آپ گناہ کو کیسا خیال کرتے ہیں؟
”کیوں وہ دعا میں ہمارے گناہوں کی مافی کیلئے درخواست کرتی رہتی ہے؟“ ایک خاتونخانہ نے شکایت کی جو کہ یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک کیساتھ بائبل مطالہ کر رہی تھی۔ ”ایسا لگتا ہے گویا کہ میں ایک مجرم ہوں۔“ اس عورت کی طرح بہتیرے آجکل اپنے گناہوں سے باخبر نہیں ہوتے تاوقتیکہ وہ کوئی جرم نہیں کر لیتے۔
بالخصوص مشرق میں یہ واقی ایسا ہے، جہاں پر کہ لوگوں میں روایتی طور پر موروثی گناہ کا کوئی تصور ہی نہیں جیسا کہ یہودی اور مسیحی مذاہب میں سکھایا جاتا ہے۔ (پیدایش ۳:۱-۵، ۱۶-۱۹، رومیوں ۵:۱۲) مثال کے طور پر، شنتو مذہب والے گناہ کی شناخت ایسی گندگی کے طور پر کرتے ہیں جو کہ مذہبی پیشوا کی چھڑی کے ایک ہی دفہ ہلائے جانے سے باآسانی صاف ہو سکتی ہے جسکی نوک پر کاغذ یا سن لپٹا ہوتا ہے۔ اس سارے عمل میں جو کچھ کیا گیا ہے اس سے توبہ کرنے کا تقاضا نہیں کیا جاتا۔ کیوں؟ کوڈانشا انسائیکلوپیڈیا آف جاپان واضح کرتا ہے ”نہ صرف برے اعمال بلکہ قابو نہ آنے والی قدرتی آفات کو بھی تسومی [گناہ] کا نام دیا جاتا تھا۔“ قدرتی آفات، تسومی، جن کے ذمہدار انسان نہیں، انہیں ایسے گناہ سمجھا جاتا تھا جو کہ پاک کئے جانے کی مذہبی رسومات کے باعث ختم ہو جاتے تھے۔
یہ اس سوچ کا باعث ہوا کہ کوئی بھی گناہ، یہاں تک کہ جان بوجھ کر کئے گئے برے کام (علاوہ ان مجرمانہ افال کے جو قانوناً سزا کے مستحق تھے) بھی پاک کرنے کی مذہبی رسومات کے ذریے ماف کئے جا سکتے ہیں۔ دی نیویارک ٹائمز نے ”جاپان میں سیاسی صفائی کی رسم“ کی سرخی کے تحت ایسی سوچ کا حوالہ دیا اور یہ بیان کیا کہ جاپان میں وہ سیاستدان جو کسی نہ کسی رسواکن واقہ میں ملوث ہوتے ہیں جب وہ اپنے ووٹروں کے ذریے دوبارہ منتخب ہو جاتے ہیں تو وہ خود کو ”پاک کئے ہوئے“ خیال کرتے ہیں۔ لہذا، کوئی حقیقی درستی عمل میں نہیں آتی اور یوں اسی طرح کے رسواکن واقات دوبارہ واقع ہو سکتے ہیں۔
بدھسٹ جو کہ سامسارا، یا دوبارہ جنم اور کرما کے عقیدہ پر اعتقاد رکھتے ہیں، ان کا نظریہ مختلف ہے۔ ”کارمان کے عقیدہ کے مطابق“، دی نیوانسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا بیان کرتا ہے، ”اچھا چالچلن خوشگوار اور خوشکن نتیجہ کا باعث ہوتا ہے اور اسی طرح کے اچھے کام کرنے کی رغبت پیدا کرتا ہے، جبکہ خراب چالچلن برے نتیجہ کو لاتا اور بار بار خراب کام کرنے کی رغبت کو جنم دیتا ہے۔“ باالفاظ دیگر، گنہگارانہ چالچلن خراب پھل پیدا کرتا ہے۔ کرما کی تلیم دوبارہ جنم لینے کی تلیم کیساتھ وابستہ ہے، جبکہ بض کرماؤں کی بابت یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اگلی زندگیوں میں پھل پیدا کریں گے جو کہ اس زندگی سے کہیں دور ہیں جس میں یہ کام کیا گیا تھا۔
یہ تلیم اس کے ماننے والوں کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ ایک بدھسٹ عورت جو کہ خلوصنیت سے کرما پر اعتقاد رکھتی تھی یوں کہتی ہے: ”میں نے سوچا یہ بات مجھے بےمنی لگتی تھی کہ کسی ایسی چیز کیلئے دکھ اٹھاؤں جس کیساتھ میں پیدا ہوئی لیکن جس کی بابت میں کچھ بھی نہیں جانتی تھی۔ مجھے اسے اپنی قسمت سمجھ کر قبول کرنا تھا۔ سوتراؤں کو گنگناتے رہنے اور اچھی زندگی گذارنے کی کوشش نے میرے مسائل کو حل نہ کیا۔ میں بدمزاج اور غیرمطمئن اور ہر وقت شکایت کرنے والی بن گئی۔“ بدکار چالچلن کے نتائج کی بابت بدھسٹ تلیم نے اسے ناکارہ ہونے کے احساس سے ہمکنار کیا۔
ایک اور مشرقی مذہب، کنفیوشنزم نے انسانی برائی کیساتھ نپٹنے کا ایک اور مختلف طریقہ سکھایا۔ تین عظیم کنفیوشن (کنفیوشس کے طریقے وا لے) فلاسفروں میں سے ایک شینتزو کے مطابق، انسانی فطرت بری ہے اور خودغرضی کی طرف مائل ہے۔ گنہگارانہ رغبتوں والے انسانوں کے درمیان ماشرتی نظمونسق برقرار رکھنے کیلئے اس نے لی کی اہمیت پر زور دیا جس کا مطلب ہے شائستگی، خوشاخلاقی، اور چیزوں کا قرینہ۔ ایک اور کنفیوشن فلاسفر مینگزو نے گو انسانی فطرت کے ایک متضاد خیال کا اظہار کرتے ہوئے ماشرتی برائیوں کے وجود کو تسلیم کیا اورآدمیوں کے اچھا ہونے کی فطرت پر بھروسہ رکھتے ہوئے، حل کیلئے ذات کی بہتری پر انحصار کیا۔ دونوں طرح سے ہی کنفیوشن فلاسفروں نے دنیا میں گناہ سے لڑنے کیلئے تلیم اور تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔ اگرچہ ان کی تلیمات لی کی ضرورت پر متفق ہیں لیکن گناہ اور بدکاری کی بابت ان کا تصور نہایت غیرواضح ہے۔ مقابلہ کریں زبور ۱۴:۳، ۵۱:۵۔
مغرب میں گناہ کا گھٹتا ہوا تصور
مغرب میں، گناہ کی بابت خیالات روایتی طور پر نہایت واضح رہے ہیں اور لوگوں کی اکثریت اس سے اتفاق کر چکی ہے کہ گناہ کا وجود ہے اور یہ کہ اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔ تاہم، گناہ کی بابت مغرب کا رویہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ بہتیرے گناہ کی بابت آگاہی کو رد کرتے ہوئے ضمیر کی آواز کو ”گناہ کے احساس“ کا نام دیتے ہیں ینی ایک ایسی چیز جس سے گریز کرنا چاہیے۔ ۴۰ سال سے زیادہ عرصہ پہلے پوپ پائس XII نے افسوس کرتے ہوئے کہا: ”اس صدی کا گناہ، گناہ کے تمام احساس کا فقدان ہے۔“ کیتھولک ہفتروزہ لے پیلیراں میں شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق، فرانس کی آبادی کا حیرانکن ۹۰ فیصد حصہ، جہاں پر زیادہتر لوگ رومن کیتھولک ہونے کا دعوی کرتے ہیں، اب گناہ کو نہیں مانتا۔
بلاشُبہ، مشرق اور مغرب ہر جگہ، اب لوگوں کی اکثریت گناہ کی آگاہی سے تکلیف پائے بغیر مزے سے دلجمی کیساتھ رہ رہی ہے۔ تاہم کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ گناہ کا کوئی وجود ہی نہیں؟ کیا ہم باآسانی اسے نظرانداز کر سکتے ہیں؟ کیا کبھی گناہ ختم ہوگا؟ (۳ ۱۱/۱ w۹۲)