقی پہلی نسلوں کی موسیقی کی نسبت زیادہ قابل‌اعتراض کیوں ہے؟‏

۶ تاہم، موسیقی کے اپنے انتخاب میں آپکے لئے محتاط ہونے کی اچھی وجہ ہے۔ پولس رسول نے افسیوں ۵:‏۱۵، ۱۶ میں کہا:‏ ”‏غور سے دیکھو کہ کس طرح چلتے ہو۔ نادانوں کی طرح نہیں بلکہ داناؤں کی مانند چلو۔ اور وقت کو غنیمت جانو کیونکہ دن برے ہیں۔“‏ بعض نوجوان شاید اعتراض کریں، جیسے کہ ایک نوجوان لڑکی نے کیا:‏ ”‏جب ہمارے والدین جوان تھے تو انہوں نے اپنی پسند کی موسیقی کو سنا۔ تو ہم اپنی پسند کی موسیقی کو کیوں نہیں سن سکتے؟“‏ موسیقی جس سے آپکے والدین نے آپکی عمر میں لطف اٹھایا ہو سکتا ہے کہ اسکے بھی کچھ قابل‌اعتراض پہلو تھے۔ قریبی جائزہ لینے پر، بہت سے مقبول معیاروں کی حیران‌کن تعداد جنسی نامناسب اشارات اور بداخلاقی کیلئے پوشیدہ حوالہ‌جات ثابت ہوئی ہے۔ لیکن جسکا کبھی اشارہ دیا جاتا تھا اسے اب وضاحت سے بیان کیا جاتا ہے۔ ایک مصنف نے بیان دیا ”‏بچوں پر اب ایسے پیمانے پر واضح پیغامات کی بھرمار ہے جسے کسی بھی چیز کے برعکس ہماری تہذیب نے کبھی دیکھا ہو۔“‏

ریپ میوزک—‏بغاوت کی موسیقی

۷، ۸.‏ (‏ا)‏ ریپ موسیقی کیا ہے، اور اسکی مقبولیت کا کیا سبب ہے؟ (‏ب)‏ کونسی چیز ایک شخص کی ریپ طرززندگی سے وابستگی کو ظاہر کرتی ہے؟‏

۷ مثال کے طور، ریپ میوزک کے مروج بے‌پناہ شوق پر غور کریں۔ ٹائم میگزین کے مطابق، ریپ ”‏ایک قابل‌تصدیق، عالمگیر انقلابی تال“‏ بن گیا ہے۔ اور بہت زیادہ مقبول ہے۔ برازیل، یورپ، جاپان، روس، اور ریاستہائے متحدہ میں اکثر مکمل طور پر دھن کے بغیر، اسکے نغمات کو سازوں کی ایک زوردار تھاپ کے ساتھ گانے کی بجائے بولا جاتا ہے۔ تاہم، یہی وہ زوردار تھاپ ہے جو ریپ کی عظیم تجارتی کامیابی کا راز دکھائی دیتی ہے۔ ”‏جب میں ریپ میوزک سنتی ہوں،“‏ ایک نوجوان جاپانی کہتی ہے، ”‏تو میں پرجوش محسوس کرتی ہوں، اور جب میں ناچ رہی ہوتی ہوں تو میں آزاد محسوس کرتی ہوں۔“‏

۸ ریپ گیتوں کے بول—‏اکثر گالیوں اور بازاری الفاظ کا ایک تندخو امتزاج ہے—‏جو ریپ کی مقبولیت کی ایک اور وجہ دکھائی دیتا ہے۔ روایتی راک گیتوں کے برعکس، جن میں سے بہت سے نوعمری کے رومان کے موضوع پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، ریپ گیت اکثر زیادہ سنگین پیغام رکھتے ہیں۔ بعض ریپ ناانصافی، نسلی عصبیت، اور پولیس کے ظلم‌وتشدد کے خلاف بول اٹھتے ہیں۔ تاہم، بعض اوقات، ترجیع‌بند قافیوں کو قابل‌تصور نہایت ہی بری، گندی زبان میں بیان کیا جاتا ہے۔ ریپ لباس، آرائش، اور جنسی اخلاقیات کے معیاروں کے خلاف بغاوت تشکیل دیتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے۔ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ ریپ ایک شعلہ‌نما طرززندگی بن گیا ہے۔ اسکے حامیوں کی شناخت شوخ حرکات، بازاری الفاظ، اور لباس—‏بیگی جینز، کھلے تسموں کے ساتھ ٹخنوں سے اوپر والے سنیکروں، سونے کی زنجیروں، بیس‌بال ٹوپیوں، اور سیاہ چشموں سے ہوتی ہے۔‏

