یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏4 ص.‏ 12-‏17
  • ‏”‏پوری دہ‌یکی ذخیرہ‌خانہ میں لاؤ“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏پوری دہ‌یکی ذخیرہ‌خانہ میں لاؤ“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • روحانی ہیکل میں آنا
  • پاک‌صاف کرنے کا کام
  • ہدیے اور دہ‌یکیاں
  • برکت پائی یہانتک کہ مزید کوئی کمی نہ رہی
  • یہوواہ کی برکت دولت بخشتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • پاک کلام میں دہ یکی کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟‏
    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
  • ملاکی کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • یہوواہ کے دن سے کون بچیگا؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏4 ص.‏ 12-‏17

‏”‏پوری دہ‌یکی ذخیرہ‌خانہ میں لاؤ“‏

‏”‏اسی سے میرا امتحان کرو .‏.‏.‏ کہ میں تم پر آسمان کے دریچوں کو کھولکر برکت برساتا ہوں کہ نہیں۔“‏—‏ملاکی ۳:‏۱۰۔‏

۱.‏ (‏ا)‏پانچویں صدی ق۔س۔ع۔ میں یہوواہ نے اپنے لوگوں کو کیا دعوت دی؟ (‏ب)‏ پہلی صدی س۔ع۔ میں عدالت کیلئے ہیکل میں یہوواہ کی آمد سے کیا نتیجہ نکلا؟‏

پانچویں صدی ق۔س۔ع۔ میں اسرائیلی یہوواہ کیلئے بے‌وفا ہو چکے تھے۔ انہوں نے دہ‌یکیاں دینا بند کر دی تھیں اور ناقص جانوروں کو ہدیوں کے طور پر ہیکل میں لاتے تھے۔ تاہم، یہوواہ نے وعدہ کیا کہ اگر وہ پوری دہ‌یکی ذخیرہ‌خانہ میں لائینگے تو وہ اتنی برکت برسائیگا کہ مزید کوئی کمی نہ رہے۔ (‏ملاکی ۳:‏۸-‏۱۰)‏ کوئی ۵۰۰ سال بعد، یہوواہ، عدالت کیلئے یروشلیم میں ہیکل کے اندر آیا، جسکی نمائندگی یسوع نے اسکے عہد کے رسول کے طور پر کی۔ (‏ملاکی ۳:‏۱)‏ امت کے طور پر اسرائیل میں کمی پائی گئی تھی لیکن وہ اشخاص جو یہوواہ کی طرف واپس لوٹ آئے برکت سے مالامال ہوئے تھے۔ (‏ملاکی ۳:‏۷)‏ انہیں یہوواہ کے روحانی بیٹے، ایک نئی مخلوق، ”‏خدا کا اسرائیل“‏ بننے کیلئے مسح کیا گیا تھا۔—‏گلتیوں ۶:‏۱۶،‏ رومیوں ۳:‏۲۵، ۲۶‏۔‏

۲.‏ ملاکی ۳:‏۱-‏۱۰ کی دوسری تکمیل کب ہونی تھی، اور اسکے سلسلے میں ہمیں کیا کرنے کی دعوت دی گئی ہے؟‏

۲ اسکے تقریباً ۱۹۰۰ سال بعد، ۱۹۱۴ میں، یسوع کو خدا کی آسمانی بادشاہت کے بادشاہ کے طور پر تخت‌نشین کیا گیا تھا اور ملاکی ۳:‏۱-‏۱۰ میں خدا کی طرف سے الہٰی طور پر الہامی الفاظ کی دوسری تکمیل ہونے والی تھی۔ اس ہیجان‌خیز واقعہ کے سلسلے میں، آجکل مسیحیوں کو پوری دہ‌یکی ذخیرہ‌خانہ میں لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم بھی برکات سے استفادہ کرینگے یہانتک کہ مزید کوئی کمی نہ رہے۔‏

۳.‏ یہوواہ کے آگے راہ تیار کرنے والا رسول کون تھا (‏ا)‏ پہلی صدی میں؟ (‏ب)‏ پہلی عالمی جنگ سے پہلے؟‏

