بادشاہتی مناد رپورٹ دیتے ہیں
دیانتداری ہماری خدمتگزاری کو قابلقبول بناتی ہے
دیانتداری مسیحیوں کیلئے ایک بنیادی تقاضا ہے۔ پولس رسول نے عبرانیوں ۱۳:۱۸ میں لکھا: ”ہمیں یقین ہے کہ ہمارا دل صاف ہے اور ہم ہر بات میں [”دیانتداری،“ NW] کیساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔“ ہمارا دیانتداری کو عمل میں لانا ”ہر بات میں ہمارے مُنجی خدا کی تعلیم کو رونق“ بخشتا ہے۔ (ططس ۲:۱۰) ٹونگا کی جنوبی بحرالکاہل ریاست میں دو مسیحیوں کی دیانتداری اور بادشاہتی منادی پرزور گواہی دے رہی ہے۔ مغربی سموآ میں واچٹاور سوسائٹی کا برانچ آفس بیان کرتا ہے:
”کئی سالوں تک ایک گواہ جوڑے نے بغیر کسی واضح نتائج کے اپنے جزیرے پر چار دیہاتوں میں لوگوں سے خدا کی بادشاہت کی بابت بات کی۔ پھر جبکہ اس کا شوہر بیمار تھا، بیوی کو اپنے کھوپرے کی بویائی اور کٹائی اور سکھائی کی دیکھ بھال کرنا پڑی، جو انکی آمدنی کا واحد ذریعہ تھا۔ جب خریداروں کے ذریعے کھوپرے کی جانچپڑتال کا وقت آیا تو کسی اور کا تھیلا اسکے پانچ تھیلوں کیساتھ مل گیا۔ دیہاتیوں نے اس پر زور دیا کہ فالتو تھیلا رکھ لے اور اسکو خدا کی طرف سے برکت خیال کرے۔ تاہم، بہن نے انکار کر دیا، اور چھ تھیلوں کی قیمت ادا کر دئے جانے کے باوجود، بھی صرف وہی رقم قبول کی جو جائز طور پر اس پر واجب تھی۔ اس کی دیانتداری پر توجہ دی گئی تھی۔
”بعد میں، جب شوہر کو ایک دوسرے جزیرے کیلئے دورہ کرنا تھا تو سٹورکیپر نے اس سے کہا کہ اسکے لئے چند چیزیں خرید لائے۔ گواہ نے ویسا ہی کیا جیسے درخواست کی گئی تھی اور بقایا پیسے اس آدمی کو واپس کر دئے۔ آدمی حیران تھا۔ اس نے کہا یہ پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ کسی نے باقی پیسے واپس کئے۔ دوسرے جن سے اس نے چیزیں خریدنے کیلئے کہا انہوں نے ہمیشہ بقیہ پیسے رکھ لئے۔ دوسری مرتبہ جب گواہ کو اس آدمی کے سٹور سے کسی چیز کی ضرورت پڑی تو اس آدمی نے اسے یہ ہدایت دیتے ہوئے سٹور کی چابی دے دی کہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ لے لے اور اداکردہ رقم سٹور میں چھوڑ دے۔ دوسرے حاضر اشخاص نے سٹورکیپر سے کہا کہ کیوں وہ سٹور کی چابی گواہ کو تو دیتا ہے مگر انکو نہیں۔ مالک نے وضاحت کی کہ دیہات میں وہ گواہ ہی واحد ایسا شخص تھا جس پر وہ بھروسہ کر سکتا تھا۔
”اس جوڑے کے عمدہ چالچلن پر دیہاتیوں کے درمیان باتچیت ہوتی رہتی ہے۔ گواہ اپنی دیانتداری، سیاست پر اپنے غیرجانبدارانہ مؤقف، اور خدا کی بادشاہت کی بابت اپنی گواہی کیلئے مشہور ہیں، جو دیہاتیوں کے عقائد اور بائبل کی تعلیمات کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ اب جب کبھی بائبل کے متعلق سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں تو لوگ اکثر جوابات کیلئے گواہوں تک رسائی کرتے ہیں۔ شوہر تو رات کو بھی بستر سے اٹھ کر، دیہی اجلاس پر گیا ہے، اور اس نے ان سوالوں کے جواب دئے ہیں جو بائبل موضوع پر کھڑے کئے گئے تھے۔ دیہات میں جنازوں پر حاضر ہوتے وقت، اس سے اکثر یہ ظاہر کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ بائبل موت کی بابت کیا کہتی ہے، اور اس کے تبصروں کو قبول کیا گیا ہے۔“
پس اس گواہ جوڑے کی دیانتداری اور انکی بادشاہتی منادی جنوبی بحرالکاہل کے اس خوبصورت جزیرے میں اچھی گواہی دے رہی ہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ دوسرے ضرور بائبل کا مطالعہ کریں گے اور سچائی کے لئے ڈٹ جائیں گے۔ اگر وہ ایسا کریں تو یہوواہ خدا یقیناً ان کو برکت دے گا۔—یوحنا ۸:۳۲۔ (۲۷ ۵/۱ w۹۳)