۹، ۱۰.‏ (‏ا)‏ نوجوانوں کو یہ تعین کرنے کیلئے کن عناصر پر غور کرنا چاہیے کہ آیا ریپ موسیقی اور اسکا طرززندگی ”‏خداوند کو پسند“‏ ہے؟ (‏ب)‏ بعض مسیحی نوجوان کس چیز کو کم اہم سمجھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں؟‏

۹ افسیوں ۵:‏۱۰ میں مسیحیوں سے کہا گیا ہے کہ ”‏تجربہ سے معلوم کرتے رہو کہ خداوند کو کیا پسند ہے۔“‏ اس شہرت کی بابت سوچتے ہوئے جو ریپ نے اپنے لئے حاصل کی ہے، کیا آپ سوچتے ہیں کہ آپ کا خود کو اس میں الجھا لینا ”‏خداوند کو پسند“‏ آئیگا؟ کیا کوئی مسیحی نوجوان ایک ایسے طرززندگی سے منسوب ہونا چاہے گا جسکو بہت سے دنیا کے لوگ بھی ناپسند خیال کرتے ہیں؟ غور کریں کہ ایک تنقید کرنے والے نے ایک ریپ میوزک کنسرٹ کو کیسے بیان کیا:‏ ”‏ریپ سنگروں نے نہایت گندے اور واضح جنسی گیتوں کیساتھ ایکدوسرے کے ساتھ مقابلہ کیا۔ .‏.‏.‏ ناچنے والے مردوں اور عورتوں نے سٹیج پر جنسی کاموں کو تحریک دی۔“‏ کسی نمایاں کام کی بابت، کنسرٹ کے منتظمین میں سے ایک نے کہا:‏ ”‏انکے مُنہ سے نکلنے والا ہر لفظ (‏فحش)‏ ہے۔“‏

۱۰ پھر بھی، اس شام بجائی جانے والی موسیقی کو اوسط درجے کا ریپ خیال کیا گیا۔ کنسرٹ ہال کے ڈائریکٹر نے کہا:‏ ”‏جو کچھ آپ سن رہے ہیں یہ اوسط درجے کا ریپ ہے—‏اتنا ہی وہ دوکانوں سے خرید رہے ہیں۔“‏ یہ بتانا کتنا افسوسناک ہے کہ اس کنسرٹ پر ۴،۰۰۰ اور اس سے زیادہ موجود نوجوانوں میں سے بعض وہ بھی تھے جو یہوواہ کے گواہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں!‏ ظاہری طور پر بعض نے اس حقیقت کو کم اہم سمجھا ہے کہ شیطان ”‏ہوا کی عملداری کا حاکم“‏ ہے۔ وہ اس ”‏روح“‏ [‏یا، مسلّط ذہنی رحجان]‏ پر حکمرانی کرتا ہے ”‏جو اب نافرمانی کے فرزندوں میں تاثیر کرتی ہے۔“‏ (‏افسیوں ۲:‏۲‏)‏ آپ کس کے مفادات کیلئے کام کریں گے اگر آپ ریپ میوزک یا ریپ طرززندگی میں ملوث جاتے ہیں؟ مانا کہ کچھ ریپ نفس‌مضمون کے لحاظ سے کم قابل‌اعتراض ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا یہ کوئی معنی رکھتا ہے کہ کسی بھی طرح کی موسیقی کیلئے پسند کو بڑھایا جائے جو نمایاں طور پر مسیحی معیاروں کے لئے ناگوار ہے۔‏