۳ ہیکل میں اپنی آمد کے متعلق یہوواہ نے کہا:‏ ”‏دیکھو میں اپنے رسول کو بھیجونگا اور وہ میرے آگے راہ درست کریگا۔“‏ (‏ملاکی ۳:‏۱)‏ اسکی پہلی صدی کی تکمیل کے طور پر، یوحنا اصطباغی گناہوں سے توبہ کی منادی کرتا ہوا اسرائیل کے پاس آیا۔ (‏مرقس ۱:‏۲، ۳‏)‏ کیا اپنی ہیکل میں یہوواہ کی دوسری آمد کے سلسلے میں تیاری کا کوئی کام تھا؟ جی‌ہاں۔ پہلی عالمی جنگ سے عشروں پیشتر، بائبل سٹوڈنٹس خالص بائبل عقیدے کی تعلیم دیتے ہوئے اور تثلیث اور دوزخ کے عقائد جیسی خدا کی بے‌حرمتی کرنے والی دروغگوئیوں کو فاش کرتے ہوئے منظرعام پر نمودار ہوئے۔ انہوں نے ۱۹۱۴ میں آنے والے غیرقوموں کی میعاد کے خاتمے کی بابت بھی آگاہی دی۔ بہتیرے سچائی کے ان روشنی‌برداروں سے اثرپذیر ہوئے۔—‏زبور ۴۳:‏۳،‏ متی ۵:‏۱۴،‏ ۱۶‏۔‏

۴.‏ خداوند کے دن کے دوران کس سوال کو طے کیا جانا تھا؟‏

۴ ۱۹۱۴ کا سال شروع ہوا جسے بائبل ”‏خداوند کا دن“‏ کہتی ہے۔ (‏مکاشفہ ۱:‏۱۰‏)‏ اس دن کے بہت اہم واقعات، بشمول ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ کی شناخت کرنے، اور ”‏[‏مالک کے]‏ سارے مال“‏ پر اسکی تقرری کرنے کو واقع ہونا تھا۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ پیچھے، ۱۹۱۴ میں ہزارہا چرچز نے مسیحی ہونے کا دعوی کیا۔ مالک، یسوع کس گروپ کو، دیانتدار اور عقلمند نوکر کے طور پر قبول کرے گا؟ یہوواہ کے ہیکل میں آنے پر اس سوال کو طے کیا جانا تھا۔‏

روحانی ہیکل میں آنا

۵، ۶.‏ (‏ا)‏یہوواہ عدالت کیلئے کس ہیکل میں آیا؟ (‏ب)‏ مسیحی دنیا کیلئے یہوواہ نے کیا عدالتی فیصلہ دیا؟‏

۵ تاہم، وہ کس ہیکل میں آیا؟ یروشلیم میں حقیقی ہیکل میں تو قطعاً نہیں۔ ان ہیکلوں میں سے آخری کو پیچھے ۷۰ س۔ع۔ میں برباد کیا گیا تھا۔ تاہم، یہوواہ کے پاس ایک عظیم‌تر ہیکل ضرور ہے جس کا عکس اس ہیکل کے ذریعے پیش کیا گیا جو یروشلیم میں تھی۔ پولس نے اس عظیم‌تر ہیکل کا ذکر کیا اور ظاہر کیا کہ یہ واقعی کتنی شاندار ہے، جسکا پاک مکان آسمان میں اور صحن یہاں زمین پر ہے۔ (‏عبرانیوں ۹:‏۱۱، ۱۲،‏ ۲۴،‏ ۱۰:‏۱۹، ۲۰‏)‏ یہی وہ عظیم روحانی ہیکل ہے جس میں یہوواہ ایک عدالتی کام کیلئے آیا۔—‏مقابلہ کریں مکاشفہ ۱۱:‏۱،‏ ۱۵:‏۸‏۔‏

۶ یہ کب واقع ہوا؟ دستیاب ٹھوس شہادت کے پیش‌نظر، ۱۹۱۸ میں۔‏a نتیجہ کیا تھا؟ جہانتک مسیحی دنیا کا تعلق ہے یہوواہ نے اسے ایک ایسی تنظیم پایا جسکے ہاتھوں سے خون ٹپکتا تھا، ایک ایسا بگڑا ہوا مذہبی نظام جس نے بذات‌خود اس دنیا کے ساتھ عصمت‌فروشی کی تھی، جس نے خود کو دولمتندوں کا حلیف بنایا اور غریب پر ظلم کیا، جو خالص پرستش کرنے کی بجائے بت‌پرستانہ عقائد کی تعلیم دیتا تھا۔ (‏یعقوب ۱:‏۲۷،‏ ۴:‏۴‏)‏ ملاکی کے ذریعے، یہوواہ آگاہی دے چکا تھا:‏ ”‏اور میں عدالت کیلئے تمہارے نزدیک آؤنگا اور جادوگروں اور بدکاروں اور جھوٹی قسم کھانے والوں کے خلاف اور انکے خلاف بھی جو مزدوروں کو مزدوری نہیں دیتے اور بیواؤں اور یتیموں پر ستم کرتے [‏ہیں]‏۔“‏ (‏ملاکی ۳:‏۵)‏ مسیحی دنیا نے یہ سب اور اس سے بھی بدتر کام کیا تھا۔ ۱۹۱۹ تک واضح طور پر یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ یہوواہ اسے باقیماندہ بڑے بابل، جھوٹے مذہب کے عالمی ڈھانچے کے ساتھ تباہ کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ اس وقت سے لیکر، راستدل لوگوں کو یہ بلا‌وا دیا گیا:‏ ”‏اے میری امت کے لوگو!‏ اس میں سے نکل آؤ۔“‏—‏مکاشفہ ۱۸:‏۱،‏ ۴‏۔‏

۷.‏ یسوع نے کس کو اپنا دیانتدار اور عقلمند نوکر تسلیم کیا؟‏

۷ تو پھر عقلمند اور دیانتدار نوکر کون تھا؟ پہلی صدی میں، یہ چھوٹے گروپ کیساتھ شروع ہوا جو یوحنا اصطباغی اور عہد کے رسول، یسوع، کی گواہی کے کام سے اثرپذیر ہوا۔ ہماری صدی میں، یہ وہ چند ہزار لوگ تھے جو ۱۹۱۴ تک لے جانے والے سالوں کے دوران بائبل سٹوڈنٹس کے تیاری کے کام سے اثرپذیر ہوئے۔ انہوں نے پہلی عالمی جنگ کے دوران سخت آزمائشوں کی برداشت کی، لیکن انہوں نے ظاہر کیا کہ انکے دل یہوواہ کے ساتھ تھے۔‏

پاک‌صاف کرنے کا کام

۸، ۹.‏ پیچھے ۱۹۱۸ میں، دیانتدار اور عقلمند نوکر کو کن طریقوں سے پاک‌صاف ہونے کی ضرورت تھی اور اس سلسلے میں یہوواہ کیا وعدہ کر چکا تھا؟‏

۸ تاہم، اس گروپ کو بھی پاک‌صاف کرنے کی ضرورت تھی۔ جن بعض لوگوں نے خود کو ان سے وابستہ رکھا تھا وہ ایمان کے دشمن ثابت ہوئے اور انہیں باہر نکالنا پڑا تھا۔ (‏فلپیوں ۳:‏۱۸‏)‏ دیگر یہوواہ کی خدمت کرنے میں شامل ذمہ‌داریاں اٹھانے کے لئے رضامند نہ تھے اور بہہ کر دور چلے گئے۔ (‏عبرانیوں ۲:‏۱‏)‏ اسکے علاوہ، بابلی کام بھی باقی تھے جنہیں نکال باہر کرنے کی ضرورت تھی۔ تنظیمی طور پر بھی دیانتدار اور عقلمند نوکر کو پاک‌صاف ہونا تھا۔ اس دنیا کیلئے غیرجانبداری کے سلسلے میں ایک مناسب موقف کا سیکھا جانا اور اسکا اطلاق کیا جانا تھا۔ اور جوں جوں دنیا زیادہ سے زیادہ بدعنوان ہوتی گئی، انہیں کلیسیاؤں سے اخلاقی اور روحانی ناپاکی کو دور رکھنے کیلئے سخت جدوجہد کرنے کی ضرورت تھی۔—‏مقابلہ کریں یہوداہ ۳، ۴‏۔‏

۹ جی‌ہاں، پاک‌صاف کئے جانے کی ضرورت تھی، مگر یہوواہ تخت‌نشین یسوع کی بابت پرمحبت طور پر وعدہ کر چکا تھا:‏ ”‏اور وہ چاندی کو تانے اور پاک‌صاف کرنے والے کی مانند بیٹھیگا اور بنی لاوی کو سونے اور چاندی کی مانند پاک‌صاف کریگا تاکہ وہ راستبازی سے خداوند کے حضور ہدیے گذرانیں۔“‏ (‏ملاکی ۳:‏۳)‏ ۱۹۱۸ میں شروع کرتے ہوئے، عہد کے اس رسول کے ذریعے، یہوواہ نے اپنے وعدے کو پورا کیا ہے اور اپنے لوگوں کو پاک‌صاف کیا۔‏

۱۰.‏ خدا کے لوگ کس قسم کا ہدیہ لائے اور یہوواہ نے انہیں کیا دعوت دی؟‏

۱۰ مسیح کے ممسوح بھائی اور بڑی بھیڑ جو بعد میں یہوواہ کی خدمت میں ان کے ساتھ شامل ہو گئی، ان سب نے چاندی کو تانے اور پاک‌صاف کرنے والے کے طور پر یہوواہ کے کام سے فائدہ اٹھایا۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۹،‏ ۱۴، ۱۵‏)‏ ایک تنظیم کے طور پر وہ راستبازی سے ہدیے گزراننے کیلئے آئے اور ابھی تک آتے ہیں۔ اور انکا ہدیہ ”‏خداوند کو پسندیدہ [‏ہے]‏ جیسا ایام‌قدیم اور گذشتہ زمانہ میں۔“‏ (‏ملاکی ۳:‏۴)‏ یہی تھے جنہیں یہوواہ نے نبوتی طور پر دعوت دی:‏ ”‏پوری دہ‌یکی ذخیرہ‌خانہ میں لاؤ تاکہ میرے گھر میں خوراک ہو اور اسی سے میرا امتحان کرو رب‌الافواج فرماتا ہے کہ میں تم پر آسمان کے دریچوں کو کھولکر برکت برساتا ہوں کہ نہیں یہاں تک کہ تمہارے پاس [‏مزید کوئی کمی، NW]‏ نہ رہے۔“‏—‏ملاکی ۳:‏۱۰۔‏

ہدیے اور دہ‌یکیاں

۱۱.‏ موسوی شرعی نظام کی مطابقت میں اب ہدیوں کا تقاضا کیوں نہیں کیا جاتا؟‏

۱۱ ملاکی کے زمانہ میں خدا کے لوگ حقیقی ہدیے اور دہ‌یکیاں لاتے تھے، جیسے کہ اناج، پھل، اور مویشی۔ یہانتک کہ یسوع کے زمانہ میں بھی، وفادار اسرائیلیوں نے ہیکل میں حقیقی ہدیے پیش کئے۔ تاہم، یسوع کی موت کے بعد وہ سب کچھ بدل گیا۔ شریعت، بشمول مخصوص مادی ہدیے اور دہ‌یکیاں پیش کرنے کے حکم کے موقوف ہو گئی تھی۔ (‏افسیوں ۲:‏۱۵‏)‏ یسوع نے شریعت کے تحت نبوتی نمونے کے ہدیوں کو پورا کیا۔ (‏افسیوں ۵:‏۲،‏ عبرانیوں ۱۰:‏۱، ۲،‏ ۱۰‏)‏ تو پھر، مسیحی کس طریقے سے ہدیے اور دہ‌یکیاں لاتے ہیں؟‏

۱۲.‏ مسیحی کس قسم کی قربانیاں اور ہدیے پیش کرتے ہیں؟‏

۱۲ انکے لئے، ہدیے نمایاں طور پر روحانی قسم کے ہیں۔ (‏مقابلہ کریں فلپیوں ۲:‏۱۷،‏ ۲-‏تیمتھیس ۴:‏۶‏۔)‏ مثال کے طور پر، پولس نے منادی کے کام کا ایک ہدیے کے طور پر ذکر کیا جب اس نے کہا:‏ ”‏پس ہم اسکے وسیلہ سے حمد کی قربانی یعنی ان ہونٹوں کا پھل جو اسکے نام کا اقرار کرتے ہیں خدا کیلئے ہر وقت چڑھایا کریں۔“‏ اس نے ایک اور روحانی قسم کی قربانی کا اشارہ دیا جب اس نے تاکید کی:‏ ”‏بھلائی اور سخاوت کرنا نہ بھولو اسلئے کہ خدا ایسی قربانیوں سے خوش ہوتا ہے۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۳:‏۱۵، ۱۶‏)‏ جب والدین اپنے بچوں کی پائنیر خدمت میں داخل ہونے کیلئے حوصلہ‌افزائی کرتے ہیں تو انکی بابت کہا جا سکتا ہے کہ وہ انہیں یہوواہ کیلئے نذر کر رہے ہیں، کچھ اسی طرح جیسے افتاح نے اپنی بیٹی کو ”‏سوختنی قربانی“‏ کے طور پر خدا کیلئے پیش کیا جس نے اسے فتح بخشی تھی۔—‏قضاہ ۱۱:‏۳۰، ۳۱، ۳۹۔‏

۱۳.‏ مسیحیوں سے اپنی آمدنی کا حقیقی دسواں حصہ دینے کا تقاضا کیوں نہیں کیا جاتا؟‏

۱۳ تاہم، دہ‌یکیوں کی بابت کیا ہے؟ جیسا کہ مسیحی دنیا کے بعض چرچز میں کیا جاتا ہے اسکے مساوی کیا مسیحیوں پر یہ فرض ہے کہ اپنی مادی آمدنی کا دسواں حصہ الگ کر لیں اور اسے یہوواہ کی تنظیم کو دیں؟ نہیں، اسکا تقاضا نہیں کیا جاتا۔ کوئی ایسا صحیفہ نہیں ہے جو مسیحیوں کے لئے ایسا ضابطہ بیان کرتا ہو۔ جب پولس یہودیہ میں حاجتمندوں کیلئے عطیات جمع کر رہا تھا تو اس نے کسی مخصوص فیصد کا ذکر نہ کیا جو دی جانی چاہیے۔ اسکی بجائے اس نے کہا:‏ ”‏جس قدر ہر ایک نے اپنے دل میں ٹھہرایا ہے اسی قدر دے نہ دریغ کرکے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔“‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۹:‏۷‏)‏ خاص خدمتگزاریاں انجام دینے والوں کا ذکر کرتے ہوئے، پولس نے ظاہر کیا کہ اگرچہ بعض کی رضاکارانہ عطیات کے ذریعے کافی اچھی طرح سے کفالت ہوتی تھی تو بھی وہ کام کرنے اور اپنی کفالت خود کرنے کیلئے تیار تھا۔ (‏اعمال ۱۸:‏۳، ۴،‏ ۱-‏کرنتھیوں ۹:‏۱۳-‏۱۵‏)‏ اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے کوئی دہ‌یکیاں نہیں ٹھہرائی گئی تھیں۔‏

۱۴.‏ (‏ا)‏دہ‌یکی لانا ہمارا یہوواہ کو اپنا سب کچھ دینے کی نمائندگی کیوں نہیں کرتا؟ (‏ب)‏ دہ‌یکی کے ذریعے کس کی نمائندگی کی گئی ہے؟‏

۱۴ واضح طور پر مسیحیوں کیلئے دہ‌یکی کسی چیز کی علامت پیش کرتی یا نمائندگی کرتی ہے۔ چونکہ یہ دسواں حصہ ہے اور بائبل میں دس نمبر اکثر زمینی سالمیت کی علامت ہے، کیا دہ‌یکی ہمارا یہوواہ کو اپنا سب کچھ دینے کی علامت پیش کرتی ہے؟ نہیں۔ جب ہم خود کو یہوواہ کیلئے مخصوص کرتے ہیں اور پانی کے بپتسمے سے اسکی علامت پیش کرتے ہیں تو یہی وقت ہے جب ہم اپنا سب کچھ اسے دیتے ہیں۔ اپنی مخصوصیت کے وقت سے لیکر، ہمارے پاس کوئی چیز ایسی نہیں جو کہ پہلے ہی سے یہوواہ کی نہ ہو۔ تاہم، یہوواہ افراد کو جو کچھ انکا ہے اسے اپنی مرضی سے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ پس دہ‌یکی جو کچھ ہمارا ہے اسکے حصے کی نمائندگی کرتی ہے جو ہم اسکے لئے اپنی محبت اور اس حقیقت کیلئے اپنی قدرافزائی کے نشان کے طور پر یہوواہ کے پاس لاتے ہیں، یا یہوواہ کی خدمت میں استعمال کرتے ہیں کہ ہم اسکی ملکیت ہیں۔ جدید زمانہ کی دہ‌یکی کو صرف دسواں حصہ ہی ہونے کی ضرورت نہیں۔ بعض معاملات میں یہ کم ہوگی۔ دیگر میں یہ زیادہ ہوگی۔ ہر فردواحد اتنا ہی لاتا ہے جتنا اسکا دل اسے لانے پر آمادہ کرتا ہے اور جو اسکے حالات اجازت دیتے ہیں۔‏

۱۵، ۱۶.‏ ہماری روحانی دہ‌یکی میں کیا شامل ہے؟‏

۱۵ اس روحانی دہ‌یکی میں کیا شامل ہے؟ ایک بات تو یہ ہے کہ ہم یہوواہ کو اپنے وقت اور قوت میں سے دیتے ہیں۔ وہ وقت جو ہم اجلاسوں پر، اسمبلیوں اور کنونشنوں پر حاضر ہونے میں، میدانی خدمت میں صرف کرتے ہیں، گویا یہ سب کچھ یہوواہ کو دیا گیا ہے—‏ہماری دہ‌یکی کا حصہ۔ وقت اور قوت جو ہم بیماروں کی عیادت کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے میں صرف کرتے ہیں—‏یہ بھی ہماری دہ‌یکی کا حصہ ہیں۔ کنگڈم ہالوں کی تعمیر کرنے میں مدد کرنا اور ہال کی دیکھ بھال اور صفائی کے کام میں شرکت کرنا بھی ایک ایسا ہی حصہ ہے۔‏

۱۶ ہماری دہ‌یکی میں ہمارے مالی عطیات بھی شامل ہیں۔ حالیہ سالوں میں یہوواہ کی تنظیم میں غیرمعمولی اضافے کیساتھ، مالی ذمہ‌داریوں میں اضافہ ہوا ہے۔ نئے کنگڈم ہالوں کے ساتھ نئی برانچ سہولیات اور نئے اسمبلی ہالوں کی ضرورت ہے بمع پہلے سے تعمیرشدہ کو اچھی حالت میں رکھنے کے۔ جنہوں نے خود کو خاص خدمت کیلئے دستیاب کیا ہے انکے اخراجات کو پورا کرنا بھی سخت چیلنج کو تشکیل دیتا ہے جو ایسا کرنے کیلئے اکثر عظیم ذاتی قربانیاں کرتے ہیں۔ ۱۹۹۱ میں مشنریوں، سفری نگہبانوں، اور سپیشل پائنیروں کی دیکھ بھال کرنے پر آنے والی لاگت ہی ۴۰ ملین ڈالر کی کل رقم سے بڑھ گئی، جو تمام کی تمام رضاکارانہ عطیات کے ذریعے فراہم کی گئی تھی۔‏

۱۷.‏ اپنی روحانی دہ‌یکی کے طور پر ہمیں فقط کیا دینا چاہئے؟‏

۱۷ ہمیں اپنی روحانی دہ‌یکی کے طور پر فقط کیا دینا چاہیے؟ یہوواہ کوئی فیصد مقرر نہیں کرتا۔ تاہم، احساس‌مخصوصیت، یہوواہ اور بھائیوں کیلئے حقیقی محبت، نیز یہ جان لینے سے فوری توجہ دینے کا احساس بھی اپنی پوری روحانی دہ‌یکی لانے کیلئے ہماری حوصلہ‌افزائی کرتا ہے کہ زندگیاں بچائی جانی ہیں۔ ممکنہ طور پر ہم بڑی حد تک یہوواہ کی خدمت کرنے کیلئے آمادگی محسوس کرتے ہیں۔ اگر ہم کنجوسی کریں یا خود کو یا اپنے مالی وسائل کو لاچاری سے پیش کریں تو یہ خدا کو ٹھگنے کے مترادف ہوگا۔—‏مقابلہ کریں لوقا ۲۱:‏۱-‏۴‏۔‏

برکت پائی یہانتک کہ مزید کوئی کمی نہ رہی

۱۸، ۱۹.‏ اپنی پوری دہ‌یکی لانے کی وجہ یہوواہ کے لوگوں کو کیسے برکت ملی ہے؟‏

۱۸ ۱۹۱۹ سے لیکر، یہوواہ کے لوگوں نے منادی کرنے کے کام کی ضروریات کیلئے اپنے وقت، قوت، اور مالی وسائل کیساتھ فیاضی سے جوابی‌عمل دکھایا ہے۔ وہ واقعی پوری دہ‌یکی کو ذخیرہ‌خانہ میں لائے ہیں۔ نتیجتاً یہوواہ نے اپنے وعدے کو پورا کیا ہے اور برکت برسائی ہے یہانتک کہ مزید کوئی کمی نہیں رہی۔ اسے ان کی تعداد میں اضافے سے نہایت ڈرامائی طریقے سے دیکھا گیا ہے۔ ۱۹۱۸ میں جب یہوواہ اپنی ہیکل میں آیا اس وقت سے لیکر آج تک اس کی خدمت کرنے والے چند ہزار ممسوح اشخاص سے بڑھ کر ممسوحوں کی تعداد اپنے ساتھیوں، دوسری بھیڑوں، کے ساتھ مل کر ۲۱۱ مختلف ممالک میں چار ملین سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ (‏یسعیاہ ۶۰:‏۲۲‏)‏ انہوں نے سچائی کی سمجھ میں مسلسل ترقی کیساتھ برکت بھی حاصل کی ہے۔ نبوتی کلام کو ان کیلئے مزید یقینی بنا دیا گیا ہے۔ یہوواہ کے مقاصد کی تکمیل پر ان کا اعتماد مضبوطی سے قائم ہو گیا ہے۔ (‏۲-‏پطرس ۱:‏۱۹‏)‏ وہ واقعی ”‏خداوند سے تعلیم“‏ پائے ہوئے لوگ ہیں۔—‏یسعیاہ ۵۴:‏۱۳‏۔‏

۱۹ ملاکی کے ذریعے یہوواہ نے مزید برکت کی پیشینگوئی کی:‏ ”‏تب خدا ترسوں نے آپس میں گفتگو کی اور خداوند نے متوجہ ہو کر سنا اور انکے لئے جو خداوند سے ڈرتے اور اسکے نام کو یاد کرتے تھے اسکے حضور یادگار کا دفتر لکھا گیا۔“‏ (‏ملاکی ۳:‏۱۶)‏ مسیحی ہونے کا دعوی کرنے والی تمام تنظیموں میں سے صرف یہوواہ کے گواہ ہی اسکے نام کو یاد کرتے اور قوموں میں اسکی بڑائی بھی کرتے ہیں۔ (‏زبور ۳۴:‏۳‏)‏ یہ یقین‌دہانی پا کر وہ کتنے خوش ہیں کہ یہوواہ انکی وفاداری کو یاد رکھتا ہے!‏

۲۰، ۲۱.‏ (‏ا)‏سچے مسیحی کس مبارک رشتے سے لطف‌اندوز ہوتے ہیں؟ (‏ب)‏ جہانتک مسیحیت کا تعلق ہے کونسا فرق زیادہ سے زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے؟‏

۲۰ ممسوح بقیہ یہوواہ کی خاص امت ہے، اور انکے ساتھ رفاقت رکھنے کیلئے مل بیٹھنے والی، بڑی بھیڑ، انکے ساتھ خالص پرستش کی برکت پاتی ہے۔ (‏زکریاہ ۸:‏۲۳)‏ ملاکی کی معرفت یہوواہ وعدہ کرتا ہے:‏ ”‏رب‌الافواج فرماتا ہے اس روز وہ میرے لوگ بلکہ میری خاص ملکیت ہونگے اور میں ان پر ایسا رحیم ہونگا جیسا باپ اپنے خدمتگزار بیٹے پر ہوتا ہے۔“‏ (‏ملاکی ۳:‏۱۷)‏ یہ کیا ہی برکت ہے کہ یہوواہ انکے لئے ایسا مشفقانہ پاس‌ولحاظ رکھتا ہے!‏

۲۱ بیشک، سچے اور جھوٹے مسیحیوں کے درمیان فرق زیادہ سے زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ جبکہ یہوواہ کے لوگ اسکے معیاروں پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں، مسیحی دنیا اس دنیا کی ناپاکی کی دلدل میں آگے سے آگے دھنستی چلی جاتی ہے۔ واقعی، یہوواہ کے الفاظ سچے ثابت ہوئے ہیں:‏ ”‏تب تم .‏.‏.‏ صادق اور شریر میں اور خدا کی عبادت کرنے والے اور نہ کرنے والے میں امتیاز کروگے۔“‏—‏ملاکی ۳:‏۱۸۔‏

۲۲.‏ اگر ہم پوری دہ‌یکی لاتے ہیں تو ہم کن برکات سے لطف‌اندوز ہونے کیلئے پراعتماد ہو سکتے ہیں؟‏

۲۲ جھوٹے مسیحیوں کے لئے یوم‌حساب جلد آئیگا۔ ”‏کیونکہ دیکھو وہ دن آتا ہے جو بھٹی کی مانند سوزان ہوگا۔ تب سب مغرور اور بدکردار بھوسے کی مانند ہونگے اور وہ دن انکو ایسا جلائیگا کہ شاخ‌وبن کچھ نہ چھوڑیگا رب‌الافواج فرماتا ہے۔“‏ (‏ملاکی ۴:‏۱)‏ یہوواہ کے لوگ جانتے ہیں کہ وہ انہیں اس وقت بچائیگا، جیسے کہ اس نے پیچھے ۷۰ س۔ع۔ میں اپنی روحانی امت کو بچایا تھا۔ (‏ملاکی ۴:‏۲)‏ یہ یقین‌دہانی حاصل کرکے وہ کتنے خوش ہیں!‏ لہذا، اس وقت تک آئیے ہم میں سے ہر ایک پوری دہ‌یکی ذخیرہ‌خانہ میں لانے سے یہوواہ کیلئے اپنی قدر اور محبت ظاہر کرے۔ تب ہم پراعتماد ہو سکتے ہیں کہ وہ ہم کو مسلسل برکت دیگا یہانتک کہ مزید کوئی کمی نہ رہے۔ (‏۱۲ ۱۲/۱ W۹۲)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a مزید معلومات کیلئے، جون ۱۵، ۱۹۸۷، کے واچ‌ٹاور، کے صفحات ۱۴-‏۲۰ کو دیکھیں۔‏

کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟‏

▫ جدید وقتوں میں، یہوواہ اپنے عہد کے رسول کے ساتھ کب ہیکل میں آیا؟‏

▫ دیانتدار اور عقلمند نوکر کون ہے، اور ۱۹۱۸ کے بعد انہیں کس طرح سے پاک‌صاف ہونے کی ضرورت ہوئی؟‏

▫ سچے مسیحی کس قسم کے روحانی ہدیے یہوواہ کیلئے لاتے ہیں؟‏

▫ وہ دہ‌یکی کیا ہے جسے مسیحیوں کو ذخیرہ‌خانہ میں لانے کی دعوت دی گئی ہے؟‏

▫ روحانی دہ‌یکیاں پیش کرنے سے خدا کے لوگ کونسی برکات سے استفادہ کرتے ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

ہماری روحانی دہ‌یکیوں میں کنگڈم ہالوں کی تعمیر کرنے کیلئے اپنی قوت اور وسائل پیش کرنا شامل ہے

‏[‏تصویر]‏

اپنے لوگوں پر یہوواہ کی برکت کی وجہ سے، بہت زیادہ تعمیر کی ضرورت رہی ہے بشمول کنگڈم ہالوں اور اسمبلی ہالوں کے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں