کس خدا کی پرستش کریں؟
جانوروں کے بالکل برعکس، ہم انسان پرستش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ پیدایشی طور پر ہماری بناوٹ کا ایک حصہ ہے۔ ہم ایک اخلاقی احساس بھی رکھتے ہیں، ایک ضمیر جو درست اور غلط میں امتیاز کرنے میں ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ مختلف طریقوں سے ہم سب اس ضمیر کی پیروی کرتے ہیں، اور ایسا کرنے میں، بہتیرے ہدایت کیلئے کسی ایک خدا یا خداؤں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
گذشتہ ایک یا دو صدیوں کے دوران، بعض دنیاوی دانشوروں نے ایک قادرمطلق خدا اور خالق کی موجودگی کی بابت اختلاف کیا ہے۔ ۱۸۴۴ میں کارل مارکس نے مذہب کو ”لوگوں کیافیون“ قرار دیا۔ اس کے بعد، چارلس ڈارون نے ارتقا کے نظریہ کو پیش کیا۔ اس کے بعد بالشویک کا انقلاب آ گیا۔ مشرقی یورپ میں دہریت سرکاری سٹیٹ پالیسی بن گئی، اور یہ دعوی کیا گیا کہ ۱۹۱۷ کی نسل کیساتھ ہی مذہب ختم ہو جائیگا۔ لیکن وہ دہریت پسند انسانی فطرت کو تبدیل نہ کر سکے۔ اس کی شہادت اس وقت مشرقی یورپ میں مذہب کے ازسرنو زور پکڑنے سے ملتی ہے۔
تاہم، جیسا کہ بائبل کہتی ہے، اگرچہ آسمان اور زمین میں ”بہت سے خدا کہلاتے ہیں“ چنانچہ بہتیرے ”خدا“ اور بہتیرے ”خداوند“ ہیں۔“ (۱-کرنتھیوں ۸:۵) صدیوں کے دوران بنیآدم بیشمار معبودوں کی پرستش کرتے رہے ہیں۔ اولاد دینے، محبت ، جنگ ، اور شراب اور رنگ رلیاں منانے کے دیوتا رہے ہیں۔ صرف ہندو مذہب ہی میں، دیوتاؤں کی تعداد لاکھوں کی ہے۔
معبودوں کی تثلیثیں بابل، اسور، اور مصر میں، اور اس کے ساتھ ساتھ بدھسٹ ممالک میں پروان چڑھی ہیں۔ دنیائے مسیحیت کی بھی ”پاک“ تثلیث ہے۔ اسلام تثلیث کو رد کرتے ہوئے ”اللہ کے سوا کسی اور خدا“ کو نہیں مانتا۔ مزید برآں، یہ کہ وہ سب بھی جو ایک نادیدہ، قادرمطلق خدا کے خیال کا مذاق اڑاتے ہیں وہ بھی اپنے اپنے دیوتا رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، فلپیوں ۳:۱۹ میں، بائبل ان انسانوں کا ذکر کرتے ہوئے جو مادی حصول کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں یوں کہتی ہے: ”ان کا خدا پیٹ ہے۔“
زیادہتر لوگ جس ملک یا معاشرے میں پیدا ہوتے ہیں وہیں کے دیوتا یا دیوتاؤں کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ اس سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا تمام طرح کی پرستش ایک ہی جگہ لے جاتی ہے جیسے کہ ایک ہی پہاڑی کی چوٹی پر پہنچانے والے مختلف راستے؟ یا کیا مذاہب کے زیادہتر عارفانہ راستے تباہی کی طرف لے جاتے ہیں جیسے ایک کھڑی چٹان کی طرف جانے والے راستے؟ کیا پرستش کرنے کے کئی موزوں طریقے ہیں یا صرف ایک ہے؟ کیا بہتیرے قابلتعریف خدا ہیں یا صرف ایک ہی قادرمطلق خدا ہے جو ہماری بلاشرکت غیرے عقیدت اور پرستش کا مستحق ہے؟
جھوٹے خداؤں کی ابتدا
مندرجہبالا سوالات ہماری گہری توجہ کے مستحق ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ مذہب پر لکھی گئی سب سے پرانی مستند تحریر، بائبل، یہ بیان کرتی ہے کہ کیسے ایک جھوٹے خدا نے، ایک اژدہا کے ذریعے کام کرتے ہوئے، ہمارے پہلے آباواجداد کو ایک تباہکن راستے پر ڈال دیا۔ ہم آج تک اس کی حکمتعملی کے تکلیفدہ نتائج کا تجربہ کر رہے ہیں۔ (پیدایش ۳:۱-۱۳، ۱۹-۱۶، زبور ۵۱:۵) ”خدا کے بیٹے“ یسوع نے، اس باغی خدا کا ذکر بطور ”اس دنیا کے سردار“ کے کیا۔ یسوع کے رسولوں میں سے ایک نے اسے ”اس جہان کا خدا“ کہا۔ (یوحنا ۱:۳۴، ۱۲:۳۱، ۱۶:۱۱، ۲-کرنتھیوں ۴:۴) مکاشفہ ۱۲ باب کی ۹ آیت میں، اسے ”پرانا سانپ، جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے، اور سارے جہان کو گمراہ کر دیتا ہے“ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جھوٹے مذہب کی ایک عالمی سلطنت شیطان کے قبضے میں ہے۔
شیطان سب سے بڑا دھوکا باز ہے۔ (۱-تیمتھیس ۲:۱۴) وہ مختلف قسم کے بیشمار معبودوں جیسے اسلافی ارواح، بت، مذہبی مورتوں، مجسموں، کو فروغ دینے سے پرستش کرنے کی انسان کی فطری خواہش کے ساتھ کھیلتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ انسانی دیوتاؤں کی پرستش بھی کرواتا ہے، جیسے کہ جابر حکمراں، فاتح جرنیل، اور فلمی ستارے اور کھیلوں کے ستارے۔ (اعمال ۱۲:۲۱-۲۳) صرف سچے خدا کی پرستش کرنے اور اسے تلاش کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہوئے جو درحقیقت ”ہم میں سے کسی سے دور نہیں“ ہم ہوشیار رہ کر اچھا کرتے ہیں۔ اعمال ۱۷:۲۷۔
پس، یہ لاثانی خدا کون ہے جس کی ہمیں پرستش کرنی چاہیے؟ کوئی ۳،۰۰۰ سال پہلے، بائبل کے زبورنویس نے اسے بطور ”حقتعالی . . . ، قادرمطلق . . . ، میرا خدا، جس پر میرا توکل ہے“ کے بیان کیا، اور اسے اس کے مشہور نام ”یہوواہ“ سے پکارا۔ (زبور ۹۱:۱، ۲) اس سے بھی پہلے، موسیٰ نے اس کی بابت کہا تھا: ”[یہوواہ] ہمارا خدا ایک ہی [یہوواہ] ہے۔“ (استثنا ۶:۴) اور یسعیاہ نبی نے خود خدا کو اپنی بابت یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا: ”[یہوواہ] میں ہوں۔ یہی میرا نام ہے۔ میں اپنا جلال کسی دوسرے کے لئے اور اپنی حمد کھودی ہوئی مورتوں کے لئے روا نہ رکھونگا۔“ یسعیاہ ۴۲:۸۔
یہوواہ خدا اپنے نام کو اس ساری ملامت سے پاک کرنے کا مقصد رکھتا ہے جو جھوٹے خدا شیطان نے اس پر لگائی ہے۔ وہ یہ کیسے کریگا اس کا اظہار اس نے ۱۵۱۳ ق۔س۔ع۔ میں کیا، جب اس نے اسرائیلی قوم کو مصری ظلم سے چھڑانے کے لئے اپنے نبی موسیٰ کو استعمال کیا۔ اس موقع پر، خدا نے اپنے نام یہوواہ کو ان الفاظ کے ساتھ جوڑ دیا: ”میں جو ہوں، سو میں ہوں۔“ (خروج ۳:۱۴، ۱۵) وہ خود کو مصر کے فرعون کے سامنے جلال دے گا، لیکن اس سے پہلے اس نے شریر حکمراں کو یہ بتایا: ”پر میں نے تجھے فیالحقیقت اس لئے قائم رکھا ہے کہ اپنی قوت تجھے دکھاؤں تاکہ میرا نام ساری زمین پر مشہور ہو جائے۔“ خروج ۹:۱۶۔
آج بھی حالت بالکل ویسی ہی ہے۔ قدیم فرعون کی طرح، اس جہان کا خدا، شیطان، یہوواہ خدا کی نافرمانی کرتا ہے اور بڑی عیاری کیساتھ ان انسانوں کے خلاف روحانی جنگ لڑتا ہے جو سچائی اور راستبازی سے محبت رکھتے ہیں۔ (افسیوں ۶:۱۱، ۱۲، ۱۸) ایک بار پھر، شیطان کی مخالفت کے باوجود خدا نے اپنے نام کو جلال دینے کا مقصد ٹھہرایا ہے۔ تاہم، شیطان اور اس کے تمام کاموں کو تباہ کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے سے پہلے، یہوواہ اپنے پرستاروں کو بھیجتا ہے کہ تمام زمین پر اس کے نام کا اعلان کریں۔ اس کے نام کی خاطر یہ گواہی دینا سچی پرستش کا ایک اہم جز ہے۔
بالکل موزوں طور پر، خدا نے خود یہ کہا ہے کہ یہ پرستار اسکے گواہ ہونگے، جیہاں یہوواہ کے گواہ، ”میں نے ان لوگوں کو اپنے لئے بنایا تاکہ وہ میری حمد کریں۔“ (یسعیاہ ۴۳:۱۰-۱۲، ۲۱) وہ کیسے یہوواہ کی حمد کرتے ہیں؟ وہ اعلانیہ اور گھر گھر منادی کرتے اور تعلیم دیتے ہوئے، اس خوشخبری کا اعلان کرتے ہیں کہ یہوواہ کی بادشاہت ، جسکا حکمران اسکا بیٹا، یسوع مسیح ہے، وہ زمین پر فرمانبردار بنیآدم کیلئے ابدی برکات لائیگی۔ پس، وہ پہلی صدی کے سچے مسیحیوں کی طرح خدا کی پرستش ”بلا رکاوٹ“ کرتے ہیں۔ (اعمال ۵:۴۲، ۲۰:۲۰، ۲۱) کیا اس سے انہوں نے الہی برکات کا لطف اٹھایا ہے؟ اگلے صفحات اسکا جواب دینگے۔ (۳ ۱/۱ w۹۲)