ہیوی میٹل—‏جنس، تشدد، اور شیطان‌پرستی

۱۱، ۱۲.‏ ہیوی میٹل موسیقی کیا ہے، اور کونسے قابل‌اعتراض پہلو اسکی خاصیت کو بیان کرتے ہیں؟‏

۱۱ موسیقی کی ایک اور مقبول قسم ہیوی میٹل ہے۔ ہارڈ راک کی انتہائی بلندترین آواز کی نسبت ہیوی میٹل کی آواز زیادہ بلند ہے۔ دی جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی‌ایشن میں ایک رپورٹ کہتی ہے:‏ ”‏ہیوی میٹل میوزک .‏.‏.‏ بلند آواز میں تال کے باقاعدہ اتارچڑھاؤ کو نمایاں کرتا ہے اور اس میں نغموں کی بہتات ہے جو نفرت، بدکلامی، جنسی کجروی، اور کبھی کبھار شیطان‌پرستی کی ستائش کرتے ہیں۔“‏ بعض زیادہ مقبول سازندوں کے طائفوں کے تو نام ہی اس قسم کے راک کی سیاہ‌کاری کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان میں ”‏زہر،“‏ ”‏بندوقیں،“‏ اور ”‏موت،“‏ جیسے الفاظ شامل ہیں۔ تاہم، ہیوی میٹل تھریش میٹل اور ڈیتھ میٹل یعنی ہیوی میٹل سے پیداشدہ موسیقی کی ضمنی اقسام کے مقابلے میں کافی حد تک کمزور دکھائی دیتا ہے۔ سازندوں کے ان طائفوں کے نام ”‏آدم‌خور“‏ اور ”‏خبرمرگ“‏ کی اصطلا‌حوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بہت سے ملکوں میں نوجوان شاید محسوس نہ کریں کہ یہ نام کتنے گھناؤنے ہیں کیونکہ وہ انگریزی یا کسی دوسری غیرملکی زبان میں ہیں۔‏

۱۲ ہیوی میٹل میوزک کو باربار نوعمروں کی خودکشی، افسردگی، اور منشیات کے استعمال سے منسلک کیا گیا ہے۔ پرتشدد رویے کیساتھ اسکا تعلق ایک ریڈیو مشیر کیلئے اسکو جرم والا میوزک کہنے کا سبب بنا جیسے کہ ”‏اپنے والدین کو ہلاک کر دینے کیلئے میوزک۔“‏ یہ شیطان‌پرستی کیساتھ تعلق ہے جو بہت سے والدین—‏اور پولیس افسروں کو آگاہ کرتا ہے۔ ایک تفتیشی افسر نے دعوی کیا کہ بعض نوجوانوں کو جو شیطانی پرستش میں جی بہلا رہے ہیں اس موسیقی کے ذریعے پراسرار علم کا سبق دیا گیا تھا۔ وہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ”‏وہ نہیں جانتے کہ وہ کس چیز میں الجھ رہے ہیں۔“‏

۱۳.‏ ہیوی میٹل موسیقی میں الجھنے کا کیا خطرہ ہے؟‏

۱۳ تاہم، مسیحی نوجوانوں کو شیطان کے ”‏حیلوں سے ناواقف“‏ نہیں رہنا چاہیے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۲:‏۱۱‏)‏ بہرصورت، ”‏ہمیں .‏.‏.‏ کشتی .‏.‏.‏ کرنا ہے .‏.‏.‏ ان روحانی فوجوں سے جو آسمانی مقاموں میں ہیں۔“‏ (‏افسیوں ۶:‏۱۲‏)‏ کسی کا موسیقی کے اپنے انتخاب کے ذریعے، شیاطین کو اپنی زندگی میں دعوت دینا، کتنی حماقت ہوگی!‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۲۰، ۲۱‏)‏ تاہم، مسیحی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بظاہر اس موسیقی کی ایک حد تک شائق ہے۔ بعض نے تو موسیقی کے اپنے ذوق کو پورا کرنے کیلئے خفیہ ذرائع کی طرف بھی رجوع کیا ہے۔ ایک جوان لڑکی اعتراف کرتی ہے:‏ ”‏میں ہیوی میٹل سننے کی عادی تھی، بعض اوقات تو تقریباً ساری ساری رات۔ میں ہیوی میٹل [‏شائق]‏ رسالے خریدتی اور انہیں اپنے والدین سے چھپا کر جوتوں کے ڈبوں میں رکھ دیتی تھی۔ میں نے اپنے والدین سے جھوٹ بولا۔ میں جانتی ہوں کہ یہوواہ میرے ساتھ خوش نہیں تھا۔“‏ اویک!‏ رسالے میں ایک مضمون نے اس کی سوچ کو درست کیا۔ کتنے نوجوان ابھی تک ایسی موسیقی کے پھندے میں ہو سکتے ہیں؟‏

جو کچھ آپ بوتے ہیں وہی کاٹنا

۱۴، ۱۵.‏ ہم کیوں یقین کر سکتے ہیں کہ اخلاق کو بگا‌ڑنے والی موسیقی کو سننا منفی اثر کریگا؟ سمجھائیں.‏

۱۴ ایسی موسیقی جو خطرہ پیدا کرسکتی ہے اسکی اہمیت کو کم نہ کریں۔ سچ ہے کہ آپ شاید کسی کو ہلاک کرنے یا جنسی بدکاری کرنے کی طرف مائل نہ ہوں صرف اسلئے کہ آپ نے ایک گیت کو سنا ہے۔ تاہم، گلتیوں ۶:‏۸ کہتی ہے:‏ ”‏جو کوئی اپنے جسم کیلئے بوتا ہے وہ جسم سے ہلاکت کی فصل کاٹیگا۔“‏ ایسی موسیقی کو سننا جو دنیاوی، نفسانی، اور شیطانی ہو، تو یہ آپ پر صرف منفی اثر ہی کر سکتی ہے۔ (‏مقابلہ کریں یعقوب ۳:‏۱۵‏۔)‏ پروفیسر آف میوزک جوزف سٹوسی کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا ہے:‏ ”‏کسی بھی قسم کی موسیقی ہمارے مزاج، جذبات، رجحانات، اور ہمارے حاصل‌شدہ رویے پر اثرانداز ہوتی ہے .‏.‏.‏ کوئی بھی جو کہتا ہے کہ ”‏میں ہیوی میٹل سن سکتا ہوں، لیکن یہ مجھ پر اثرانداز نہیں ہوتی“‏ تو یہ محض غلط ہے۔ یہ صرف مختلف لوگوں پر مختلف درجوں اور مختلف طریقوں سے اثرانداز ہوتی ہے۔“‏

۱۵ ایک مسیحی نوجوان تسلیم کرتا ہے:‏ ”‏میں تھریش میٹل میں اتنی بری طرح سے الجھ گیا تھا کہ میری پوری شخصیت ہی بدل گئی۔“‏ جلد ہی اس نے بدروحوں کی طرف سے مسائل کا سامنا کرنا شروع کر دیا۔ ”‏آخرکار میں نے اپنے البموں (‏موسیقی کی ٹیپوں، ڈسکوں اور ریکارڈوں)‏ سے چھٹکارا حاصل کیا اور بدروحوں سے نجات پائی۔“‏ ایک اور نوجوان اعتراف کرتا ہے:‏ ”‏جس قسم کی موسیقی میں سنتا تھا اسکا تعلق یا تو ارواح‌پرستی، منشیات، یا جنس سے تھا۔ بہت سے نوجوان کہتے ہیں کہ یہ ان پر اثرانداز نہیں ہوتی، لیکن حقیقت میں یہ ہوتی ہے۔ میں عملاً سچائی سے باہر تھا۔“‏ ایک امثال پوچھتی ہے:‏ ”‏کیا ممکن ہے کہ آدمی اپنے سینے میں آگ رکھے اور اسکے کپڑے نہ جلیں؟“‏—‏امثال ۶:‏۲۷‏۔‏

خبردار رہیں

۱۶.‏ آجکل کی موسیقی کے مصنفوں اور موسیقاروں کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟‏

۱۶ پولس نے قدیم افسس میں مسیحیوں کو لکھا:‏ ”‏اسلئے میں یہ کہتا ہوں اور خداوند میں جتائے دیتا ہوں کہ جس طرح غیرقومیں اپنے بیہودہ خیالات کے موافق چلتی ہیں تم آیندہ کو اس طرح نہ چلنا۔ کیونکہ انکی عقل تاریک ہو گئی ہے اور اس نادانی کے سبب سے جو ان میں ہے اور اپنے دلوں کی سختی کے باعث خدا کی زندگی سے خارج ہیں۔“‏ (‏افسیوں ۴:‏۱۷، ۱۸‏)‏ کیا یہ آجکل کی زیادہ‌تر موسیقی کے مصنفوں اور موسیقاروں کی بابت نہیں کہا جا سکتا؟ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ، روزمرہ کی زندگی کی تصویر پیش کرنے والی موسیقی ”‏اس جہان کے خدا،“‏ شیطان ابلیس کے اثر کو منعکس کرتی ہے۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۴‏۔‏

۱۷.‏ نوجوان کس طرح سے موسیقی کا فیصلہ کر سکتے، یا اندازہ لگا سکتے ہیں؟‏

۱۷ ”‏اخیر زمانہ“‏ کی بابت بائبل نے پیشینگوئی کی:‏ ”‏برے اور دھوکاباز آدمی فریب دیتے اور فریب کھاتے ہوئے بگڑتے چلے جائینگے۔“‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱،‏ ۱۳‏)‏ پس آپکو اس کی بابت پہلے کی نسبت کہیں زیادہ خبردار رہنے کی ضرورت ہے کہ آپ کس موسیقی کا انتخاب کرتے ہیں۔ اکثر تو نفرت‌انگیز عنوان ہی ایک البم کو ناموزوں قرار دے دیگا۔ ایوب ۱۲:‏۱۱ پوچھتی ہے:‏ ”‏کیا کان باتوں کو نہیں پرکھ لیتا جیسے زبان کھانے کو چکھ لیتی ہے؟“‏ اسی طرح سے، آپ تنقیدی کان کے ساتھ موسیقی کے قطعہ‌بند اشعار کو سننے سے موسیقی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ دھن آپ کے اندر کس قسم کے احساس کو پیدا کرتی ہے؟ کیا یہ بے‌قابو، روبہ‌تنزل رویے—‏رنگ‌رلیاں منانے کی روح کو فروغ دیتی ہے؟ (‏گلتیوں ۵:‏۱۹-‏۲۱‏)‏ گیت کے الفاظ کی بابت کیا ہے؟ کیا وہ جنسی بداخلاقی، منشیات کے استعمال، یا دوسری غلط‌کاریوں کو فروغ دیتے ہیں جنکا ”‏ذکر بھی کرنا شرم کی بات ہے۔“‏ (‏افسیوں ۵:‏۱۲‏)‏ بائبل بیان کرتی ہے ایسی باتوں کا خدا کے لوگوں میں ”‏ذکر تک نہ ہو،“‏ جو ایک تال قائم کرنے اور اسے بار بار دہرانے سے کہیں کم ہے۔ (‏افسیوں ۵:‏۳‏)‏ البم کے سرورق کے ڈیزائن کی بابت کیا ہے؟ کیا اس میں ارواح‌پرستی کے موضوعات یا جنسی خواہشات کو ابھارنے والی تصاویر ہیں؟‏

۱۸.‏ (‏ا)‏ جب موسیقی کی بات آتی ہے تو بعض نوجوانوں کو کونسی تبدیلیاں کرنی پڑ سکتی ہیں؟ (‏ب)‏ نوجوان زیادہ خوشگوار موسیقی کیلئے ذوق کو کیسے بڑھا سکتے ہیں؟‏

۱۸ شاید آپکو موسیقی کی اس قسم میں کچھ تبدیلی کرنے کی ضرورت پڑے جسکا آپ انتخاب کرتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس ایسے ریکارڈ، ٹیپس، اور ڈسکس موجود ہیں جنکے اندر بداخلاق یا شیاطینی موضوعات پائے جاتے ہیں تو آپکو انہیں فوری طور پر تلف کر دینا چاہیے۔ (‏مقابلہ کریں اعمال ۱۹:‏۱۹‏۔)‏ اسکا یہ مطلب نہیں کہ آپ موسیقی سے لطف‌اندوز نہیں ہو سکتے، ہر مقبول موسیقی قابل‌اعتراض نہیں ہے۔ بعض نوجوانوں نے تو موسیقی کے اپنے ذوق کو وسیع کرنا بھی سیکھ لیا ہے اور اب بعض مخصوص کلاسیکل، لوک، ہلکی‌پھلکی جاز کی قسم، یا دوسری قسم کی موسیقی سے لطف‌اندوز ہوتے ہیں۔ کنگڈم میلوڈیز ٹیپس نے ذہنی اور روحانی سربلندی عطا کرنے والی آرکسٹرا موسیقی کیلئے ذوق کو بڑھانے میں بہت سے نوجوانوں کی مدد کی ہے۔‏

۱۹.‏ موسیقی کو اسکی جگہ پر رکھنا کیوں اہم ہے؟‏

۱۹ موسیقی ایک الہٰی بخشش ہے۔ اگرچہ بہتیروں کیلئے یہ ایک اخلاق کو بگا‌ڑنے والی فکر بن جاتی ہے۔ یہ ان قدیم اسرائیلیوں کی مانند ہیں جنہوں نے ”‏بربط اور ستار اور دف اور بین“‏ بجانے سے لطف اٹھایا، ”‏لیکن [‏انہوں نے]‏ خداوند کے کام کو [‏نہ سوچا]‏۔“‏ (‏یسعیاہ ۵:‏۱۲‏)‏ موسیقی کو اسکی جگہ پر رکھنے کو اپنا نصب‌العین بنائیں اور یہوواہ کے کام کو اپنی اہم فکر بننے دیں۔ جس موسیقی کا آپ انتخاب کرتے ہیں اسکے سلسلے میں انتخاب‌پسند اور محتاط رہیں۔ یوں آپ اس الہٰی بخشش کا صحیح—‏نہ کہ غلط—‏استعمال کرنے کے قابل ہونگے۔ (‏۱۹ ۴/۱۵ w۹۳)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل قوم کو موسیقی کے فن میں فضیلت حاصل تھی۔ ایک اسوری نقش ظاہر کرتا ہے کہ بادشاہ سنحیرب نے حزقیاہ بادشاہ سے اسرائیلی موسیقاروں کو خراج کے طور پر طلب کیا تھا۔ گرووز ڈکشنری آف میوزک اینڈ میوزیشن بیان کرتی ہے:‏ ”‏خراج کے طور پر موسیقار طلب کرنا .‏.‏.‏ یقیناً غیرمعمولی تھا۔“‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

▫ موسیقی کو ایک الہٰی بخشش کیوں کہا جا سکتا ہے؟‏

▫ قدیم وقتوں میں موسیقی کو کیسے غلط استعمال کیا گیا تھا؟‏

▫ ریپ اور ہیوی میٹل موسیقی سے نوجوان مسیحیوں کو کیا خطرہ لاحق ہے؟‏

▫ مسیحی نوجوان موسیقی کے اپنے انتخاب میں کس طرح احتیاط کر سکتے ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

بائبل وقتوں میں، موسیقی کو اکثر یہوواہ کی ستائش کرنے کے لئے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں